Saturday, 31 January 2009

اردو تھیمز

ارادہ تھا کہ چند  تھیمز مکمل کر کے ایک ہی بار پوسٹ کروں گی لیکن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لئے فی الوقت تین  ہی پوسٹ کر رہی ہوں۔

تھیم ۱:

اصل تھیم۔ (clean-bright-10)

اردو ورژن:


بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-clean-bright-10

تھیم ۲:
وُڈ تھیم میں نے اپنے بلاگ پر لگایا ہوا ہے۔ جہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا تھا وہ سائٹ  ان دنوں زیرِ مرمت ہے۔ اس لئے اصل تھیم کا لنک نہیں  مل رہا۔

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-wood_theme

تھیم ۳:
اصل تھیم۔ (mysimplified-11)

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔

اس تھیم کو اردواتے ہوئے سپینش زبان سے بھی اچھی خاصی واقفیت ہو گئی :D

Urdu-mysimplified-11

تینوں تین کالمی ، ویجٹس ریڈی تھیمز ہیں۔ اردو پیڈ بھی  شامل ہے۔ ایک دو چھوٹے چھوٹے اضافے بھی کئے ہیں۔:)

فائر فاکس پر تو سب ٹھیک دکھائی دے رہا ہے۔ انٹر نیٹ ایکسپلورر کی میرے ساتھ کوئی پرانی دشمنی ہے۔ کلین برائٹ کی سائڈ بار گڑ بڑ کر رہی تھی۔ دوبارہ نہیں دیکھ سکی کیونکہ میں نے  اپنے کمپیوٹر سے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو جلا وطن کر دیا ہے کچھ دنوں کے لئے۔

غلطیاں بھی بہت ہوں گی شاید۔ اس کے لئے پیشگی معذرت۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میں کام کروں اور کوئی غلطی نہ ہو :blush: روایت پسندی بھی کوئی چیز ہے آخر۔ اس لئے میرے حق میں دعا کریں  :)

سب سے اہم بات تو رہ گئی۔ ماوراء کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ جنہوں نے بنیادی نکات بتائے۔ پھر جہانزیب کا بہت شکریہ۔ ان کے ٹیوٹوریلز نے ایک مشکل کام آسان کر دیا۔۔ اس کے علاوہ ساجد اقبال کے اردو ٹیکنالوجی بلاگ سے بھی بھرپور استعفادہ حاصل کیا۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ :)
دیگر قارئین سے کہنا ہے کہ اگر کوئی تھیم قابلِ استعمال لگے تو وہ تھیم آپ کا ہوا :)

مکمل تحریر  »

Monday, 26 January 2009

پھر یادوں کی ہوا چلی!

استاد امانت علی خان کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ ان کے مداحوں میں ایک بہت بڑی پنکھی کا اضافہ ہوا ہے :smile

پھر یادوں کی ہوا چلی، پھر شام ہوئی!



موسم بدلا رُت گدرائی! (ظہیر کاشمیری)

مکمل تحریر  »

Saturday, 24 January 2009

پی ٹی وی۔ چین و سکون

ایک کے بعد ایک چینل بدلتے دل سخت بیزار ہو رہا تھا۔ کہیں خون خرابے اور مایوسی سے بھرپور خبریں تو کہیں پریشان کن تجزیے اور رپورٹیں۔ :-( پھر یوں لگا جیسے شدید دھوپ اور شور شرابے سےنکل کر کسی سکون بھرے ماحول میں آ گئی ہوں کیونکہ میں پہنچ چکی تھی پی ٹی وی پر :party 10-15 منٹ کی چیدہ چیدہ خبریں وہ بھی زیادہ تر عزت مآب صدر اور محترم وزیرِ اعظم صاحبان کی معمول کی مصروفیات کے بارے میں اور پھر وہی سدا بہار گانے اور ڈرامے۔ دنیا میں کچھ بھی ہو جائے پی ٹی وی پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے :drowsy

مکمل تحریر  »

Wednesday, 21 January 2009

شک ، سازش اور ہم

' یہ جو ہمارے فلاں رشتہ دار ہیں۔ آج کل بڑے اچھے بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے تو شک ہے کہ ہو نہ ہو یہ ہم سے کوئی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔'
'تمہارے سسرال والے بہت سازشی لگتے ہیں۔ بچ کر رہنا۔' :D
' یہ جو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس میں 100 فیصد امریکہ کا ہاتھ ہے۔'
' مسلمانوں میں نا اتفاقی اور مذہب سے دوری اصل میں کسی صیہونی سازش کا نتیجہ ہیں'
روز مرہ زندگی میں اکثر ایسے جملے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خاندانی ، ملکی اور عالمی ہر سطح پر ایکدوسرے کے خلاف سازشیں ہوتی بھی ہیں اور ہم ان کا نشانہ بھی بنتے ہیں لیکن جہاں اپنا قصور ہووہاں بھی الزام عموماً دوسروں کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ کئی بار تو یوں لگتا ہے جیسے شک اور سازش کا ذکر کئے بغیر ہماری زندگیاں نامکمل رہ جائیں گی۔ :hmm:
اگر ان دو الفاظ کے استعال پر پابندی لگا دی جائے تو قوم کا کیا بنے گا جہاں ہر دوسرے واقعے کے ڈانڈے کسی نہ کسی سازش سے ملانا ایک معمول بن چکا ہے۔
ہم لوگ جو وقت دوسروں پر شک کرنے میں لگاتے ہیں وہ تو فراغت میں ہی ضائع ہو جائے گا۔ :cry:
بیچارے ہمارے وزیرِ اعظم تو پھر میڈیا سے بات ہی نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کے پاس سوائے یہ کہنے کہ 'ہم اپنی حکومت کو کسی سازش کا نشانہ نہیں بننے دیں گے' ، اور کچھ ہوتا ہی نہیں۔ :D
محترم صدر اور ہماری عوامی پارٹی کا بی بی نامہ بھی کتنا مختصر ہو جائے گا۔ :daydream
ٹی وی چینلز پر اپنی ہر گفتگو میں امریکی اور صیہونی سازشوں کا حوالہ دہنے والوں کا کیا بنے گا۔ ;)
اور سب سے بڑھ کر میرے 11 سالہ کزن کا کیا ہو گا جو اپنے بہن بھائیوں یا کزنز کو آپس میں کھسر پھسر کرتے دیکھ کر فوراً بیان جاری کر دیتا ہے کہ یقیناً اس کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ :ainko

مکمل تحریر  »

Tuesday, 20 January 2009

مشکل!

زندگی میں سب سے مشکل کام زندگی سے محبت کرنا ہے۔
(لیو ٹالسٹائی)

مکمل تحریر  »

Wednesday, 14 January 2009

یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

Royal Military Academy Sandhurst (RMAS) برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی ہے جہاں مقامی  فوجی افسروں کے علاوہ دنیا بھر سے تیس ممالک ہر سال اپنے بہترین افسروں کو ٹریننگ کے لئے بھیجتے ہیں۔ بہترین کارکردگی دکھانے پر    Queen's Medal ، Sword of Honour اور  Overseas Sword دیئے جاتے ہیں۔

اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword  کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔  یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے  انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔ :smile

ماضی میں پاکستان آفیسرز  اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔ چند نمایاں نام جنہوں نے Overseas Cane حاصل کیا:

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد ملک جنہوں نے Queen's Medal  بھی جیتا۔

جنرل آصف نواز جنجوعہ(مرحوم)  جو ۱۹۹۱۔ ۱۹۹۳ تک پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف رہے۔

اور جنرل علی قُلی خان (ریٹائرڈ) جنہوں نے پاک فوج میں بطور چیف آف جنرل سٹاف (۱۹۹۷۔۱۹۹۸) ، کمانڈر دس کور، راولپنڈی (۱۹۹۵ ) اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس (۱۹۹۳۔۹۵) خدمات سر انجام دیں۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ۱۹۶۲ میں اپنے کورس کے دوران اتوار کی پریڈ کو کمانڈ کیا اور اس موقع پر برٹش اکیڈمی میں  ’بلوچ رجمنٹ‘ کی دھن پر مارچ پاسٹ کیا گیا۔ :victry یہ وہی علی قُلی خان ہیں جنہیں سُپر سیڈ کر کے پرویز مشرف کو ۱۹۹۸ میں چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا۔  :-( اس کے بعد جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

اب بھی پاکستانی افسر اکیڈمی میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے مسلسل پاکستانی کیڈٹس اوور سیز سورڈ حاصل کر رہے ہیں۔ اپریل ۲۰۰۶ میں کیڈٹ احمد رضا خان نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ اپریل ۲۰۰۷ میں کیڈٹ عقبہ حدید ملک اور اپریل ۲۰۰۸ میں یہ اعزاز سید سیفی حسن نقوی کے حصے آیا۔

ان کیڈٹس نے صرف Overseas sword پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ:

احمد رضا خان  کو Defence & International Affairs, War Studies اور بہترین کارکردگی پر تین مزید میڈل دئیے گئے۔عقبہ حدید ملک کو بطور سمندر پار کیڈٹ ، بہترین کارکردگی پر  UAE Communication and Management Studies کا انعام بھی دیا گیا۔ اور سید سیفی حسن نقوی نے overseas cadet prizes for the best Journal, Defence and International Affairs, and War Studies بھی جیتے۔

احمد رضا اور برطانیہ کے پرنس ہیری نے ایک ہی سال ملٹری ٹریننگ مکمل کی۔ اور آج کی پوسٹ انہی کی وجہ سے لکھنا ممکن ہوئی۔  :D   شہزادہ ہنری چارلس (پرنس ہیری)  ، ملکہ برطانیہ کے دوسرے پوتے اور  اپنے ابا پرنس چارلس اور بھائی پرنس ولیم  کے بعد تیسرے نمبر پر تخت کے امیدوار ہیں۔ ہیری صاحب اکثر یہاں کے میڈیا خصوصا Tabloids  کو نت نئی کہانیاں بُننے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ تین سال قبل بنائی گئی ایک  ویڈیو کا میڈیا پر آنا ہے جس میں پرنس ہیری نے اپنے پاکستانی کورس میٹ ’کیڈٹ احمد رخا خان‘ پر کیمرہ فوکس کرتے ہوئے کہا!  "our little Paki friend" ۔  ویڈیو کے منظرِ عام پر  آنے کے بعد ہیری نے اپنی قوم اور پاکستان میں کیپٹن احمد رضا خان سے معذرت کی اور کہا کہ ان کے الفاظ کو نسل پرستی کے زمرے میں نہ لیا جائے۔ وہ تو صرف ایک دوستانہ مذاق تھا وغیرہ وغیرہ۔  خیر اس ویڈیو کے بارے میں شہزادے کی خبر میڈیا، عوام، سیاست دان اور کمانڈنگ آفیسر سبھی لے رہے ہیں، اس لئے میں چھوڑ دیتی ہوں :daydream ۔ لیکن کم از کم اسی بہانے مجھے یہ تو یاد آ گیا کہ میں نےکب سے پاکستانی کیڈٹس کی ہیٹ ٹرک کے بارے میں لکھنا تھا۔ :D

کون کہتا ہے کہ پاکستانی کچھ نہیں کر سکتے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی! :)
:pak


مکمل تحریر  »

Monday, 12 January 2009

بلاگز کی واپسی مبارک!

بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ محفل سے لاگ آؤٹ کرتے ہوئے میری نظر بدتمیز کی پوسٹ پر پڑی اور پٹ سے آنکھیں پوری کھل گئیں۔  خبر ہی اتنی خوشی کی ہے۔ اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ کے گم شدہ بلاگز واپس آ گئے ہیں۔   :victry

میں نے جلدی سے منظر نامہ، شب اور صریرِ خامۂ وارث کھول کر دیکھے تو سب موجود ہیں۔ روشن روشن بلاگز :smile ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے چھٹیوں پر گئے ہمسائے واپس گھر آ گئے ہوں   اور بند دروازے کھل گئے ہیں۔ باقی بلاگز صبح دیکھوں گی۔ جتنی خوشی کھوئے بلاگز کے مالکان کو ہو رہی ہو گی ، ہم  بھی یقیناً اتنے ہی خوش ہیں۔ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو :flwr

کافی سارا ڈیٹا گم ہو گیا ہے لیکن پھر بھی پلیزلکھنا نہ چھوڑیں  :-(

مکمل تحریر  »

Saturday, 10 January 2009

اکثر شبِ تنہائی میں۔۔۔Oft in the stilly night!

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دلِ صد چاک پر

وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب

دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا

روندا پڑا ہے خاک پر

یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی

ان حسرتوں کی قبر پر

جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دوستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا

لے دیکھ شیشے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں

قابو دلِ بےصبر پر

جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں

اور خشک رہ جائے شجر

اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی

اجڑا ہوا ویران گھر

یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دل صد چاک پر

نادر کاکوروی (۱۸۵۷۔۱۹۱۲) کا یہ کلام ریشماں  نے بہت میٹھے انداز میں گایا ہے۔  جب بھی سنو بہت اچھا لگتا ہے۔

مجھے کچھ دن پہلے معلوم ہوا کہ یہ   ' Thomas Moore (1779-1852) ' کی نظم ' Oft in The Stilly'  کا ترجمہ ہے۔ یا  دوسرے الفاظ میں اس سے ماخوذ ہے۔

Thomas Moore نے یہ نظم غالباً ۱۸۱۵ میں لکھی تھی جسے Sir John Stevenson نے ۱۸۱۸ میں کمپوز کیا۔  (youtube link)

Oft in the stilly night



Oft in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Fond Memory brings the light
Of other days around me;
The smiles, the tears,
Of boyhood's years,
The words of love then spoken,
The eyes that shone
Now dimmed and gone,
The cheerful hearts now broken!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

When I remember all
The friends, so link'd together,
I've seen around me fall,
Like leaves in wintry weather;
I feel like one
Who treads alone
Some banquet-hall deserted,
Whose lights are fled,
Whose garland's dead,
And all but he departed!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

اگر انگریزی میں یہ نظم اور اس کی موسیقی  ایک شاہ پارہ ہے تو  اسے اردو میں بھی ویسی ہی خوبصورتی سے ڈھالا گیا ہے۔ اور موسیقی دینے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یوں دونوں زبانوں میں ہی یہ کلام اور اس کی موسیقی شاہکار قرار پائے :)

مکمل تحریر  »

Tuesday, 6 January 2009

آئینہ دکھانا

آج صبح سے اس سوچ میں تھی کہ آئینہ دیکھنا اور دکھانا(لغوی معنوں میں)  کتنا مشکل کام ہے۔ میں خود تو کسی طور آئینہ دیکھ ہی لیتی ہوں مگر دوسروں کو کبھی دکھا نہیں پائی :quiet: ۔ اسے مروت کہیں یا بزدلی کہ چاہوں بھی تو میں یہ کام نہیں کر پاتی۔  ویسے اپنے اردگرد نظر دوڑانے پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ پاکستانی عوام کو ہی لیجئے۔  ایک سے بڑھ کر ایک نا انصافی ہوتی ہے اور قوم کے ’بڑے‘ نہایت اطمینان سے بیان جاری کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کیا، اچھا کیا۔ معلوم نہیں عوام ان کو آئینہ کیوں نہیں دکھاتے۔  یہ مروت ہے ، بزدلی ہے یا بے حسی؟  :-(

لیکن کہیں کہیں ایسی مثال بھی سننے کو ملتی ہے کہ خوشی ہوتی ہے ، رشک آتا ہے کہ کوئی تو ہے آئینہ دکھانے والا۔ کبھی صمد خرم کی صورت میں امریکی سفیر سے انعام وصول کرنے سے انکار کر کے تو کبھی خاتون وکیل مسز گلزار بٹ کی طرح جنہوں نے آج سپریم کورٹ میں وکلاء کی انرولمنٹ تقریب میں موجودہ چیف جسٹس  عبدالحمید ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میں آپ کو چیف جسٹس نہیں مانتی۔‘ بیچارے جسٹس صاحب! :daydream

تفصیل یہاں

آپ کا شمار کس فہرست میں ہوتا ہے۔  پہلی یا دوسری؟

مکمل تحریر  »

Monday, 5 January 2009

نوحۂ وطن

ہمارے گھر تباہ ہوں ، غم و ملال کچھ بھی ہو
رہیں گے ہم اِسی جگہ ہمارا حال کچھ بھی ہو

جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میں
مرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو

تمام مہرے سچ کے ہیں ، ہم اہلِ حق کے ہاتھ ہیں
ہماری جیت طے رہی کسی کی چال کچھ بھی ہو

ہمارے بھائیوں کو بس غرض ہے اقتدار سے
وطن کا حال کچھ بھی ہو ، یہاں وبال کچھ بھی ہو

یہ اندھی سوچ دے رہے ہیں نسلِ نو کو رہنما
روش روش کو روند ڈالو، پائمال کچھ بھی ہو

منظر بھوپالی

مکمل تحریر  »

Friday, 2 January 2009

چوہے کا بچہ!

نئے سال کی پہلی پوسٹ بچوں کے لئے اردو اینی میشنز کے بارے میں ہے۔ عمار اور شعیب سعید شوبی نے دوسری نظم بھی بہت ہی خوب پیش کی ہے ماشاءاللہ   :clap میں نے صبح دیکھی تھی یہ ویڈیو اور سارا دن چوہے کا بچہ ہی ذہن میں گھومتا رہا :D



ویسے عمار مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ بھی گاتے  ہو   :)

نظم مزے کی ہے۔ بس  بیچارہ چوہے کا بچہ آخر میں مرحوم ہو گیا :cry:

اور بلی کے مزے ہو گئے  :party

حالانکہ جیری تو اتنی آسانی سے کبھی ٹام کے ہاتھ نہیں  آیا :D

مکمل تحریر  »

Thursday, 1 January 2009

نیا سال

دسمبر کا آخری دن گزرنے میں ابھی چند گھنٹے باقی ہیں۔ نیا سال مبا رک کے  پیغامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

لیکن کیا واقعی ہندسے تبدیل ہونے سےحالات بدل جاتے ہیں؟  وہی سورج ہو گا جو ۳۱ دسمبر کو ڈوبا تھا، وہی لوگ ہوں گے، وہی حالات، وہی سوچیں ہوں گی تو نیا کیا ہوا؟  بات تو تب ہو جب ہم انسان خود کچھ نیا کریں ورنہ ہندسوں  کے ہیر پھیر پر خوشی  کیا منانا! :-s

فیض نے بھی کیا خوب کہا ہے اس بارے میں۔

نیا سال

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی

آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے

جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي

تيرا من دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی ميعاد بسر کر کے چلا جائے گا

تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی

بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالباً بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں

تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

فیض احمد فیض

نظم بشکریہ ساجد اقبال

بہرحال دعا تو کرنی ہے کبھی بھی، کہیں بھی :) ۔۔۔ اللہ کرے کہ آنے والا سال سب کے لئے کامیابی، امن اور خوشیوں  کا سندیسہ لائے (آمین)

مکمل تحریر  »