Monday, 4 October 2010

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم!

لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے سید ضمیر جعفری مرحوم کے مجموعے'میرے پیار کی زمیں' پر نظر پڑی۔ چھوٹی سی کتاب آغاز سے اختتام تک وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ زیادہ تر کلام 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے متعلق ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ صرف کیلنڈر پر سال بدلے ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں بدلا ۔ اور اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے۔۔۔ہر دل زخمی اور ہر گھر مقتل :-(



اے ارضِ وطن!



(1)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(2)
ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی
بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی
جلتی راہو! اُٹھتی آہو!
گھائل گیتو! بِسمل نغمو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(3)
افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں
اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں
ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو!
روندی قدرو! مَسلی کلیو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(4)
ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا
ایک آدھ سُنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا
سُونی گلیو! خُونی رستو!
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(5)
بیواؤں کے سر کی نم چادر، خوش وقتوں کی بانات ہُوئی
جو تارا چمکا ڈُوب گیا، جو شمع جلائی رات ہُوئی
ہنستے اشکو! جمتی یادو!
دُھندلی صبحو! کالی راتو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(6)
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء
(قلعہ سوبھا سنگھ)




اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
04 اکتوبر 2010ء

4 comments:

  • کاشف نصیر says:
    4 October 2010 at 16:48

    اچھی نظم ہے، شئٕر کرنے کا شکریہ

  • شازل says:
    4 October 2010 at 18:09

    اچھی شاعری ہے
    شکریہ

  • محب علوی says:
    6 October 2010 at 13:56

    دردناک اور دل سے لکھی جانے والی نظم ہے

  • محمد احمد says:
    7 October 2010 at 10:34

    ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
    اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

    بہت اچھی نظم ہے اور آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے اور ہم لوگ اب بھی اپنی روش پر قائم ہیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔