Friday, 27 March 2020

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سچ 3

1 comments
کاش میرے ملک کے
 تمام شہری ایسے قرنطینہ کا وقت یوں بے فکری سے اور لطف
اندوز ہوتے گزار سکتے۔

   

Tuesday, 24 March 2020

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 2

0 comments
ایک تو ویسے ہی سارا گھر 'سماجی فاصلے' پرعمل پیرا ہوتے ہوئے گھر بیٹھا ہے۔ پھر بالآخر عثمان بزدار صاحب بھی جاگ گئے ہیں اور لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ہمارے دفتر والوں کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایسے میں دفتر بیٹھے میں یہی سوچ رہی ہوں کہ لوگوں کو حالات کی سنگینی کا احساس کیسے دلوایا جائے۔ کیا دو تین چھینکیں مارنے سے کوئی ڈرے گا؟

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 1

0 comments
سو ایک طویل عرصے کے بعد واپسی ہوئی بھی تو کس صورت میں۔ دنیا بھر میں اس وقت کرونا وائرس کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ اور کیا ترقی یافتہ و ترقی پذیر، ہر ملک اس عفریت کا سامنا کرتے ہوئے یکساں مشکلات کا شکار ہے۔
بات پاکستان کی ہو تو معلوم نہیں اسے حالات کی ستم ظریفی کہنا چاہیے، ارباب اختیار کی نااہلی، عوام کی غیر سنجیدگی یا کچھ اور۔ اس وقت پوری قوم کا ذہن ماؤف ہے سو اس تحقیق کو کسی اور وقت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔

میں یہاں ایک عام پاکستانی شہری کی روزمرہ کے احساسات شامل کرنے کی کوشش کروں گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی، قومی منصوبہ بندی کمیشن اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ میں کتنے دنوں سے اس چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ کاش کوئی سمجھا دے۔

 

Friday, 7 September 2018

بلاعنوان

0 comments
آج سے تقریبا ساڑھے سات برس پہلے یہ نظم دُکھے دل کے ساتھ  پوسٹ کی تھی۔ گزشتہ کل جب ساری قوم یومِ دفاع و شہدائے پاکستان منا رہی تھی، میرے ذہن میں پھر اسی کلام کےالفاظ گونج رہے تھے۔


فوجی بینڈ کی دھن ہر پاکستانی کے دل میں ایک خاص جوش و جذبہ جگاتی ہے اور انسان مزید پُرعزم ہو جاتا ہے لیکن اب میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔  بلکہ اس سال جس قدر جوش و جذبہ اور جگہ جگہ اشتہار، بِل بورڈ اور بینرز کی فراوانی دیکھنے کو مل رہی تھی مجھے اتنی ہی خاموشی اور دکھ محسوس ہو رہا تھا۔ نجانے کیوں؟  کیا یہ وطن سے لگاؤ اور محبت میں کمی ہونے کی نشانی ہے یا میں کچھ زیادہ ہی حقیقت پسند ہو گئی ہوں یا آخری بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایک بور انسان ہونے کی معراج ہے۔ 


Wednesday, 23 August 2017

اللہ کا شُکر!!!

0 comments
چند دن پہلے بازار جانے کا اتفاق ہوا۔   میں ایک دکان سے باہر نکلی تو  ایک چھوٹا سا  بچہ ہاتھ میں 14 اگست کے بیج اور چھوٹے جھنڈے پکڑے سامنے آ گیا۔ میں عموما ایسے بچوں سے ضرور کچھ خریدتی ہوں کہ کم از کم وہ ہاتھ تو نہیں پھیلا رہے۔ میں نے اس سے ایک بیج اور جھنڈا  خرید لیا۔۔ کافی دیر کے بعد وہی بچہ مجھے پارکنگ میں ملا اور کچھ خریدنے کو کہا۔ میرے یہ کہنے پر کہ بیٹا میں نے ابھی تو آپ سے چیزیں لی ہیں، اس بچے نے نہایت تمیزدارانہ انداز میں یہ کہتے ہوئے معذرت کی 'سوری آنٹی،  میں غلطی سے دوبارہ آ گیا'۔ اس کی اسی معذرت نے میرا دل موہ لیا اور میں نے اس سے بات چیت شروع کی۔
میں: بآپ پڑھتے ہو؟
بچہ: جی
میں: کس سکول میں؟
بچہ: ہماری گلی میں اقرا پبلک سکول ہے۔ وہاں جاتا ہوں۔ پہلی جماعت میں پڑھتا ہوں۔
میں: شاباش۔ پڑھنا نہیں چھوڑنا۔ آپ بہت اچھے بچے ہو۔ ان شاءاللہ بہت آگے جاؤ گے۔
بچہ: جی۔  میری  فیس زیادہ ہے اور امی اکیلی کام کرنے والی ہیں۔ اس لیے کہتی ہیں کہ چھٹی والے دن یہ کام کر لیا کرو تو ہمارے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ میں چھٹی والے دن اسی طرح مارکیٹ میں چیزیں بیچتا ہوں۔
میں: آپ لوگ یہیں قریب ہی رہتے ہیں؟
بچہ: نہیں آنٹی۔ میں کھنہ پل کے پاس رہتا ہوں۔
میں: وہ تو کافی دور ہے۔ آنا جانا کیسے ہوتا ہے؟
بچہ: جی۔ وہاں سے وین پر بیٹھ کر آتا ہوں۔ کچھ راستہ پیدل چلتا ہوں۔
میں: تو بیٹا کیا آپ کے پاس وین کے خرچے کے بعد کچھ بچت ہوتی بھی ہے یا نہیں؟
بچہ: 'بس اللہ کا شکر ہے۔ اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔'
میں ایک نو  دس سالہ بچے سے ایسا خوبصورت اور بامعنی جملہ سننے کی ہر گز توقع نہیں کر رہی تھی۔
 اس  کا 'اللہ کا شکر ہے' اس دن میرے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ مجھے اٹھتے بیٹھتے اس کا مطمئن انداز اور قناعت بھرا لہجہ یاد آتا ہے اور میں خود اپنے بارے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ میں کتنی بار اس خوبصورتی سے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ میرے تو  ہر شکر کے ساتھ 'اب مجھے یہ چاہیے' کا دم چھلا لگا ہوتا ہے اور میرا 'اللہ کا شکر ہے' عموما آٹو پر سیٹ ایک جملہ ہوتا ہے، نہ اس میں شکر کی کیفیت ہوتی ہے اور نہ قناعت کا رنگ۔ اور پھر میرے دل سے اس کے لیے دعائیں نکلتی ہیں کہ اتنے چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے مجھے کتنا بڑا سبق سکھایا۔

واپس آتے ہوئے جب میں نے اس کی تھوڑی سی مدد کرتے ہوئے کہا کہ امی کو دینا تو اس نے   پیسے جرابوں میں رکھتے ہوئے ایک بار پھر بہت پیارے انداز میں کہا کہ 'میں ہر چیز امی کو دیتا ہوں۔'
مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں نے جس مقصد کے لیے اس کی مدد کی وہ پورا ہوا یا نہیں لیکن میں نے بہت دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اسے  ہر برائی سے محفوظ رکھے اور اسے بہت کامیابیاں دے۔

Wednesday, 23 November 2016

سوچوں کا الجھا ریشم!

1 comments
بہت عرصہ ہو گیا دریچہ کھول کر بلاگنگ کی دنیا میں جھانکے ہوئے۔ ایک وقت تھا کہ بے ربط سوچوں کو بے ربط اندازمیں ہی سہی، لیکن الفاظ دینا ایسا مشکل نہیں لگتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ الفاظ میں معمولی سا ربط بنانے میں ہی گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور زندگی اس قدر تیز چلتی جاتی ہے کہ سوچوں کے اس ڈھیر کو چھوڑ فورا بھاگم بھاگ اگلے سٹاپ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے سکول کے دنوں میں کسی ڈرامے میں ایک شعر سنا تھا  جو فورا ذہن سے چپک گیا۔ 
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے سے جدا کس کو کریں
یہ وہی دن تھے جب اردو کی ٹیچر کی کوششوں سے ہم سب کا اردو زبان سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ سو جہاں کچھ نیا دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا فورا اردو کی کلاس میں ذکر کیا جاتا اوراس شعر کا مطلب  بھی انہی سے پوچھا۔ میری استاد نے بہت اچھا سمجھایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بیٹا اس شعر کی سمجھ آپ کو تب زیادہ اچھی آئے گی جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گی۔ اور اب مجھے یہ شعر اور اپنی اردو کی مس دونوں ہی اکثر یاد آتی ہیں۔ 

خیر۔ کبھی کبھی سوچوں کے الجھے ریشم کو سلجھانے کا موڈ بن ہی جاتا ہے۔ اسی موڈ کے زیرِ اثر آج بلاگ کھول کیا یہ سوچتے ہوئے کہ کچھ لکھا جائے۔ میرا خیال ہےابھی لیے اتنا سلجھاؤ کافی ہے۔ نیٹ پریکٹس ہو گئی۔ اب اگلی پوسٹ کی تیاری کرنی چاہیے۔  

Monday, 30 May 2016

ہلکی پُھلکی مار!

5 comments







گزشتہ چند دنوں سے 'بیوی پر ہلکے پُھلکے تشدد' کے حق اور مخالفت میں اتنے سارے بیانات کبھی باتصویر ، کبھی بے تصویر، کبھی آڈیو اور کبھی ویڈیو کی صورت میں پڑھنے و دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ میں نے سوچا کہ مجھے اس موضوع پر اظہارِ خیال کر دینا چاہیے۔ کل کو ہو سکتا ہے کہ میرے سنہرے الفاظ کا حوالہ دیا جائے اور میں بھی صاحب عقل و دانش مندان کی فہرست میں شامل کر لی جاؤں۔
لیکن سچی بات ہے کہ اس پوسٹ کے لکھنے کی اصل تحریک یہ تصویر بنی ہے جو  بذریعہ واٹس ایپ و فیس بک یقینا اب تک تمام قوم تک پہنچ چکی ہو گی۔


میرا خیال ہے کہ ہمارے حامیانِ ہلکا پھلکا تشدد علما و فقہا دراصل ایک بہت بڑی سماجی تحریک و خدمت کا باعث بن رہے ہیں جس کا ابھی انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے اور جس کی بنا پر مستقبل میں ہماری بچیاں اور خواتین انہیں دعائیں دیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں خصوصا جنوبی ایشیا میں خواتین عموما خون ، فولاد اور کیلشئم کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت جلد ان کی ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی عموما دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک تو  چند طبقات میں ابھی بھی بیٹی کے کھانے پینے اور صحت کے بارے میں دھیان نہیں دیا جاتا اور ان کے حصے کا کھانا اوردودھ بھائیوں کو دیا جاتا ہے کہ آخر کو بڑے ہو کر انہوں نے اور بہت سے کاموں کے ساتھ 'ہلکا پھلکا تشدد' بھی کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ جہاں ایسی ترجیحات کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا وہاں بھی عموما بچیاں دودھ پینے سے اتنی رغبت نہیں رکھتیں اور نتیجتا کیلشیئم کی کمی ان کی کمزور ہڈیوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اب ہو گا یہ کہ مائیں جیسے بچپن میں بیٹیوں کو سسرال میں پیش آنے والے متوقع حالات کے بارے میں ڈراڈرا کر انہیں گھریلو امور میں طاق کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔'کچھ سیکھ لو گی تو آگے آسانی ہو گی ورنہ سسرال جا کر پہلے دن ہی ہماری ناک کٹوا دو گی'۔ ویسے ہی دودھ پینے کی ترغیب بھی دیا کریں گی۔۔"نیس ویٹا پیو گی تو ہڈیاں مضبوط ہوں گی نا ورنہ سسرال جا کر 'ہلکے پھلکے تشدد' کے پہلے دور میں ہی اپنی ہڈیاں تڑوا لو گی۔ " اسی ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خوف سے لڑکیاں دودھ پینا شروع کر دیں گی. اسی طرح جب لڑکے والے جب اپنے چندا کی دلہن ڈھونڈنے جائیں گے تو عمر کے بعد پہلا سوال ہڈیوں کی مضبوطی پر ہو گا کہ ایسا نہ ہو کہ ذرا سی مار ہر ہی ہڈی ٹوٹ جائے اور کوئی مقدمہ بن جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ثبوت کے طور پر خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ مانگی جائے تا کہ وٹامن ڈی کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یوں والدین بچیوں کے پیدا ہوتے ہی جہیز کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی ہڈیوں کی مضبوطی پر بھی خصوصی توجہ دیں گے،  ہماری خواتین صحت مند ہوں گی اور پاکستان 'ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن' اور اسی قسم کے دیگر اداروں کی ریٹنگ میں کچھ اوپر آ جائے گا۔ میرا خیال ہے اس کا کریڈٹ و ثواب سیدھا سیدھا مولانا شیرانی اینڈ کو کو جائے گا۔ کاش ان کے ناقدین کو یہ بات سمجھ میں آ جائے۔
ویسے مجھے شک ہے اس سارے قصے میں کچھ ہاتھ نیس ویٹا اور ماہرہ خان کا بھی ہے۔ دیکھا جائے تو انہوں نے دو سال پہلے ہی یہ مہم شروع کر دی تھی۔ ہر وقت عورتوں کی کمزور ہڈیوں کے رونے روتے رہتے تھے ٹی وی اور اخبار میں۔
ہمارے ان دانشوران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں بلکہ دیگر دنیا کے لیے بھی کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میرے سمیت بہت سے مداحین 'Johnny Depp' پر ان کی بیوی 'Amber Heard' کی طرف سے لگائے گئے تشدد کے الزامات پر بہت پریشان ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ جونی ڈیپ کو ایک ای میل کروں کہ وہ ہمارے علما سے فتویٰ لیں اور عدالت میں بطور دفاع پیش کریں کہ اب اتنا 'ہلکا پھلکا تشدد' تو جائز ہی ہے۔ کیا ہوا کہ ایک شیشے کی بوتل اٹھا کر مار دی۔ کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی نا۔ مجھے یقین ہے کہ مغرب کی آزادانہ رائے اور عمل کی حامی عدالتیں اس فتویٰ کو بغیر کسی تعصب کے مان لیں گی۔ نہ مانیں تو کسی 'بین المذاہبی ادارے' کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
میں امبر ہرڈکو بھی ایک ای میل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں تا کہ اسے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی خواتین کی بہادری اور برداشت کے گُن گانے والوں کو یہ بتایا جا سکے کہ آپ تو ایک ہلکی سی ضرب کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ آئیں ذرا پاکستانی عورت کو دیکھیں جس پر ہلکی پھلکی مارپیٹ کے لیے باقاعدہ 'لائسنس' جاری کیا جا رہا ہے۔ تو بہادر کون ہوا؟
پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ ہر کوئی مذہب و قانون کی اپنے اپنے حساب سے تعریف کر رہا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے اپنی اپنی تشریحات سامنے لا رہے ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں شاید مستند علما مٹھی بھر ہوں گے۔ جہاں تھوک کے حساب سے عالم و فاضل و دانشوران موجود ہیں جن کے اپنے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ اگر کبھی وہ انجانے میں درست بات کہہ بھی دیں تو لوگ شبہے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہاں عوام ایسی ہی کنفیوژ ہو گی جیسی اس وقت ہم ہیں۔ قرآن اگر کسی چیز کی ہدایت کرتا ہے تو اس کے لیے مکمل حالات و شرائط بھی واضح کرتا ہے لیکن ہم اس میں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں اور باقی سب نظر انداز کر دیتے ہیں نتیجہ ایسے مسلم معاشرے کی صورت میں نکلتا ہے جس میں ہم بس رہے ہیں۔ اللہ ہم ہر رحم کرے، ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں بلند نظر اور باعمل علما و رہنماؤں کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین