Wednesday, 23 August 2017

اللہ کا شُکر!!!

چند دن پہلے بازار جانے کا اتفاق ہوا۔   میں ایک دکان سے باہر نکلی تو  ایک چھوٹا سا  بچہ ہاتھ میں 14 اگست کے بیج اور چھوٹے جھنڈے پکڑے سامنے آ گیا۔ میں عموما ایسے بچوں سے ضرور کچھ خریدتی ہوں کہ کم از کم وہ ہاتھ تو نہیں پھیلا رہے۔ میں نے اس سے ایک بیج اور جھنڈا  خرید لیا۔۔ کافی دیر کے بعد وہی بچہ مجھے پارکنگ میں ملا اور کچھ خریدنے کو کہا۔ میرے یہ کہنے پر کہ بیٹا میں نے ابھی تو آپ سے چیزیں لی ہیں، اس بچے نے نہایت تمیزدارانہ انداز میں یہ کہتے ہوئے معذرت کی 'سوری آنٹی،  میں غلطی سے دوبارہ آ گیا'۔ اس کی اسی معذرت نے میرا دل موہ لیا اور میں نے اس سے بات چیت شروع کی۔
میں: بآپ پڑھتے ہو؟
بچہ: جی
میں: کس سکول میں؟
بچہ: ہماری گلی میں اقرا پبلک سکول ہے۔ وہاں جاتا ہوں۔ پہلی جماعت میں پڑھتا ہوں۔
میں: شاباش۔ پڑھنا نہیں چھوڑنا۔ آپ بہت اچھے بچے ہو۔ ان شاءاللہ بہت آگے جاؤ گے۔
بچہ: جی۔  میری  فیس زیادہ ہے اور امی اکیلی کام کرنے والی ہیں۔ اس لیے کہتی ہیں کہ چھٹی والے دن یہ کام کر لیا کرو تو ہمارے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ میں چھٹی والے دن اسی طرح مارکیٹ میں چیزیں بیچتا ہوں۔
میں: آپ لوگ یہیں قریب ہی رہتے ہیں؟
بچہ: نہیں آنٹی۔ میں کھنہ پل کے پاس رہتا ہوں۔
میں: وہ تو کافی دور ہے۔ آنا جانا کیسے ہوتا ہے؟
بچہ: جی۔ وہاں سے وین پر بیٹھ کر آتا ہوں۔ کچھ راستہ پیدل چلتا ہوں۔
میں: تو بیٹا کیا آپ کے پاس وین کے خرچے کے بعد کچھ بچت ہوتی بھی ہے یا نہیں؟
بچہ: 'بس اللہ کا شکر ہے۔ اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔'
میں ایک نو  دس سالہ بچے سے ایسا خوبصورت اور بامعنی جملہ سننے کی ہر گز توقع نہیں کر رہی تھی۔
 اس  کا 'اللہ کا شکر ہے' اس دن میرے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ مجھے اٹھتے بیٹھتے اس کا مطمئن انداز اور قناعت بھرا لہجہ یاد آتا ہے اور میں خود اپنے بارے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ میں کتنی بار اس خوبصورتی سے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ میرے تو  ہر شکر کے ساتھ 'اب مجھے یہ چاہیے' کا دم چھلا لگا ہوتا ہے اور میرا 'اللہ کا شکر ہے' عموما آٹو پر سیٹ ایک جملہ ہوتا ہے، نہ اس میں شکر کی کیفیت ہوتی ہے اور نہ قناعت کا رنگ۔ اور پھر میرے دل سے اس کے لیے دعائیں نکلتی ہیں کہ اتنے چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے مجھے کتنا بڑا سبق سکھایا۔

واپس آتے ہوئے جب میں نے اس کی تھوڑی سی مدد کرتے ہوئے کہا کہ امی کو دینا تو اس نے   پیسے جرابوں میں رکھتے ہوئے ایک بار پھر بہت پیارے انداز میں کہا کہ 'میں ہر چیز امی کو دیتا ہوں۔'
مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں نے جس مقصد کے لیے اس کی مدد کی وہ پورا ہوا یا نہیں لیکن میں نے بہت دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اسے  ہر برائی سے محفوظ رکھے اور اسے بہت کامیابیاں دے۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, 23 November 2016

سوچوں کا الجھا ریشم!

بہت عرصہ ہو گیا دریچہ کھول کر بلاگنگ کی دنیا میں جھانکے ہوئے۔ ایک وقت تھا کہ بے ربط سوچوں کو بے ربط اندازمیں ہی سہی، لیکن الفاظ دینا ایسا مشکل نہیں لگتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ الفاظ میں معمولی سا ربط بنانے میں ہی گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور زندگی اس قدر تیز چلتی جاتی ہے کہ سوچوں کے اس ڈھیر کو چھوڑ فورا بھاگم بھاگ اگلے سٹاپ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے سکول کے دنوں میں کسی ڈرامے میں ایک شعر سنا تھا  جو فورا ذہن سے چپک گیا۔ 
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے سے جدا کس کو کریں
یہ وہی دن تھے جب اردو کی ٹیچر کی کوششوں سے ہم سب کا اردو زبان سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ سو جہاں کچھ نیا دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا فورا اردو کی کلاس میں ذکر کیا جاتا اوراس شعر کا مطلب  بھی انہی سے پوچھا۔ میری استاد نے بہت اچھا سمجھایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بیٹا اس شعر کی سمجھ آپ کو تب زیادہ اچھی آئے گی جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گی۔ اور اب مجھے یہ شعر اور اپنی اردو کی مس دونوں ہی اکثر یاد آتی ہیں۔ 

خیر۔ کبھی کبھی سوچوں کے الجھے ریشم کو سلجھانے کا موڈ بن ہی جاتا ہے۔ اسی موڈ کے زیرِ اثر آج بلاگ کھول کیا یہ سوچتے ہوئے کہ کچھ لکھا جائے۔ میرا خیال ہےابھی لیے اتنا سلجھاؤ کافی ہے۔ نیٹ پریکٹس ہو گئی۔ اب اگلی پوسٹ کی تیاری کرنی چاہیے۔  

مکمل تحریر  »

Monday, 30 May 2016

ہلکی پُھلکی مار!



گزشتہ چند دنوں سے 'بیوی پر ہلکے پُھلکے تشدد' کے حق اور مخالفت میں اتنے سارے بیانات کبھی باتصویر ، کبھی بے تصویر، کبھی آڈیو اور کبھی ویڈیو کی صورت میں پڑھنے و دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ میں نے سوچا کہ مجھے اس موضوع پر اظہارِ خیال کر دینا چاہیے۔ کل کو ہو سکتا ہے کہ میرے سنہرے الفاظ کا حوالہ دیا جائے اور میں بھی صاحب عقل و دانش مندان کی فہرست میں شامل کر لی جاؤں۔
لیکن سچی بات ہے کہ اس پوسٹ کے لکھنے کی اصل تحریک یہ تصویر بنی ہے جو  بذریعہ واٹس ایپ و فیس بک یقینا اب تک تمام قوم تک پہنچ چکی ہو گی۔



میرا خیال ہے کہ ہمارے حامیانِ ہلکا پھلکا تشدد علما و فقہا دراصل ایک بہت بڑی سماجی تحریک و خدمت کا باعث بن رہے ہیں جس کا ابھی انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے اور جس کی بنا پر مستقبل میں ہماری بچیاں اور خواتین انہیں دعائیں دیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں خصوصا جنوبی ایشیا میں خواتین عموما خون ، فولاد اور کیلشئم کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت جلد ان کی ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی عموما دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک تو  چند طبقات میں ابھی بھی بیٹی کے کھانے پینے اور صحت کے بارے میں دھیان نہیں دیا جاتا اور ان کے حصے کا کھانا اوردودھ بھائیوں کو دیا جاتا ہے کہ آخر کو بڑے ہو کر انہوں نے اور بہت سے کاموں کے ساتھ 'ہلکا پھلکا تشدد' بھی کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ جہاں ایسی ترجیحات کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا وہاں بھی عموما بچیاں دودھ پینے سے اتنی رغبت نہیں رکھتیں اور نتیجتا کیلشیئم کی کمی ان کی کمزور ہڈیوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اب ہو گا یہ کہ مائیں جیسے بچپن میں بیٹیوں کو سسرال میں پیش آنے والے متوقع حالات کے بارے میں ڈراڈرا کر انہیں گھریلو امور میں طاق کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔'کچھ سیکھ لو گی تو آگے آسانی ہو گی ورنہ سسرال جا کر پہلے دن ہی ہماری ناک کٹوا دو گی'۔ ویسے ہی دودھ پینے کی ترغیب بھی دیا کریں گی۔۔"نیس ویٹا پیو گی تو ہڈیاں مضبوط ہوں گی نا ورنہ سسرال جا کر 'ہلکے پھلکے تشدد' کے پہلے دور میں ہی اپنی ہڈیاں تڑوا لو گی۔ " اسی ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خوف سے لڑکیاں دودھ پینا شروع کر دیں گی. اسی طرح جب لڑکے والے جب اپنے چندا کی دلہن ڈھونڈنے جائیں گے تو عمر کے بعد پہلا سوال ہڈیوں کی مضبوطی پر ہو گا کہ ایسا نہ ہو کہ ذرا سی مار ہر ہی ہڈی ٹوٹ جائے اور کوئی مقدمہ بن جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ثبوت کے طور پر خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ مانگی جائے تا کہ وٹامن ڈی کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یوں والدین بچیوں کے پیدا ہوتے ہی جہیز کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی ہڈیوں کی مضبوطی پر بھی خصوصی توجہ دیں گے،  ہماری خواتین صحت مند ہوں گی اور پاکستان 'ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن' اور اسی قسم کے دیگر اداروں کی ریٹنگ میں کچھ اوپر آ جائے گا۔ میرا خیال ہے اس کا کریڈٹ و ثواب سیدھا سیدھا مولانا شیرانی اینڈ کو کو جائے گا۔ کاش ان کے ناقدین کو یہ بات سمجھ میں آ جائے۔
ویسے مجھے شک ہے اس سارے قصے میں کچھ ہاتھ نیس ویٹا اور ماہرہ خان کا بھی ہے۔ دیکھا جائے تو انہوں نے دو سال پہلے ہی یہ مہم شروع کر دی تھی۔ ہر وقت عورتوں کی کمزور ہڈیوں کے رونے روتے رہتے تھے ٹی وی اور اخبار میں۔
ہمارے ان دانشوران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں بلکہ دیگر دنیا کے لیے بھی کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میرے سمیت بہت سے مداحین 'Johnny Depp' پر ان کی بیوی 'Amber Heard' کی طرف سے لگائے گئے تشدد کے الزامات پر بہت پریشان ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ جونی ڈیپ کو ایک ای میل کروں کہ وہ ہمارے علما سے فتویٰ لیں اور عدالت میں بطور دفاع پیش کریں کہ اب اتنا 'ہلکا پھلکا تشدد' تو جائز ہی ہے۔ کیا ہوا کہ ایک شیشے کی بوتل اٹھا کر مار دی۔ کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی نا۔ مجھے یقین ہے کہ مغرب کی آزادانہ رائے اور عمل کی حامی عدالتیں اس فتویٰ کو بغیر کسی تعصب کے مان لیں گی۔ نہ مانیں تو کسی 'بین المذاہبی ادارے' کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
میں امبر ہرڈکو بھی ایک ای میل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں تا کہ اسے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی خواتین کی بہادری اور برداشت کے گُن گانے والوں کو یہ بتایا جا سکے کہ آپ تو ایک ہلکی سی ضرب کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ آئیں ذرا پاکستانی عورت کو دیکھیں جس پر ہلکی پھلکی مارپیٹ کے لیے باقاعدہ 'لائسنس' جاری کیا جا رہا ہے۔ تو بہادر کون ہوا؟
پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ ہر کوئی مذہب و قانون کی اپنے اپنے حساب سے تعریف کر رہا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے اپنی اپنی تشریحات سامنے لا رہے ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں شاید مستند علما مٹھی بھر ہوں گے۔ جہاں تھوک کے حساب سے عالم و فاضل و دانشوران موجود ہیں جن کے اپنے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ اگر کبھی وہ انجانے میں درست بات کہہ بھی دیں تو لوگ شبہے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہاں عوام ایسی ہی کنفیوژ ہو گی جیسی اس وقت ہم ہیں۔ قرآن اگر کسی چیز کی ہدایت کرتا ہے تو اس کے لیے مکمل حالات و شرائط بھی واضح کرتا ہے لیکن ہم اس میں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں اور باقی سب نظر انداز کر دیتے ہیں نتیجہ ایسے مسلم معاشرے کی صورت میں نکلتا ہے جس میں ہم بس رہے ہیں۔ اللہ ہم ہر رحم کرے، ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں بلند نظر اور باعمل علما و رہنماؤں کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


مکمل تحریر  »

Wednesday, 27 April 2016

سوال

آج صبح پی ٹی وی پر تلاوت کلام پاک سننے کے لیے ٹیلی ویژن آن کیا تو پہلے سے جیو کہانی چینل چل رہا تھا. شاید رات کو کسی نے یہی چینل دیکھتے ہوئے ٹیلی ویژن بند کیا ہو گا.
خیر اس وقت وہاں اسلامی گفتگو پر مبنی کوئی پروگرام چل رہا تھا جس میں ایک خاتون درس دے رہی تھیں. جتنی دیر میں پی ٹی وی لگایا گیا. میرے 8 سالہ بھتیجے صاحب جو وہیں سکول کے لیے تیاری کر رہے تھے، نے ایک سوال پوچھا. 
سوال یہ تھا کہ یہ جیو کہانی والے ایسا پروگرام کیوں لگاتے ہیں؟ یہ تو بھگوان والا چینل نہیں ہے؟ 
اس کی حیرت اس لیے بجا تھی کہ  اس چینل کو جب بھی ٹیون کرو اس پر ہندی ڈرامے آ رہے ہوتے ہیں. اور بچے کے خیال میں یہ پاکستانی چینل نہیں تھا.

مکمل تحریر  »

Wednesday, 16 March 2016

ٹریفک جام!

یوں تو میں مرفی صاحب کے بہت سے قوانین کی مداح ہوں لیکن ایک قانون جو مجھے روزانہ چند مخصوص اوقات میں یاد آتا ہے وہ ہے کہ جب آپ ایک طویل قطار کو چھوڑ کر چھوٹی قطار میں شامل  ہوں تو وہ طویل ترین ہو جاتی ہے. اور اس کی پہلی عملی مثال مجھے ہر صبح دفتر جاتے ہوئے دیکھنے کو ملتی ہے. اس وقت پچھلے آدھے گھنٹے سے میں اس اژدھام کا حصہ ہوں جہاں سامنے بڑے بورڈ پر 'چار قطاریں بنائیں' کا بورڈ لگا ہے اور اس وقت مجھے بمپر تا بمپر اور دروازہ تا دروازہ 8 قطاریں دکھائی دے رہی ہیں. اور مرفی کے قانون کا عملی مشاہدہ بھی ہو رہا ہے. کہ جب یہ آگے رکاوٹوں کے پاس پہنچتی ہی تو 8 قطاروں کو پھر 4 ہی بننا ہوتا ہے تو گردن تا گردن مقابلہ جاری ہے اور مجھے لگتا ہے یو ٹرن تک کے میرے 20 قدم گاڑی پر ابھی مزید 20 منٹ لے جائیں گے.  اور یہاں گاڑیوں کے رینگنے کے مقابلہ ابھی بہت دیر چلنے کا امکان ہے.
بہرحال  یہ روز کا معمول ہے. جس دن خوش قسمتی سے اس جگہ سے نکلنے میں صرف 10 سے 15 منٹ لگیں تو جیسے ہی میں دفتر کے مرکزی دروازے میں داخل ہوتی ہوں. دونوں گارڈز پہلے گھڑی کو دیکھتے ہیں پھر مجھے اور پھر سلام دعا کے بعد پہلا تبصرہ ہوتا ہے، آج ٹریفک کم تھی؟
لیکن مجھے اس رش اور تاخیر پر زیادہ پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ اب یہ معمول کا حصہ بن گئی ہے. ویسے بھی جس نے لندن کی ٹریفک بھگت لی وہ صبر کا عادی ہو جاتا ہے. فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں آپ کی گاڑی اپنی قطار میں رہتے ہوئے رینگتی ہے یہاں آپ سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی طرح ایک سے دوسری قطار میں چھلانگ لگاتے رہتے ہیں. اب بطور پاکستانی اتنا تو حق بنتا ہی ہے. انفرادیت بھی کسی چڑیا کا نام ہے آخر.
سو میرا تجربہ کہتا ہے کہ جب آپ ایسے رش میں پھنس جائیں تو بجائے پریشان ہونے کے وہ کام کر لیں جو عام حالات میں کرنے کی فرصت نہیں ملتی. اور چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھیں. مثلا:
درزی، دھوبی، موچی جس جس کی خبر لینی ہو اسے فون کرنے کا اور کوفت ختم کرنے کا اس سے اچھا کوئی موقع نہیں. خوب تسلی سے خبر لی جا سکتی ہے.
 بٹوے کی صفائی کرنا. اس سے نہ صرف یہ کہ فالتو پرچیاں ، کاغذ وغیرہ سے چھٹکارا ملے گا بلکہ ایسی ایسی بچھڑی چیزوں سے ملاپ ہو گا جنہیں آپ 'تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے' گا گا کر یاد کیا کرتے تھے.
اگر آپ واٹس ایپ کے متاثرین میں شامل ہیں تو فون گیلری کھولنے اور یہ جاننے کا سنہری موقع کہ کیا کیا خزانے جمع ہیں فون میں تصویروں اور ویڈیوز کی صورت میں جن کے بارے میں آپ کو علم ہی نہیں تھا اور ان میں سے کئی تو اتنے لوگوں نے فارورڈ کی ہوں گی کہ 'ہر سو، ہر جگہ، جا بجا' والا حساب ہو گا. اور آپ اس جہان میں ایسے گم ہو جائیں کہ 'میں وہاں ہوں جہاں سے مجھ کو بھی کچھ اپنی خبر نہیں آتی' کی تفسیر ہو جائیں گے.
فون کی صفائی: وہ ہٹ دھڑم پروموشنل پیغامات جن کو آپ کا فون ہزار کوشش کے باوجود بلاک نہیں کر سکتا اور وہ ہمارے 'ہر دل عزیز' مارننگ شوز اور ٹاک شوز کے میزبانوں کی طرح 'مان نہ مان، میں تیرا مہمان' پر عمل کرتے جوتوں سمیت فون میں گھسے چلے آتے ہیں، کو فون سے دیس نکالا دینے کے لیے یہ بہترین وقت ہے.
گاڑی کا جائزہ:  اکثر گاڑی کا جائزہ لینے کا موقع نہیں ملتا اور یہ کام بھی ٹریفک کے چلنے کا انتظار کرتے ہوئے کیا جا سکتا ہے. اگر آپ ڈرائیور نہیں ہیں تو جو بھی مسئلہ نظر آتا ہے ڈرائیور کو بڑھا چڑھا کر بتائیں لیکن اپنے رسک پر کیونکہ ڈرائیور اگر اصلی والا ڈرائیور ہے تو وہ جی جی کر کے بات سن لے گا اور گھر کے افراد میں سے کوئی گاڑی چلا رہا ہے تو آپ کا تبصرہ دو طرفہ تبادلہ خیال کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے بعد سڑک خالی ہوتے ہی آپ کی گاڑی پاکستانی رکشہ کی طرح ہوا میں اڑتی جائے گی اور گاڑی کے ساتھ ساتھ انسانوں کے انجر پنجر ڈھیلے ہونے کے کافی امکانات ہو سکتے ہیں.
اور اگر گاڑی آپ خود چلا رہے ہیں تو جائزے میں سامنے آنے والے مسائل کو دوسروں کی نظر میں نہ آنے دینے کے لیے غور و فکر کے لیے مراقبہ کرنے کا بھی یہی بہترین وقت و موقع ہے.
 ابھی تک اتنا ہی لکھ سکی ہوں کہ اب ٹریفک رینگنا شروع ہو رہی ہے. باقی مثبت مشغولیت کے بارے میں پھر کبھی سہی.
ویسے مذاق برطرف، اس وقت کو بنا کوفت گزارنے کا سب سے بہتر حل تسبیح کرنا ہے. اور ایک آزمودہ نسخہ یہ بھی ہے. ٹریفک یا اسی جیسی رکاوٹ کے وقت سورہ قریش یا تیسرے کلمے کا ورد.
اللہ تعالٰی ہم سب کی مشکلات آسان فرمائیں. آمین

مکمل تحریر  »

Wednesday, 22 July 2015

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

جس ملک میں اسلام کے نام پر تجارتی بازار کھلا ہو وہاں رحمت کیسے آئے. 
ایک طرف ٹوپی پہنے باریش میزبان فصیح و بلیغ زبان میں سادگی اور قناعت پسندی کی تبلیغ کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف نیچے سلائیڈ چل رہی ہے کہ موصوف کا کرتا فلاں ڈیزائنر برانڈ کا ہے.
ایک طرف ایک چینل پر ایک خودساختہ خدائی فوجدار ایک دوسرے چینل پر نشر ہونے والے پروگرام میں اسلامی مقدس ہستیوں کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی خبر دے کر اس کی میزبان کے خلاف کیا کیا نہیں کرتا اور اسے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف چند ہی مہینوں بعد وہی شخص اسی میزبان کے اعزاز میں کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتا ہے.
ایک طرف برسہا برس بے گناہ جیلوں میں بند ناکردہ گناہوں کی سزا بهگتتے رہتے ہیں تو دوسری طرف ایک ماڈل غیر قانونی پیسہ باہر لے جاتے پکڑی جاتی ہے اور اس کو پکڑنے والے افسر کو دائمی نیند سلا کر ماڈل کو میڈیا پر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر سیلفیاں اپلوڈ کرنے کے لیے رہا کر دیا جاتا ہے. 
اور مجھ سمیت تمام عوام بےحس ہو کر 'جیتو پاکستان جیتو' دیکھ رہی ہے.  تو پهر میں کیسے نہ سوچوں کہ جو ہو رہا ہے ہماری کرنیوں کا پھل ہے. 

مکمل تحریر  »

Sunday, 28 June 2015

فرائض اور ہم!

 بعض اوقات کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کچھ کہے بغیر  نہیں رہ سکتا. روزہ ایک فرض عبادت ہے اور فرض عبادت کیسی ہی کٹھن کیوں نہ محسوس ہو اسے خوشدلی سے ادا کرنا ہی اس کی کامیابی ہے لیکن ہم لوگ جو دنیاوی خداؤں کے سامنے کچھ کہنے سے پہلے دس بار اس کے ممکنہ اثرات و نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں اور پهر انتہائی نپی تلی بات کرتے ہیں کہ کہیں انہیں ناگوار نہ گزرے ، اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ایک بار بهی نہیں سوچتے کہ یہ بات اللہ کو ناگوار نہ گزرے.  سو ادهر رمضان شروع ہوا نہیں ادهر روزے کے بارے میں ایسے ایسے ٹیکسٹ میسج فارورڈ ہونا شروع ہو گئے کہ بعض اوقات افسوس کے ساتھ حیرت بهی ہوتی ہے ..کیا ہم اس عبادت کی فرضیت اور روح کے بارے میں لاعلم ہیں اور یہ حیرت اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب ایسی بات یا مذاق کسی باعلم و باعمل شخصیت کی جانب سے ہو.  آج دن میں مجهے ایسا ہی ایک ٹیکسٹ ملا جس میں روزے کی شدت کے بارے میں مذاق کے انداز میں بات کی گئی تهی اور یہ ٹیکسٹ جن کی طرف سے آیا وہ چاہے دنیاوی طور پر باعلم نہ ہوں لیکن عموماً ان کی باتوں اور پیغامات میں دین سے لگاؤ کافی نمایاں ہوتا ہے. اور ابهی ابهی مغرب کے بعد ایسا ہی ٹیکسٹ ایک ایسی شخصیت کی طرف سے ملا جو دنیاوی طور پر بهی انتہائی باعلم ہیں اور دینوی طور پر بهی. ماشاءاللہ حج اور عمرے ہی سعادت بهی حاصل کی ہوئی ہے لیکن ان کے ٹیکسٹ میں بهی بعینہ وہی بات تهی. وہی فارورڈڈ پیغام کلچر جہاں ہم ایک لمحہ بهی غور کیے بغیر پیغام آگے بھیجنا اپنا فرض سمجھتے ہیں.
نجانے مجهے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں مار ہی اس لیے کها رہے ہیں کہ ہم ہر سطح پر اور ہر حیثیت میں 'فرائض' کو مذاق میں اڑانے کے عادی ہو گئے ہیں. 

مکمل تحریر  »