Sunday, 6 January 2008

اردو کے ضرب الامثال اشعار

پچھلے دنوں 'اردو کے ضرب الامثال اشعار' کے عنوان سے لکھی گئی ایک کتاب کا تعارف پڑھنے کا اتفاق ہوا جو کہ 'محمد شمس الحق' نے لکھی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بہت سے اشعار جو ضرب المثل بن چکے ہیں وہ مؤلف کی تحقیق کے مطابق اپنے اصل متن سے کافی مختلف ہیں۔۔صاحب تبصرہ'قاضی اختر جونا گڑھی' کے مطابق اس کتاب میں اشعار کے اس متن اور شعراء کا کھوج بھرپور علمی تحقیق کا نتیجہ ہے اور اصل متن اور شاعر کا نام پیش کرتے ہوئے مکمل تحقیقی جواز پیش کیا گیا ہے۔ تبصرے میں شامل کیے گئے تصحیح شدہ اشعار دیکھ کر مجھے اس کتاب کے دلچسپ ہونے میں کوئی شک نہیں رہا۔۔۔ابھی تک یہ کتاب میرے ہاتھ لگی نہیں تلاش ہنوز جاری ہے۔ بہرحال تبصرے میں موجود چند اشعار یہاں شامل کر رہی ہوں۔



خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری ہو جائے

جبکہ اس شعر کا مصرع ثانی یوں مشہور ہے۔
کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری مل جائے
اس شعر کے خالق 'نواب امین الدولہ مہر' ہیں۔

ایک اور شعر عموماً ایسے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔
نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
کہ جیسے خوش نما لگتا ہے ، دیکھو چاند بن گہنے

اصل شعر کچھ یوں ہے۔
نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے
کہ اُس کو بدنما لگتا ہے ، جیسے چاند کو گہنا

شاعر: شاہ مبارک آرزو

مشہور شعر جو راجہ رام نرائن نے نواب سراج الدولہ کی وفات پر لکھا تھا۔ ہم نے تو اس کو یوں پڑھا تھا۔
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری؟
مؤلف کی تحقیق کے مطابق مصرع ثانی یہ ہے۔
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزرا؟

اسی طرح مرزا رفیع سودا کے مشہور شعر
گل پھینکو ہو اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
میں پہلا مصرعہ یوں بتایا گیا ہے۔
'گل پھینکے ہے عالم کی طرف بلکہ ثمر بھی'

میر تقی میر کا یہ شعر ہمیشہ یوں ہی پڑھا۔
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
جبکہ مؤلف کے مطابق اصل شعر ہے
سرہانے میر کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

میر ہی کا ایک اور شعر۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
اصل متن
میر کیا سادے ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں'

'شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا'

یہ میر کا شعر سمجھا جاتا ہے لیکن صاحبِ تالیف کے مطابق یہ شعر ایک اور شاعر 'محمدیار خان امیر' کا ہے اور اصل شعر یوں ہے۔
شکست و فتح میاں اتفاق ہے ، لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا


'پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی' اس کا مصرع اولیٰ اور شاعر کا نام تو معلوم ہوا ہی، یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مصرعے میں بھی الفاظ کی کچھ ترمیم ہو چکی ہے۔
صاحبِ کتاب کے بقول یہ شعر ایک گمنام شاعر ‘جہاندار شاہ جہاندار’ کا ہے اور اصل میں کچھ یوں ہے۔
آخر گِل اپنی، صرفِ درِ میکدہ ہوئی
پہنچے وہاں ہی خاک، جہاں کا خمیر ہو'

اسی طرح
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ سے
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بَل چلے
کتاب میں اس شعر کے اصل شاعر کا نام 'عظیم بیگ عظیم' اور اصل شعر یوں نقل کیا گیا ہے۔
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثلِ برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بَل چلے

ابراہیم ذوق کا شعر
پھول تو دو دن بہارِ جانفزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے
یوں بیان کیا گیا ہے۔
کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی صبا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے

'سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے' کا پہلا مصرعہ اور شاعر کا نام یوں بیان کیا گیا ہے کہ
اگر بخشے، زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے

شاعر اصغر خان اصغر

بہادر شاہ ظفر سے منسوب مشہورِ زمانہ غزل 'نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں' کو صاحبِ تالیف نے شاعر'جاں نثار حسین اختر' کے والد 'مضطر خیر آبادی' سے منسوب کیا ہے۔ اور اس غزل کے چار مزید اشعار بھی درج کئے ہیں۔

میں نہیں نغمۂ جانفزا، کوئی مجھ کو سن کے کرے گا کیا
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا، میں بڑے دکھی کی پکار ہوں
مرا بخت مجھ سے بچھڑ گیا ، مرا رنگ و روپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا ، میں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں ، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی شمع لا کے جلائے کیوں ، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں
نہ میں مضطر ان کا حبیب ہوں، نہ میں مضطر ان کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

بقول صاحبِ تبصرہ اس کتاب میں غیر معمولی اور غیر متوقع انکشافات ہیں۔ ان اشعار کو دیکھ کر تو واقعی ایسا لگتا ہے۔ لیکن اگر مؤلف نے اتنے وثوق سے یہ انکشافات کئے ہیں تو یقیناً ساتھ باقاعدہ حوالہ جات موجود ہیں۔ اب مجھے انتظار ہے کہ جلدی سے یہ دلچسپ اور معلوماتی کتاب میرے ہاتھ لگے اور میں بھی ان حوالہ جات کو ٹریس کرتے ہوئے تھوڑی سی 'محقق' بن سکوں۔ :)


13 comments:

  • محب علوی says:
    7 January 2008 at 14:56

    فرحت میں نے اس موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے کافی عرصہ قبل محفل پر ایک دھاگہ کھولا تھا اس عنوان سے

    شعر جو ضرب المثل بنے

    وہ ضرور دیکھنا اور داد دینا کہ میں نے تمہارے ذہن کو کتنی دیر پہلے پڑھ لیا تھا اور ہاں آجکل ہو کہاں؟

  • Virtual Reality says:
    8 January 2008 at 16:34

    شکریہ علوی۔۔ اچھا! میں دیکھتی ہوں وہ دھاگہ۔۔پیشگی داد وصول کیجئے۔۔۔ کیونکہ میرا ذہن پڑھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی ڈاکٹر کی لکھائی :D
    میں آجکل بیرونی دوروں میں مصروف ہوں :)

  • امید says:
    19 January 2008 at 12:43

    بہت اچھے اشعار ہیں۔۔۔ اور یہ خیال مجھے بھی آیا تھا کہ

    کہاً ہیں؟؟؟؟؟
    آج کل؟

  • Virtual Reality says:
    19 January 2008 at 13:56

    :) شکریہ امید۔۔۔آپ نے اپنا خیال نہیں لکھا؟؟؟
    بس تھوڑی سی مصروفیت تھی غمِ دوراں کی۔۔۔واپسی ہو گئی اب تو۔۔۔

  • امید says:
    19 January 2008 at 16:04

    یہی خیل آیا تھا کہ بہت دن سے فرحت کو نہیں دیکھا کہیں؟

  • ساجداقبال says:
    20 January 2008 at 11:52

    بہت خوب۔ مجھے یہ تحریر بہت پسند آئی۔ محفل پر بھی اس کا دھاگہ پڑھنے کے قابل ہے۔

  • Virtual Reality says:
    21 January 2008 at 19:17

    بہت شکریہ امید۔۔۔بہت اچھا لگتا ہے جب کوئی ہمارا خیال رکھے۔۔:) خوش رہئیے بہت سارا۔۔۔

    ساجد: بہت شکریہ۔۔ میں نے بھی محفل والے دھاگے کی تعریف سنی ہے لیکن ابھی تک اس تک پہنچ نہیں سکی۔

  • فاتح says:
    12 April 2008 at 18:14

    واہ! انتہائی بیش بہا معلومات ہیں۔
    میں محض اتفاق سے گوگل کے ذریعے اس صفحے تک آ پہنچا اور مضمون پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو فرحت ہیں۔
    فرحت! میں درخواست کروں گا کہ محفل پر بھی یہ مضمون ارسال کیجیے۔
    ویسے آپ فرحت کیانی ہی ہیں یا میرا قیاس غلط ہے؟

  • Virtual Reality says:
    13 April 2008 at 12:10

    السلام علیکم فاتح
    جی آپ کا قیاس بالکل درست ہے۔۔یہ میں ہی ہوں۔۔ اچھا لگا آپ کو یہاں دیکھ کر:)
    بہت شکریہ ۔۔ آپ کے کہنے کے مطابق یہ مضمون محفل پر بھی ارسال کر دوں گی۔۔

  • فاتح says:
    18 May 2008 at 09:06

    جب سے یہ مضمون پڑھا تھا اس کتاب کی تلاش میں سرگرداں تھا لیکن وائے ناکامی۔
    لیکن اب مجھے اس کتاب کے حوالہ جات کی درستگی میں شبہ پیچدا ہو گیا ہے کیونکہ میر کے جس شعر کے متعلق مولف نے وثوق سے لکھا ہے کہ اس کا اصل متن یہ ہے:
    ‘میر بھی کیا سادے ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں’

    وہ غلط ہے۔
    میر کے دیوان میں شعر مذکور یوں درج ہے:

    میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

  • فاتح says:
    18 May 2008 at 09:06

    جب سے یہ مضمون پڑھا تھا اس کتاب کی تلاش میں سرگرداں تھا لیکن وائے ناکامی۔
    لیکن اب مجھے اس کتاب کے حوالہ جات کی درستگی میں شبہ پیچدا ہو گیا ہے کیونکہ میر کے جس شعر کے متعلق مولف نے وثوق سے لکھا ہے کہ اس کا اصل متن یہ ہے:
    ‘میر بھی کیا سادے ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں’

    وہ غلط ہے۔
    میر کے دیوان میں شعر مذکور یوں درج ہے:

    میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

  • Virtual Reality says:
    18 May 2008 at 20:01

    جی فاتح ہو سکتا ہے کہ کچھ ایسا ہو۔۔کیونکہ مجھے بھی یہ کتاب ابھی تک نہیں ملی۔۔ویسے میں نے یہ تعارف 'جنگ' کے ادبی اڈیشن میں پڑھا تھا۔۔۔ مجھے اگر کہیں سے وہ لنک مل جاتا ہے تو یہاں پوسٹ کرتی ہوں۔

  • Virtual Reality says:
    21 July 2008 at 19:11

    فاتح! آپ کا کہنا درست ہے اور اصل شعر بھی ایسے ہی ہے جو آپ نے لکھا۔ میں نے وہی شعر دوبارہ ٹائپ کر دیا۔ اصل شعر میں 'لڑکے' ہی ہے۔ (وہی میری ازلی بدحواسیاں :( )

    تصحیح کے لیے بہت شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔