Monday, 5 January 2009

نوحۂ وطن

ہمارے گھر تباہ ہوں ، غم و ملال کچھ بھی ہو
رہیں گے ہم اِسی جگہ ہمارا حال کچھ بھی ہو

جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میں
مرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو

تمام مہرے سچ کے ہیں ، ہم اہلِ حق کے ہاتھ ہیں
ہماری جیت طے رہی کسی کی چال کچھ بھی ہو

ہمارے بھائیوں کو بس غرض ہے اقتدار سے
وطن کا حال کچھ بھی ہو ، یہاں وبال کچھ بھی ہو

یہ اندھی سوچ دے رہے ہیں نسلِ نو کو رہنما
روش روش کو روند ڈالو، پائمال کچھ بھی ہو

منظر بھوپالی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔