Tuesday, 6 January 2009

آئینہ دکھانا

آج صبح سے اس سوچ میں تھی کہ آئینہ دیکھنا اور دکھانا(لغوی معنوں میں)  کتنا مشکل کام ہے۔ میں خود تو کسی طور آئینہ دیکھ ہی لیتی ہوں مگر دوسروں کو کبھی دکھا نہیں پائی :quiet: ۔ اسے مروت کہیں یا بزدلی کہ چاہوں بھی تو میں یہ کام نہیں کر پاتی۔  ویسے اپنے اردگرد نظر دوڑانے پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ پاکستانی عوام کو ہی لیجئے۔  ایک سے بڑھ کر ایک نا انصافی ہوتی ہے اور قوم کے ’بڑے‘ نہایت اطمینان سے بیان جاری کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کیا، اچھا کیا۔ معلوم نہیں عوام ان کو آئینہ کیوں نہیں دکھاتے۔  یہ مروت ہے ، بزدلی ہے یا بے حسی؟  :-(

لیکن کہیں کہیں ایسی مثال بھی سننے کو ملتی ہے کہ خوشی ہوتی ہے ، رشک آتا ہے کہ کوئی تو ہے آئینہ دکھانے والا۔ کبھی صمد خرم کی صورت میں امریکی سفیر سے انعام وصول کرنے سے انکار کر کے تو کبھی خاتون وکیل مسز گلزار بٹ کی طرح جنہوں نے آج سپریم کورٹ میں وکلاء کی انرولمنٹ تقریب میں موجودہ چیف جسٹس  عبدالحمید ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میں آپ کو چیف جسٹس نہیں مانتی۔‘ بیچارے جسٹس صاحب! :daydream

تفصیل یہاں

آپ کا شمار کس فہرست میں ہوتا ہے۔  پہلی یا دوسری؟

16 comments:

  • مکی says:
    6 January 2009 at 05:17

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    :)

    مکی’s last blog post..دو اور 2 چار

  • عبدالقدوس says:
    6 January 2009 at 08:20

    :hoooo

    عبدالقدوس’s last blog post..پاگلوں کی انجمن

  • ڈفر says:
    6 January 2009 at 09:56

    مامن خان نہیں مومن خان لکھنا تھا

    ڈفر’s last blog post..فیرچھٹیاں

  • ڈفر says:
    6 January 2009 at 09:56

    ساری قوم مامن خان ہے
    ٹھنڈ ماحول، مٹھے چول
    میں تو پہلی کیٹگری میں سے ہوں، دوسری میں جانے کے لئے بے غیرتی کی دیوار میں دروازہ ڈھونڈ رہا ہوں

    ڈفر’s last blog post..فیرچھٹیاں

  • زین زیڈ ایف says:
    6 January 2009 at 15:29

    لوگ تو امریکی سفیر یا اس طرح کے دیگر لوگوں سے ایوارڈ/انعام وصول کرنے کے لیے دو قدم آگے ہوتے ہیں۔اورہمارے معاشرے میں صمد خرم اور مسز گلزار بٹ جیسے با ہمت اور (بقول آپ کے )آئینہ دکھانے والے بہت کم لوگ ہیں۔
    یہاں بیٹھ کر بڑی باتیں کرنے والا شاید میں بھی موقع ملنے پر ایسا نہ کرسکوں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخر میں آپ کو نیا تھیم مبارک ہو۔۔پہلے والے سے بہت خوبصورت ہے یہ تھیم ۔

    زین زیڈ ایف’s last blog post..میرا شہر

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    6 January 2009 at 15:38

    پہلے ایک پرانے گانے کا ایک مصرع ۔ آئینہ اُن کو دکھایا تو بُرا مان گئے ۔
    آئینہ دِکھانے کیلئے اللہ پر یقین ہونا لازمی ہے ۔ اور اللہ پر یقین قائم کرنے کیلئے اپنے عمل پر ہر وقت نظر رکھنا ضروری ہے ۔

    افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..اظہرالحق صاحب کے سوال کا جواب

  • جہانزیب says:
    7 January 2009 at 03:33

    مجھے تو بس یہی کہنا ہے کہ صرف ایک تھیم تھا جسے دیکھ کر میں‌ جلتا تھا، آپ نے اسے بدل دیا ۔

    جہانزیب’s last blog post..سالِ نو مبارک

  • شگفتہ says:
    7 January 2009 at 12:37

    السلام علیکم ، کیا حال ہیں فرحت ؟ اس پوسٹ کا عنوان دیکھ کر رات کو م س ن پر چیٹ یاد آ گئی :smile

    شگفتہ’s last blog post..نیا سال

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 January 2009 at 06:09

    مکی:
    بلاگ پر خوش آمدید :)
    واہ۔ بر محل شعر لکھا ہے آپ نے ۔ :)

    عبدالقدوس:
    :o
    ڈفر:
    کئی بار احساسِ بے بسی بھی انسان کو اس فہرست سے نکلنے نہیں دیتا۔
    زین:
    درست۔ :) عمل کرنا اتنا آسان ہوتا تو شاید قول و فعل میں تضاد نام کی کوئی شے نہ ہوتی۔
    تھیم پسند کرنے کے لئے شکریہ زین :) ۔ پہلے تھیم کو خوبصورت بنانے کے چکر میں اس کو بالکل خراب کر دیا میں نے :-(

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 January 2009 at 06:21

    افتخار اجمل بھوپال:
    بلاگ پر آنے اور اتنی اچھی بات بتانے کے لئے بہت شکریہ انکل :) ۔ لیکن بعض اوقات انسان اپنی حد تک تو اپنے اعمال کو نظر میں رکھتا اور خود کو آئینہ دکھاتا رہتا ہے مگر جب دوسروں کی بات آئے تو ہمت نہیں پڑتی۔ معلوم نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ :-(

    جہانزیب:
    یہ بات پہلے بتانی تھی ناں :-( تھوڑی دیر کو میں کالر تو اکڑا لیتی اسی بہانے :D
    مجھے بھی پرانا تھیم زیادہ پسند تھا لیکن کچھ تخریب کاری کرتے ہوئے بالکل خراب کر دیا :-( ۔ابھی ورک شاپ میں ہے۔ دعا کریں ٹھیک ہو جائے :D
    شگفتہ:
    وعلیکم السلام شگفتہ!
    میں ٹھیک۔ الحمداللہ۔آپ کیسی ہیں؟
    شگفتہ، اصل میں ایم ایس این کی چیٹ نے ہی تو سوچنے پر مجبور کیا تھا :smile

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    9 January 2009 at 15:58

    ویسے معزرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ آج کل کے جو حالات ہیں ان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، مسز گلزار بٹ ایسا محض پبلسٹی حاصل کرنے کے لیے بھی تو کر سکتی ہیں۔ :abarbar

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 January 2009 at 09:32

    بالکل ایسا بھی ممکن ہے۔ :)

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    12 January 2009 at 11:32

    فرحت، آپکا تھیم فائر فاکس میں تھیک نہیں ہے، سایئڈ بار نیچے کو چلی گئی ہے، آپ چیک کریں۔ :what

    آن لائن اخباری رپوٹر’s last blog post..Muhammad Asif ban from visiting UAE

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    13 January 2009 at 18:46

    آن لائن اخباری رپوٹر:
    :cry: ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔
    کیا اب بھی ایسے دکھائی دے رہا ہے؟ میرے پاس تو فائر فاکس میں سائڈ بار اپنی جگہ پر ہے۔

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    14 January 2009 at 15:04

    ارے آپ ایسا فیس تو نا بنائیں فرحت ::allhail ، ویسے حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے مسلے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں آتے ہوتے ہیں لیکن یہاں فائر فاکس میں ہے۔ اور ابھی بھی آ رہا ہے میری طرف تو۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    17 January 2009 at 00:10

    جب ہر روز تھیم میں ایک نیا مسئلہ آنے لگے تو پھر رونا آ ہی جاتا ہے :) ۔ پہلے انٹر نیٹ ایکسپلورر کو میرے ساتھ دشمنی تھی اور اب فائر فاکس بھی :hmm: ویسے میرے پاس فائر فاکس میں سب ٹھیک ہے۔ لیکن ابھی میں بھائی کے کمپیوٹر سے بھی چیک کرتی ہوں۔ ورنہ تھیم کو پھر نئے سرے سے دیکھنا پڑے گا۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔