Saturday, 10 January 2009

اکثر شبِ تنہائی میں۔۔۔Oft in the stilly night!

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دلِ صد چاک پر

وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب

دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا

روندا پڑا ہے خاک پر

یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی

ان حسرتوں کی قبر پر

جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دوستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا

لے دیکھ شیشے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں

قابو دلِ بےصبر پر

جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں

اور خشک رہ جائے شجر

اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی

اجڑا ہوا ویران گھر

یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دل صد چاک پر

نادر کاکوروی (۱۸۵۷۔۱۹۱۲) کا یہ کلام ریشماں  نے بہت میٹھے انداز میں گایا ہے۔  جب بھی سنو بہت اچھا لگتا ہے۔

مجھے کچھ دن پہلے معلوم ہوا کہ یہ   ' Thomas Moore (1779-1852) ' کی نظم ' Oft in The Stilly'  کا ترجمہ ہے۔ یا  دوسرے الفاظ میں اس سے ماخوذ ہے۔

Thomas Moore نے یہ نظم غالباً ۱۸۱۵ میں لکھی تھی جسے Sir John Stevenson نے ۱۸۱۸ میں کمپوز کیا۔  (youtube link)

Oft in the stilly night



Oft in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Fond Memory brings the light
Of other days around me;
The smiles, the tears,
Of boyhood's years,
The words of love then spoken,
The eyes that shone
Now dimmed and gone,
The cheerful hearts now broken!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

When I remember all
The friends, so link'd together,
I've seen around me fall,
Like leaves in wintry weather;
I feel like one
Who treads alone
Some banquet-hall deserted,
Whose lights are fled,
Whose garland's dead,
And all but he departed!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

اگر انگریزی میں یہ نظم اور اس کی موسیقی  ایک شاہ پارہ ہے تو  اسے اردو میں بھی ویسی ہی خوبصورتی سے ڈھالا گیا ہے۔ اور موسیقی دینے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یوں دونوں زبانوں میں ہی یہ کلام اور اس کی موسیقی شاہکار قرار پائے :)

4 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    10 January 2009 at 12:14

    میرے خیال میں اُردو کی نظم انگریزی نظم سے زیادہ جامع ہے ۔ میں نے یہ نظم دسویں کا امتحان دینے کے بعد یاد کی تھی 1953ء میں اور میرے پاس محفوظ ہے ۔ ریشماں نے گاتے ہوئے شاید درست لَے کی خاطر چند الفاظ بدلے تھے ۔ درست نظم یہ ہے
    اکثر شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی دلچسپیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن عیش کے
    بنتے ہیں شمع ذندگی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دل صد چاک پر

    وہ بچپنا وہ ساد گی ۔ ۔ ۔ وہ رونا، وہ ہنسنا کبھی
    پھر وہ جوانی کے مزے ۔ ۔ ۔ وہ دل لگی وہ قہقہے
    وہ عشق وہ عہد و فا ۔ ۔ ۔ وہ وعدہ اور وہ شکریہ
    وہ لذتِ بزمِ طرب ۔ ۔ ۔ یاد آتے ہیں اِک ایک سب

    دل کا کنول جو روز و شب ۔ ۔ ۔ رہتاشگفتہ تھا سو اب
    اسکا یہ ابتر حال ہے ۔ ۔ ۔ اک سبزۂ پا مال ہے
    اک پھو ل کمہلایا ہوا ۔ ۔ ۔ ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا
    روندا پڑا ہے خاک پر

    یوں ہی شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی ناکامیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن رنج کے
    بنتے ہیں شمع بیکسی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
    ان حسرتوں کی قبر پر

    جوآرزوئیں پہلےتھیں ۔ ۔ ۔ پھر غم سے حسرت بن گئیں
    غم دو ستو ں کی موت کا ۔ ۔ ۔ اُن کے جواناں فوت کا
    لے دیکھ شیشسے میں مرے ۔ ۔ ۔ ان حسرتوں کا خون ہے
    جو گرد ش ایام سے یا ۔ ۔ ۔ قسمت ناکام سے
    یا عیش غم انجام سے۔ ۔ ۔ مرگ بت گلفام سے
    خود دل میں میرےمر گئیں ۔ ۔ ۔ کس طرح پاوں میں حزیں
    قابو دل بے صبر پر

    جب آہ ان احباب کو ۔ ۔ ۔ میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
    یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح طائر باغ کے
    یا جیسے پھول اور پتیاں ۔ ۔ ۔ گر جائیں سب قبل از خزاں
    اور خشک رہ جاۓ شجر

    اس وقت تنہائی میری ۔ ۔ ۔ پھر بن کر مجسم بےکسی
    کر دیتی ہے پیش نظر ۔ ۔ ۔ ہُو حق سا اک ویراں گھر
    برباد جس کو چھوڑ کر ۔ ۔ ۔ سب رہنے والے چل بسے
    ٹو ٹے کو ا ڑ اور کھڑ کیاں ۔ ۔ ۔ چھت کے ٹپکنے کے نشاں
    پر نالے ہیں روزن نہیں ۔ ۔ ۔ يہ ہال ہے آ نگن نہیں
    پردے نہیں چلمن نہیں ۔ ۔ ۔ اک شمع تک روشن نہیں
    میرے سوا جس میں کوئی ۔ ۔ ۔ جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
    وہ خانہ خالی ہے دل ۔ ۔ ۔ پو چھے نہ جس کو دیوبھی
    اجڑا ہوا ویران گھر

    یوں ہی شب تنہائی میں ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی دلچسپیاں ۔ ۔ ۔ بیتے ہوۓ دن عیش کے
    بنتے ہیں شمع ذندگی ۔ ۔ ۔ اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دل صد چاک پر

    افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..اسرائیل ۔ حقائق کیا ہیں ؟

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 January 2009 at 09:30

    واقعی اردو نظم زیادہ جامع ہے۔ اصل متن لکھنے کے لئے بہت بہت شکریہ انکل! :)

  • اسماء says:
    16 January 2009 at 02:25

    یہ غزل در حقیقت اپنے ماخذ سے اچھی ہے ۔۔۔ شیئر کرنے کا شکریہ :)

    اسماء’s last blog post..sweetNess

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    17 January 2009 at 00:02

    بہت شکریہ اسماء! :)
    اور بلاگ پر خوش آمدید :flwr

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔