Wednesday, 14 January 2009

یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

Royal Military Academy Sandhurst (RMAS) برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی ہے جہاں مقامی  فوجی افسروں کے علاوہ دنیا بھر سے تیس ممالک ہر سال اپنے بہترین افسروں کو ٹریننگ کے لئے بھیجتے ہیں۔ بہترین کارکردگی دکھانے پر    Queen's Medal ، Sword of Honour اور  Overseas Sword دیئے جاتے ہیں۔

اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword  کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔  یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے  انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔ :smile

ماضی میں پاکستان آفیسرز  اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔ چند نمایاں نام جنہوں نے Overseas Cane حاصل کیا:

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد ملک جنہوں نے Queen's Medal  بھی جیتا۔

جنرل آصف نواز جنجوعہ(مرحوم)  جو ۱۹۹۱۔ ۱۹۹۳ تک پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف رہے۔

اور جنرل علی قُلی خان (ریٹائرڈ) جنہوں نے پاک فوج میں بطور چیف آف جنرل سٹاف (۱۹۹۷۔۱۹۹۸) ، کمانڈر دس کور، راولپنڈی (۱۹۹۵ ) اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس (۱۹۹۳۔۹۵) خدمات سر انجام دیں۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ۱۹۶۲ میں اپنے کورس کے دوران اتوار کی پریڈ کو کمانڈ کیا اور اس موقع پر برٹش اکیڈمی میں  ’بلوچ رجمنٹ‘ کی دھن پر مارچ پاسٹ کیا گیا۔ :victry یہ وہی علی قُلی خان ہیں جنہیں سُپر سیڈ کر کے پرویز مشرف کو ۱۹۹۸ میں چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا۔  :-( اس کے بعد جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

اب بھی پاکستانی افسر اکیڈمی میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے مسلسل پاکستانی کیڈٹس اوور سیز سورڈ حاصل کر رہے ہیں۔ اپریل ۲۰۰۶ میں کیڈٹ احمد رضا خان نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ اپریل ۲۰۰۷ میں کیڈٹ عقبہ حدید ملک اور اپریل ۲۰۰۸ میں یہ اعزاز سید سیفی حسن نقوی کے حصے آیا۔

ان کیڈٹس نے صرف Overseas sword پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ:

احمد رضا خان  کو Defence & International Affairs, War Studies اور بہترین کارکردگی پر تین مزید میڈل دئیے گئے۔عقبہ حدید ملک کو بطور سمندر پار کیڈٹ ، بہترین کارکردگی پر  UAE Communication and Management Studies کا انعام بھی دیا گیا۔ اور سید سیفی حسن نقوی نے overseas cadet prizes for the best Journal, Defence and International Affairs, and War Studies بھی جیتے۔

احمد رضا اور برطانیہ کے پرنس ہیری نے ایک ہی سال ملٹری ٹریننگ مکمل کی۔ اور آج کی پوسٹ انہی کی وجہ سے لکھنا ممکن ہوئی۔  :D   شہزادہ ہنری چارلس (پرنس ہیری)  ، ملکہ برطانیہ کے دوسرے پوتے اور  اپنے ابا پرنس چارلس اور بھائی پرنس ولیم  کے بعد تیسرے نمبر پر تخت کے امیدوار ہیں۔ ہیری صاحب اکثر یہاں کے میڈیا خصوصا Tabloids  کو نت نئی کہانیاں بُننے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ تین سال قبل بنائی گئی ایک  ویڈیو کا میڈیا پر آنا ہے جس میں پرنس ہیری نے اپنے پاکستانی کورس میٹ ’کیڈٹ احمد رخا خان‘ پر کیمرہ فوکس کرتے ہوئے کہا!  "our little Paki friend" ۔  ویڈیو کے منظرِ عام پر  آنے کے بعد ہیری نے اپنی قوم اور پاکستان میں کیپٹن احمد رضا خان سے معذرت کی اور کہا کہ ان کے الفاظ کو نسل پرستی کے زمرے میں نہ لیا جائے۔ وہ تو صرف ایک دوستانہ مذاق تھا وغیرہ وغیرہ۔  خیر اس ویڈیو کے بارے میں شہزادے کی خبر میڈیا، عوام، سیاست دان اور کمانڈنگ آفیسر سبھی لے رہے ہیں، اس لئے میں چھوڑ دیتی ہوں :daydream ۔ لیکن کم از کم اسی بہانے مجھے یہ تو یاد آ گیا کہ میں نےکب سے پاکستانی کیڈٹس کی ہیٹ ٹرک کے بارے میں لکھنا تھا۔ :D

کون کہتا ہے کہ پاکستانی کچھ نہیں کر سکتے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی! :)
:pak


14 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    14 January 2009 at 15:37

    اللہ احمد رضا پر اپنا فضل کرے ۔ علی قلی خان سے تو ایک بار سڑک پر واسطہ پڑا تھا جب وہ کور 10 کا کمانڈر تھا ۔ بد دماغ اور خود سر آدمی ہے ۔ اگر سینڈ ہرسٹ میں یہی کچھ سکھاتے ہیں تو "بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا "

    افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..افسوس صد افسوس

  • میرا پاکستان says:
    14 January 2009 at 16:31

    مٹی تو زرخیز ہے مگر اس کو پانی دینے والوں کی نیتوں میں‌خلل ہیں۔ یہی وجہ ہے یہ مٹی سونا اگلنے کی بجائے راکھ اگل رہی ہے۔

    میرا پاکستان’s last blog post..عورت ذات

  • ابوشامل says:
    14 January 2009 at 16:46

    کمال تو یہ ہے محترمہ کہ وہاں یہ نسل پرستی پر مبنی جملہ سمجھا جاتا ہے جبکہ یہاں لوگ "فخریہ" خود کو "پاکی" کہتے ہیں۔ ایک دو کرکٹ میچز میں میں نے پاکستانی تماشائیوں کو "Paki Power" کے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ :annoy :annoy

    ابوشامل’s last blog post..بلاگ کے لیے اعزاز

  • ڈفر says:
    14 January 2009 at 22:06

    یہ پوسٹ جو آپ نے لکھی اس سے دل کو بڑی تسلی اور خوشی ہوئی ہے۔ میں تو مایوس ہو بیٹھا تھا۔ کہ ساری فوجیں آہستہ آہستہ مشرقی بارڈر پر اکٹھی کر دی ہیں پاکستان نے تو قبائلیوں کو کون مارے گا؟ مارے ٹینشن کے 3 دن نیند نہیں آئی۔ آج سکون ملا ہے، اور لگتا ہے آج خوشی سے نیند نہیں آئے گی۔
    عبدالقدوس:آج کل غیرت مند ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے ہمارے پاس، فل بے شرم ہو جاؤ ;)

    ڈفر’s last blog post..لگتا تو نہیں

  • زین زیڈ ایف says:
    15 January 2009 at 01:56

    بہت خوب ۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے ۔

    ابو شامل بھائی نے ٹھیک کہا ۔میں نے اس نام سے ایک ویب سائٹ بھی دیکھی تھی ۔

    زین زیڈ ایف’s last blog post..اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کریں

  • ماوراء says:
    15 January 2009 at 02:40

    کیا پاکستان میں "پاکی" فخریہ کہا جاتا ہے؟ :o :nailbite :dwh :sh

  • عبدالقدوس says:
    15 January 2009 at 09:06

    آپ نے کتنے جیتے ہیں اب تک :humm

    عبدالقدوس’s last blog post..کون ہے جناب ۔۔۔۔۔۔

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    16 January 2009 at 16:46

    ماورا پاکی لفظ میں پرا کیا ہے ویسے؟ :confused

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    16 January 2009 at 23:42

    افتخار انکل: ٹریننگ اکیڈمی خواہ کوئی بھی ہو۔ ایسے روئیے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں وردی پر ستارے اور لہجے کی رعونت میں عموما راست تناسب ہی پایا جاتا ہے۔

    میرا پاکستان: متفق علیہ۔ :-(

    ابوشامل: فہد! ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے فخر کی بات پر شرمندہ ہونا اور شرمندگی کی بات پر فخر کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ڈفر: یقین جانیں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے کس تناظر میں تبصرہ کیا ہے :humm ۔ بہرحال میرے لئے ایسی کوئی بھی خبر ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتی ہے جس میں پاکستانیوں کی کسی بھی میدان میں نمایاں کارکردگی کا ذکر ہو۔ چاہے وہ طلبہ ہوں، کیڈٹس ہوں یا کچھ اور۔ :) ۔ کسی شعبے میں کرپشن ہے تو اس کی وجہ سے میں اچھی مثالوں کو سراہنا تو نہیں چھوڑ سکتی۔ ویسے بھی میرا تعلق اس قوم سے ہے جو اوبامہ کی فتح پر اس لئے جشن مناتی ہے کہ اس کی والدہ نے کبھی پاکستان میں قدم رنجہ فرمایا تھا اور کسی پیڑھی میں اس کا کوئی بزرگ مسلمان بھی تھا :D ۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    17 January 2009 at 00:00

    زین: شکریہ زین! :) ۔ ایسا رویہ ہماری نوجوان نسل کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے شاید۔
    ماوراء: ’سب کچھ ہو سکتا ہے‘ :)
    عبدالقدوس: :qstn
    آن لائن اخباری رپوٹر: لفظ ’پاکی‘ یہاں نسلی منافرت کی نمائندگی کرتا ہے 60 کی دہائی میں مقامی لوگ یہاں پاکی کو حقارت کے معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ اب اگرچہ حالات مختلف ہیں لیکن اس لفظ کو ابھی بھی offensive ہی سمجھا جاتا ہے تقریباً ویسے ہی جیسے کالوں کے لئے ’Nigger‘ کو سمجھا جاتا تھا۔

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    19 January 2009 at 12:19

    اچھا! لیکن اگر وہ ہمیں پاکی کہہ کے تنگ کرتے ہیں تو ہمیں انھیں "ناپاکی" کہہ کے تنگ کرنا چاہیے۔ پھر جس دن ان کو ناپاکی کا مطلب سمجھ آئے گا خود ہی ڈوب کے مر جائیں گے! :bgrin

    آن لائن اخباری رپوٹرکی تازہ ترین تحریرAnswer sheet picture of Farah Dogar

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    20 January 2009 at 05:28

    :)

  • ڈفر says:
    20 January 2009 at 12:22

    تبصرے کا تناظر یہ ہے کہ یہ انعامات قوم کے کام نہیں‌آنے والے۔ ہاں قوم کومستقبل میں جو چنگیز خان بربریت کا نانہ بنائیں گے انکی نشاندہی ضرور کرتے ہیں‌یہ میڈل

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    21 January 2009 at 19:17

    پاکستان کو لوٹنے والوں کے لئے مجھ سمیت ہر درد مند پاکستانی کے جذبات آپ جیسے ہی ہیں لیکن میں یہاں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ اعلیٰ کارکردگی کا اعزاز جیسا بھی ہو، جہاں سے بھی حاصل کیا گیا ہو اور جس نے بھی حاصل کیا ہو، قوم کے لئے فخر کا باعث ہوتا ہے۔

    اگر specifically فوج کی بات کر رہے ہیں تو ملک کو بربادی کی راہ پر ڈالنے والوں کی سروس ہسٹری میں ‌ڈی موشن اور کورٹ مارشل کا ذکر ہی ملے گا(چاہے وہ جنرل ایوب ہوں یا مشرف) نہ کہ کوئی اعلیٰ اعزاز۔ جہاں تک چنگیزیت اور بربریت کا تعلق ہے تو کیا اس میں کسی حد تک ہم خود ذمہ دار نہیں ہیں؟ اگر ہم من حیث القوم کمزور نہ ہوں تو ہمارے افراد، ادارے اور نظام کبھی بھی غلط سمت میں نہ جائیں۔
    میں بھی فوج سے اتنی ہی بیزار ہوں جتنے کہ آپ۔ فوج نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ میرے لئے بھی شدید غم و غصے اور مایوسی کا باعث ہے ۔ اس کے باوجود میرا ماننا ہے کہ جس فوج میں مشرف اور ضیا ملتے ہیں اسی میں جنرل کاکڑ جیسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔