Thursday, 26 August 2010

المیہ!

"ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ کی ایک نہیں مانتے!"




— اشفاق احمد

مکمل تحریر  »

Tuesday, 24 August 2010

امید ابھی کچھ باقی ہے!

میرا شمار خوش امید لوگوں میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں پاکستان پر مصائب کی ایک نئی لہر نے اداسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ قدرتی آفت اور اپنی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید خدانخواستہ اب کچھ بھی نہیں بچے لگا لیکن کل شام سے جیسے امید کے چراغ پھر سے روشن ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا‫‫ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔

اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔

؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, 18 August 2010

اردو انگریزی شاشلک!

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ 'ممی کا لیٹر' لکھی تھی۔ جو اصل میں ملٹری کالج جہلم کے ایک طالبعلم کی تحریر تھی۔ یہ تو خیر اس طالبعلم کے ذہن کی اختراع تھی لیکن ابھی دو دن پہلے اتفاق سے خواتین کا ایک رسالہ میرے ہاتھ لگا۔ یونہی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک خاتون 'رائٹر' کے اصلی والے انٹرویو پر نظر پڑی۔ جن میں ان کی کسی 'فین' نے ان کی کہانیوں میں انگریزی کے تڑکے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کا جواب ان خاتون نے کچھ یوں دیا ہوا تھا۔
ویل۔۔۔ ثمن کو میری اردو کہانیوں میں انگریزی الفاظ کے غیر ضروری استعمال والی بات اچھی نہیں لگی۔ ان کی روم میٹ عائشہ کو بھی بالکل اچھی نہیں لگی۔
جہاں تک انگریزی کی بات ہے تو ڈئیر ریڈر، مجھ سے پہلے یہ بات ایک بہت بڑے رائٹر نے کہی تھی، اور جب میں نے اپنے نوٹ میں یہ بات لکھی تھی تو بہت سی دوسری رائٹرز نے مجھ سے اتفاق کیا تھا۔ بقول ایک رائٹر کے " میں اپنے مسودے کی خود پروف ریڈنگ کرتے ہوئے انک ریموور سے انگریزی الفاظ مٹا مٹا کر اردو ترجمہ لکھتی ہوں۔ پھر بھی چند الفاظ رہ جاتے ہیں۔"
اصل میں پرابلم پتہ ہے کیا ہے۔ جب رائٹرز جا بجا انگریزی کے غیر ضروری الفاظ لکھتی ہیں تو وہ محض لا پرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں، اس کا ذاتی مقصد ریڈر پر رعب ڈالنا نہیں ہوتا۔ یہ بات میں نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ ہم رائٹرز کو ریڈرز پر رعب ڈالنے کا شوق نہیں ہے، سو ریڈرز کو رعب میں نہیں آنا چاہئیے۔
جب میری ریڈرز مجھے کہتی ہیں کہ آپ نے ایم - اے انگلش کیا ہوا ہے تو مجھے افسوس صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیم اور قابلیت کا معیار انگریزی کو کیوں بنا دیا ہے۔ جو جتنی اچھی انگریزی پولے گا، وہ اتنا پڑھا لکھا ہو گا، یہ ٹرینڈ کیوں بلڈ اپ ہو رہا ہے؟ آپ کو انگریزی آنی چاہئیے لیکن اردو اس سے اچھی آنی چاہئیے۔ انگریزی کو معیار نہ بنائیں۔ انگریزی لکھنا محض لا پرواہی ہوتی ہے۔ اس ٹرینڈ کو ختم کریں۔ اردو کی کہانی محض اردو میں لکھیں، مکمل لکھنا بہت مشکل ہے۔ مگر جتنی حد تک ہو سکتا ہے اس حد تک تو لکھیں نا!
مجھے فلاں رائٹر کی سب سے اچھی بات ان کی گاڑھی اردو لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے ازلی سوئیٹ انداز میں مجھے تسلی دیتی ہیں کہ 'نہیں بھئی! آپ کی اردو بھی بہت اچھی ہے۔' مجھے تو سیریئسلی ان کے اردو ایکسنٹ پر رشک آتا ہے۔

پی- ایس: اس ایکسٹریکٹ میں رائٹر کا اصلی نام اور دیگر ادر رائٹرز کے نام بوجہ پرائیویسی پالیسی، مینشن نہیں‌ کئے گئے۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 17 August 2010

مژگاں تو کھول، شہر کو سیلاب لے گیا!

لہو میں ڈوب رہی ہے فضا ارضِ وطن
میں کس زبان سے کہوں “جشن آزادی مبارک"










شہر نامہ

وہ عجیب صبحِ بہار تھی
کہ سحر سے نوحہ گری رہی
مری بستیاں تھیں دھواں دھواں
مرے گھر میں آگ بھری رہی


مرے راستے تھے لہو لہو
مرا قریہ قریہ فگار تھا
یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی
وہ فلک کہ مشتِ غبار تھا


کہیں نغمگی میں وہ بین تھے
کہ سماعتوں نے سُنے نہیں
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے
کہ انیس نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں
یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں
یہاں بادلوں کی اڑان تھی


جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر
یہاں قمقموں سے جوان تھے
یہاں چیونٹیاں ہیں خیمہ زن
یہاں جگنوؤں کے مکان تھے


کہیں آبگینہ خیال کا
کہ جو کربِ ضبط سے چُور تھا
کہیں آئینہ کسی یاد کا
کہ جو عکسِ یار سے دُور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں
جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے
مرے آہوؤں کا چکیدہ خوں
جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت
مرے قاتلوں کی وکیل ہے
مرے خانقاہوں کی منزلت
مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہلِ حرف و سخن سرا
جو گداگروں میں بدل گئے
مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو
کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں
مجھے کرگسوں کا چلن لگا
کئی چاند بھی تھے سیاہ رو
کئی سورجوں کو گہن لگا

مرے پاسباں ، مرے نقب زن
مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے
مرا دیس میرِ سپاہ کا
مرا شہر مالِ غنیم ہے

یہاں روزِ حشر بپا ہوئے
پہ کوئی بھی روزِ جزا نہیں
یہاں زندگی بھی عذاب ہے
یہاں موت میں بھی شفا نہیں


احمد فراز کی نظم شہر نامہ کے چند بند

مکمل تحریر  »

اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے

کتنی حسیں پیار کی یہ زمیں ہے
اس کا زمانے میں ثانی نہیں ہے
پیارا ہے اپنی دھرتی کا چہرہ
دنیا کے ہر دلربا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

اپنے وطن کی وہ آب و ہوا ہے
سب کے لئے جو پیامِ شفا ہے
سب روگ اپنے روح و بدن کے
مٹتے ہیں اس کی صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

ہم نے کسی کی طرف کم ہی دیکھا
چمکائی خود اپنے ہاتھوں کی ریکھا
ہم کو وطن کی لُو بھی ہے پیاری
غیروں کی بادِ صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے

مکمل تحریر  »

Friday, 13 August 2010

ہفتہ کتب و کتب خانہ: راولپنڈی کے کتب خانے

معذرت شگفتہ، بہت دنوں سے آپکے ہفتہ کتب کے بارے میں لکھنا تھا بلکہ اتفاق سے جن دنوں آپ نے اس مہم کا آغاز کیا تو میں بھی راولپنڈی میں لائبریریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ سو آپکی پوسٹس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی سوچا اسی بہانے میں بھی کچھ لکھ لوں گی لیکن :what
خیر اپنی ازلی روایت 'ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں' پر قائم رہتے ہوئے میں ہفتہ کتب کے پہلے مرحلہ کے اختتام کے بعد یہ پوسٹ کر رہی ہوں۔
میرا لائبریری اور کتابوں سے تعارف کیسے اور کب ہوا، اس بارے میں پھر کبھی لکھوں گی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے کہ کوئی ایسی جگہ جہاں میں ہمیشہ جانا چاہوں یا جا کر کبھی بور نہ ہوں تو میرا جواب لائبریری ہو گا۔ باوجود اس کے کہ میرا مطالعہ بہت محدود ہے، میرا لائبریری جانے کا شوق کبھی کم نہیں ہوتا۔
سکول اور کالج کی لائبریریوں کے بعد پہلی بڑی لائبریری جہاں میں باقاعدگی سے جاتی اور گھنٹوں وقت گزارتی ، پنجاب یونیورسٹی کی مین لائبریری تھی۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری سے تو دوستی تھی ہی لیکن مین لائبریری میں دیگر کتب بھی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملتا۔ پھر لاہور میں ہی پنجاب پبلک لائبریری اور قائد اعظم لائبریری میں بھی جانا ہوتا تھا۔
اسی طرح اسلام آباد میں نیشنل لائبریری اور برٹش کونسل کی لائبریری بھی دیکھیں۔ ہاں راولپنڈی کا چونکہ مجھے اتنا علم نہیں تھا تو یہاں لائبریریاں ڈھونڈنے میں مجھے بہت مسئلہ ہوا۔ راولپنڈی میں رہنے والوں سے اگر پبلک لائبریریوں کا پوچھو تو اکثریت اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہیں اور آرمی سنٹرل لائبریری کے علاوہ دیگر دو پبلک لائبریریوں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
آرمی سنٹرل لائبریری جی-- ایچ- کیو کے قریب آرمی -میوزیم کے ساتھ واقع ہے۔ لیکن یہ پبلک لائبریری نہیں ہے۔ یہاں صرف فوج سے منسلک افراد ہی ممبرشپ لے سکتے ہیں اور ان میں بھی نان کمیشنڈ یا جونیئر رینکس کے لئے ممبرشپ کھولی نہیں جاتی۔ یہاں کتابیں تو بہت ہیں لیکن زیادہ تر سیکشنز میں پرانی اور خستہ حال کتب ملیں گی۔ ہاں حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی حالات سے متعلق کافی اچھا ذخیرہ موجود ہے۔ ہاںتقریباً ہر اہم میگزین اور جرنل یہاں باقاعدگی سے منگوایا جاتا ہے۔ چند کمپیوٹرز بھی موجود ہیں جن پر کبھی کبھار کوئی کام کرتا دکھائی دے ہی جاتا ہے۔








دوسری لائبریری کنٹونمنٹ بورڈ لائبریری ہے۔ یہ لائبریری 1891ء میں بنی تھی اور اس کے بانی دو بھائی سردار سجن سنگھ اور سردار کرپال سنگھ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ لائبریری برٹش کونسل کے حوالے کر دی گئی جس نے یہاں اپنی لائبریری بنائی۔ 1979ء میں سعودی عرب میں خانہ کعبہ کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے برٹش کونسل لائبریری کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور پھر اس کے بعد برٹش کونسل نے اپنی لائبریری اسلام آباد منتقل کر لی۔ اس وقت کنٹونمنٹ لائبریری صدر میں کامران مارکیٹ کے پہلی منزل پر واقع تھی۔ برٹش کونسل لائبریری کے اسلام آباد شفٹ ہو جانے کے بعد کنٹونمنٹ لائبریری کو اس عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ 2009ء میں اس کے ایک اور بلاک کا اففتاح ہوا اور کینٹ بورڈ کی حدود میں واقع پرانے اوڈین سینما کو بھی لائبریری میں شامل کر دیا گیا۔ اس لائبریری میں کتابوں کا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ لائبریری کی ممبرشپ فیس دو طرح کی ہے۔ 200 فیس کے ساتھ آپ محدود قسم کی کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں جبکہ 400 روپے فیس پر آپ تمام کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں۔ لیکن ممبرشپ لیتے ہوئے آپکو اچھیی خاصی سیکیورٹی بھی جمع کروانی پڑتی ہے۔ بہرحال لائبریری میں موجود کتب کو دیکھ کر جیب ہلکی ہونے کا احساس خاصا کم ہو جاتا ہے۔

تیسری لائبریری میونسپل لائبریری ہے جسے راولپنڈی کی قدیم ترین لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ لائبریری 1868ء میں قائم ہوئی اور لیاقت باغ میں واقع ہے۔ بلاشبہ یہاں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 2001ء کے سیلاب میں لائبریری کی تقریباً نصف سے زیادہ کتب ضائع ہو گئی تھیں اس کے باوجود یہاں اس وقت 50،000 سے اوپر کتابیں موجود ہیں۔ جن میں خاصی نایاب کتب بھی موجود ہیں۔ لائبریری فیس 250 روپے سالانہ ہے جو یقینناً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں ایک مسئلہ ہے کہ آپ ایک وقت میں دو سے زیادہ کتب ایشو نہیں کرا سکتے اور ایک ہفتے سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ کتب رینیو کرانے کے لئے آپ کو لائبریری آنا پڑتا ہے اور فون یا کمپیوٹر پر رینیو کرانے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ کمپیوٹرسے خیال آیا کہ لائبریری کے کمپیوٹر سیکشن میں ایک عدد کمپیوٹر موجود ہے جسے آسانی سے آثارِ قدیمہ کے نوادرات میں شامل کرایا جا سکتا ہے۔ ممبرشپ لینے کا طریقہ خاصا دلچسپ ہے۔ آپ کو لائبریرین سے ہی دو پوسٹل لفافے خرید کر ان کے حوالے کرنے ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور ایک پر اپنا پتہ لکھ کر۔ پتہ لکھے لفافے میں ایک عدد چھپا ہوا کاغذ ڈالا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ نے لائبریری ممبرشپ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ اپنی خواہش پوری کر لیں ۔ اس قصد کے لئے یہ کاغذ، ڈاک کا مہر شدہ لفافہ جس میں یہ کاغذ آپ کو ملا، اور دیگر ضروری کاغذات لیکر کر لائبریری پہنچ جائیں۔ یہ لفافہ آپ کے حوالے کیا جاتا ہے اس تاکید کے ساتھ کہ خود کو پوسٹ کر دیں۔ جب آپ کو مل جائے تو ہمارے پاس آئیں۔ اور خبردار بغیر مہر کے لفافہ لانے کی غلطی مت کرنا۔ ساتھ ہی آپ کو ایک فارم دیا جاتا ہے جو پُر کر کے لفافے کے ساتھ آپ کو لانا ہو گا :smile


سنٹرل لائبریری اور میونسپل لائبریری میں چپکے چپکے میں نے چند تصویریں لی تھیں مبادا کوئی مجھے دہشت گرد سمجھنتے ہوئے حساس معلومات اکٹھے کرنے کے الزام میں پکڑ نہ لے :shy:

حوالہ:

مکمل تحریر  »

Thursday, 12 August 2010

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا!

سب سے پہلے تو ماہِ صیام مبارک۔ 2005ء کی طرح یہ رمضان بھی پاکستانی قوم کے لئے آزمائش کا مہینہ بن کر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے (ثمَ آمین)


پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ 2004ء میں آنے والے سونامی طوفان سے کہیں زیادہ لگایا جا رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد زندگی کے اپنے معمول پر آنے میں نجانے کتنا وقت لگے گا۔


پیر کے روز نوشہرہ کے کچھ سکولز کی لی گئی تصاویر پوسٹ کر رہی ہوں۔ حالات ایسے تھے کہ نہ تو کہیں گزرنے کا راستہ تھا اور نہ ہی کھڑے ہونے کی جگہ۔ بچوں کی کتابیں، ٹیچرز کے پلانرز اور ڈائریاں کیچڑ میں کہیں بہت نیچے دبی ہوئی تھیں۔ زمین پر چار چار فٹ دلدلی کیثر کی تہہ موجود ہے۔ چھت کے پنکھوں پر بھی مٹی اور کیچڑ کی تہیں جمی ہوئی ہیں۔ کہیں کہیں جو کرسی میز دکھائی دیتی ہے اس کی لکڑی پانی سے نرم ہو کر جھڑ رہی ہے۔ گراؤنڈز کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیدل جانا تو درکنار چھوٹی گاڑی پر جانا بھی ناممکن ہے۔ کمپیوٹر اور سائنس لیبارٹریوں میں ہر چیز تباہ ہو چکی ہے۔ یہ تو دو سکولز کا حال ہے۔ جن میں سے ایک کی عمارت مقابلتاً کچھ نئی تھی لیکن گھروں اور دیگر عمارتوں کا بالکل کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر زندگی کی ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کی خواہشات کی کوئی اخیر نہیں ہوتی اور لمحوں میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ :-(











مکمل تحریر  »

Tuesday, 10 August 2010

الوقت الصعب

وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو دو ہزار پانچ میں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

میرا جواب یہ ہے کہ جذبہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ احساس کہ آپ کی مدد حقدار لوگوں تک پہنچنے کے بجائے راستے میں رہ جائے تو عوام کس پر اعتبار کریں۔ میں نے خود 2005 کے زلزلے کے لئے ملنے والا امدادی سامان مارکیٹس میں بکتے دیکھا ہے اور دوسری طرف اتنے سال گزرنے کے باوجود زلزلے کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہیں ہوئی۔

اگرچہ کہیں کہیں بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن الحمداللہ ابھی بھی لوگ موجود ہیں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے کو۔ میرے پاس کچھ فنڈز اکٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔

کیا مجھے یہاں یہ سوچ کر کہ میری نیت تو مدد کرنے کی ہے ، جانتے بوجھتے جو تھوڑا بہت میں دے سکتی ہوں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دینا چاہئیے جو اس کو کبھی حقدار تک نہیں پہنچائیں گے؟
کیا راولپنڈی اسلام آباد میں 'وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ' کے علاوہ کوئی ایسی تنظیم ملے گی جو امدادی سامان آگے تک پہنچا دے؟

مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 August 2010

پاکستان کھپے!


میرے عزیز ہموطنو!
آپ سے خطاب کرتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے :cryin ۔ پاکستانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں (ویسے مشکل دور ہمیشہ عوام کے لئے ہی ہوتا ہے) ۔ سیلاب کی آفت نے لاکھوں گھر اُجاڑ دیئے ہیں اور کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنا آپ اپنے لوگوں کے لئے قربان کرنا ہے۔ میں اور میرے بچے تو پہلے ہی قربانی دے چکے ہیں محترمہ شہید بی بی کی شہادت کی صورت میں۔ اس لئے معذرت کے ساتھ میں اس وقت آپ کو کچھ پیش نہیں کر سکتا :whistle ۔ آج آپ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر مجھے اپنا اجڑا ہوا گھر یاد آگیا ہے۔ میرے لئے آپ لوگوں کو اس حال میں دیکھنا بہت مشکل ہے :pinochio ۔ یہ سیلاب تو ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا :humm ۔ ہم قدرتی آفتوں اور مشیتِ ایزدی کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں جو ہمارے اختیار میں ہے ہم وہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے بن ماں کے بچوں کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے یہ تکلیف دہ منظر دکھائی نہ دیں :party ۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا اور اگر ممکن ہو تو آپ بھی بیرونِ ملک دوروں پر نکل جائیں۔ :bye


درد مند صدرِ پاکستان

پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے

مکمل تحریر  »