Tuesday, 10 August 2010

الوقت الصعب

وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو دو ہزار پانچ میں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

میرا جواب یہ ہے کہ جذبہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ احساس کہ آپ کی مدد حقدار لوگوں تک پہنچنے کے بجائے راستے میں رہ جائے تو عوام کس پر اعتبار کریں۔ میں نے خود 2005 کے زلزلے کے لئے ملنے والا امدادی سامان مارکیٹس میں بکتے دیکھا ہے اور دوسری طرف اتنے سال گزرنے کے باوجود زلزلے کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہیں ہوئی۔

اگرچہ کہیں کہیں بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن الحمداللہ ابھی بھی لوگ موجود ہیں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے کو۔ میرے پاس کچھ فنڈز اکٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔

کیا مجھے یہاں یہ سوچ کر کہ میری نیت تو مدد کرنے کی ہے ، جانتے بوجھتے جو تھوڑا بہت میں دے سکتی ہوں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دینا چاہئیے جو اس کو کبھی حقدار تک نہیں پہنچائیں گے؟
کیا راولپنڈی اسلام آباد میں 'وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ' کے علاوہ کوئی ایسی تنظیم ملے گی جو امدادی سامان آگے تک پہنچا دے؟

9 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    10 August 2010 at 13:35

    آپ کا کہنا بالکل درست ہے ۔ ايسے وقتوں ميں ميں نے انہی اداروں کو درست کام کرتے ديکھا ہے جنہيں ہماری حکومت پسند نہيں کرتی ۔ الرشيد ٹرسٹ ۔ الخدمت جماعت اسلامی کا ۔ جماعت الدعوٰی ۔ الشمس ۔ البدر ۔ جامعہ فريديہ اسلام آباد جس کے چلانے والے جولائی 2007ء ميں فوجی کاروائی کا شکار ہوئے ۔ الخدمت کے علاوہ اقی سب پر پا بندی ہے ۔ کچھ چھوٹے چھوٹے مقامی ادارے بھی ہيں ۔

  • ابرارحسین says:
    10 August 2010 at 14:57

    ہمیں‌مل کر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ضرور مدد کرنی چاہیے،اور دوسروں‌کو بھی اس پر ابھارنا چاہیے۔لیکن بات آپ کی صیح ہے کہ ہمیں‌علم ہی نہیں‌ہے کہ کس کو امداد پہنچائیں‌جو کہ صیح لوگوں‌میں‌تقسیم کر سکے ،حکومتی ادارے اس سلسلے میں بدنام ہی ہوتے ہیں‌(جو کہ زیادہ تر صیح‌ ہی ہوتے ہیں :whistle ) اور جو تنظیمیں کام کررہی ہیں ان کی صیح طریقے سے پبلسٹی نہیں کی جاتی میڈیا پتا نہیں کونسی پالیسی پر گامزن ہے کہ وہ کسی بھی تنظیم جو کہ فیلڈ میں کام کر رہی ہے اس کا نام لینا بھی ٹی وی پر حرام کیا ہوا ہے ،حلانکہ اگر یہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدنہ بنائیں(ہر ٹی وی چینل اپنا فنڈ کھول کر اس کیلئے کوشش شروع کر دیتا ہے) اور ان لوگوں کو ہائی لائٹ کریں جو فیلڈ میں کام کررہے ہیں۔تو لوگوں کیلئے بھی آسانی ہو گی کہ وہ ان لوگوں تک اپنی امداد پہنچائیں۔اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے گا۔
    ابھی تک مجھے (جب سے سیلاب کا مسلہ شروع ہوا ہے ) صرف دو دفعہ الخدمت کا چیند سیکنڈ کے لئے نام سنائی دیا ایک کہ سب سے پہلا امدادی قافلہ الخدمت والے لے کر جارہے ہیں اور ایک اور تنظیم (نام مجھے یاد نہیں آرہا ) وہ اپنے قافلے کو راونہ کرنے والے ہیں۔اور اس کے بعد آج 9 اگست کے پوائنٹ بلینک http://www.awaztoday.com/playvideo.asp?pageId=10040 میں مجھے یہ سننے کو ملا کہ الخدمت والے ہی صرف کہیں کہیں نظر آرہے ہیں۔
    حلانکہ اگر یہ لوگ ایسی تنظیموں کے کام کو زیادہ کوریج دیں تو لوگوں کیلئے بھی آسانی ہوگی اور مدد بھی بہتر طریقے سے پہنچ جائے گی۔

  • توارش says:
    10 August 2010 at 16:37

    الخدمت ٹرسٹ والے اچھے لوگ ہیں آپ ان پر بھروسہ کرسکتی ہیں

  • عبداللہ says:
    10 August 2010 at 19:56

    http://www1.voanews.com/urdu/news/pakistan-climatechange-10aug2010-100335784.html

    اگر آپ کہیں قریب رہ رہی ہیں اور آسانی سے پہنچ سکتی ہیں تو خود جاکر ان کی مدد کیجیئے یا اپنے کسی قابل بھروسہ مرد سے کہیئے کہ وہ وہاں پہنچیں!!!!!!
    باقی مشرف کے دور میں تو پھر بھی لوگوں نے حکومتی ریلیف فنڈ میں کافی دیا تھا پر اس وقت۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں آپ فوج کے ریلیف فنڈ مین بھی جمع کرواسکتی ہیں ورنہ جماعت کی الخدمت اور متحدہ کی خدمت خلق بھی کام کررہی ہیں،ہم بھی یہاں امداد اکھٹا کر کے پاکستان روانہ کررہے ہیں!!!!
    ہاں چینل نیوز ون والے بھی کافی ایکٹو ہیں اور انکا جنوبی پنجاب سے تعلق بھی ہے!!!!!

  • عبداللہ says:
    10 August 2010 at 20:04

    ابراہیم مغل جو ایک محب وطن زمیندار ہین نیوز ون پر بتا رہے تھے کہ برسہا برس سے بااثر ٹمبر مافیا بےتحاشہ درختوں کی کٹائی کرتی رہی اور بااثر قبضہ مافیا نے دریاؤں کے راستوں کی زمین کو بیچ کر یا اس پر قبضہ کر کےوہاں شہرآباد کر لیئے تھے اور کئی لوگوں نے تو وہاں کئی کئی منزلہ گھربھی تعمیر کر لیئے ہیں،وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ شہباز شریف صرف اپنی ذات میں بھاگ دوڑ کررہے ہیں جبکہ ان کے وزرا اورپنجاب کی بیورو کریسی بے غیرت بنی بیٹھی ہے،جبکہ خیبرپختون خواہ کی بیوروکریسی اپنے وزیراعلی کے ساتھ کھڑی ہے،بس اللہ ہی لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے!آمین

  • فرحان دانش says:
    10 August 2010 at 23:03

    ہاں واقعی ایسا ہے۔ :sh ۔چپے چپے پر امدادی کیمپ لگائے گئے تھے۔ مگرابھی تک 2005 والا اب ایسا منظر دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ :cryin اس کی وجہ یہ تھی عوام اور حکومت برے وقت میں ایک ہو گئی تھی۔ :victry

  • خرم ابن شبیر says:
    11 August 2010 at 01:03

    اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ آپ کی اگر مدد کرنے کی نیت ہے تو دو باتیں زہن میں رکھیں ایک یا تو خود مدد کریں اور دوسرا اللہ پر بروسہ رکھیں اور کسی ایک و پیسے دے دیں اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 August 2010 at 11:54

    افتخار اجمل بھوپال


    اے کے ملک




    ابرارحسین



    توارش:



    عبداللہ:



    فرحان دانش:



    خرم ابن شبیر:


    بہت بہت شکریہ۔ واقعی ڈھونڈنے سے ایسے لوگ مل ہی جاتے ہیں جو نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں- اللہ باری تعالیٰ ایسے لوگوں کو اجر عطا فرمائے اور متاثرینِ سیلاب کی مشکلات جلد دور کرے (ثمِ آمین)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 August 2010 at 11:56

    @ا ے-کے۔ملک، ابرار حسین، توارش: بلاگ پر خوش آمدید اور رہنمائی کے لئے بہت شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔