Wednesday, 4 August 2010

پاکستان کھپے!


میرے عزیز ہموطنو!
آپ سے خطاب کرتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے :cryin ۔ پاکستانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں (ویسے مشکل دور ہمیشہ عوام کے لئے ہی ہوتا ہے) ۔ سیلاب کی آفت نے لاکھوں گھر اُجاڑ دیئے ہیں اور کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنا آپ اپنے لوگوں کے لئے قربان کرنا ہے۔ میں اور میرے بچے تو پہلے ہی قربانی دے چکے ہیں محترمہ شہید بی بی کی شہادت کی صورت میں۔ اس لئے معذرت کے ساتھ میں اس وقت آپ کو کچھ پیش نہیں کر سکتا :whistle ۔ آج آپ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر مجھے اپنا اجڑا ہوا گھر یاد آگیا ہے۔ میرے لئے آپ لوگوں کو اس حال میں دیکھنا بہت مشکل ہے :pinochio ۔ یہ سیلاب تو ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا :humm ۔ ہم قدرتی آفتوں اور مشیتِ ایزدی کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں جو ہمارے اختیار میں ہے ہم وہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے بن ماں کے بچوں کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے یہ تکلیف دہ منظر دکھائی نہ دیں :party ۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا اور اگر ممکن ہو تو آپ بھی بیرونِ ملک دوروں پر نکل جائیں۔ :bye


درد مند صدرِ پاکستان

پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے

12 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    4 August 2010 at 17:08

    اصل ميں آصف علی زرداری نے سندھ ميں پنجابی بولی تھی " پاکستان کپھے "۔ چنانچہ خوب کھپا رہا ہے پاکستان اور پاکستانيوں کو ۔ اور اگر اس نے پوٹھوہاری بولی تھی تو اللہ رحم کرے اُس کا مطلب پورا نہ ہو

  • میرا پاکستان says:
    5 August 2010 at 01:29

    اچھی تحریر ہے اور بامعنی ہے۔

  • تانیہ رحمان says:
    5 August 2010 at 02:08

    فرحت ابھی میرا پاکستان کے بلاگ پر لکھا جب آپ کا بلاگ سامنے آیا تو میں سوچنے لگی کہ میں نے یہ سب کچھ کیوں نہیں سنا ۔ لیکن جب حقیقت سامنے آئے تو بس یہی کہہ سکتی ہوں ۔۔ کہ زرداری کے آنسو سیلاب کے ساتھ ساتھ بہر رہے ہیں ۔ وہ بھی خون والے ۔ بس ایسی حالت دشمن کی بھی نا ہو جو اس وقت زردای کی ہے ۔۔چہرے سے لگتا ہے ابھی مرا تبی مرا۔۔۔۔

  • طالوت says:
    5 August 2010 at 02:44

    :clap :clap
    :cn
    وسلام

  • محمد احمد says:
    5 August 2010 at 12:13

    فرحت صاحبہ،

    ایک لطیفے میں آصف علی زرداری صاحب سے کسی نے کہا تھا کہ آپ اپنی حرکتیں ٹھیک کر لیں ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا۔ جواب ملا : "میں ہی وہ عذاب ہوں"

    مجھے اس میں لطیفے والی کوئی بات نہیں لگی۔ اس قدر بے حسی اور خود غرضی کی توقع شاید ہی کوئی قوم اپنے سربراہِ مملکت سے کرسکے۔

    جب تک ہم ایسے جاہل آنکھین بند کرکے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ووٹ دیتے رہیں گے یا گھروں میں پڑے رہیں گے کہ ہمارے ووٹ سے کیا فرق پڑتا ہے تب تک اس قوم کو ایسے لی لیڈر ملیں گے۔

  • احمد عرفان شفقت says:
    5 August 2010 at 14:44

    بہت خوب :D

  • شگفتہ says:
    5 August 2010 at 17:35

    آزمائش کبھی انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی اور ہمیں ہر طرح کی آزمائش درپیش ہے اور ان آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے اپنے مسائل کا حل خود نکالنا ہو گا ہم سب کو بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ ۔

  • شگفتہ says:
    5 August 2010 at 17:37

    فرحت ، آپ ان باکس چیک کیجیے گا ۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    10 August 2010 at 13:02



    افتخار اجمل بھوپال: اصل ميں آصف علی زرداری نے سندھ ميں پنجابی بولی تھی ” پاکستان کپھے “۔ چنانچہ خوب کھپا رہا ہے پاکستان اور پاکستانيوں کو ۔ اور اگر اس نے پوٹھوہاری بولی تھی تو اللہ رحم کرے اُس کا مطلب پورا نہ ہو  



    ثمَ آمین :pray




    میرا پاکستان: اچھی تحریر ہے اور بامعنی ہے۔  



    بہت شکریہ!




    تانیہ رحمان: فرحت ابھی میرا پاکستان کے بلاگ پر لکھا جب آپ کا بلاگ سامنے آیا تو میں سوچنے لگی کہ میں نے یہ سب کچھ کیوں نہیں سنا ۔ لیکن جب حقیقت سامنے آئے تو بس یہی کہہ سکتی ہوں ۔۔ کہ زرداری کے آنسو سیلاب کے ساتھ ساتھ بہر رہے ہیں ۔ وہ بھی خون والے ۔ بس ایسی حالت دشمن کی بھی نا ہو جو اس وقت زردای کی ہے ۔۔چہرے سے لگتا ہے ابھی مرا تبی مرا۔۔۔۔  



    تانیہ بعض اوقات ہمارا عمل ہماری سوچ کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ عوام جن کے بل بوتے پر ہماری سیاسی پارٹیاں بادشاہت کے مزے لوٹتی ہیں ، اس وقت اپنے لیڈرز کے منتظر ہیں اور ہماری تاجپوشیاں ہی ختم نہیں ہو رہی ہیں۔




    محمد احمد: فرحت صاحبہ،
    ایک لطیفے میں آصف علی زرداری صاحب سے کسی نے کہا تھا کہ آپ اپنی حرکتیں ٹھیک کر لیں ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا۔ جواب ملا : “میں ہی وہ عذاب ہوں”مجھے اس میں لطیفے والی کوئی بات نہیں لگی۔ اس قدر بے حسی اور خود غرضی کی توقع شاید ہی کوئی قوم اپنے سربراہِ مملکت سے کرسکے۔
    جب تک ہم ایسے جاہل آنکھین بند کرکے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ووٹ دیتے رہیں گے یا گھروں میں پڑے رہیں گے کہ ہمارے ووٹ سے کیا فرق پڑتا ہے تب تک اس قوم کو ایسے لی لیڈر ملیں گے۔  



    بالکل درست تجزیہ کیا آپ نے احمد۔ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات :-(

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    10 August 2010 at 13:06

    blockquote cite="comment-5278">

    طالوت:
    وسلام  



    بلاگ پر خوش آمدید طالوت اور بہت شکریہ :)




    احمد عرفان شفقت: بہت خوب   



    بہت شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید :)




    شگفتہ: آزمائش کبھی انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی اور ہمیں ہر طرح کی آزمائش درپیش ہے اور ان آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے اپنے مسائل کا حل خود نکالنا ہو گا ہم سب کو بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ ۔  



    درست کہا شگفتہ! ہمیں اپنے مسائل خود ہی حل کرنا ہوتے ہیں لیکن بطور عوام اور بطور خواص معاشرے میں ہمارے کردار کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ کاش ہم یہ بات سمجھ سکیں۔




    شگفتہ: فرحت ، آپ ان باکس چیک کیجیے گا ۔  



    شکریہ شگفتہ۔ میں نے آپ کو ای-میل کی تھی۔ انشاءاللہ آج کل میں فون بھی کرتی ہوں۔

  • محب علوی says:
    11 August 2010 at 16:09

    تصویروں کے ساتھ عمدہ وضاحت کی ہے فرحت

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 August 2010 at 11:57

    بہت شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔