Wednesday, 18 August 2010

اردو انگریزی شاشلک!

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ 'ممی کا لیٹر' لکھی تھی۔ جو اصل میں ملٹری کالج جہلم کے ایک طالبعلم کی تحریر تھی۔ یہ تو خیر اس طالبعلم کے ذہن کی اختراع تھی لیکن ابھی دو دن پہلے اتفاق سے خواتین کا ایک رسالہ میرے ہاتھ لگا۔ یونہی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک خاتون 'رائٹر' کے اصلی والے انٹرویو پر نظر پڑی۔ جن میں ان کی کسی 'فین' نے ان کی کہانیوں میں انگریزی کے تڑکے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کا جواب ان خاتون نے کچھ یوں دیا ہوا تھا۔
ویل۔۔۔ ثمن کو میری اردو کہانیوں میں انگریزی الفاظ کے غیر ضروری استعمال والی بات اچھی نہیں لگی۔ ان کی روم میٹ عائشہ کو بھی بالکل اچھی نہیں لگی۔
جہاں تک انگریزی کی بات ہے تو ڈئیر ریڈر، مجھ سے پہلے یہ بات ایک بہت بڑے رائٹر نے کہی تھی، اور جب میں نے اپنے نوٹ میں یہ بات لکھی تھی تو بہت سی دوسری رائٹرز نے مجھ سے اتفاق کیا تھا۔ بقول ایک رائٹر کے " میں اپنے مسودے کی خود پروف ریڈنگ کرتے ہوئے انک ریموور سے انگریزی الفاظ مٹا مٹا کر اردو ترجمہ لکھتی ہوں۔ پھر بھی چند الفاظ رہ جاتے ہیں۔"
اصل میں پرابلم پتہ ہے کیا ہے۔ جب رائٹرز جا بجا انگریزی کے غیر ضروری الفاظ لکھتی ہیں تو وہ محض لا پرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں، اس کا ذاتی مقصد ریڈر پر رعب ڈالنا نہیں ہوتا۔ یہ بات میں نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ ہم رائٹرز کو ریڈرز پر رعب ڈالنے کا شوق نہیں ہے، سو ریڈرز کو رعب میں نہیں آنا چاہئیے۔
جب میری ریڈرز مجھے کہتی ہیں کہ آپ نے ایم - اے انگلش کیا ہوا ہے تو مجھے افسوس صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیم اور قابلیت کا معیار انگریزی کو کیوں بنا دیا ہے۔ جو جتنی اچھی انگریزی پولے گا، وہ اتنا پڑھا لکھا ہو گا، یہ ٹرینڈ کیوں بلڈ اپ ہو رہا ہے؟ آپ کو انگریزی آنی چاہئیے لیکن اردو اس سے اچھی آنی چاہئیے۔ انگریزی کو معیار نہ بنائیں۔ انگریزی لکھنا محض لا پرواہی ہوتی ہے۔ اس ٹرینڈ کو ختم کریں۔ اردو کی کہانی محض اردو میں لکھیں، مکمل لکھنا بہت مشکل ہے۔ مگر جتنی حد تک ہو سکتا ہے اس حد تک تو لکھیں نا!
مجھے فلاں رائٹر کی سب سے اچھی بات ان کی گاڑھی اردو لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے ازلی سوئیٹ انداز میں مجھے تسلی دیتی ہیں کہ 'نہیں بھئی! آپ کی اردو بھی بہت اچھی ہے۔' مجھے تو سیریئسلی ان کے اردو ایکسنٹ پر رشک آتا ہے۔

پی- ایس: اس ایکسٹریکٹ میں رائٹر کا اصلی نام اور دیگر ادر رائٹرز کے نام بوجہ پرائیویسی پالیسی، مینشن نہیں‌ کئے گئے۔

4 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    18 August 2010 at 15:06

    گويا ثابت ہوا کہ محترمہ نالائق ہيں يا پھر احساسِ کمتری کا شکار ہيں

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین says:
    18 August 2010 at 20:07

    پاکستان میں انگریزی بولنا، انگریزوں کی سی بے نیازی اپنے سے کم تر پاکستانیوں سے برتنا، اس بات کی غمازی کرتا ہے۔ کہ ہم " بابُو انگریزی" بولنے والے ابھی تک اس گھمنڈ میں مبتلاء ہیں کہ ہم دودھ کا" مکھن" ہیں اور باقی غیر انگریزی زبانیں بولنے والے لسی لوگ ہیں۔ زبانوں کی ارتقاء کے لئیے جہاں وقت ایک پیمانہ ہے وہیں ان زبانوں کو بولنے والوں کا اپنی زبانوں کو کس حد تک اختیار کرنا بھی کسی مخصوص زبان کی ترقی کا لازمی جُز ہے۔

    پاکستان میں افسری اور طبقاتی رعب داب قائم رکھنے کے لئیے ایک طرح کا نظر نہ آنے والا انگریزی کلب ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور یہ انگریزی بولنے والوں میں برتری کا خناس انگریزوں نے بویا تھا جس کی منافقت آج بھی جاری و ساری ہے اور اسمیں سر سید احمد خان جیسے لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے جو غیر انگریزی کلچر اور اپنی اسلامی شناخت کے لئیے جدو جہد کرنے والوں کو غدار کہنے سے بھی نہیں چُکتے تھے اور تعجب ہے کہ آج سرسید احمد خان جیسے لوگوں کو پاکستان میں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جس نے ساری عمر انگریزوں اور ملکہِ انگلستان کی خوشامد میں گزاری۔سرسید جیسے لوگوں کی بصیرت اس قدر کمزور تھی کہ انگریز اس علاقے نکال باہر کر دیا گیا مگر " منشی انگریزی" بولنے والےبھی پاکستان کے جو ہر قابل کو پاکستان کی ترقی میں حصہ لینے سے اور ان کے آگے بڑھنے سے محض اسلئیے روکتے ہیں کہ انگریزی کلب کی برتری کا خناس ریزہ ریزہ ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی مسنشی انگریزی بولنے والوں کی اپنی انگریزی کی استعداد اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ انکی بول چال مخصوص ذخیرہ الفاظ سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ بسا اوقات انکی انگریزی کے الفاظ کو خود انھیں صحیح ہجے لکھنے کا صحیح علم نہیں ہوتا۔ جبکہ پاکستان میں انگریزی دانی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان میں دور دور تک انگریزی زبان میں عالمی پائے کا کوئی ایک مصنف نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی ہے بھی تو وہ انگریزی کی بجا ادائیگی کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلمانوںکی توہین کرنے کی وجہ سے ہے۔

    ایسے میں خواتین کے لئیے لکھے جانے والے نام نہاد ادبی ڈاءجسٹوں ، جن میں فرضی اور لایعنی قسم کے رومان کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ جنہیں پڑھ کر کچے ذہن قاری اپنی ناآسودہ اور ناتمام و تشہ تکمیل خواہشوں کے احساسِ کمتری کے بوجھ تلے کھلی آنکھوں خواب دیکھتے آہیں بھرتے ہیں۔بعین ہمارے ٹی ویز کی فضول اور بے معنی کھیلوں یعنی ڈرامہ سیریلز کی طرح۔ ایسے میں صرف دولت سمیٹنے کی‌خاطر ایسے کسی دائجسٹ کی کسی لکھنے والی محترمہ کا مندرجہ بالا انداز اور انگریزی محض انکی اپنے احساس کمتری کو واضح کرتی ہے۔ مگر پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ وہاں ہر دوسرا کچھ پڑھا لکھا فرد اس وہم اور گُمان میں یعنی اسطرح کے احساس کمتری میں مبتلاء ہے۔

    ایک ایسا ملک جس میں شرح خواندگی محض بیس ، پچیس فیصد کے لگ بھگ ہو اور اس ملک میں تین چار سال کے بچے کو بجائے اسکی مادی زبان میں تعلیم دینے کے الٹا اس پہ ایک ایسی زبان میں بنیادی تعلیم مسلط کی جائے جو اسنے کبھی سنی نہ ہو ۔بولی نہ ہو۔ یہ اس معصوم ذہن کے ساتھ ظلُم ہے ۔ اس کشمکش میں نہ وہ تعلیم حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی کوئی زبان سیکھ پاتا ہے۔ وہ اپنی مادر زبانوں پنجابی پشتو، سندھی ، بلوچی وغیرہ اور قومی قرار دی گئی اردو اور سرکاری قرار دی گئی انگریزی کے درمیان سرای عمر بھٹکتا رہتا ہے ۔اسے سبھی زبانوں میں کچھ شُد بُد تو حاصل ہوجاتی ہے مگراسے مکمل عبور بہت کم حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی بچے میٹرک سے آگے بڑھ نہیں پاتے ۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس ملک میں ناخواندگی کی اتنی بڑی شرح ہو وہاں تعلیم کو آسان کرنے کی بجائے اسے غیر ضروری طور پہ مشکل کر دیا گیا ہے ، جس کے پیچھے پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے "انگریزی کلب" کی منافقانہ سازش شامل ہے۔

    پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لئیے ضروری ہے کہ پاکستان میں بنیادی تعلیم کا میڈیم پاکستان کی مقامی زبانیں ہوں۔ جن میں اردو یا انگریزی وغیرہ اضافی زبان کی صورت میں ایک مضمون ہو۔ ورنہ پاکستان میں تعلیم کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

    جو لوگ اردو کو قومی زبان ہونے کی وجہ سے ، اردو میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ملکو قوم کی یکجہتی متاثر ہونے کے بے ہودہ قسم کے خدشات کی منظر کشی کرتے ہیں ۔ حقیقت میں ایسے لوگ پاکستان دشمن ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں مادری زبانوں کے زریعہ تعلیم کی وجہ سے پاکستان کی ایک بڑی اکثریت تعلیم سے روشناس ہو۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں اور ترقی یافتہ اقوام میں بنیادی تعلیم کیزبان قومی و سرکاری وغیرہ کی بجائے مادری ہے۔

  • ھارون اعظم says:
    19 August 2010 at 00:12

    آج کل اس طرح گفتگو کا رجحان کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔

  • ممی کا لیٹر پڑھا ہے اور اس پہ کئیے گئے تبصرے بھی کافی دلچسپ ہیں۔ اس سے ایک لطیفہ یاد آیا کہ انگلستان میں مقیم ایک پاکستانی ماں اپنے بیمار ننھے بچے کو ایک انگریز ڈاکٹر کے پاس دوائی کے لئیے لے کر گئیں ۔ تو ڈاکٹر صاحب نے بچے کے بارے میں پاکستانی خاتون سے استفسار کیا جس پہ پاکستانی ماں یوں گویا ہوئیں۔
    ڈاکٹر صاحب اساں ناں بے بی ، نہ ایٹناں اے۔۔۔۔ نہ سوئیٹناں اے۔ ۔۔۔۔ بس سویپناں ای سویپناں اے۔


    اصل میں وہ پاکستانی خاتون ڈاکٹر صاحب کو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہنا چاہ رہیں تھیں کہ ڈاکٹر صاحب ہمارا بی بی ایٹنگ یعنی کھاتا کچھ نہیں۔ سوتا نہیں بس ( انگریزی کے لفظ سویپ سے سویپناں ۔۔ یعنی رونا) روئے چلا جارہا ہے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔