Monday, 30 May 2016

ہلکی پُھلکی مار!



گزشتہ چند دنوں سے 'بیوی پر ہلکے پُھلکے تشدد' کے حق اور مخالفت میں اتنے سارے بیانات کبھی باتصویر ، کبھی بے تصویر، کبھی آڈیو اور کبھی ویڈیو کی صورت میں پڑھنے و دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ میں نے سوچا کہ مجھے اس موضوع پر اظہارِ خیال کر دینا چاہیے۔ کل کو ہو سکتا ہے کہ میرے سنہرے الفاظ کا حوالہ دیا جائے اور میں بھی صاحب عقل و دانش مندان کی فہرست میں شامل کر لی جاؤں۔
لیکن سچی بات ہے کہ اس پوسٹ کے لکھنے کی اصل تحریک یہ تصویر بنی ہے جو  بذریعہ واٹس ایپ و فیس بک یقینا اب تک تمام قوم تک پہنچ چکی ہو گی۔



میرا خیال ہے کہ ہمارے حامیانِ ہلکا پھلکا تشدد علما و فقہا دراصل ایک بہت بڑی سماجی تحریک و خدمت کا باعث بن رہے ہیں جس کا ابھی انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے اور جس کی بنا پر مستقبل میں ہماری بچیاں اور خواتین انہیں دعائیں دیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں خصوصا جنوبی ایشیا میں خواتین عموما خون ، فولاد اور کیلشئم کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت جلد ان کی ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی عموما دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک تو  چند طبقات میں ابھی بھی بیٹی کے کھانے پینے اور صحت کے بارے میں دھیان نہیں دیا جاتا اور ان کے حصے کا کھانا اوردودھ بھائیوں کو دیا جاتا ہے کہ آخر کو بڑے ہو کر انہوں نے اور بہت سے کاموں کے ساتھ 'ہلکا پھلکا تشدد' بھی کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ جہاں ایسی ترجیحات کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا وہاں بھی عموما بچیاں دودھ پینے سے اتنی رغبت نہیں رکھتیں اور نتیجتا کیلشیئم کی کمی ان کی کمزور ہڈیوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اب ہو گا یہ کہ مائیں جیسے بچپن میں بیٹیوں کو سسرال میں پیش آنے والے متوقع حالات کے بارے میں ڈراڈرا کر انہیں گھریلو امور میں طاق کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔'کچھ سیکھ لو گی تو آگے آسانی ہو گی ورنہ سسرال جا کر پہلے دن ہی ہماری ناک کٹوا دو گی'۔ ویسے ہی دودھ پینے کی ترغیب بھی دیا کریں گی۔۔"نیس ویٹا پیو گی تو ہڈیاں مضبوط ہوں گی نا ورنہ سسرال جا کر 'ہلکے پھلکے تشدد' کے پہلے دور میں ہی اپنی ہڈیاں تڑوا لو گی۔ " اسی ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خوف سے لڑکیاں دودھ پینا شروع کر دیں گی. اسی طرح جب لڑکے والے جب اپنے چندا کی دلہن ڈھونڈنے جائیں گے تو عمر کے بعد پہلا سوال ہڈیوں کی مضبوطی پر ہو گا کہ ایسا نہ ہو کہ ذرا سی مار ہر ہی ہڈی ٹوٹ جائے اور کوئی مقدمہ بن جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ثبوت کے طور پر خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ مانگی جائے تا کہ وٹامن ڈی کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یوں والدین بچیوں کے پیدا ہوتے ہی جہیز کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی ہڈیوں کی مضبوطی پر بھی خصوصی توجہ دیں گے،  ہماری خواتین صحت مند ہوں گی اور پاکستان 'ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن' اور اسی قسم کے دیگر اداروں کی ریٹنگ میں کچھ اوپر آ جائے گا۔ میرا خیال ہے اس کا کریڈٹ و ثواب سیدھا سیدھا مولانا شیرانی اینڈ کو کو جائے گا۔ کاش ان کے ناقدین کو یہ بات سمجھ میں آ جائے۔
ویسے مجھے شک ہے اس سارے قصے میں کچھ ہاتھ نیس ویٹا اور ماہرہ خان کا بھی ہے۔ دیکھا جائے تو انہوں نے دو سال پہلے ہی یہ مہم شروع کر دی تھی۔ ہر وقت عورتوں کی کمزور ہڈیوں کے رونے روتے رہتے تھے ٹی وی اور اخبار میں۔
ہمارے ان دانشوران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں بلکہ دیگر دنیا کے لیے بھی کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میرے سمیت بہت سے مداحین 'Johnny Depp' پر ان کی بیوی 'Amber Heard' کی طرف سے لگائے گئے تشدد کے الزامات پر بہت پریشان ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ جونی ڈیپ کو ایک ای میل کروں کہ وہ ہمارے علما سے فتویٰ لیں اور عدالت میں بطور دفاع پیش کریں کہ اب اتنا 'ہلکا پھلکا تشدد' تو جائز ہی ہے۔ کیا ہوا کہ ایک شیشے کی بوتل اٹھا کر مار دی۔ کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی نا۔ مجھے یقین ہے کہ مغرب کی آزادانہ رائے اور عمل کی حامی عدالتیں اس فتویٰ کو بغیر کسی تعصب کے مان لیں گی۔ نہ مانیں تو کسی 'بین المذاہبی ادارے' کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
میں امبر ہرڈکو بھی ایک ای میل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں تا کہ اسے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی خواتین کی بہادری اور برداشت کے گُن گانے والوں کو یہ بتایا جا سکے کہ آپ تو ایک ہلکی سی ضرب کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ آئیں ذرا پاکستانی عورت کو دیکھیں جس پر ہلکی پھلکی مارپیٹ کے لیے باقاعدہ 'لائسنس' جاری کیا جا رہا ہے۔ تو بہادر کون ہوا؟
پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ ہر کوئی مذہب و قانون کی اپنے اپنے حساب سے تعریف کر رہا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے اپنی اپنی تشریحات سامنے لا رہے ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں شاید مستند علما مٹھی بھر ہوں گے۔ جہاں تھوک کے حساب سے عالم و فاضل و دانشوران موجود ہیں جن کے اپنے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ اگر کبھی وہ انجانے میں درست بات کہہ بھی دیں تو لوگ شبہے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہاں عوام ایسی ہی کنفیوژ ہو گی جیسی اس وقت ہم ہیں۔ قرآن اگر کسی چیز کی ہدایت کرتا ہے تو اس کے لیے مکمل حالات و شرائط بھی واضح کرتا ہے لیکن ہم اس میں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں اور باقی سب نظر انداز کر دیتے ہیں نتیجہ ایسے مسلم معاشرے کی صورت میں نکلتا ہے جس میں ہم بس رہے ہیں۔ اللہ ہم ہر رحم کرے، ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں بلند نظر اور باعمل علما و رہنماؤں کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


5 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    30 May 2016 at 17:15

    سارا مضمون پورے انہماک سے پڑھا مگر ایک ہی بات دماغ میں گھُس پائی ” تھوک کے حساب سے عالم و فاضل و دانشوران موجود ہیں “۔ میں صرف اتنا اضافہ کروں کا ” اور ان میں سے بیشتر ٹی وی پر نظر آتے ہیں“۔

  • Muhammad Ahmed says:
    31 May 2016 at 12:52

    جب اتنے نازک اور حساس موضوعات سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آتے ہیں تو بات کا بتنگڑ با آسانی بن جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی موضوع پر بات کا بنیادی مقصد اُس میں سے تفریح کشید کرنا ہوتا ہے۔ ثانوی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخالفین (وہ جو کوئی بھی ہوں۔) کی ہتک کے پہلو نکالے جا سکیں۔

    ایسے میں وہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے لوگ بھی بیٹھے بیٹھے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اور سیاق و سباق کو نظر انداز کرکے ہر بات کو عمومی رنگ دینے کی کوشش میں اپنا اور اسلام کا مذاق بنوانے کا سبب بنتے ہیں۔

    کیا ایک باقاعدہ ادارہ اتنی بھی اہلیت نہیں رکھتا کہ کسی معاملے پر باقاعدہ رائے دینے سے پہلے، اُس کے تمام تر پہلووں اور متوقع ردِ عمل کو درونِ خانہ زیرِ بحث لائے اور پوری کوشش کے بعد جب کسی نتیجے پر پہنچے تو اُس کے دفاع کی اہلیت بھی ظاہر کرے۔

  • Muhammad Ahmed says:
    31 May 2016 at 12:53

    ویسے نیس ویٹا کا مشورہ بہرکیف مفید ہے خصوصاً نیسلے والوں کے لئے۔ :)

  • فرحت کیانی says:
    31 August 2016 at 12:52

    افتحار انکل: بالکل ایسا ہی ہے۔ ٹی وی دیکھ کر تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم دانشوروں کے معاملے میں خود کفیل سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔

  • فرحت کیانی says:
    31 August 2016 at 12:53

    محمد احمد: یہی تو رونا ہے کہ ہم شریعت کے ایسے حصے بخرے کر کے اپنے مطلب کی چیز نکال لیتے ہیں چاہے وہ اصل تناظر میں ایک بالکل مختلف اصول ہو۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔