Showing posts with label خیال آرائیاں. Show all posts
Showing posts with label خیال آرائیاں. Show all posts

Thursday, 1 July 2021

پاکستانی یکساں قومی نصاب۔ پرانے ٹرک کی نئی بتی

0 comments

: یکساں قومی نصاب کی چنیدہ خوبیاں

۔۔۔ یکسانیت کے بجائے تفریق کا فروغ ہو گیا۔ وژن سے لے کر اس کے عملی نفاذ تک ، اتنے تفرقے آ گئے کہ یکساں تو الگ اب قومی نصاب بھی چل گیا تو بڑی بات ہے۔

۔۔۔ بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھوئے جا رہا ہے۔ معیار کس بَلا کا نام ہے، کچھ سمجھ نہیں پا رہے۔ ۔۔

۔۔۔ کھلم کھلا بولیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اور یہ ان بولیوں کا خراج طلبہ کے والدین کی جیبوں سے پورا کیا جائے گا۔ 


برسبیلِ تذکرہ:  'قومی نصاب' ہمیشہ سے ہی یکساں ہوتا ہے اور ہمارا بھی یکساں ہی تھا۔ اگر کبھی کسی کو اسے دیکھنے یا اس کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہو تو وہ اس بات کی تائید کرے گا۔

Tuesday, 24 March 2020

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 2

0 comments
ایک تو ویسے ہی سارا گھر 'سماجی فاصلے' پرعمل پیرا ہوتے ہوئے گھر بیٹھا ہے۔ پھر بالآخر عثمان بزدار صاحب بھی جاگ گئے ہیں اور لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ہمارے دفتر والوں کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایسے میں دفتر بیٹھے میں یہی سوچ رہی ہوں کہ لوگوں کو حالات کی سنگینی کا احساس کیسے دلوایا جائے۔ کیا دو تین چھینکیں مارنے سے کوئی ڈرے گا؟

Wednesday, 23 November 2016

سوچوں کا الجھا ریشم!

1 comments
بہت عرصہ ہو گیا دریچہ کھول کر بلاگنگ کی دنیا میں جھانکے ہوئے۔ ایک وقت تھا کہ بے ربط سوچوں کو بے ربط اندازمیں ہی سہی، لیکن الفاظ دینا ایسا مشکل نہیں لگتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ الفاظ میں معمولی سا ربط بنانے میں ہی گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور زندگی اس قدر تیز چلتی جاتی ہے کہ سوچوں کے اس ڈھیر کو چھوڑ فورا بھاگم بھاگ اگلے سٹاپ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے سکول کے دنوں میں کسی ڈرامے میں ایک شعر سنا تھا  جو فورا ذہن سے چپک گیا۔ 
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے سے جدا کس کو کریں
یہ وہی دن تھے جب اردو کی ٹیچر کی کوششوں سے ہم سب کا اردو زبان سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ سو جہاں کچھ نیا دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا فورا اردو کی کلاس میں ذکر کیا جاتا اوراس شعر کا مطلب  بھی انہی سے پوچھا۔ میری استاد نے بہت اچھا سمجھایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بیٹا اس شعر کی سمجھ آپ کو تب زیادہ اچھی آئے گی جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گی۔ اور اب مجھے یہ شعر اور اپنی اردو کی مس دونوں ہی اکثر یاد آتی ہیں۔ 

خیر۔ کبھی کبھی سوچوں کے الجھے ریشم کو سلجھانے کا موڈ بن ہی جاتا ہے۔ اسی موڈ کے زیرِ اثر آج بلاگ کھول کیا یہ سوچتے ہوئے کہ کچھ لکھا جائے۔ میرا خیال ہےابھی لیے اتنا سلجھاؤ کافی ہے۔ نیٹ پریکٹس ہو گئی۔ اب اگلی پوسٹ کی تیاری کرنی چاہیے۔  

Wednesday, 22 July 2015

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

0 comments
جس ملک میں اسلام کے نام پر تجارتی بازار کھلا ہو وہاں رحمت کیسے آئے. 
ایک طرف ٹوپی پہنے باریش میزبان فصیح و بلیغ زبان میں سادگی اور قناعت پسندی کی تبلیغ کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف نیچے سلائیڈ چل رہی ہے کہ موصوف کا کرتا فلاں ڈیزائنر برانڈ کا ہے.
ایک طرف ایک چینل پر ایک خودساختہ خدائی فوجدار ایک دوسرے چینل پر نشر ہونے والے پروگرام میں اسلامی مقدس ہستیوں کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی خبر دے کر اس کی میزبان کے خلاف کیا کیا نہیں کرتا اور اسے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف چند ہی مہینوں بعد وہی شخص اسی میزبان کے اعزاز میں کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتا ہے.
ایک طرف برسہا برس بے گناہ جیلوں میں بند ناکردہ گناہوں کی سزا بهگتتے رہتے ہیں تو دوسری طرف ایک ماڈل غیر قانونی پیسہ باہر لے جاتے پکڑی جاتی ہے اور اس کو پکڑنے والے افسر کو دائمی نیند سلا کر ماڈل کو میڈیا پر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر سیلفیاں اپلوڈ کرنے کے لیے رہا کر دیا جاتا ہے. 
اور مجھ سمیت تمام عوام بےحس ہو کر 'جیتو پاکستان جیتو' دیکھ رہی ہے.  تو پهر میں کیسے نہ سوچوں کہ جو ہو رہا ہے ہماری کرنیوں کا پھل ہے. 

Sunday, 28 June 2015

فرائض اور ہم!

2 comments
 بعض اوقات کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کچھ کہے بغیر  نہیں رہ سکتا. روزہ ایک فرض عبادت ہے اور فرض عبادت کیسی ہی کٹھن کیوں نہ محسوس ہو اسے خوشدلی سے ادا کرنا ہی اس کی کامیابی ہے لیکن ہم لوگ جو دنیاوی خداؤں کے سامنے کچھ کہنے سے پہلے دس بار اس کے ممکنہ اثرات و نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں اور پهر انتہائی نپی تلی بات کرتے ہیں کہ کہیں انہیں ناگوار نہ گزرے ، اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ایک بار بهی نہیں سوچتے کہ یہ بات اللہ کو ناگوار نہ گزرے.  سو ادهر رمضان شروع ہوا نہیں ادهر روزے کے بارے میں ایسے ایسے ٹیکسٹ میسج فارورڈ ہونا شروع ہو گئے کہ بعض اوقات افسوس کے ساتھ حیرت بهی ہوتی ہے ..کیا ہم اس عبادت کی فرضیت اور روح کے بارے میں لاعلم ہیں اور یہ حیرت اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب ایسی بات یا مذاق کسی باعلم و باعمل شخصیت کی جانب سے ہو.  آج دن میں مجهے ایسا ہی ایک ٹیکسٹ ملا جس میں روزے کی شدت کے بارے میں مذاق کے انداز میں بات کی گئی تهی اور یہ ٹیکسٹ جن کی طرف سے آیا وہ چاہے دنیاوی طور پر باعلم نہ ہوں لیکن عموماً ان کی باتوں اور پیغامات میں دین سے لگاؤ کافی نمایاں ہوتا ہے. اور ابهی ابهی مغرب کے بعد ایسا ہی ٹیکسٹ ایک ایسی شخصیت کی طرف سے ملا جو دنیاوی طور پر بهی انتہائی باعلم ہیں اور دینوی طور پر بهی. ماشاءاللہ حج اور عمرے ہی سعادت بهی حاصل کی ہوئی ہے لیکن ان کے ٹیکسٹ میں بهی بعینہ وہی بات تهی. وہی فارورڈڈ پیغام کلچر جہاں ہم ایک لمحہ بهی غور کیے بغیر پیغام آگے بھیجنا اپنا فرض سمجھتے ہیں.
نجانے مجهے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں مار ہی اس لیے کها رہے ہیں کہ ہم ہر سطح پر اور ہر حیثیت میں 'فرائض' کو مذاق میں اڑانے کے عادی ہو گئے ہیں. 

Tuesday, 2 December 2014

دسمبر آ گیا ہے!!!

7 comments
صبح دفتر پہنچ کر سامنے میز پر رکھے کیلنڈر پر نظر پڑی تو یکم تاریخ کا صفحہ نظر آیا۔ سائیڈ پر رکھے ریک سے فائل اٹھانے لگی تو اس پر ابھی تیس تاریخ جگمگا رہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چاچا اس کیلنڈر کا صفحہ پلٹنا بھول گئے ہیں میں نے یکم تاریخ کا صفحہ سامنے کر دیا۔ اور پھر اپنے معمول کے کام شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی کام کے لیے فون اٹھایا تو گوگل پلس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ 'تبدیلی آ چکی ہے۔ نئی پوسٹس پوسٹ ہو چکی ہیں۔ ان کو ملاحظہ فرما لو۔ ورنہ بے خبر رہ جاؤ گی۔' اور فی زمانہ بے خبری کا طعنہ اتنا ہی شدید ہوتا ہے جتنا کسی زیادہ پڑھے لکھے خاندان میں ایک معصوم سے نسبتا کم پڑھے لکھے مسکین کو ان پڑھ کا طعنہ ہوتا ہے۔ اس لیے گوگل پلس کا ڈھیروں شکریہ ادا کرتے ہوئے جلدی جلدی خود کو 'باخبر' کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں پہلی پوسٹ ہی بریکنگ نیوز والی ملی۔
  'Last chapter of year started...' 
یہ 'وارننگ'پڑھتے ہی فوراؐ نظر سامنے پڑی ٹیبل ڈائری پر پڑی تو معلوم ہوا کہ آج تو 'دسمبر' کی یکم تاریخ ہے۔ تب معلوم ہوا کہ واقعی 'تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے' یعنی 'دسمبر آ چکا ہے۔' پھر ان  با خبر صاحبِ پوسٹ اور ایک مشہور صاحبِ کلام سے دورانِ گفتگو ان کے بلاگز پر 'دسمبر کی بلاگ توڑ دھمال' کا ذکر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں 'دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا' سننے کی نوبت آ جائے۔ اس لیے میں بھی بطور سند دسمبر کے بارے میں پوسٹ لکھ رہی ہوں۔ اگرچہ زمانہ 24 گھنٹے آگے نکل چکا ہے کیونکہ میں نے سوچا کل تھا اور لکھ آج رہی ہوں۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں۔ دیر آید درست آید۔
ہاں تو جی واقعی دسمبر کی ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت ہے۔ دسمبر نہ ہوتا تو سال کبھی ختم ہی نہ ہوتا اور سال ختم نہ ہوتا تو پڑھنے والی اگلی جماعت میں نہ جا سکتے اور لکھنے والے یعنی تنخواہ دار طبقہ جنوری کی تنخواہ نہ لے سکتا۔ دسمبر نہ ہوتا تو سردیوں کی چھٹیاں نہ ہوتیں۔ ویسے تو اب اگر سردیوں کی چھٹیاں نہ بھی ہوا کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم تو اب سکول کالج و یونیورسٹی جاتے نہیں۔ اس لیے ہمیں چھٹیوں کا کیا فائدہ بھلا۔ 
دسمبر نہ ہوتا تو ہم قائدِ اعظم کی سالگرہ کب اور کیسے مناتے اور اگر نہ مناتے تو دنیا کے طعنے کون سنتا۔ اب کم از کم ہم ہر سال کے اختتام پر ایک چھٹی کر کے پورا دن قائدِ اعظم کی سالگرہ پورے جوش و خروش کے ساتھ سو کر یا پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھ کر مناتے ہیں۔ یا ٹی وی پر وطن کی محبت میں 'برپا' کیے جانے والے شو دیکھتے ہیں جن میں گانا و بجانا سب کچھ دوسروں سے مستعار لیا ہوتا ہے ۔اور یوں ہم تمام دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ہم اپنے محسنوں کو نہیں بھولے۔
دسمبر نہ ہوتا تو ہم ہر سال 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشیاں کیسے کرتے۔ کم از کم قوم اس مہینے میں مصروف تو رہتی ہے۔ آدھی قوم مشرقی پاکستان و مکتی باہنی کو کوستی ہے اور باقی آدھی مغربی پاکستان کو۔ دنیا کو اب تو ہمارے انصاف پسند اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کے عادی ہونے پر شبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ 
 
شکر ہے کہ دسمبر ابھی 'ہے' اس لیے اب نہ ہونے کے خدشات و پریشانیاں ختم کر کے دسمبر کو منانے کے انداز و فیشن کا ذکر ہو جائے۔
یکم دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی بقول محمد احمد کے 'گوگل ہر سال عرس پر دھمال ڈالتے قلندر ہر اس جگہ بھیجتا ہے جہاں دسمبر کا بیاں ہوا ہو۔' سو اگر آپ پورا سال بھی بلاگ نہیں لکھتے تو دسمبر میں حتیٰ کہ جون جولائی میں بھی دسمبر کے بارے میں کوئی شعر، نظم، غزل، کہانی، یا صرف دسمبر دسمبر ہوتا ہے سردیوں میں آئے یا گرمیوں میں ہی لکھ دیں۔ آپ کے بلاگ پر یہ بلاگ توڑ ٹریفک کا مہینہ ہو گا۔
خیر اگرچہ ابھی دسمبر آیا ہے اور اس کے جانے میں پورے 29 دن باقی ہیں لیکن ہو گا یہ کہ شروع کے دو چار دن تو سب کو خبر دی جائے گی کہ ''دسمبر آ گیا ہے۔" اور ساتھ ہی دسمبر کی منتیں شروع ہو جائیں گی کہ پلیز نہ جاؤ۔۔اور ان درخواستوں کی شدت دسمبر کے آخری ہفتے میں اپنی  بلندیوں کو چھو رہی ہو گی۔ لیکن یہ 'نہ جانے کی ضد نہ کرو' والی درخواست صاحب ذوق لوگوں کی طرف سے ہو گی ۔ چند میرے جیسے بدذوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پلیز ختم ہو جاؤ۔ نیا مہینہ شروع ہونے دو تا کہ پرس تو کچھ بھاری ہو۔
 مزید یہ ہو گا کہ دسمبر کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شعر پڑھے جائیں گے اور انہیں پڑھنے کا مقصد اچھی شاعری خود پڑھنے سے زیادہ دوسروں کو پڑھوانا ہو گا چنانچہ جہاں کسی شعر و کلام میں دسمبر کا لفظ نظر پڑا فورا کاپی پیسٹ کر کے اسے آگے فارورڈ یا پوسٹ کر دیا جائے گا۔ چاہے بعد میں معلوم ہو کہ یہ تو امسال دمسبر تک بل ادا نہ کرنے والے اشتہاری نادہندگان کی فہرست تھی۔
ہر دسمبر میں عوام کی ایک بڑی تعداد ایک اور سنڈروم کا شکار ہوتی ہے اور وہ ہے 'امجد اسلام امجد' صاحب کے 'آخری چند دن دسمبر کے'میں بیان کیے جانے والے خدشات۔ ہر دسمبر بہت سے لوگ اس غم و تشویش میں گُھلے جاتے ہیں کہ ان کا نام کسی کی ڈائری میں درج دوستوں کی فہرست سے کٹ گیا ہو گا۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم بھی ہوتا ہے کہ اب ڈائری کا زمانہ ہے ہی نہیں۔ لوگ سیدھا سیدھا فون پر نام و نمبر محفوظ کرتے ہیں اور کسی کا نمبر ختم نہیں کرتے کیونکہ جب فون کا پیکج لیا ہو تو پھر فری ٹیکسٹ میسج بھی بھیجنے ہوتے ہیں نا۔ اس خدشے کے شکار لوگوں کو یہ بھی تسلی رکھنی چاہئیے کہ شاید ہی کوئی اتنا پابند ہو کہ ہر سال دسمبر میں اپنی ڈائری کو از سرِ نو مرتب کرتا ہو۔ جس نے نمبر ختم کرنا ہے وہ جنوری سے نومبر میں کسی بھی وقت ایسا کر سکتا ہے اب یہ کوئی ایسا کام تو ہے نہیں کہ کسی خاص مہینے میں کیا جائے۔ اس لیے بیچارے دسمبر کو اس بات کا الزام نہیں دینا چائیے۔

خیر کوئی کتنی ہی درخواست کرتا رہے۔ دسمبر نے جانا ہی ہے اور 31 دسمبر کو چلا ہی جاتا ہے۔ اور رُکے بھی تو کیوں۔۔ہر طرح کی اداسی و پریشانی کا الزام دسمبر کے سر جو منڈھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں کو بالآخر یقین آ جاتا ہے کہ دسمبر جا رہا ہے تو جاتے دسمبر کو 'دسمبر اب کے آؤ تو۔۔۔' کہتے ہوئے ایک طویل فرمائشی فہرست اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ باذوق لوگ تو اس میں بھی بہت خوبصورت و دل نشیں الفاظ استعمال کرتے ہوئے جو درخواستیں کرتے ہیں اس کے لیے مجھے پہلے خود اس کی تشریح سمجھنی پڑے گی پھر یہاں لکھنا ہو گا۔ لیکن ان دنوں فیشن کے مطابق سیاست پر بات کرنا اِن ہے تو میں ایک دو لوگوں کی دسمبر سے درخواستوں کے بارے میں 'وکی لیکس' طرز پر کچھ خبر دیتی ہوں۔
موجودہ حکومت: دسمبر اب کے آؤ تو خان و پی ٹی آئی کو اسلام آباد مت لانا۔
خان صاحب: اؤے دسمبر اب کے آؤ تو نواز شریف کا استعفیٰ ساتھ لانا۔
عوام: دسمبر اب کے آؤ تو گیس کی بندش ختم کروانا۔
اور میں: بھائی لوگو دسمبر کو جانے تو دو۔ جائے گا تو آئے گا نا۔ 
 
 

Friday, 10 January 2014

شہیدانِ وطن کے حوصلے!!!

7 comments
میں سوچتی تھی کہ نئے سال میں اپنے بلاگ پر پہلی پوسٹ کچھ مختلف ہی لکھوں گی۔ اسی سوچنے میں دس دن گزر گئے اور پھر کل شام کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد اسلم کی شہادت کے بعد مجھے لگا کہ شاید اب میں وہ پوسٹ نہیں لکھ سکوں گی۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ میرے ملک کے کتنے ہی لوگ ہر دوسرے روز ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذاتی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے ہیرو ہوتا ہے، کتنی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے اور کتنوں کی امید کا مرکز ہوتا ہے۔ میں ان کے نام نہیں جانتی لیکن وہ اور ان کے پیچھے رہ جانے والے میری دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ کتنا آسان ہوتا ہے خبر پڑھ کر یا سن کر ایک طرف رکھ دینا اور کتنا مشکل ہوتا ہے اس خاندان کا تصور کرنا جس کا کوئی پیارا ان سے اس طرح بچھڑ جائے کہ اس کا بے جان وجود بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا واپس ملے۔
میری یہ پوسٹ ان سب کے نام جنہوں نے پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ جو اپنا فرض ادا کرنے کی پاداش میں دشمن کا نشانہ بنے یا جنہوں نے ایک عام پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ 
ایس پی سی آئی ڈی بہت سوں کے لئے امن کی علامت تھے اور بہت سوں کے لئے دہشت کا نشان۔ چاہے ان کے فیصلے اور ایکشن کتنے ہی متنازع رہے ہوں  لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ وہ ایک کمٹڈ،  دلیر اور رسک لینے والے افسر تھے۔ اور ہماری فورسز میں ایسے افسروں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
آج کے روزنامہ ڈان میں ان کے بارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل آیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

میری یہ پوسٹ اس 14 سالہ بچے کے نام بھی ہے جس نے گزشتہ پیر کو ہنگو میں ایک خودکش بمبار کو روک کر اپنے سکول میں موجود دو ہزار بچوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ اعتزاز حسن جو ہنگو آدم زئی میں رہتا اور پڑھتا تھا، کو سکول میں دیر سے پہنچنے پر بطور سزا گیٹ سے باہر نکال دیا گیا۔ اپنے جیسے دیگر بچوں کے ساتھ واپسی کے راستے پر جب ان لوگوں کا سامنا ایک مشکوک خود کش بمبار سے ہوا جس کی جیکٹ کا ایک کونا دیکھ کر انہیں اس کے ارادوں کا اندازہ ہوا تو اس بچے نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے جب اسے پکڑا تو بمبار نے بچے سمیت خود کو دھماکے میں اڑا لیا۔ 

میرے لیے یہ بچہ بھی ہیرو ہے ، وہ ایس پی بھی ہیرو ، آئے روز خودکش دھماکوں کا شکار ہونے والا ایک ایک پاکستانی ہیرو ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو حوصلے قائم رکھے۔ آمین

شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا 

Sunday, 17 November 2013

میرے شہر کی سڑکوں پر جل رہے ہیں دیے خون کے!

1 comments
راولپنڈی اور اس کے باسیوں پر گزشتہ دو دنوں سے جو کچھ گزر رہی ہے اس میں مزید اضافہ ان نام نہاد رہنماؤں ، علمائے کرام اور تجزیہ نگاروں کے وہی گھسے پٹے انداز و بیانات کر رہے ہیں۔  ایک طرف ایک صاحب بھڑکیں لگا رہے ہیں کہ میں راولپنڈی کا منتخب نمائندہ ہوں۔ میں یہاں کے ہر شیعہ سنی کو پہچانتا ہوں۔ یہ سب باہر سے منگوائے گئے لوگ ہیں،۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ کاش کوئی ان موصوف کے منہ پر بڑی سی ٹیپ لگا کر ان کو ان کے سامنے ان کی اپنی اتنے سالوں کی کارکردگی اور ان کی عوام سے ہمدردی کے ثبوتوں پر مبنی فلم ہی چلا دے۔ تا کہ کچھ دیر کو ہی سہی ان کو یہ تو احساس ہو کہ سالہا سال سے انہوں نے بھی اپنے حلقے اور اپنے لوگوں کے لئے کیا کچھ کیا ہ یا کل سے اب تک لوگوں کے لئے کیا کیا ہے؟
دوسری طرف ہمارے علمائے کرام ایک کے بعد ایک آ کر اپنے گراں قدر خیالات سے عوام کو فیض یاب کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اس سازش میں بیرونی ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں خود اپنی تعلیمات رواداری اور حوصلے اور برداشت پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور جو کچھ ہوا اس میں سراسر حکومت اور پولیس کی کوتاہی نظر آ رہی ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ کاش کوئی ان سے یہ پوچھ لے کہ وہ جو محرم کے دس دن اور عین 10 محرم کو بھی پورے ملک میں شام تک ملک بھر میں خیر خیریت سے تمام جلوس نکلے بھی اور ختم بھی ہوئے ، اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ اور کوئی ان سے یہ بھی پوچھے کہ اگر سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے تو وہ کیوں عوام کے جتھوں کے جتھے لیکر سڑکوں پر نکلتے ہیں؟ ان کو یہ حق کس نے دیا؟ 
اور یہ میڈیا والے جو ایک معمولی سی بات کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر ساری قوم کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں، جو اپنی مرضی کی بات کو عوام کے ذہنوں میں ڈالنے کے لئے اس قدر مؤثر مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ ہر پاکستانی 'پاکستان آئڈل' بننے کے لئے سڑکوں پر نکل آتا ہے ، کیا انہوں نے کبھی مروت، برداشت ، رواداری اور اخوت پسندی پر کوئی پروگرام چلایا؟ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے اوپر کس قدر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
معلوم نہیں یہ کیسے مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کس نے بنایا ہے؟
میرا اسلام تو مجھے دوسروں کے خیالات و عقائد کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
میرا سلام تو مجھے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے نتیجے کو سامنے رکھنے کی ہدایت کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو میری زبان ، ہاتھ یا عمل سے کسی کو نقصان پہنچے۔
میرا اسلام تو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن یہ کیا ہے کہ ایک مبارک مہینے کا مبارک دن ، 10 محرم الحرام جس کی اہمیت سانحہ کربلا کے علاوہ  بھی اس قدر زیادہ ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اس کا احترام لازم ہے۔ پھر جمعۃ المبارک کا دن۔ سنی ہو شیعہ کیا دونوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اس مہینے میں قتل و غارت گری ممنوع ہے۔ اور اس ممانعت کا احترام تو اسلام سے پہلے بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ خود کو مسلمان کہنے والوں نے اسی ماہ اور اس مبارک دن کیا کیا۔  اس دن جو ہوا اس میں جتنے لوگ مارے گئے ، ان کے تو خاندان اجڑ گئے ، پھر اس کے بعد جن کی املاک کو نقصان پہنچا ، ان کے خاندانوں کے لئے بربادی کا پیغام آ گیا، اور وہ جو دو دن سے دیہاڑی نہیں لگا سکے ، ان کے خاندان بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔  فاقے ہوں گے یا کوئی بیمار گھر میں ایڑیاں رگڑتا رہے گا۔ فرق نہ تو کسی شیخ, خان ، شریف یا چودھری کو پڑے گا ، نہ کسی مفتی و مولانا کو پڑے گا اور نہ ہی کسی میر ، بخاری، لقمان ,شیرازی اور منہاس کو پڑے گا۔ فرق پڑے گا تو عوام کو پڑے گا ۔ اس عوام کو جسے فرقوں اور مسالک کے اختلافات کی الف بے کا بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن وہ بھیڑ چال کا شکار ہو کر ان جلسوں کا حصہ بھی بنتے ہیں اور ان تفرقے بازیوں کا ایندھن بھی۔ تو پھر بھگتیں بیٹھ کر۔ 

Wednesday, 11 September 2013

میرے قائدِ اعظم !

4 comments
میرے محترم قائدِ اعظم۔۔۔!
آپ سے بات کرنا اس قدر دشوار سا کیوں لگ رہا ہے۔ ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں اور آپ کے کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود میرا سر شرمندگی کے مارے جھکتا ہی جاتا ہے۔ 
ایک وقت تھا جب میں تمام سال اور خصوصاؐ  آپ کی سالگرہ اور برسی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ لہک لہک کر 'یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔۔اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان' گایا کرتی تھی اور کبھی آپ کے تحفے کو ہمیشہ سنبھالے رکھنے کے دعوے یہ کہتے ہوئے کیا کرتی تھی کہ 'اے روحِ قائد! آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔'۔ اور ایسے موقعوں پر میں یہی سمجھتی تھی کہ میرے قائد وہیں سٹیج پر تشریف فرما ہیں اور ہماری باتیں اور وعدے سن کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں لیکن آج میں کچھ کہہ نہیں پا رہی کہ آپ کے چہرے سے چھلکتا غم اور آپ کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی مجھے میری نااہلی اور بے حسی کا احساس دلا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر 'اے قائدِ اعظم! تیرا احسان ہے احسان' کہنا چاہ رہی ہوں لیکن میرے اندر گونجتی ایک آواز یہ کہہ کر کہ 'اگر تم واقعی اسے احسان سمجھتیں تو آج اپنے ہی ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے قائد کی نشانی کو تباہ نہ ہونے دیتیں۔' بہت مشکل سے اس آواز کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر میں 'آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔' کہنے لگتی ہوں تو وہی آواز ایک بار پھر ایک نئے سوال کے ساتھ میرا راستہ روک لیتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ 'پہلے ان تمام وعدوں کا حساب دو جو ہوش سنبھالنے کے بعد روحِ قائد کے ساتھ کئے تھے۔' 
اور جب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 'قائدِ اعظم میں کیسے آپ کو بلکہ آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاؤں کہ میں نے وہ وعدے صدقِ دل سے کئے تھے اور ان کو نبھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ آپ کی میراث کی حفاظت نہ ہو سکی لیکن اس کے لئے میں اکیلی کیا کرتی۔ یہ تو ان ناعاقبت پسند حکمرانوں کی کرنی ہے جس کا نتیجہ ہر طرف پھیلی بے سکونی اور تباہی ہے' توپھر وہی آواز میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔ 'وعدے نبھانے کے لئے 'کوشش' نہیں 'عمل' کی ضرورت ہوتی ہے ، مستقل مزاجی اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہارے جذبے صرف کسی قومی دن پر ہی جاگا کرتے ہیں اور وہ بھی زبان ہلانے کی حد تک۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ان حالات کی ذمہ دار نہیں ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم تو اس قائد سے محبت کی دعویدار ہو جو کہا کرتا تھا کہ قوموں کی تقدیر و تعمیر افراد کے ہاتھ میں ہے اور جب قومی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو تم خود کو صرف ایک اکائی سمجھ کر الگ ہونا چاہتی ہو۔ یاد رکھو وہ 'قائد' بھی ایک فرد ہی تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا لیکن اگر تم یہ سمجھ سکتیں تو آج قائد کے سامنے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتیں'۔

شرمندگی سے میری زبان کُھل نہیں رہی لیکن میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی نااہلی پر معافی مانگ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی نصیحت سننا چاہتی ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود میں آپ کے تحفے کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہوں۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اگر اپنے حصے کا دیا جلا جاؤں گی تو اس کی لَو سے ایک اور دیا ضرور روشن ہو گا۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں آپ کے سامنے شرمندگی سے گردن جھکا کر نہیں بلکہ خوشی سے سر اٹھا کر کھڑی ہوں گی تب مجھے کوئی آواز کچھ کہنے سے نہیں روکے گی۔ 
مجھے یاد آ رہے ہیں آپ کے وہ الفاظ جو آپ نے 1936ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ 
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک عمل سے گزرنا ہو گا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں۔ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ، ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں ، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔" 

 آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔ ہم ایک بار پھر ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جن کا آپ نے اس وقت تذکرہ کیا تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا فرض اور قرض ضرور ادا کرے گا ان شاءاللہ۔ اآئندہ سے وعدے نہیں ہوں گے صرف عمل ہو گا۔

اور اب مجھے لگ رہا ہے آپ مسکرا رہے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے چھ سالہ بھتیجے کی طرح بھرپور جوش اور جذبے سے نعرہ لگاؤں۔

!قائدِاعظم۔۔۔زندہ باد
!پاکستان۔۔۔پائندہ باد 


Thursday, 15 August 2013

3 comments
یومِ آزادی



اگر 1947ء میں اس خطہ کے لوگوں نے قربانیاں دیں تو آج 2013ء میں بھی پاکستانی ویسی ہی قربانی ، اسی عزم و حوصلے کے ساتھ دے رہے ہیں۔ ہم آج بھی اس نظم کی تفسیر ہیں جو شاعر نے قیامِ پاکستان کے لئے کہی تھی۔ 

یہ وہی دن ہے یارو کہ جس روز ہم
ساتھ قائد کے اپنے ملائے قدم
سبز پرچم پہ نظریں جمائے ہوئے
اپنے سینے سے قرآں لگائے ہوئے
مال و زر چھوڑ کر ، بام و در چھوڑ کر
خوں میں ڈوبے ہوئے ہمسفر چھوڑ کر
شہرِ اغیار سے مسکراتے ہوئے
حمد پڑھتے ہوئے نعت گاتے ہوئے
مثلِ بادِ بہاری چلے آئے تھے
آمدِ فصلِ گُل کی خبر لائے تھے
یہ وہ منزل ہے جس کے لئے عمر بھر
کارواں کارواں ، رہ گزر رہ گزر
ایک پوری صدی روز و شب مستقل
اہلِ فکر و نظر اور اربابِ دل
ہاتھ میں ہتھکڑی ، پاؤں میں بیڑیاں
آپ اپنی اٹھائے ہوئے سُولیاں
ہر قدم اِک نیا زخم کھاتے ہوئے
ہر نئے موڑ پر سر کٹاتے ہوئے
تنگ و تاریک راہوں پہ چلتے رہے
فاصلے قربتوں میں بدلتے رہے


 رحمٰن کیانی ----

Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

6 comments
آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


Wednesday, 24 July 2013

اَج دا دن!

0 comments
سورج چڑھیا پچ تُوں تے پُورب آن کھلویا
اَج دا دن وی ایویں لنگیا، کوئی وی کم نہ ہویا

۔۔۔منیر نیازی

Friday, 18 January 2013

سرگم ٹائم!

2 comments
رولا: سر جی دھرنے کے انتظامات پر حکومت کے اخراجات کون پورے کرے گا؟

 انکل سرگم: ظاہر ہے میں ، تم یعنی ہم عوام۔

رولا: وہ کیسے سر جی؟

انکل سرگم: وہ تمھیں تب پتہ چلے گا جب بجلی اور گیس کا بِل 'ایڈیشنل سرچارج' کے ساتھ ملے گا۔

رولا: لیکن سر جی ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم تو نہ میزبان تھے اور نہ مہمان؟

انکل سرگم: ارے نادان۔ تمھارا قصور یہ ہے کہ تم عوام ہو۔ اور تمھارے لئے تمھارے لیڈر اور حکومت نے اتنی تکلیفیں سہیں۔ 

رولا: پر سر جی۔ تبدیلی بھی تو آنی تھی۔ وہ کہاں ہے؟

انکل سرگم: رہے ناں چھوٹے پانڈے ، کوارٹر پلیٹ۔۔ مہنگائی میں مزید اضافہ کیا تبدیلی نہیں ہے۔ تمھیں اس سے بڑی 'تبدیلی' کیا

 !!چاہئے ؟ میرے بھولے رولے

Tuesday, 1 May 2012

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات!

1 comments
یومِ مئی پر ایک پیغام موصول ہوا۔
'کتنی عجیب بات ہے کہ جو آٹے کی بوری خرید سکتے ہیں وہ اُٹھا نہیں سکتے اور جو اُٹھا سکتے ہیں وہ خرید نہیں سکتے۔'

Friday, 27 April 2012

دورۂ چکوال

4 comments
نہیں نہ تو میرا وفاقی یا صوبائی کابینہ میں اعلیٰ عہدے پر تقرر ہو گیا ہے کہ دوروں پر روانہ ہو جاؤں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے جلسے جلوسوں والے 'طوفانی' دورے شروع کئے ہیں۔ بس گزشتہ روز چکوال جانے کا اتفاق ہوا جسے میں نے دورۂ چکوال کا نام دے دیا۔ دورانِ سفر بہت سے دلچسپ چیزیں مشاہدے میں آئیں۔
پہلی یہ کہ جی۔ٹی۔روڈ سے چکوال کے لئے لنک روڈ پر مڑتے ہی عمارتوں کی دیواروں پر جلی حروف میں 'ہم راجہ پرویز اشرف تو اہم وفاقی وزارت ملنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں' کے پیغامات لکھے نظر آئے۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ دونوں اطراف پر ہر دوسری دیوار پر یہ پیغام لکھا ہوا ہے تو اس میں ہر گز مبالغہ نہیں ہو گا۔ مجھے سفر کبھی بھی فاصلے کے حساب سے یاد نہیں رہتا لیکن ہماری منزل چکوال کے مین شہر سے کچھ پہلے تھی اور سیدھی سڑک پر ہمیں وہاں پہنچتے تقریباؐ ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ اور اس ڈیڑھ گھنٹے کے دوران یہ پیغام ہر دوسری دیوار پر لکھا دکھائی دیا۔ اور کہیں کہیں بینرز بھی نظر آئے۔ اللہ ہماری قوم کو ہدایت دیں۔ جہاں مبارکباد دینے کا موقع ہوتا ہے یا جو واقعی اس کے مستحق ہوتے ہیں انہیں معتوب قرار دے دیا جاتا ہے اور جو اداروں اور نظام کا بیڑہ ڈبو دیتے ہیں ان پر مبارک سلامت کے ڈونگرے برسا ددیتے ہیں اور پھر ملکی حالات و واقعات پر رونا دھونا بھی فُل ٹائم جاری رہتا ہے۔ اسی لئے میں اپنی قوم اور اپنے لئے میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

خیر اگلا مشاہدہ یہ تھا کہ اس تمام راستے میں اتنے زیادہ سکول دیکھے کہ ابھی تک میری حیرانگی ختم نہیں ہو رہی۔ سڑک کے ساتھ ساتھ سرکاری اور غیرسرکاری ہر طرح کے سکولوں کی بھرمار ہے۔ صبح صبح اتنے زیادہ بچے پیدل اور گاڑیوں پر دیکھ کر میں نے اپنی روایتی قومی جذباتی پن سے کام لیتے ہوئے چکوال اور پھر پاکستان کی شرح خواندگی کو 100 فیصد سے بھی زیادہ قرار دے دیا۔ :daydream سکولوں خصوصاً پرائیویٹ سکولوں کی مشرومنگ تو ماشاءاللہ ہر شہر میں
ایسی ہی ہے اور جس کے پاس کوئی ڈگری یا ہنر نہیں ہے یا کوئی کام نہیں ہے لیکن تھوڑا بہت سرمایہ بھی ہے، دو کمروں کا مکان کرایے پر لیکر ایک سکول کھول لیتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ اپنا مکان کئی منزلہ بنا لیتا ہے 'ھذا من فضل ربی' کی تختی لگا کر۔ جو بات مجھے دلچسپ لگی وہ ان سکولوں کے نام تھے۔
برائٹ پبلک سکول
ریڈینٹ ہاؤس سکول
تعمیرِ ملت پبلک سکول
انٹرنیشنل سکول سسٹم
اکیڈمی آف سائنس اینڈٖ ریسرچ (اور یہ سکول واقعتاؐ دو کمروں پر مشتمل تھا جہاں کوئی دیوار کوئی صحن کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا)
دا برینز سکول اینڈ کالج
برائٹ روز سکول
ڈیفوڈلز سکول
ینگ سکالرز سکول سسٹم
دی ایجوکیٹرز
دا سٹی سکول سسٹم
بیکن ہاؤس سکول سسٹم
بحریہ فاؤنڈیشن
اف۔۔اس کے علاوہ بھی بہت سے۔ لیکن اب نام یاد نہیں آ رہے۔ کیونکہ جاتے ہوئے صبح جلدی نکلے تھے تو میں آدھی سوئی ہوئی تھی اور آتے ہوئے تھکی ہوئی تھی کہ نوٹس نہیں لے سکی اور نہ تصویریں۔
تیسری اہم بات ایک باہمت و بہادر خاتون سے ملاقات تھی۔ انتہائی خوبصورت لہجے میں بولنے والی یہ خاتون دکھنے میں بھی اتنی ہی اچھی لگ رہی تھیں۔ اور جب تک انہوں نے خود نہیں بتایا۔ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کا ایک بازو کندھے سے کٹا ہوا ہے۔ انہوں نے دوپٹہ اس طرح اوڑھ رکھا تھا کہ بازو کا نہ ہونا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ بہرحال یہ خاتون ایک کامیاب خاتونِ خانہ بھی ہیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اتنی ہی کامیاب ہیں۔
یہ خاتون 2005ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد میں پڑھتی تھیں۔ زلزلے میں ان کے ہاسٹل کی عمارت منہدم ہوئی تو یہ اٹھائیس گھنٹے ملبے کے نیچے دبی رہیں۔ باہر نکالنے کے بعد جب انہیں راولپنڈی شفٹ کیا گیا تو ان کے بازو کے ٹشوز میں اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ ہو چکی تھی کہ بازو کاٹ دیا گیا۔ کچھ دنوں بعد پشت کی سائیڈ سے پیپ رسنے لگی اور مزید ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کی دو پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور اندورنی طور پر زخم اس طرح خراب ہو رہے تھے کہ میجر سرجری کے بغیر کچھ کرنا ناممکن تھا۔ پیٹ اور پشت دونوں طرف سے سرجری کی گئی۔ اور اب ان کے جسم کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ حصے پر آپریشن کے ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر جاب بھی شروع کر دی۔ 2009ء میں ان کو مصنوعی بازو لگایا گیا لیکن وہ اس کو استعمال میں لاتے ہوئے جب بہت زیادہ کام کرنے لگیں تو اس کا اثر پھر پشت کے مسلز پر پڑا اور وہ پھٹنے لگے۔ سو اب وہ اس بازو کو استعمال نہیں کرتیں۔ ان کی شادی ایک بہت اچھے اور سلجھے ہوئے آدمی سے ہوئی جنہوں نے ان کی معذوری کو ان کے لئے طعنہ نہیں بنایا اور اب یہ خاتون اپنا گھر خود سنبھال رہی ہیں اور ساتھ ساتھ قائدِ اعظم یونیورسٹی سے ایم فل میں داخلے کی فہرست لگنے کی منتظر ہیں۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو مختصر سی ملاقات میں بھی آپ کو متاثر کر جاتے ہیں اور ہھر ان کا خیال اور ان کی مثال ذہن میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ میرے لئے یہ خاتون بھی ایسی ہی ایک مثال تھیں۔ جنہوں نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا کہ 'میں ہی کیوں' یا 'مجھے بہت مشکل یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔' مسکرتے لبوں اور نم آنکھوں والی یہ مثال مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح حوصلہ و ہمت عطا کرتے رہیں اور وہ زندگی میں یونہی کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ ثمَ آمین

Sunday, 4 March 2012

ہمسفراور بے/ لا انتہا

7 comments
ٹرن ٹرن ٹرن فون بجا۔
میں: السلام علیکم
میری کزن: وعلیکم السلام۔ عبداللہ کی سالگرہ جمعہ کو مغرب کے بعد ہے۔ سب لوگ وقت پر پہنچ جانا۔'
میں: لیکن سالگرہ تو ہفتہ والے دن بنتی ہے۔'
کزن: ہے تو ہفتے کو ہی۔ لیکن کیونکہ شام کو ہی سب آ سکتے ہیں اور ہفتہ ہی کو ہمسفر کی آخری قسط آ رہی ہے۔ تو بہتر سمجھا جمعہ رکھ لیں۔ ورنہ پھر اتوار کو انتظام کرنا ہو گا۔'
کچھ مزید۔۔۔۔
فون پر ٹیکسٹ میسج کی بیپ آئی۔
"پڑوس کا بچہ: 'انکل! یہ لیں مٹھائی، امی اور باجی نے بھیجی ہے۔'
انکل: 'اللہ مبارک کرے۔ کس خوشی میں بھیجی ہے؟'
بچہ: وہ ہمسفر میں اشعر کو سب سچ پتہ چل گیا۔''
اسی طرز کے کئی پیغامات میرے فون کے ان باکس میں موجود ہیں۔

میری کزن جو اسی سال انٹر میں گئی ہے ، ایک دن مجھے کہنے لگی اگر آپ کے پاس 'وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی' والی غزل ہے تو مجھے ابھی بھیجیں۔ میں اگرچہ حیران ہوئی کہ ہپ ہاپ میوزک کی شوقین کا ذوق ایک دم سے اتنا تندیل کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر فائل ٹرانسفر ہونے کے بعد اس نے غزل چیک کی۔ پھر بہت ناراض انداز میں بولی۔ ' میں نے آپ سے یہ بور غزل نہیں مانگی تھی۔ کیو بی والی غزل کی بات کی تھی۔ ابھی میں اسے اپنی پسندیدہ گلوکارہ عابدہ پروین اور میری، دونوں کی شان میں گستاخی کی سنگین غلطی پر جھاڑ پلانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اس نے پوچھا۔ آپ ہمسفر ڈرامہ نہیں دیکھتیں؟ میرے نفی میں جواب پر اس کی آنکھیں اور منہ بیک وقت اس طرح کھلے :dntelme کہ مجھے وہی صدیوں کا گھسا پٹا مکھی والا جملہ بولنا پڑا۔ خیر اس کے بعد مجھے ڈرامہ کی کہانی سنائی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ میں یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں گی۔
سو ایک ویک اینڈ پر میں بھی دیگر متاثرین کے ساتھ بیٹھ گئی کہ طعنوں سے بچت تو ممکن ہو۔ ہر دفعہ وقفہ ہونے پر ڈرامہ کی پنکھیاں مجھے اس قدر داد طلب نظروں سے دیکھتیں جیسے ڈرامہ انہوں نے ہی بنایا ہو۔ خیر میرے خیال میں (جسے سب نے اتفاقِ رائے سے نامعقول خیال قرار دے دیا)، ڈرامہ کی پروڈکشن واقعی بہت اچھی تھی لیکن کہانی کچھ زیادہ ہی روایتی ہو گئی۔ اور مزید یہ کہ ڈرامہ کا نام ہمسفر کے بجائے 'بے انتہا؛ یا 'لا انتہا' ہونا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جو قسط میں نے دیکھی اس میں خرد مظلومیت کی انتہا پر تھی۔ 45 منٹ کے ڈرامے میں خرد نے آنسوؤں کی ان گنت بالٹیاں، ٹب بلکہ ٹینک بہا دیئے۔ پھر ہیرو یعنی اشعر صاحب انتہا درجے کے بے خبر۔ نہ انہیں اپنی بیگم کے حالات کی خبر ہے اور نہ ہی کزن کے خیالات کی۔ نہ اماں جان اور خالہ جان کی سیاستوں کی خبر ہے۔ حد ہے بھئی۔ اب سارہ کی باری آئی۔ انتہا درجے کی شدت پسندی۔ سو میرے مطابق اس ڈرامہ کا نام ہمسفر تو ہر گز نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اگرچہ اپنے اس اظہارِ خیال کے بعد مجھے بہت سی خونخوار نظروں کا سامنا کرنا پڑا :dont اور آخر میں یہ فیصلہ بھی سننا پڑا کہ آپ آئندہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ نہیں دیکھیں گی۔ جس پر میں تب سے بہت سعادتمندی سے عمل کر رہی ہوں کہ پھر مجھے کسی نے اس بارے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ :cn
تفنن بر طرف میں نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں پی ٹی وی کے سنہری دور کے ڈرامے دیکھے ہیں شاید اسی لئے مجھے اب والے ڈراموں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ڈرامہ کی پروڈکشن مجھے واقعی اچھی لگی۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے کریڈٹ پر ایک کامیاب ڈرامہ آ گیا۔ قرۃ العین بلوچ نے غزل بہت اچھی طرح گائی ہے۔ رائٹر سنا ہے خواتین کے رسالوں کی کافی معروف مصنفہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اکثر لوگ پھر پاکستانی ڈرامہ کی ریواول کی بات کرتے ملتے ہیں۔ اگر اس میں کچھ مقصدیت بھی شامل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی۔ :smile
اب میرے خیال میں شاید رات اس ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہو چکی ہے۔ تو پاکستانی قوم کا یہ جنون بھی ختم ہو جائے گا۔ میں یہ پوسٹ نہ لکھتی لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والا آخری واقعہ نے مجبور کر دیا۔ میری ایک سہیلی کے کالج میں پچھلے ہفتے سٹوڈنٹس الیکشنز ہو رہے تھے۔ اس میں ایک امیدوار کے پوسٹر نے مجھے پھر اس ڈرامہ کی یاد دلا دی۔

اب اس کے بعد مزید کیا لکھا جائے۔ صرف یہ کہ متاثرین ہمسفر کو مبارکباد کہ 'اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے' والا انجام ہوا۔
مجھے بھی مبارکباد کہ اب اگر میں کسی کو ہفتے شام میں ملنے یا فون پر بات کا ارادہ کروں گی تو یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوں گی۔ :party
اور الیکشن امیدوار سے اظہارِ افسوس کہ سنا ہے وہ کل کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ :sadd: لگتا ہے ان کے ووٹرز بھی کنوینس نہیں ہو سکے :humm

Wednesday, 4 January 2012

مثبت سوچ

5 comments
آج ہمارا ٹی کیفے والے چاچا کافی دینے آئے تو گیس کی لوڈشیڈنگ اور قیمت بڑھنے، سی این جی والوں کی ہڑتال، اور گزشتہ دو دنوں سے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے بارے میں بتانے لگے۔ بات کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اوپر والوں اور اختیار رکھنے والوں کو الزام دیتے ہیں جو کسی حد تک تو درست ہے لیکن ہم اپنی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں بھی تو اپنے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی کرتے ہیں۔ جب بجلی اور گیس قسمت سے ہمیں بغیر تعطل کے ملتی ہے تو اکثریت اسے انتہائی لاپرواہی سے استعمال کرتی ہے۔ بات سے بات نکلی تو کسی نے کہا کہ ہم جن لوگوں میں رہتے ہیں یا جن کے ساتھ کام کرتے ہیں ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ سو ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ دوسروں سے سیکھیں بھی اور انہیں اچھی بات بتائیں بھی۔ اس بات پر ان چاچا نے دو بہت اچھی باتیں سنائیں۔
(یہ صاحب سابق فوجی ہیں اور بہت سے بڑے افسروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب میں ایک جنرل صاحب اور ان کے خاندان سے سیکھے گئے سبق کو کبھی نہیں بھول سکتے۔)
1۔ "فوج میں کام کرتے ہوئے میں نے کافی عرصہ ایک جنرل صاحب کے گھر کام کیا۔ جنرل صاحب کی بیگم صاحبہ نے مجھے کبھی نہیں ٹوکا اور نہ ڈانٹا سوائے ایک موقعے کے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اکثر کچن یا کسی کمرے سے نکلتے ہوئے بتی جلتی ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ تو انہوں نے ایک دن مجھے بلا کر کہا 'یہ جو بجلی ہم جلا رہے ہیں اس کی ادائیگی ہماری جیب سے نہیں بلکہ عوام کے پیسوں سے ہوتی ہے۔ اگر ہم یوں ہی بجلی ضائع کرتے رہے تو ہمیں تو شاید فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن ان لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی۔اور اس کے ذمہ داروں میں میں اور تم بھی شامل ہوں گے۔'
چاچا کا کہنا تھا کہ وہ 20 سال پہلے ملا یہ سبق آج تک خود بھی نہیں بھولے اور دوسروں کو بھی اسی بھولنے نہیں دیتے۔

دوسری بات: "میں سگریٹ بہت پیا کرتا تھا۔ ایک دن جنرل صاحب کے بیٹے نے، جو اس وقت 10-12 سال کا ہوگا، مجھے کو سگریٹ پیتے دیکھا۔ جب میں سگریٹ ختم کر چکا تو اس نے پوچھا۔ 'صاب۔ آپ کے پاس ایک روپیہ ہے؟'۔ میں جواب دیا کہ ہے تو اس نے مجھے پیسے نکالنے کو کہا۔ پھر اس نے مجھ سے ماچس مانگی جو میں نے دے دی۔ بچے نے تیلی جلائی اور میرے ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو آگ لگانے لگا۔ میں نے فورا ہاتھ پیچھے کیا اور کہا 'یہ کیا کر رہے ہیں پیسے جلا رہے ہیں۔ ضائع ہو جائے گا۔' اس پر وہ بچہ بولا۔ جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں وہ بھی تو آپ اپنا پیسہ جلا رہے ہیں۔' ۔ بچے کی بات نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے اس دن کے بعد سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے جس طرح سمجھایا شاید میں کبھی بھی سمجھ نہ سکتا۔"

میں یہ بات کسی اور سے سنتی تو اسے مبالغہ آرائی سمجھتی (کیونکہ بڑے افسران چاہے وہ کسی بھی ادارے سے ہوں، ایسی سلجھی ہوئی سوچ کم ہی دیکھنے میں آتی ہے)، لیکن آج کی گفتگو کے بعد میرا یقین ایک بار پھر اس بات پر پختہ ہو گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کوشش کسی کی زندگی میں بہت بڑی مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور ہم کسی بھی وقت کسی سے بھی کوئی اچھی بات سیکھ سیکھتے ہیں قطع نظر ان کی عمر، مرتبے اور حیثیت کے۔ چاچا کو ان کی مالکن اور ایک بچے نے جو سکھایا وہ میں نے ان سے سیکھا اور اب مجھے چاہئیے کہ اس پر عمل بھی کروں اور دوسروں کو بھی بتاؤں۔

Wednesday, 21 December 2011

پریشان قوم!

8 comments
پچھلے ہفتے کی بات ہے معلوم ہوا طلباء نے انٹر کے نتیجے میں تاخیر کے خلاف مظاہرہ کیا اور راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی عمارت میں توڑپھوڑ کی اور آگ بھی لگائی۔ اسی موضوع پر گفتگو کے دوران میری رائے یہی تھی کہ یقیناً بچے بہت پریشان ہیں اور مایوس بھی لیکن توڑ پھوڑ کرنے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے مسئلہ حل تو نہیں ہو گا۔ بلکہ ایسے نقصان کی قیمت پوری قوم کو ٹیکسوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔ ہم ہر مسئلے کا حل تشدد سے نکالنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ تحمل ہماری زندگی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن کل مجھے ایک میٹنگ میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا جہاں سے آنے کے بعد میں بہت کنفیوز ہو چکی ہوں۔ اس میٹنگ میں ماہرینِ تعلیم، کچھ سکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز اور اساتذہ شامل تھے۔ گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور طلباء کی امتحان اور عملی زندگی میں ناکامی پر بات ہو رہی تھی کہ ایک پرنسپل صاحب اپنا تجربہ بیان کرنے لگے۔ ان کے مطابق ان کے سکول کا میٹرک کا نتیجہ بہت خراب رہا اور ایسے بچے بھی فیل ہوئے یا بہت کم نمبروں پر پاس ہوئے جو بہت اچھے اور قابل طلباء میں شامل کئے جاتے تھے۔ چنانچہ پرنسپل صاحب کے کنٹرولرامتحانات(یہ راولپنڈی بورڈ کی بات ہو رہی ہے( سے رابطہ کیا اور پیپرز کی ری-چیکنگ کی بات کی۔ ری-چیکنگ کے دوران کیا کیا باتیں معلوم ہوئیں۔
1۔ اکثر بچوں کی فائل میں ان کے پیپرز کے بجائے کسی اور کے پیپرز لگائے گئے ہیں اور ان پر مارکنگ کی گئی ہے۔ ایک انگریزی میڈیم بچے کی فائل میں ایک اردو میڈیم بچے کا پیپر پڑا ہے اور اس کے نمبر بچے کے رزلٹ کارڈ پر لکھے گئے ہیں جبکہ اسی فائل میں اس بچے کا اپنا پرچہ بھی موجود ہے۔
2۔ اکثر جوابات بغیر چیک کئے کاٹے گئے ہیں اور ان کا کوئی نمبر نہیں لگایا گیا۔ کچھ پیپرز میں پورے کا پورا معروضی یا تفصیلی سوالات والا حصہ کاٹ دیا گیا ہے۔ اور بقول ان پرنسپل صاحب کہ جس انداز سے پرچے پر کراس لگائے گئے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی پرائمری جماعت کے بچے نے پیپر چیک کیا ہے۔ واللہ اعلم

3۔ بہت سے بچوں کی فائلز میں پرچے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ ان کو دو طرح کی چوائس دی گئی ہت۔ ایک یہ کہ ان کے دوسرے پرچوں کو دیکھ کر اوسط نمبر دے دیے جائیں یا پھر وہ دوبارہ امتحان دیں۔

4۔ ٹوٹل کرتے ہوئے کئی جوابات کے نمبر شامل ہی نہیں کئے گئے یہاں تک کہ ایک بچے کے پرچے کے ٹوٹل میں پورے 43 نمبروں کو فرق آیا۔

ایک صاحب نے یہ بات کی تو باقیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ ایک خاتون پرنسپل کے مطابق ان کی ایک بچی کو امتحان میں غیر حاضر دکھا دیا گیا جبکہ وہ اس بچی کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور سنٹر بھی ان کا اپنا سکول ہی تھا۔
زیادہ تر سکولوں میں بچے ان گھروں سے آتے ہیں جو دوبارہ پرچے چیک کروانے کی فیس نہیں دے سکتے۔ ایک پیپر کی فیس 600 روپے ہے جبکہ اس میں دیگر اخراجات ملا کر 1000 روپوں تک خرچہ بن جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی دفتر میں جا کر بھی آپ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں سو بہت سوں کو اگلے دن یا اگلے ہفتے آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ شاید اسی پریشر سے بچنے کے لئے پنڈی بورڈ نے رزلٹ پر نظرِثانی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ایسی صورتحال کے ردِ عمل میں لوگ واقعی کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ کم از کم میں کچھ بھی رائے دینے سے قاصر ہوں کہ کیا کرنا چاہئیے۔ مجھے کل سے یہ سوال بھی پریشان کر رہا ہے کہ ایسے حالات میں بڑے ہونے والے بچے جب عملی زندگی میں آئیں گے تو کیا ایمانداری، خلوص، تحمل اور ذمہ داری ان کے کردار کا حصہ ہو گی؟

Sunday, 25 September 2011

میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی!

4 comments
میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم




میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی

میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی

میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی

بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی

Sunday, 4 September 2011

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئےمحمود و ایاز

4 comments
سب کو بہت بہت عید مبارک۔ میری عید آج ختم ہو رہی ہے کیونکہ آج آخری چھٹی تھی۔ کل سے پھر واپس کام کام اور کام :( ۔۔۔ بلاگ سے بہت دنوں سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ حالانکہ اتنا کچھ ہے بولنے اور لکھنے کو۔ لیکن اس وقت تو اپنے انکل گیلانی کی شان میں کچھ کہنا ہے۔ شاہد ہمارے حمکرانوں کے نصیب میں عوام کی بدعائیں اور آہیں سننا ہی رہ گیا ہے اور یہ ان کا من پسند مشغلہ بھی ہے۔ تبھی تو وقتاً فوقتاً وہ عوام کو اس کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ محترم وزیرِ اعظم صاحب نے کیا۔ سوچا ہو گا عوام بور نہ ہو گئے ہوں۔ تو چلو کچھ کرتے ہیں۔ نکل پڑے جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے۔ اب پبلک کو یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ دیکھو ہم بھی نماز پڑھنے جا رہے ہیں سو اپنے راستے پر ہٹو بچو کا نعرہ لگانے والوں کو مقرر کر دیا۔ پھر وزیرِ اعظم 'لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا' کے مصداق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جھرمٹ میں جانبِ مسجد روانہ ہوئے۔لوگ ذیرو پوائینٹ سے فیصل مسجد تک پیدل چلتے پہنچے تو معلوم ہوا کہ اندر جانے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انکل گیلانی اینڈ کو مسجد میں جلوہ افروز ہیں۔ اس دوران باقی سب عوام کی جمعے کی نماز مس کو گئی تو کیا ہوا۔ عوام کی زندگیوں سے پہلے بھی تو بہت کچھ مس ہے۔ ان کو کون سا کوئی فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر اچھے موقعے سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق حکمرانوں کو ہوتا ہے تو جمعتہ الوداع کی نماز کا ثواب وہ بھی فیصل مسجد میں بھی تو صرف انہی کو حاصل کرنا ہے۔

اب اس انتہائی 'خاص' طبقے سے ذرا کم لیکن عوام سے خاص طبقے کی ایک اور آنکھوں دیکھی مثال۔ ہفتہ 28 اگست ، 26 رمضان کی بات ہے۔ راولپنڈی سے جی ٹی روڈ کی طرف سفر کرتے ہوئے مندرہ ٹول پلازہ کے پاس پہنچے تو لین میں آگے تین گاڑیاں تھیں۔ جن میں سے سب سے اگلی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سبز رنگ سے ایم این اے لکھا ہوا تھا۔ جب کافی دیر وہ گاڑی ٹول ٹیکس کیبن سے آگے نہیں چلی تو سب کو تشویش ہوئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی والے موصوف اس بنا پر ٹول ٹیکس دینے سے انکاری تھے کہ وہ کسی ایم این اے کے رشتہ دار ہیں۔ ۔ ٹول ٹیکس جمع کرنے والا بھی بضد تھا کہ ٹیکس ادا کرو ورنہ کھڑے رہو اور پچھلی گاڑیاب بھی کھڑی رہیں گی۔ جب اس سارے جھگڑے میں کافی وقت گزر گیا تو اس گاڑی سے پیچھے والی گاڑی سے ایک صاحب اترے اور انہوں نے ان حضرت کے 20 روپے ادا کر دیئے۔ یوں راستہ کُھلا اور ان محترم نے بغیر شرمندہ ہوئے گاڑی سٹارٹ کی۔ پیپسی کا کین (رمضان میں( باہر اُچھالا اور یہ جا وہ جا۔

تیسری مثال خود اپنے لوگوں یعنی عام عوام کی۔ مارکیٹ سے گزرتے ہوئے پھلوں کے سٹال پر چیریز دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ مجھے پاکستان میں گروسری کا اتنا تجربہ نہیں ہے۔ اس لئے انکل سے پوچھا کہ کیا وہ اس میں سے آدھی دیں گے۔ انکل موصوف نے اپنے نماز والی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے کہا۔ نہیں بیٹا۔ یہ تو پورا ڈبہ ہی بیچتے ہیں۔ بالکل تازہ ہیں اور ڈھائی سو میں ہے۔ مجبوراً لے لیا۔ واپس پہنچ کر جب چیریز دھونے کے لئے ڈبے سے نکالیں تو اوپر والی تہہ تو تازہ تھی۔ نچلی ساری تہیں گلی ہوئی تھیں۔ افسوس ہوا لیکن حیرانگی نہیں کیونکہ تھوڑا بہت دھوکہ کرنا ہم لوگوں کی قومی عادت بن چکا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے لیول پر بے ایمانی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں چاپے عوام ہوں یا خواص۔