Showing posts with label سیاست. Show all posts
Showing posts with label سیاست. Show all posts

Thursday, 14 August 2014

14اگست 14ء

5 comments




الحمد اللہ۔ آج پاکستان کا 68 واں یومِ آزادی ہے۔ مشکلات ، مصائب، پریشانیوں اور ناکامیوں کے باوجود یہ ملک اور اس کے باسی اپنے وجود کو برقرار بھی رکھ پائے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اوران شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب ہم بھی مثبت ترقی میں بہتوں سے آگے ہوں گے۔ 

ہر سال جب اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے وہ دن شدت سے یاد آتے ہیں جب اگست کے شروع میں ابو سب بچوں کے لیے پاکستان کے بیج ، ٹوپیاں اور جھنڈیاں لایا کرتے تھے۔ ہم گھروں اور سکولوں کو جھنڈیوں سے سجاتے تھے۔ ہر گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن پر 14 اگست- 13 دن بعد، 12 دن بعد والا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا تھا اور ہم اپنے اپنے گھروں پر لگی جھنڈیاں شمار کرتے  اور 14 اگست کو صبح صبح سکول کو روانگی ہوتی تھی جہاں قومی ترانے کے بعد نظموں ، ملی نغموں اور تقریریں دل و جاں میں ایک نئی روح پھونکتے تھے۔ گھر واپس آ کر پورے خاندان کے ساتھ ٹی وی پر مارچ پاسٹ دیکھنا اور پھر سارا دن ایسے گزارنا جیسے عید کا سماں ہو۔ اپنے ملک سے محبت اور اس کی اہمیت کا احساس شاید انہی دنوں میں میرے اندر پختہ ہوئے تھے اور میں جہاں بھی گئی ، جہاں بھی رہی یہ محبت میرے ساتھ رہی اور بالآخر مجھے واپس اپنے پاس کھینچ لائی۔
مجھے اب بھی اگست کا مہینہ اسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ اب بھی سڑکوں سے گزرتے جب میں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے گھر و عمارتیں دیکھتی ہوں، رستوں کو روشیوں سے جگمگاتا دیکھتی ہوں تو میرا دل ویسے ہی بچپن کی طرح  پورے جوش سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو چاہتاہے۔  اس خواہش کو میں کسی نہ کسی طریقے سے اب بھی پوراکر لیتی ہوں۔ 
گزشتہ چند برسوں سے 14اگست کے موقع پر پاکستانی اپنے ملک میں جاری دہشت گردی ، سیاسی و لسانی جھگڑوں اور روزمرہ زندگی کی مشکلات سے پریشانی کے باجود اس دن کو امیدوں ، امنگوں و دعاؤں سے بھرپور دن کے طور پر مناتے رہے ہیں لیکن اس سال یہ مہینہ اور یہ دن شدید پریشانی میں گزر رہا ہے۔ بزعمِ خود قوم کے نجات دہندوں، جن کے ساتھ  بھیڑوں کا غول چل پڑے ہیں، نے اس مہینے اور دن کو ایسا بنا دیا ہے جس کے ساتھ  عوام کے لیے تکلیف دہ یادیں جڑی رہیں گی۔ جہاں ہر طرف صرف سبز ہلالی پاکستانی جھنڈا نظر آنا چاہیے تھا، آج وہاں رنگا رنگ گروہوں کے جھنڈے دیکھنے کو ملیں گے۔ جس مہینے میں صرف'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ سننے کو ملنا چاہیے تھا ، نام نہاد انقلابیوں کے نعرے بج رہے ہیں۔ جہاں لوگوں کو  باہر نکل کر یومِ آزادی کی خوشیاں منانی چاہییں تھیں وہاں 'پائیڈ پائیپرز' کے باجوں پر آنکھیں، کان اور دماغ بند کیے ہجوم اپنی اور دوسروں کی زندگی مشکل کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
کاش کوئی ان 'قائدِ اعظم' بننے کے شوقین رہنماؤں سے پوچھے کہ کیا انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی سوچا کہ وہ پاکستانیوں کی ایک واحد مشترکہ خوشی کو کس طرح برباد کرنے جا رہے ہیں۔ کیا انقلاب 14 اگست سے پہلے یا بعد میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اور کیا وہ ایک قومی دن کو ایک گروہی سیاست کی یادگار نہیں بنا رہے؟
لیکن پوچھے کون؟ ہم جو صرف یہ کر سکتے ہیں کہ جو آواز اونچی کر کے دھمکی آمیز لہجے میں بولنا شروع کرے اسے نجات دہندہ مان کر ایک اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر پوجنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ ہماری آنکھوں پر کولہو کے بیل کی سی عینک چڑھا کر اپنے گرد پھیرے لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اللہ میرے ملک کو اور میرے لوگوں کو ایسے عاقبت نااندیش رہنماؤں و حکمرانوں سے بچائیں اور اپنا دماغ اور آنکھیں کُھلی رکھنے کی ہدایت عطا فرمائیں۔ آمین
جیوے پاکستان۔
پاکستان زندہ باد!  

Sunday, 9 January 2011

بے پر کی

22 comments
دس دن کی تاخیر سے سہی سالِ نو مبارک ہو سب کو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین
ان دنوں مصروفیت اور بیزاری نے اس بری طرح گھیر رکھا تھا کہ کچھ بھی لکھنے کا موڈ نہیں بنا۔ابھی بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ خیر۔۔
آج دن میں ایک بات علم میں آئی کہ عمر چھپانے کے معاملے میں تو خواتین مشہور ہیں لیکن مرد حضرات بھی کم نہیں یا پھر کسی کسی بھائی/انکل کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی ہے جو عمرِ عزیز کو فی آٹھ/دس سال محض 24 مہینے اضافے کا اجازت دیتی ہے :dntelme ۔ کوئی ہمیں بھی یہ نسخہ بتا دے پلیز۔ :daydream

دوسری بات یہ کہ انکل لطیف کھوسہ پنجاب کے گورنر بن گئے ہیں :humm ۔ کائرہ انکل ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اب آپ اپنی شیروانی واپس الماری میں لٹکا دیں۔ :funny

آج صبح سے سوئی گیس کی مکمل لوڈ شیڈنگ ہے ہماری طرف۔ سردی کی وجہ سے الفاظ جم گئے ہیں۔ جلد ہی پگھلا کر گیلانی انکل کی شان میں قصیدہ لکھنا ہے۔ :bus

Wednesday, 4 August 2010

پاکستان کھپے!

12 comments

میرے عزیز ہموطنو!
آپ سے خطاب کرتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے :cryin ۔ پاکستانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں (ویسے مشکل دور ہمیشہ عوام کے لئے ہی ہوتا ہے) ۔ سیلاب کی آفت نے لاکھوں گھر اُجاڑ دیئے ہیں اور کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنا آپ اپنے لوگوں کے لئے قربان کرنا ہے۔ میں اور میرے بچے تو پہلے ہی قربانی دے چکے ہیں محترمہ شہید بی بی کی شہادت کی صورت میں۔ اس لئے معذرت کے ساتھ میں اس وقت آپ کو کچھ پیش نہیں کر سکتا :whistle ۔ آج آپ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر مجھے اپنا اجڑا ہوا گھر یاد آگیا ہے۔ میرے لئے آپ لوگوں کو اس حال میں دیکھنا بہت مشکل ہے :pinochio ۔ یہ سیلاب تو ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا :humm ۔ ہم قدرتی آفتوں اور مشیتِ ایزدی کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں جو ہمارے اختیار میں ہے ہم وہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے بن ماں کے بچوں کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے یہ تکلیف دہ منظر دکھائی نہ دیں :party ۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا اور اگر ممکن ہو تو آپ بھی بیرونِ ملک دوروں پر نکل جائیں۔ :bye


درد مند صدرِ پاکستان

پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے

Friday, 13 March 2009

وہی ہُوا ناں!

6 comments


تصویر دیکھ کر ذہن میں بہت سے خیالات آ رہے ہیں لیکن ابھی اہم بات یہ ہے کہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلی تصویر ہے جس میں زرداری انکل اپنی 'مخصوص مسکراہٹ' کے بغیر نظر آ رہے ہیں :quiet: :D ۔معلوم نہیں کیوں :hmm:

Sunday, 8 March 2009

وفاقی کابینہ کے نام۔ (وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی)

5 comments
وزیر کا فرمان

لوگوں مجھے سلام کرو، میں وزیر ہوں
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو، میں وزیر ہوں

گردن میں ہار ڈال دو میں جُھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو، میں وزیر ہوں

تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو، میں وزیر ہوں

لکھے ہیں شاعروں نےقصائد مرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو، میں وزیر ہوں

جو مجھ سے کہنے آؤ خبردار مت کہو
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو، میں وزیر ہوں

معذور ہوں میں اپنی وزارت سے بے طرح
تم طرحدار مجھ کو کہو، میں وزیر ہوں

بے شک ہے برہمی سے مری گفتگو کے بیچ
لیکن ادب سے بات سنو، میں وزیر ہوں

میں وہ نہیں کہ یوسفِ بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کے چلو، میں وزیر ہوں

اخبار والو سوچ سمجھ کر کرو سوال
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو، میں وزیر ہوں

مجھ سے قرابتوں کو بس اب بُھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو، میں وزیر ہوں

مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم تو جاؤ مرو، میں وزیر ہوں

شوکت تھانوی

:daydream

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مظہر العجائب

رونے کی گرچہ بات ہے آتی ہنسی بھی ہے
بے محکمہ وزیر ہے اور مرکزی بھی ہے
:hmm:

از انور مسعود

Tuesday, 18 November 2008

Flowers are Red!! Zain Bhikha

0 comments

Just loving it :)




Flowers are Red!!



(watch on youtube)

(Original track by Harry Chapin)



The little boy went first day of school
He got some crayons and started to draw
He put colors all over the paper
For colors was what he saw
And the teacher said.. What you doin' young man
I'm paintin' flowers he said
She said... It's not the time for art young man
And anyway flowers are green and red
There's a time for everything young man
And a way it should be done
You've got to show concern for everyone else
For you're not the only one

And she said...
Flowers are red young man
Green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen

But the little boy said...
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one

Well the teacher said.. You're sassy
There's ways that things should be
And you'll paint flowers the way they are
So repeat after me.....

And she said...
Flowers are red young man
Green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen

But the little boy said...
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one

The teacher put him in a corner
She said.. It's for your own good..
And you won't come out 'til you get it right
And are responding like you should
Well finally he got lonely
Frightened thoughts filled his head
And he went up to the teacher
And this is what he said.. and he said

Flowers are red, green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen

Time went by like it always does
And they moved to another town
And the little boy went to another school
And this is what he found
The teacher there was smilin'
She said...Painting should be fun
And there are so many colors in a flower
So let's use every one

But that little boy painted flowers
In neat rows of green and red
And when the teacher asked him why
This is what he said.. and he said

Flowers are red, green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen.

But there still must be a way to have our children say . . .



There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one



There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one



:smile

Monday, 3 November 2008

موجاں ای موجاں !!

8 comments






وزیرِ اعظم نے
پی ٹی وی کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد مسعود
کا استعفیٰ منظور کر لیا (آج ٹی وی)۔
یعنی بالآخر جیت شیری رحمان کی ہوئی۔

تین نومبر کا دن میرے لئے خوشیاں لے کر آیا ہے۔ ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ شاہد مسعود (ظاہر ہے یہ تو کہنا ہی ہے آخر کو وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی جو مقرر ہو گئے ہیں۔ جب وزیرِ مملکت کے برابر عہدہ مل جائے  تو پی ٹی وی کے ایم ڈی کا عہدہ کس کو بھائے گا :daydream



یااللہ! پاکستان پر اپنا رحم فرما۔ آمین


:-s



Friday, 30 May 2008

تو کیا یہ طے ہے؟؟؟؟

4 comments

ابھی آج ٹی وی پر 'کرن اور جارج شو' آ رہا ہے اور آج کا سوال ہے۔۔'کونسی چیز آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی ہے؟'۔۔۔۔ اتفاق کی بات کہ اسی دوران مجھے یہ خبر ملی۔۔ ۔خبر یقیناًّ مسکرانے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔ استہزائیہ مسکراہٹ ہی سہی۔۔۔۔ :)


 



 


 


 


 


 


 


دی نیوز کے مطابق اے۔۳۱۰ کا خصوصی طیارہ چکلالہ پہنچ سکا ہے جو سپیشل سواریوں کو ایک ہمسایہ ملک تک لیکر جائے گا۔ اور راولپنڈی کی ایک اہم رہائشگاہ سے جانے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔۔۔اگرچہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر صاحب کے قریبی ذرائع اس خبر کی تردید کر رہے ہیں۔۔ایسی ہی ایک تردید نثار میمن نے بھی کی ہے۔۔ ۔ظاہر ہے برا وقت اتنی جلدی کہاں ٹلتا ہے اور اب تو بش انکل نے بھی فون کر کے حوصلہ بڑھا دیا یے ۔۔۔ :( ۔۔۔پھر بھی یہ خیال کہ آخرکار رسی کھنچنے کا وقت آ پہنچا ہے ۔۔۔دل کو خوش کرنے کے لئے کافی ہے۔۔۔۔


واؤ لگتا ہے آج تو ایک کے بعد ایک مسکرانے پر مجبور کرنے والی خبریں موجود ہیں۔۔۔ ابھی ابھی تازہ خبر ملی ہے کہ محسنِ کشمیر(سنگھ) کو بھارت سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔۔۔ بحوالہ 'آج' نیوز

ایک اور ایسی ہی خبر۔۔۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے پی ٹی وی جوائن کر لیا ہے۔۔۔بحوالہ پاکستان پالیٹکس
:) :)

Tuesday, 8 April 2008

دانشور وکلاء

2 comments

کل ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور آج ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد۔ مقام اور تشدد کرنے والے مختلف لیکن واقعات دونوں یکساں۔ میری نظر میں یہ دونوں واقعات ہماری قومی سوچ میں بتدریج رونما ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کر رہے ہیں۔  پچھلے کچھ عرصے سے 'ذرائع ابلاغ' نے جس طرح حالات، واقعات اور شخصیات کو exploit کرنا شروع کیا ہے اسی نہج پر وکلاء نے چلنا شروع کر دیا ہے۔ یقیناً ذرائع ابلاغ اور وکلاء تحریک نے ملک پر طاری جمود کی کیفیت کو توڑنے اور حالات کو بدلنے میں اہم اور کسی حد تک مثبت کردار ادا کیا ہے لیکن اس مثبت کردار کو منفی ہونے میں چنداں دیر نہیں لگتی۔۔اور یہی  اب پاکستان میں ہو رہا ہے۔ 'کچھ' ہونے کے زعم میں لوگ اور ادارے بعض اوقات اعتدال کی حدود کو پھلانگ کر ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جو مقصد کی تباہی کی طرف جاتا ہے۔ آج ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد اسی طرف اشارہ ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ سارے کیے کرائے پر پانی پھرنا تو آج کا واقعہ اس کی درست عکاسی کرتا ہے۔ افسوس ہے میڈیا کے لوگوں پر جنھوں نے بیرسٹر اعتزاز احسن کی بار بار درخواست پر بھی کیمرے بند کرنے سے انکار کر دیا اور حیف ہے ملک کے 'دانشور' وکلاء پر جن کے خیال میں ایک بے بس اور بیمار انسان پر اس طرح کا حملہ ان کے سینے پر ایک 'تمغے' کی طرح سج جائے گا۔ افسوس صد افسوس۔ اگر قانون اور انصاف کے لئے لڑنے والوں کے نزدیک جزا و سزا کا پیمانہ یہ ہے تو پھر حالات میں بہتری اور عدل پسند معاشرے کا خواب کو اللہ حافظ
ارباب رحیم اور شیر افگن نیازی سمیت پچھلے دورِ حکومت کے تمام زعماء سزا کے قابل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا سلوک ایک مہذب قوم کو زیب دیتا ہے؟

Wednesday, 12 March 2008

حب الوطنی کو زنگ کیوں لگ گیا؟

0 comments

حب الوطنی کو زنگ کیوں لگ گیا؟


'فوجی اور سول بیوروکریٹس نے باہم گٹھ جوڑ کر لیا کہ لوگوں کو اپنے معاملات کے انتظام میں شریک نہیں کریں گے۔ اس سے جنم لینے والی مایوسی اور محرومی نے حب الوطنی کے ان جذبات کو زنگ آلود کر دیا جو لوگوں کو جرائم ؐکے ارتکاب اور قانون شکنی کے خلاف نبرد آزما ہونے پر ابھارتے ہیں۔ ملک سے محبت اور اس کے قوانین پر عمل میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ محبت میں کمی واقع ہو جائے تو وہ لاقانونیت پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے۔'

' دولت کمانے کا خبط تفریحی میڈیا کو گنوار پن اور فحاشی کی طرف لے گیا۔ میڈیا خصوصاً فلموں، درآمد کردہ فلموں اور مغربی سٹائل میں ڈھالے گئے میوزک، مقامی نیز درآمد کردہ اخبارات، رسائل اور کتابوں نے اخلاقی پابندیوں کو کمزور اور معاشرتی اقدار کو انحطاط پذیر کرنے کی راہ ہموار کی۔ میڈیا اپنی اصلی سمت بھول گیا۔ اس نے اقدار کو تقویت پہنچانے کی بجائے برائیوں کے خلاف معاشرتی فصیلوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔'

'جب حکومتیں اپنے مخالفین سے نمٹنے کے لئے آمرانہ اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے لگیں اور قانون نیز عدالتوں کے ذریعے انصاف ملنا ناممکن ہو جائے تو انصاف سے محرومی قانون کی خلاف ورزی بلکہ اندرونی دہشت گردی کا باعث بن جاتی ہے جو واحد عملی متبادل ہوتا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج اور تحریکیں شروع ہو جاتی ہیں جو تشدد اور دہشت گردی کا موجب بنتی نہیں یہاں تک کہ کود حکومت کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے اقتدار کے احترام پر زد پڑتی ہے۔ وہ جرائم پیشہ لوگوں کےلئے سنہری موقع ہوتا ہے۔ جو سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں خوب ہاتھ رنگتے ہیں۔'

از سردار محمد چوہدری

۔۔۔'جہانِ حیرت؛ ایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس کی خودنوشت' سے اقتباسات ۔۔(باب 48؛ 'اسباب کی دنیا' )