Showing posts with label یادیں. Show all posts
Showing posts with label یادیں. Show all posts

Friday, 4 October 2013

منافقت!!!

4 comments
Felt like re-blogging an old post:
ہم لوگ بڑے بڑے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ملکی حالات سے لیکر بین الاقوامی معاملات کی تجزیہ نگاری میں ہم سے زیادہ کون ماہر ہو گا۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی ذات اور اس کے منسلک مسائل کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا شاید ہمارے پاس اس کا وقت نہیں ہوتا۔۔
'انصاف' کا راگ الاپ الاپ کر ہمارے گلا خشک ہو جاتا ہے لیکن اس رولے میں  یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ کہیں ہماری ذات بھی تو کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بن رہی۔۔کہیں کوئی ایسا مظلوم بھی تو نہیں ہے جو ہمیں ظالم کہتا ہو۔
'احتساب' ہماری دلپسند اصطلاح  ہے ۔۔لیکن اے کاش دوسروں سے پہلے ہم اپنا محاسبہ بھی کر لیں۔۔کہ ہم نے کہاں کہاں اصولوں سے روگردانی کی۔۔کب کب ہمارے لہجے اور عمل میں رعونت در آئی۔۔
  اکثر دوسروں کی 'غلط بیانی' اور 'خود غرضی' کے تمام ثبوت ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ  سوچیں...ہمارے اپنے اندر کس حد تک 'بے غرضی' اور 'سچائی' موجود ہے۔

کہیں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔۔ اوراظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لفظوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ہم خود بھی اپنی زبان، عمل اور رویے کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے تکلیف کی وجہ بن رہے ہیں۔

 نجانے قول و فعل کا یہ تضاد ہماری ذات کا ناگزیر حصہ کیوں  ہے؟

Monday, 31 January 2011

شگفتہ کے نام!

9 comments
اداس لوگوں کی بستیوں میں
وہ تتلیوں کی تلاش کرتی
وہ ایک لڑکی
وہ عام چہرہ
وہ کالی آنکھیں
جو کرتی رہتی ہزار باتیں
مزاج سادہ وہ دل کی اچھی
وہ ایک لڑکی

وہ محبتوں کا نصاب جانے
وہ جانتی ہے عہد نبھانے
وہ اچھی دوست وہ اچھی ساتھی
وہ ایک لڑکی

وہ جھوٹے لوگوں کو سچا سمجھے
وہ ساری دنیا کو اچھا سمجھے
وہ کتنی سادہ
وہ کتنی پگلی
وہ ایک لڑکی

پچھلے ہفتے شگفتہ سے ملاقات ہوئی اور تب سے ابھی تک میں اس سوچ میں رہی کہ ان کے شایانِ شان کچھ لکھ سکوں۔ لیکن :( مصروفیت اس قدر ہے کہ لگتا ہے یہ کام قسطوں میں مکمل ہو گا۔ سو پہلی قسط حاضر ہے شگفتہ۔
میں نے آپکو بالکل ایسا ہی پایا جو یہاں لکھا ہے۔
ہاں کنجوسی تو آپ پر ختم ہے۔ میرے سامنے میری تعریف نہیں کی حالانکہ میں نے پوری کوشش کی کہلوانے کی۔ :huh
شگفتہ واقعی اسمِ بامسمیٰ ہیں۔ جس مشکل سے آپ مجھے ملنے آئیں میں واقعی دل سے ممنون و شکر گزار ہوں۔

خوش رہیں شگفتہ۔
اگلی قسط جلد ہی ریلیز ہو گی۔ اگر سب مل کر میرے لئے دعا کریں۔ مصروفیت اس قدر ہے کہ اوبامہ انکل بھی دوسرے نمبر پر آئیں میرے مقابلے میں۔ :confused

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

8 comments
واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

Tuesday, 15 June 2010

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو!

15 comments
یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دو دن سے میں بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ پرسوں دن 11 بجے اچانک معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ورکشاپ کم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اور جانا براستہ سڑک ہے۔ سو دو گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر تیاری کی اور بھاگم بھاگ لاہور چا پہنچے۔ سفر شروع ہوتے ہی لاہور میں گزرا وقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ یاد آنا شروع ہوا اور پھر کل رات واپسی کے بعد بھی یہ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں تقریباً پانچ سال کے بعد لاہور گئی لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ دن کے وقفے سے واپسی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ جانا آنا بس سونے، میٹنگ ہال پہنچنے اور پھر گاڑی کے واپس گھر کو روانہ ہونے محدود رہا لیکن پھر بھی یاد رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی اور اپنے ہاسٹل جانے کی حسرت دل میں ہی رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آتے جاتے دونوں بار نیو کیمپس یونیورسٹی گراؤنڈ، پانی کی بڑی ٹینکی اور کھیت دکھائی دیتے رہے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں میں نے اپنی زندگی کا اکلوتا مشاعرہ اٹینڈ کیا۔ بڑے بڑے شعراء کو دیکھا اور گھر جا کر خوب شو ماری۔ یہ اور بات ہے حسبِ معمول سب نے متاثر ہونے سے صاف انکار کر دیا  انور مسعود ، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ضیاءالحق قاسمی تو وہ نام ہیں جو ہمارے پسندیدہ شعراء میں شامل تھے۔ جند ایسے شاعر بھی موجود تھے جن کی شاعری تو پہلے ہی پلے نہیں پڑتی تھی لیکن اس مشاعرے کے بعد تو شاید ہی میں نے کبھی ان کو کلام پڑھا ہو۔ وصی شاہ، فرحت عباس شاہ بھی موجود تھے۔  منیر نیازی نے کرسی پر بیٹھ کر صدارت کی کیونکہ وہ ان دنوں بیمار تھے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ سے کچھ ہی فاصلے پر ہمارا ہاسٹل تھا۔ جہاں رہتے ہوئے کبھی یہ اس جگہ اور اس وقت کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سعید انکل اپنی چھوٹی سی ٹک شاپ جسے ہم انتقاماً سعید انکل کا کھوکھا کہتے تھے، ملتا تھا۔ جہاں سے آتے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا اور انکل کو بتا کر ان کی سوئٹس چوری کرنا سب کا من پسند مشغلہ تھا۔ اسی طرح آتے جاتے لعل انکل کی دعائیں لینا اور نصحیتیں سننا بھی معمول کا حصہ تھا۔ تعصب انکل جو سوائے نام کے تعصب کے سراپا شفقت تھے اور نزاکت جو اتوار کی صبح آلو والے پراٹھے تقسیم کرتا اپنے آپ کو وائس چانسلر سے کم نہیں سمجھتا تھا، یہ سب انہی یادوں کا حصہ ہیں۔ افسوس ۔۔رہے گا کہ لاہور جا کر بھی یونیورسٹی جانا ممکن نہیں ہوا 
برکت مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ شامیں یاد آئیں جب ہم لوگ شاپنگ کرنے جاتے لیکن اکثر گھنٹوں اولڈ بک شاپ پر گزار کر کورس سے غیر متعلقہ ڈھیروں کتابیں اٹھا کر واپس آ جاتی تھیں۔
ماڈل ٹاؤن سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآن اکیڈمی دکھائی دی تو دل مزید اداس ہو گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں
نہر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے کیمب کے بورڈ پر نظر پڑی تو ناسٹلیجیا انتہا کو چھونے لگا۔ ریسرچ کے دنوں میں کڑکتی دھوپ میں نیو کیمپس سے یہاں تک اکثر پیدل مارچ کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ابھی ہمارا روٹ ایسا تھا کہ ہم مین نیو کیمپس سے نہیں گزرے لیکن نہر اورر فیروز پور روڈ سے وہ نظم یاد آ گئی جو شاید لاء کالج کے کسی اولڈ سٹوڈنٹ نے نیو کیمپس پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھی تھی۔
کچھ لائنیں یاد ہیں۔ جو میں واپسی کے سفر میں موٹر وے آنے آنے تک ساتھ بیٹھی اپنی سینئر کو سنا کر تنگ کرتی رہی۔

جہاں چڑیوں کی چہکار بھی ہے
جہاں پھولوں کی مہکار بھی ہے
جہاں شجرِ سایہ دار بھی ہے
جہاں سہپن سپنے سجتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

جہاں کپڑا سستا دُھل جائے
جہاں ماضی کا غم بُھل جائے
جہاں اچھا خاصا پڑھنے والا
کاریڈوروں میں رُل جائے
جہاں سرد سموسے ملتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

کافی طویل نظم تھی اور بہت مزے کی۔ لیکن یاد نہیں ہے اب۔
لاہور کی حدود سے نکلتے ہی احساس ہوا کہ ایکسائٹمنٹ اپنی جگہ لیکن دو دن کے میراتھن سفر نے کافی تھکا دیا تھا۔ اور اس افسوس نے بھی کہ کاش باقی کا شہر بھی یوں ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گھوم لیتے۔
اب ان ساری غیر ضروری باتوں کے بعد ایک کام کی بات۔ اگر آپ کسی ایسے تعلیمی ادارے (سکول/ کالج) کے بارے میں جانتے ہیں‌ جہاں اساتذہ اور بچے Effective teaching learning (معذرت کہ اس وقت ذہن میں اس کی با محاورہ اردو نہیں آ رہی) کے ماحول میں کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے برطانوی سکولز کے ساتھ پارٹنرشپ کرائی جا سکتی ہے اور یوں دونوں طرف کے ادارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ اور سکھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے سکولز کے بڑا چھوٹا،سرکاری، نجی، نیم سرکاری، امیر غریب، بڑے چھوٹے شہر سے ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف کام کرنے کا جذبہ شرط ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسا کوئی ادارہ ہے چاہے اس کو ایک استاد ہی کیوں نہ چلا رہا ہو۔ تو مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔
میں انشاءاللہ جلد ہی اس سلسلے کی تعارفی پوسٹ لکھوں گی اور یہ بھی کہ بلاواسطہ طور پر اس پروگرام کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ سے کسی ایک سکول کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہو گا۔

Friday, 28 May 2010

ملتان۔ صوفیاء کی سرزمین

5 comments
زندگی خلافِ توقع مصروف سے مصروف ترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے کام اور بہت سی مصروفیات جن کے بغیر کبھی گزارہ نہیں ہوتا تھا، اب بھولتے جا رہے ہیں :( لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔
اس سال مارچ میں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے لئے ملتان دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں بہت پُرجوش تھی کہ ایک تاریخی اور خوبصورت جگہ دیکھنے جا رہی ہوں (اگرچہ ایسا ہو نہیں سکا :-( )
مسلسل دو ہفتے خرابی موسم کی وجہ سے بالآخر تیسرے ہفتے اللہ اللہ کر کے فلائٹ کنفرم ہو ہی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جب تک جہاز کم 'بس' نے ٹیک آف نہیں کیا یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں پھر نہ اٹھنا پڑ جائے۔ :confused
یہ پی آئی اے کا اے۔ٹی۔ آر جہاز تھا جس میں سیٹیں ایسے لگی ہوئی تھیں جیسے عام کوسٹر میں ہوتی ہیں۔ سارا وقت یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہم براستہ سڑک ملتان جا رہے ہیں۔ بس باہر زمین کے بجائے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میں حسبِ معمول ناشتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے بغیر گھر سے نکلی تھی ایئرپورٹ آتے ہوئے جب بھائی سے کچھ کھانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ دیر ہو جائے گی۔ جہاز میں سنیکس مل جائیں گے۔ خاموش کرا دیا :cry: ۔ اور پھر جب جہاز میں سنیکس ملے تو میرے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔ ایک عدد سادہ کیک جو بہت اچھی طرح پیک کیا گیا تھا جیسے کہ کبھی کسی نے اسے کھانا ہی نہیں ہے۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب میں نے ایئر ہوسٹس سے چائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شانِ بے نیازی دے جواب دیا کہ ڈومیسٹک فلائٹ میں چائے نہیں دی جاتی :humm مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی پُر شفقت انداز میں پیشکش کی لیکن آپ کے لئے میں ابھی چائے لیکر آتی ہوں :shy: ۔ چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ میں نے وہ یادگار کیک کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھائی صاحب سے بھرپور قسم کی جنگ کا پروگرام فائنل کیا۔ :hello

ملتان ایئرپورٹ بہت چھوٹا سا ہے۔
'اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا' کے مصداق ایک اور سفر کا آغاز ہوا۔ کیونکہ ہمیں ملتان شہر کے بجائے 'عبدالحکیم' جانا تھا۔ جو ملتان سے تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ عبد الحکیم سے متعلق مجھے نیٹ سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور جاتے ہوئے میں اس قدر تھک چکی تھی کہ نوٹس لے سکی نہ تصویریں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ سدھنائی یا سندھانی نہر اسی راستے میں آئی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ سو گرمی کی شدت کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ سب نے خوب ڈرا رکھا تھا کہ مارچ میں جون جولائی والی گرمی ملے گی۔ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد جو عمارتیں دکھائی دیں ان میں سرخ اینٹوں کے ساتھ نیلی ٹائلوں کا استعمال دکھائی دیا جو ملتان کے راویتی طرزِ تعمیر کا خاصہ ہے۔
اڑھائی گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد عبدالحکیم پہنچے تو کھانے کے بعد ایسا سوئے کہ اگلے دن کی خبر لی۔ دن کی گہماگہمی میں بھی عبدالحکیم میں سکون اور ٹھہراؤ محسو س ہوتا تھا۔ شہروں کے رش اور شور شرابے سے اُکتائے ہوئے لوگ اسی سکون کو ترستے ہیں۔ پھر یہ جان کر خالص دودھ اور سبزیاں اس دام سے بھی کم ملتی ہیں جس پر بڑے شہر والوں کو دودھ ملا پانی اور باسی پھل اور سبزیاں ملتی ہیں ، ہم لوگوں کا رشک حسرت میں بدل گیا :D عبدالحکیم میں وقت بہت تیزی سے گزرا کہ ہمیں دن دو بجے واپس ملتان کے لئے روانہ ہونا تھا اس لئے تصویریں نہیں لی جا سکیں۔ ہاں کھڈی کے وہ سٹال جو ہم لوگوں کے لئے لگایا گیا تھا ، سے خریدا گیا کھڈی کا کپڑا عبدالحکیم کی سوغات کے طور پر ہمارے ساتھ آیا۔ :smile
ایک بار پھر انہی راستوں سے گزرتے واپس ملتان پہنچے۔ چونکہ سارا دن بہت مصروف گزرا تھا ، کہیں بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا حالانکہ میں بے صبری سے ملتان میں صوفیاء کے مزار دیکھنے کے انتظار میں تھی لیکن لوڈ شیڈنگ اور گرمی نے تھکن کو کئی گُنا بڑھا دیا اور اگلے دن کی مصروفیت کا سوچ کر ارادہ بدل لیا۔
اگلے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ آنٹیوں اور باجیوں کی پہلی ترجیح خریداری ہوتی ہے، وہ ہمیں بھی ساتھ گھسیٹ کر بازار لے گئیں۔ لالچ وہی کھڈیاں دکھانے کا دیا گیا۔ ملتان شہر کی تعمیرِ نو کی جا رہی ہے اس لئے عجیب و غریب راستوں سے گزر کر اس بازار پہنچا گیا جس کا راستہ ہماری اقامت گاہ سے صرف 15 منٹ کا بنتا تھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھ کر ساری کوفت ختم ہو گئی۔ گرمی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کپڑا بُنتے محنت کش کو دیکھ کر ہنر مند ہاتھوں کی عظمت کا احساس ہوا۔ کپڑے کی خوبصورتی اور ڈیزائن دیکھ کر یہ بھی جانا کہ ہُنر کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سب متاثرینِ کھڈی ، دکانوں کی طرف چل دیئے اور حسبِ روایت ایک ایک دکان پر گھنٹوں لگا کر شام کو لدے پھندے واپس آئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل اور انتہائی نفیس کھڈی پر بنا کپڑا بہت سستے داموں ملتا ہے۔ اس لئے سب نے گرمیوں کی تقریباً تمام شاپنگ یہیں سے کر لی۔ :smile
یہ انکل کھڈیوں پر کپڑا بُن رہے تھے۔ :cn
اگلی شام ملتان کی مشہور صنعت Blue Pottery دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن اس کی کہانی اور تصاویر اگلی قسط میں انشاءاللہ۔
blue pottery
تصویر کا حوالہ

Tuesday, 10 November 2009

شاعر ہے رہنما ہے اقبال ہمارا!

3 comments

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل)




نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے!

گلوکار: شوکت علی
------------

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں (بالِ جبریل)




خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

گلوکارہ: ثریا خانم
------

پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے کارناموں میں ایک ڈاکٹر محمد اقبال کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی ہے۔ لیکن یہ روایت شاید اب ختم ہو چکی ہے۔ ہر سال نومبر میں میں انتظار کرتی ہوں کہ شاید بھولے سے کوئی وہ انسٹرومنٹل ہی لگا دے جو ہمارے بچپن میں نومبر شروع ہوتے ہی اکثر سننے کو ملتا تھا ۔۔'شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا'۔ لیکن :( ۔ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر بھی تلاش جاری تھی۔ یوٹیوب کی بدولت ایک بار پھر یہ نغمہ سننے کو مل گیا۔ :)


ان دنوں ہوتا کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ' بچے کی دعا' نئے سرے سے گائی اور فلمائی جاتی ہے لیکن تلفظ پر دھیان دینا بھول جاتا ہے :-( ۔ آخری مصرعے میں راہ اور رہ میں فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے (ربط)۔ ہماری اردو کی استاد مس چوہدری کو بہت غصہ آتا تھا جب کوئی بچہ راہ کو رہ بنا دیتا تھا۔ پچاس پچاس بار دونوں الفاظ دہرانے پڑتے :uff

Tuesday, 16 June 2009

ناسٹلجیا!!

3 comments
یادش بخیر۔ اس ویڈیو نے کتنے ہی نام یاد کرا دیئے۔

سنگ سنگ چلیں، سہیل رانا، آنگن آنگن تارے، خلیل احمد :)

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے



یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہماری آن اور ہماری عزت ہے اس کا پرچم
ہماری شان اور ہماری شوکت ہے اس کا پرچم
جبیں پہ اس کے یہ چاند تارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

اسے سجا کر ہم اپنی قسمت سنوار دیں گے
دمکتی کرنوں سے اس چمن کو نکھار دیں گے
یہ روشنی کا حسیں مینارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہم اپنی محنت سے اس کو رنگِ بہار دیں گے
جو وقت آیا تو اپنی جانیں بھی وار دیں گے
یہاں کا ہر پُھول، ہر شرارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

کلام: سیما سحر
گلوکار: نیرہ نور اور بچے
موسیقی: خلیل احمد

Friday, 26 December 2008

Friday, 31 October 2008

او دیس سے آنے والے بتا! (عابدہ پروین)

7 comments

او دیس سے آنے والے بتا! : عابدہ پروین

کلام: اختر شیرانی+ احمد فراز








او دیس سے آنے والے بتا


کس حال میں ہیں یارانِ وطن


وہ باغِ وطن فردوسِ وطن


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں


مستانہ ہوائیں آتی ہیں


کیا اب بھی وہاں کے پربت پر


گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں


کیا اب وہاں کی برکھائیں


ویسی ہی دلوں کو بھاتی ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




وہ شہر جو ہم سے چھُوٹا ہے، وہ شہر ہمارا کیسا ہے


سب لوگ ہمیں پیارے ہیں مگر وہ جان سے پیارا کیسا ہے


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی


سر مست نظارے ہوتے ہیں


کیا اب بھی سہانی راتوں کو


وہ چاند ستارے ہوتے ہیں


ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے


کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




شب بزمِ حریفاں سجتی ہے یا شام ڈھلے سو جاتے ہیں؟


یاروں کی بسر اوقات ہے کیا ہر انجمن آرا کیسا ہے


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی مہکتے مندر سے ناقوس کی آواز آتی ہے


کیا اب بھی مقدس مسجد پر مستانہ اذان تھراتی ہے


کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر


پنہاریاں پانی بھرتی ہیں


انگڑائی کا نقشہ بن بن کر


سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں


اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے


ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




مہران لہو کی دھار ہُوا


بولان بھی کیا گُلنار ہوا


کس رنگ کا ہے دریائے اٹک


راوی کا کنارہ کیسا ہے


اے دیس سے آنے والے مگر تم نے تو نہ اتنا بھی پوچھا


وہ کَوی جسے بن باس ملا، وہ درد کا مارا کیسا ہے



او دیس سے آنے والے بتا



کیا اب بھی کسی کے سینے میں


باقی ہے ہماری چاہ بتا


کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے


اب یاروں میں کوئی آہ! بتا


او دیس سے آنے والے بتا


للہ بتا للہ بتا


او دیس سے آنے والے بتا

Thursday, 9 October 2008

آگہی

2 comments

8 اکتوبر 2005 کی اُس صبح میں نے پہلی بار جانا کہ اپنی طرف بڑھتی آنے والی موت کی آہٹ کا احساس کیسا ہوتا ہے!



 

Friday, 29 August 2008

ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر

12 comments
کل پاکستان اپنی کزن کی بیٹی سے بات ہوئی تو اس کا پہلا شکوہ تھا۔۔‘خالہ! میں آپ کو اتنے ایس ایم ایس کرتی ہوں ۔ آپ جواب دے دیتی ہیں لیکن خود سے ایسے اچھے اچھے ایس ایم ایس کیوں نہیں کرتیں۔‘ اس کو تو میں نے مطمئن کر دیا لیکن تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ ہمارے یہاں موبائل فون سہولت اور ضرورت سے زیادہ ایک ایسی تفریح بن گیا ہے جو وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کام کی بات ہو تو بندہ کچھ کہے بھی۔  اب فارورڈڈ ٹیکسٹ میسجز کا کیا جواب دیا جائے۔ اور جب آپ کو تھوک کے حساب سے ایسے میسجز ملیں تو کیا کریں؟ پاکستان میں تو مجھے یہی فکر لگی رہتی تھی کہ اگر کسی کو جواباً کوئی اچھا سا ٹیکسٹ نہ بھیجا گیا تو شدید ناراضگی کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح ایک اور بیماری ‘مسڈ کال‘ دینے کی ہے۔ خصوصاً بچہ پارٹی میں۔ ہر وقت فون ہاتھ میں ہے اور مسڈ کالز دی جا رہی ہیں۔ آدھی بیل گئی اور کاٹ دی۔۔ ستم یہ کہ اس عمل کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ اگلا بندہ مصروف ہوگا، سو رہا ہوگا یا کسی ایسی جگہ پر بھی ہو سکتا ہے جہاں فون اس طرح بار بار بجنا اس کے لیے خفت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ویسے بچوں کے علاوہ اچھے خاصے سمجھدار لوگوں کو بھی میں نے ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ہماری ایک رشتہ دار کی عادت تھی کہ ایسے وقت میں رنگ کرتی تھیں کہ بندہ سوچ بھی نہ سکتا کہ شرارت کی جا رہی ہے۔ سب شش و پنج میں پڑ جاتے تھے کہ معلوم نہیں واقعی فون کر رہی ہیں یا ڈمب کال ہے۔ نتیجہ یہ کہ اگر فون سن لو تو فوراً شکوہ کہ یہ تو مسڈ کال تھی۔ فون اٹینڈ کیوں کیا؟ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ نہیں اٹینڈ کیا تو بعد میں خبر لی کہ اتنا ضروری کام تھا فون کر رہی تھی سُنا کیوں نہیں!!

ایسی بےسروپا حرکتوں کی وجہ سے کسی کا کتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس پر ہم لوگوں نے شاید کبھی غور نہ کیا ہو۔ مجھے پہلے بھی اس بات سے چڑ تھی اور اب ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد تو مجھے اس حرکت پر شدید غصہ آتا ہے۔ تقریبا٘ ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے۔ میری ایک کزن کی عادت تھی کہ رات کو جب تک سوتی نہ ,سب کو بیلز دیتی رہتی تھی۔ مجھے کیونکہ صبح جلدی اٹھنا ہوتا تھا اس لیے جلدی سو جاتی تھی۔ اب سوتے ہوئے اگر فون بج گیا اور نیند ٹوٹ گئی تو میں دوبارہ سو نہیں‌ سکتی اور میرے سر میں انتہائی شدید درد بھی ہونے لگتا ہے۔ سو میں نے حل یہ نکالا کہ رات کو فون سائلنٹ موڈ پر کر دیتی تھی۔ اس صبح اتفاق سے میری آنکھ معمول سے کافی پہلے کھل گئی ٹائم دیکھنے کے لیے فون اٹھایا تو ابو کی دو کالز تھیں۔ جو کہ غیرمعمولی بات تھی۔ نیچے بھاگی تو ابو کو نڈھال سا جاگتے ہوئے پایا۔ اماں کچن میں ابو کے لیے کچھ بنا رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساری رات ابو بےچین رہے ہیں۔ اتفاق سے ایک دن پہلے اماں کی طبیعت بھی کافی خراب تھی اور اس رات وہ بھی مسکن دوا کے زیرِ اثر تھیں اس لیے وہ اٹھ بھی نہیں سکیں۔ مزید ستم یہ کہ بھائی بھی آفس کے کام سے شہر سے باہر تھے۔ علامات سے مجھے شک ہوا کہ شاید انجائنا کا مسئلہ ہے۔ بھائی کو فون کر کے بتایا۔ ڈاکٹر کو بلایا۔ ہاسپٹل گئے اور معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ لیکن ابو کی اچھی صحت اور قوتِ ارادی کی وجہ سے انہوں نے پوری رات اس درد کو برداشت کر لیا۔ انہیں صحت کی طرف سے کبھی کوئی ہلکا سا مسئلہ بھی نہیں ہوا تھا اس لیے وہ یہی سمجھتے رہے کہ یونہی ذرا سی طبیعت خراب ہے۔ اور کسی کو نہیں جگایا۔ میرا کمرہ بھی اوپر ہے۔ شاید کسی وقت بہت تکلیف میں ابو نے میرا نمبر ملایا ہوگا لیکن مجھے کیا پتہ چلتا، میرا فون تو خاموش تھا :( وہ دن میری زندگی کا سب سے برا دن تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم پرکرم کیا اور خیریت رہی لیکن میں اب بھی اکثر سوچتی ہوں کہ اگر میرا فون سائلنٹ پر نہ ہوتا تو ابو کو اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی :(

اور اس واقعے کے بعد خاندان کے ایسے تمام موبائل ہولڈر بچوں، بڑوں کی تو میں نے وہ کلاس لی کہ اب کوئی بھول کر بھی ایسا نہ کرتا ہوگا لیکن مجھے لگتا ہے کہ فضول میں ٹیکسٹ میسجز کرنا اور مس کالز دینا اکثر لوگوں کی ایک عام عادت بن گئی ہے۔