Showing posts with label ادھر ادھر سے. Show all posts
Showing posts with label ادھر ادھر سے. Show all posts

Thursday, 1 July 2021

پاکستانی یکساں قومی نصاب۔ پرانے ٹرک کی نئی بتی

0 comments

: یکساں قومی نصاب کی چنیدہ خوبیاں

۔۔۔ یکسانیت کے بجائے تفریق کا فروغ ہو گیا۔ وژن سے لے کر اس کے عملی نفاذ تک ، اتنے تفرقے آ گئے کہ یکساں تو الگ اب قومی نصاب بھی چل گیا تو بڑی بات ہے۔

۔۔۔ بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھوئے جا رہا ہے۔ معیار کس بَلا کا نام ہے، کچھ سمجھ نہیں پا رہے۔ ۔۔

۔۔۔ کھلم کھلا بولیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اور یہ ان بولیوں کا خراج طلبہ کے والدین کی جیبوں سے پورا کیا جائے گا۔ 


برسبیلِ تذکرہ:  'قومی نصاب' ہمیشہ سے ہی یکساں ہوتا ہے اور ہمارا بھی یکساں ہی تھا۔ اگر کبھی کسی کو اسے دیکھنے یا اس کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہو تو وہ اس بات کی تائید کرے گا۔

Tuesday, 24 March 2020

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 2

0 comments
ایک تو ویسے ہی سارا گھر 'سماجی فاصلے' پرعمل پیرا ہوتے ہوئے گھر بیٹھا ہے۔ پھر بالآخر عثمان بزدار صاحب بھی جاگ گئے ہیں اور لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ہمارے دفتر والوں کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایسے میں دفتر بیٹھے میں یہی سوچ رہی ہوں کہ لوگوں کو حالات کی سنگینی کا احساس کیسے دلوایا جائے۔ کیا دو تین چھینکیں مارنے سے کوئی ڈرے گا؟

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 1

0 comments
سو ایک طویل عرصے کے بعد واپسی ہوئی بھی تو کس صورت میں۔ دنیا بھر میں اس وقت کرونا وائرس کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ اور کیا ترقی یافتہ و ترقی پذیر، ہر ملک اس عفریت کا سامنا کرتے ہوئے یکساں مشکلات کا شکار ہے۔
بات پاکستان کی ہو تو معلوم نہیں اسے حالات کی ستم ظریفی کہنا چاہیے، ارباب اختیار کی نااہلی، عوام کی غیر سنجیدگی یا کچھ اور۔ اس وقت پوری قوم کا ذہن ماؤف ہے سو اس تحقیق کو کسی اور وقت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔

میں یہاں ایک عام پاکستانی شہری کی روزمرہ کے احساسات شامل کرنے کی کوشش کروں گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی، قومی منصوبہ بندی کمیشن اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ میں کتنے دنوں سے اس چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ کاش کوئی سمجھا دے۔

 

Tuesday, 2 December 2014

دسمبر آ گیا ہے!!!

7 comments
صبح دفتر پہنچ کر سامنے میز پر رکھے کیلنڈر پر نظر پڑی تو یکم تاریخ کا صفحہ نظر آیا۔ سائیڈ پر رکھے ریک سے فائل اٹھانے لگی تو اس پر ابھی تیس تاریخ جگمگا رہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چاچا اس کیلنڈر کا صفحہ پلٹنا بھول گئے ہیں میں نے یکم تاریخ کا صفحہ سامنے کر دیا۔ اور پھر اپنے معمول کے کام شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی کام کے لیے فون اٹھایا تو گوگل پلس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ 'تبدیلی آ چکی ہے۔ نئی پوسٹس پوسٹ ہو چکی ہیں۔ ان کو ملاحظہ فرما لو۔ ورنہ بے خبر رہ جاؤ گی۔' اور فی زمانہ بے خبری کا طعنہ اتنا ہی شدید ہوتا ہے جتنا کسی زیادہ پڑھے لکھے خاندان میں ایک معصوم سے نسبتا کم پڑھے لکھے مسکین کو ان پڑھ کا طعنہ ہوتا ہے۔ اس لیے گوگل پلس کا ڈھیروں شکریہ ادا کرتے ہوئے جلدی جلدی خود کو 'باخبر' کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں پہلی پوسٹ ہی بریکنگ نیوز والی ملی۔
  'Last chapter of year started...' 
یہ 'وارننگ'پڑھتے ہی فوراؐ نظر سامنے پڑی ٹیبل ڈائری پر پڑی تو معلوم ہوا کہ آج تو 'دسمبر' کی یکم تاریخ ہے۔ تب معلوم ہوا کہ واقعی 'تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے' یعنی 'دسمبر آ چکا ہے۔' پھر ان  با خبر صاحبِ پوسٹ اور ایک مشہور صاحبِ کلام سے دورانِ گفتگو ان کے بلاگز پر 'دسمبر کی بلاگ توڑ دھمال' کا ذکر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں 'دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا' سننے کی نوبت آ جائے۔ اس لیے میں بھی بطور سند دسمبر کے بارے میں پوسٹ لکھ رہی ہوں۔ اگرچہ زمانہ 24 گھنٹے آگے نکل چکا ہے کیونکہ میں نے سوچا کل تھا اور لکھ آج رہی ہوں۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں۔ دیر آید درست آید۔
ہاں تو جی واقعی دسمبر کی ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت ہے۔ دسمبر نہ ہوتا تو سال کبھی ختم ہی نہ ہوتا اور سال ختم نہ ہوتا تو پڑھنے والی اگلی جماعت میں نہ جا سکتے اور لکھنے والے یعنی تنخواہ دار طبقہ جنوری کی تنخواہ نہ لے سکتا۔ دسمبر نہ ہوتا تو سردیوں کی چھٹیاں نہ ہوتیں۔ ویسے تو اب اگر سردیوں کی چھٹیاں نہ بھی ہوا کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم تو اب سکول کالج و یونیورسٹی جاتے نہیں۔ اس لیے ہمیں چھٹیوں کا کیا فائدہ بھلا۔ 
دسمبر نہ ہوتا تو ہم قائدِ اعظم کی سالگرہ کب اور کیسے مناتے اور اگر نہ مناتے تو دنیا کے طعنے کون سنتا۔ اب کم از کم ہم ہر سال کے اختتام پر ایک چھٹی کر کے پورا دن قائدِ اعظم کی سالگرہ پورے جوش و خروش کے ساتھ سو کر یا پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھ کر مناتے ہیں۔ یا ٹی وی پر وطن کی محبت میں 'برپا' کیے جانے والے شو دیکھتے ہیں جن میں گانا و بجانا سب کچھ دوسروں سے مستعار لیا ہوتا ہے ۔اور یوں ہم تمام دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ہم اپنے محسنوں کو نہیں بھولے۔
دسمبر نہ ہوتا تو ہم ہر سال 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشیاں کیسے کرتے۔ کم از کم قوم اس مہینے میں مصروف تو رہتی ہے۔ آدھی قوم مشرقی پاکستان و مکتی باہنی کو کوستی ہے اور باقی آدھی مغربی پاکستان کو۔ دنیا کو اب تو ہمارے انصاف پسند اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کے عادی ہونے پر شبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ 
 
شکر ہے کہ دسمبر ابھی 'ہے' اس لیے اب نہ ہونے کے خدشات و پریشانیاں ختم کر کے دسمبر کو منانے کے انداز و فیشن کا ذکر ہو جائے۔
یکم دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی بقول محمد احمد کے 'گوگل ہر سال عرس پر دھمال ڈالتے قلندر ہر اس جگہ بھیجتا ہے جہاں دسمبر کا بیاں ہوا ہو۔' سو اگر آپ پورا سال بھی بلاگ نہیں لکھتے تو دسمبر میں حتیٰ کہ جون جولائی میں بھی دسمبر کے بارے میں کوئی شعر، نظم، غزل، کہانی، یا صرف دسمبر دسمبر ہوتا ہے سردیوں میں آئے یا گرمیوں میں ہی لکھ دیں۔ آپ کے بلاگ پر یہ بلاگ توڑ ٹریفک کا مہینہ ہو گا۔
خیر اگرچہ ابھی دسمبر آیا ہے اور اس کے جانے میں پورے 29 دن باقی ہیں لیکن ہو گا یہ کہ شروع کے دو چار دن تو سب کو خبر دی جائے گی کہ ''دسمبر آ گیا ہے۔" اور ساتھ ہی دسمبر کی منتیں شروع ہو جائیں گی کہ پلیز نہ جاؤ۔۔اور ان درخواستوں کی شدت دسمبر کے آخری ہفتے میں اپنی  بلندیوں کو چھو رہی ہو گی۔ لیکن یہ 'نہ جانے کی ضد نہ کرو' والی درخواست صاحب ذوق لوگوں کی طرف سے ہو گی ۔ چند میرے جیسے بدذوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پلیز ختم ہو جاؤ۔ نیا مہینہ شروع ہونے دو تا کہ پرس تو کچھ بھاری ہو۔
 مزید یہ ہو گا کہ دسمبر کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شعر پڑھے جائیں گے اور انہیں پڑھنے کا مقصد اچھی شاعری خود پڑھنے سے زیادہ دوسروں کو پڑھوانا ہو گا چنانچہ جہاں کسی شعر و کلام میں دسمبر کا لفظ نظر پڑا فورا کاپی پیسٹ کر کے اسے آگے فارورڈ یا پوسٹ کر دیا جائے گا۔ چاہے بعد میں معلوم ہو کہ یہ تو امسال دمسبر تک بل ادا نہ کرنے والے اشتہاری نادہندگان کی فہرست تھی۔
ہر دسمبر میں عوام کی ایک بڑی تعداد ایک اور سنڈروم کا شکار ہوتی ہے اور وہ ہے 'امجد اسلام امجد' صاحب کے 'آخری چند دن دسمبر کے'میں بیان کیے جانے والے خدشات۔ ہر دسمبر بہت سے لوگ اس غم و تشویش میں گُھلے جاتے ہیں کہ ان کا نام کسی کی ڈائری میں درج دوستوں کی فہرست سے کٹ گیا ہو گا۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم بھی ہوتا ہے کہ اب ڈائری کا زمانہ ہے ہی نہیں۔ لوگ سیدھا سیدھا فون پر نام و نمبر محفوظ کرتے ہیں اور کسی کا نمبر ختم نہیں کرتے کیونکہ جب فون کا پیکج لیا ہو تو پھر فری ٹیکسٹ میسج بھی بھیجنے ہوتے ہیں نا۔ اس خدشے کے شکار لوگوں کو یہ بھی تسلی رکھنی چاہئیے کہ شاید ہی کوئی اتنا پابند ہو کہ ہر سال دسمبر میں اپنی ڈائری کو از سرِ نو مرتب کرتا ہو۔ جس نے نمبر ختم کرنا ہے وہ جنوری سے نومبر میں کسی بھی وقت ایسا کر سکتا ہے اب یہ کوئی ایسا کام تو ہے نہیں کہ کسی خاص مہینے میں کیا جائے۔ اس لیے بیچارے دسمبر کو اس بات کا الزام نہیں دینا چائیے۔

خیر کوئی کتنی ہی درخواست کرتا رہے۔ دسمبر نے جانا ہی ہے اور 31 دسمبر کو چلا ہی جاتا ہے۔ اور رُکے بھی تو کیوں۔۔ہر طرح کی اداسی و پریشانی کا الزام دسمبر کے سر جو منڈھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں کو بالآخر یقین آ جاتا ہے کہ دسمبر جا رہا ہے تو جاتے دسمبر کو 'دسمبر اب کے آؤ تو۔۔۔' کہتے ہوئے ایک طویل فرمائشی فہرست اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ باذوق لوگ تو اس میں بھی بہت خوبصورت و دل نشیں الفاظ استعمال کرتے ہوئے جو درخواستیں کرتے ہیں اس کے لیے مجھے پہلے خود اس کی تشریح سمجھنی پڑے گی پھر یہاں لکھنا ہو گا۔ لیکن ان دنوں فیشن کے مطابق سیاست پر بات کرنا اِن ہے تو میں ایک دو لوگوں کی دسمبر سے درخواستوں کے بارے میں 'وکی لیکس' طرز پر کچھ خبر دیتی ہوں۔
موجودہ حکومت: دسمبر اب کے آؤ تو خان و پی ٹی آئی کو اسلام آباد مت لانا۔
خان صاحب: اؤے دسمبر اب کے آؤ تو نواز شریف کا استعفیٰ ساتھ لانا۔
عوام: دسمبر اب کے آؤ تو گیس کی بندش ختم کروانا۔
اور میں: بھائی لوگو دسمبر کو جانے تو دو۔ جائے گا تو آئے گا نا۔ 
 
 

Friday, 14 November 2014

بلا عنوان!!!!!!!

1 comments
میں اپنے سات سالہ بھتیجے سے: تو پھر سکول اسمبلی میں تقریر بازو لہرا لہرا کر کی؟

بهتیجاموصوف: "کیوں میں نے کوئی انکل طاہر القادری کی طرح تقریر کرنی تھی کیا؟ 

Tuesday, 26 November 2013

سلام ٹیچر!

5 comments
پاکستان میں معیارِ تعلیم کی تنزلی کا رونا کوئی نئی بات نہیں۔ آج صبح بھی میں نے یہ خبر پڑھی کہ یونیسکو نے پاکستان کو معیاری تعلیم کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں 120 ممالک میں 113واں نمبر دیا ہے۔ اس خبر میں اگر کچھ مثبت ڈھونڈنا ہو تو وہ یہ ہے کہ ابھی بھی ہم سات ممالک سے بہتر تعلیم دے رہے ہیں :)۔
باقی رہی پریشانی کی بات تو گھوسٹ سکولوں ، جوابدہی کی روایت کا ناپید ہونے،  ہر کسی کو سکول کھولنے کی اجازت دینے اور روایتی سرکاری انداز میں کام کرنے جیسے عناصر اس پریشانی کی وجہ ہیں۔ جس پر بہت بحث اور بات ہوتی رہتی ہے لیکن چونکہ ہم گفتار کے غازی ہیں تو یہ سب کچھ مباحثوں تک ہی محدود رہتا ہے۔

آج کی پوسٹ ہمارے ماشاءاللہ اساتذہ کرام کے بارے میں ہے۔ جب اس شعبے کو اپنانے کا معیار یہ رہ جائے کہ جو کسی اور شعبہ میں کامیاب نہ ہو سکے ، وہ استاد بن جاتا ہے تو معیار کی بات کیسے کی جائے گئ۔ ویک اینڈ کی بات ہے کہ میں اپنے بھتیجے کو جو شہر بلکہ ملک کے ایک بہترین سمجھے جانے والے سکول سسٹم میں زیرِ تعلیم ہیں ، کو کلاس ٹیسٹ کی تیاری کروا رہی تھی۔ اردو کی  کاپی اور کتاب کھول کر ہر صفحے پر مجھے اتنے دھچکے لگے جیسے شہر کی نئی تعمیرشدہ ٹوٹی ہوئی سڑک پر سفر کرتے لگا کرتے ہیں۔ صرف ایک دو مثالیں لکھوں گی۔
سوال: حضرت محمد (ص) کا روضہ مبارک کس ملک میں واقع ہے؟
جواب: آپ (ص) کا روضہ مبارک 'مدینہ منورہ' میں واقع ہے۔
یہ سوال جواب اردو کی استاد نے خود لکھوائے ہیں۔

تخلیقی لکھائی:
میرا دوست
علی میرا دوست ہے۔
یہ میرا ہم جماعت ہے۔
یہ بہت اچھا لڑکا ہے۔
یہ لاہور میں رہتا ہے۔

بندہ پوچھے کہ لکھنے والا بچہ تو اسلام آباد میں پڑھ رہا ہے۔ اور اس کا ہم جماعت دوست لاہور میں رہ رہا ہے۔ یا تو کوئی جادو ہے یا پھر کہیں سکائپ کے ذریعے تو پڑھایا نہیں جاتا۔ 
پھر یہ کہ تخلیقی لکھائی تو بچے کی اپنی کاوش ہوتی ہے۔ ٹیچر خود کیسے لکھوا رہی ہیں اور جب لکھوا رہی ہیں تو کم از کم یہ تو دیکھ لیں کہ کیا لکھوا رہی ہیں۔
یہ تو دو مثالیں ہیں۔ مزید بھی ایسے ایسے شگوفے تھے کہ ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
   
مزید اتفاق یہ  ہوا کہ اگلے ہی دن مجھے ایک آفیسر کی ایک سکول وزٹ کی رپورٹ پڑھنے کو ملی۔ جنہوں نے بچوں کے سپوکن انگلش کمیونیکیشن سکلز پر تبصرہ کچھ ایسا لکھا تھا کہ انہیں ایک جماعت میں بچے اردو پڑھتے ملے۔ انہوں نے جب ایک بچے سے ہوچھا کہ اس سبق میں کیا ہے تو بچے نے پورے سبق کا خلاصہ 'انگریزی' میں بتایا۔ (جو کہ ان آفیسر کے خیال میں بہت خوشی کی بات تھی)۔ سو انہوں نے نہ صرف وہاں اس بچے کو شاباش دی بلکہ واپس آنے کے بعد اس بچے کو اس کی اچھی انگریزی پر بطور انعام ایک عدد کتاب بھی بھیجی۔ 

یہ کسی ایک استاد یا ایک ماہرِ تعلیم یا افسرِ تعلیم کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک پورے شعبے کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ ہمارے اساتذہ اور سکول صرف تعلیم کو ذریعہ آمدن سمجھ رہے ہیں۔ جب تعلیم کاروبار بن جائے تو پھر معیار گرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اور یہی ہمارا ا المیہ ہے۔  

Wednesday, 4 September 2013

21 ویں صدی کے والدین!

2 comments

Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

6 comments
آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


Monday, 29 July 2013

Monday Blues!!

0 comments



سوال یہ ہے کہ



Sunday, 4 September 2011

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئےمحمود و ایاز

4 comments
سب کو بہت بہت عید مبارک۔ میری عید آج ختم ہو رہی ہے کیونکہ آج آخری چھٹی تھی۔ کل سے پھر واپس کام کام اور کام :( ۔۔۔ بلاگ سے بہت دنوں سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ حالانکہ اتنا کچھ ہے بولنے اور لکھنے کو۔ لیکن اس وقت تو اپنے انکل گیلانی کی شان میں کچھ کہنا ہے۔ شاہد ہمارے حمکرانوں کے نصیب میں عوام کی بدعائیں اور آہیں سننا ہی رہ گیا ہے اور یہ ان کا من پسند مشغلہ بھی ہے۔ تبھی تو وقتاً فوقتاً وہ عوام کو اس کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ محترم وزیرِ اعظم صاحب نے کیا۔ سوچا ہو گا عوام بور نہ ہو گئے ہوں۔ تو چلو کچھ کرتے ہیں۔ نکل پڑے جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے۔ اب پبلک کو یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ دیکھو ہم بھی نماز پڑھنے جا رہے ہیں سو اپنے راستے پر ہٹو بچو کا نعرہ لگانے والوں کو مقرر کر دیا۔ پھر وزیرِ اعظم 'لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا' کے مصداق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جھرمٹ میں جانبِ مسجد روانہ ہوئے۔لوگ ذیرو پوائینٹ سے فیصل مسجد تک پیدل چلتے پہنچے تو معلوم ہوا کہ اندر جانے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انکل گیلانی اینڈ کو مسجد میں جلوہ افروز ہیں۔ اس دوران باقی سب عوام کی جمعے کی نماز مس کو گئی تو کیا ہوا۔ عوام کی زندگیوں سے پہلے بھی تو بہت کچھ مس ہے۔ ان کو کون سا کوئی فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر اچھے موقعے سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق حکمرانوں کو ہوتا ہے تو جمعتہ الوداع کی نماز کا ثواب وہ بھی فیصل مسجد میں بھی تو صرف انہی کو حاصل کرنا ہے۔

اب اس انتہائی 'خاص' طبقے سے ذرا کم لیکن عوام سے خاص طبقے کی ایک اور آنکھوں دیکھی مثال۔ ہفتہ 28 اگست ، 26 رمضان کی بات ہے۔ راولپنڈی سے جی ٹی روڈ کی طرف سفر کرتے ہوئے مندرہ ٹول پلازہ کے پاس پہنچے تو لین میں آگے تین گاڑیاں تھیں۔ جن میں سے سب سے اگلی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سبز رنگ سے ایم این اے لکھا ہوا تھا۔ جب کافی دیر وہ گاڑی ٹول ٹیکس کیبن سے آگے نہیں چلی تو سب کو تشویش ہوئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی والے موصوف اس بنا پر ٹول ٹیکس دینے سے انکاری تھے کہ وہ کسی ایم این اے کے رشتہ دار ہیں۔ ۔ ٹول ٹیکس جمع کرنے والا بھی بضد تھا کہ ٹیکس ادا کرو ورنہ کھڑے رہو اور پچھلی گاڑیاب بھی کھڑی رہیں گی۔ جب اس سارے جھگڑے میں کافی وقت گزر گیا تو اس گاڑی سے پیچھے والی گاڑی سے ایک صاحب اترے اور انہوں نے ان حضرت کے 20 روپے ادا کر دیئے۔ یوں راستہ کُھلا اور ان محترم نے بغیر شرمندہ ہوئے گاڑی سٹارٹ کی۔ پیپسی کا کین (رمضان میں( باہر اُچھالا اور یہ جا وہ جا۔

تیسری مثال خود اپنے لوگوں یعنی عام عوام کی۔ مارکیٹ سے گزرتے ہوئے پھلوں کے سٹال پر چیریز دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ مجھے پاکستان میں گروسری کا اتنا تجربہ نہیں ہے۔ اس لئے انکل سے پوچھا کہ کیا وہ اس میں سے آدھی دیں گے۔ انکل موصوف نے اپنے نماز والی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے کہا۔ نہیں بیٹا۔ یہ تو پورا ڈبہ ہی بیچتے ہیں۔ بالکل تازہ ہیں اور ڈھائی سو میں ہے۔ مجبوراً لے لیا۔ واپس پہنچ کر جب چیریز دھونے کے لئے ڈبے سے نکالیں تو اوپر والی تہہ تو تازہ تھی۔ نچلی ساری تہیں گلی ہوئی تھیں۔ افسوس ہوا لیکن حیرانگی نہیں کیونکہ تھوڑا بہت دھوکہ کرنا ہم لوگوں کی قومی عادت بن چکا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے لیول پر بے ایمانی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں چاپے عوام ہوں یا خواص۔

Monday, 30 May 2011

میں بھی دیکھوں گی!

10 comments
خبروں میں دیکھنا اور سُننا اصل صورتحال کا حصہ ہونے سے بہت مختلف ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں ایسی ہی کیفیت سے بارہا سامنا ہوا۔ سفر کا آغاز خدشوں اور خوف سے ہُوا لیکن اختتام دل میں امیدوں کے نئے چراغ جلا گیا۔ ہنگو ٹل روڈ پر ہونے والے دھماکے سے کچھ پہلے ہم لوگوں کا گزر بھی وہیں سے ہوا تھا۔ لیکن ابھی زندگی باقی تھی تو بخیریت واپسی ہو گئی۔ راولپنڈی سے ٹل، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ کے سفر کے دوران سب سے زیادہ سٹرنگز کے اس دل چُھو لینے والی ویڈیو نے بہت ساتھ دیا۔ امید تو ہے کہ میں بھی دیکھوں گی جب ایسا ہو گا پاکستان :pray انشاءاللہ

Just lovin' this video :clap



آڈیو:


میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
میں تو دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب رنگ برنگے جھنڈے
ایک پرچم میں گُھل جائیں گے
اور اِدھر اُدھر کو جاتے رستے
اک موڑ پہ مل جائیں گے
جب بچے ملک پہ راج کریں
اور سکول میں بیٹھے ہوں سیاستدان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب ملک کو بیچ کے کھانے والے
خود ہضم ہو جائیں گے
اور پشتوں سے جو گدی بیٹھے
سب بھیڑ میں مل جائیں گے
جو دُور گئے تھے بُھولے سے
لوٹیں گے پھر وطن کو ایک شام
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

کلام: بلال مقصود
آواز: فیصل کپاڈیہ
موسیقی: سٹرنگز

Sunday, 9 January 2011

بے پر کی

22 comments
دس دن کی تاخیر سے سہی سالِ نو مبارک ہو سب کو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین
ان دنوں مصروفیت اور بیزاری نے اس بری طرح گھیر رکھا تھا کہ کچھ بھی لکھنے کا موڈ نہیں بنا۔ابھی بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ خیر۔۔
آج دن میں ایک بات علم میں آئی کہ عمر چھپانے کے معاملے میں تو خواتین مشہور ہیں لیکن مرد حضرات بھی کم نہیں یا پھر کسی کسی بھائی/انکل کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی ہے جو عمرِ عزیز کو فی آٹھ/دس سال محض 24 مہینے اضافے کا اجازت دیتی ہے :dntelme ۔ کوئی ہمیں بھی یہ نسخہ بتا دے پلیز۔ :daydream

دوسری بات یہ کہ انکل لطیف کھوسہ پنجاب کے گورنر بن گئے ہیں :humm ۔ کائرہ انکل ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اب آپ اپنی شیروانی واپس الماری میں لٹکا دیں۔ :funny

آج صبح سے سوئی گیس کی مکمل لوڈ شیڈنگ ہے ہماری طرف۔ سردی کی وجہ سے الفاظ جم گئے ہیں۔ جلد ہی پگھلا کر گیلانی انکل کی شان میں قصیدہ لکھنا ہے۔ :bus

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

8 comments
واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

Monday, 22 November 2010

آج کا سبق!

10 comments
آج ایک سبق آموز ای-میل ملی۔

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔


کاش ہم سب یہ فلسفہ سمجھ جائیں تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے :smile

Sunday, 14 November 2010

بلاعنوان!

14 comments
اچھا جی۔ ابھی لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن اچانک دماغ کی چولیں ڈھیلی ہو گئی ہیں اور سب ذہن سے نکل گیا۔
اور اس کی وجہ ہے ایک ٹیکسٹ میسج (ایس ایم ایس)۔ ٹیکسٹ میسج کسی انجانے نمبر سے بھی نہیں آیا اور خدانخواستہ کوئی فضول سی بات بھی نہیں لکھی ہوئی۔ جس ادارے کے ساتھ آجکل میں منسلک ہوں اس کے ایک ذیلی ادارے کی سربراہ کا پیغام تھا ایک پراجیکٹ کے بارے میں جس کے لئے وہ بھی کام کر رہی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماشاءاللہ وہ ہیں بہت ایکٹو اور پوری تندہی سے کام کرنے والی تو ویک اینڈ پر بھی ایک آدھ نقطہ ان کے ذہن میں ضرور آتا ہے اور چونکہ میں ای-میلز اور میٹنگز میں یہ کہہ کر خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکی ہوں کہ جب بھی ضرورت ہو آپ بلاججھک مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں تو اب :hmm:
خیر بات ہو رہی تھی تازہ ترین ٹیکسٹ کی۔ میں جب بھی ان کا نام اپنے فون ان باکس میں بلنک کرتا دیکھتی ہوں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے۔۔۔ ناٹ اگین :skeptic اس کی وجہ جاننے کے لئے یہ پڑھنا ضروری ہے...

AOA.. I ve rcvd d fax unabl 2 inf u d email wr it z mntd dt ds team n dt z rgnl team undr dz membr also snd 2 our RC.

اس پیغام کا اصل تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن میں نے انہیں کل کچھ فیکس کروایا تھا جس میں ٹیموں کا ذکر تھا تو میں نے تُکے لگا کر سمجھنے کی کوشش کی کہ اصل مقصد کیا ہے۔ دوسرا آج چھٹی تھی اور فوری عمل ضروری نہیں تھا تو سوچا کہ کسی فارغ وقت بیٹھ کر مزید سر کھپاؤں گی۔ سو جواباً میں نے انہیں تسلی دی کہ ٹھیک ہے۔ میں صبح دیکھ لوں گی۔ آپ فکر نہ کریں۔
لیکن یہ کیا :what مجھے ایک بار پھر ناٹ اگین کہنا پڑا کہ جواب کچھ یوں آیا۔۔۔

thnx..actly i wan 2 wrk wdt any poktc i dnt kw ppl nt realz ds life iz 2 shrt lkn koi bat nhn. tell dz thng 2 maam (dir) az wel plz

:wha
ایک بار پھر اندازے سے سمجھا اور جواب دیا لیکن اتنی دیر میں میرا اپنا دماغ گھوم چکا تھا۔ یہ نہیں کہ ان خاتون کو کچھ نہیں آتا۔ یہ اپنے زمانے کی گولڈ میڈلسٹ ہیں ماسٹرز میں ماشاءاللہ ۔ اور سولہ سترہ سال کا تجربہ ہے کام کا۔ انگزیزی پر مکمل عبور رکھتی ہیں اور ان کی ای-میلز یا ان کے بنائے گئے دوسرے دفتری کاغذات دیکھ کر ان کی قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے ٹیکسٹس پڑھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

کمپیوٹر اور موبائل فون نے ای-میل اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے جہاں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا بہت آسان کر دیا ہے وہاں زبانوں (چاہے وہ اردو ہے یا انگریزی) کا حشر نشر کر دیا ہے۔ پہلے تو یہ کہ دو زبانوں کا ملغوبہ بنا کر ایک نئی جناتی زبان تخلیق کر لی جاتی ہے۔ یا اردو لکھو یا انگریزی۔ یہ جو کھچڑی بنتی ہے یہ مفہوم کچھ کا کچھ کر دیتی ہے۔ اوپر سے اختصار کی کوشش مجھ جیسے کند ذہنوں کو مزید مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اپنا پیغام دوسرے تک پہنچانے کے چکر میں ہم گرامر، ہجے ہر شے کو بھلاتے جا رہے ہیں نتیجہ یہ کہ بچے سکول کالج سے نکلتے ہیں ان کو مادری، قومی یا بین الاقوامی زبان کچھ بھی مکمل نہیں آتا۔ بقول ایک استاد کے زبان کے امتحان میں مضمون، کہانی، خط ہو یا جملے لکھنے ہوں ایسے ایسے شاہکار دیکھنے میں آتے ہیں کہ کیا کہا جائے۔
اور یہ صرف مسئلہ صرف ہمارا ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسی صورتحال کسی حد تک ماہرینِ لسانیات کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ برطانیہ میں میرا یونیورسٹی ریسرچ سپروائزر بنیادی طور پر linguistics کا ماہر تھا اور وہ اکثر اس موضوع پر انتہائی پریشان کن آرٹیکلز لکھتا اور سیمینارز میں شرکت کرتا تھا کہ انگریزی زبان اپنی اصل کھوتی جا رہی ہے۔ یہی حال ہمارا ہے۔ اردو کو ویسے ہی ہم نے بھلا دیا ہے اوپر سے رومن اردو :sad:

بہرحال اس وقت تو اللہ میرے حال پہ رحم فرمائے کہ مجھے جولائی 2011 (بشرطِ زندگی اور سازگار حالات ) اس پراجیکٹ پر کام کرنا ہے۔ تب تک میرا کیا ہو گا :dntelme

Monday, 4 October 2010

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم!

4 comments
لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے سید ضمیر جعفری مرحوم کے مجموعے'میرے پیار کی زمیں' پر نظر پڑی۔ چھوٹی سی کتاب آغاز سے اختتام تک وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ زیادہ تر کلام 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے متعلق ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ صرف کیلنڈر پر سال بدلے ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں بدلا ۔ اور اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے۔۔۔ہر دل زخمی اور ہر گھر مقتل :-(



اے ارضِ وطن!



(1)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(2)
ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی
بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی
جلتی راہو! اُٹھتی آہو!
گھائل گیتو! بِسمل نغمو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(3)
افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں
اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں
ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو!
روندی قدرو! مَسلی کلیو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(4)
ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا
ایک آدھ سُنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا
سُونی گلیو! خُونی رستو!
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(5)
بیواؤں کے سر کی نم چادر، خوش وقتوں کی بانات ہُوئی
جو تارا چمکا ڈُوب گیا، جو شمع جلائی رات ہُوئی
ہنستے اشکو! جمتی یادو!
دُھندلی صبحو! کالی راتو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(6)
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء
(قلعہ سوبھا سنگھ)




اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
04 اکتوبر 2010ء

Thursday, 23 September 2010

آج تمہاری سالگرہ ہے!

19 comments
نہایت ہی قابل ، ذہین اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کی مالک فریحہ کو سالگرہ مبارک۔ :party فریحہ اِنٹیریئر ڈیزائنر ہیں اور ماشاءاللہ بہت زبردست آرٹسٹ بھی :)
دعا ہے کہ زندگی کا یہ نیا سال بہت سی نئی خوشیوں اور ان گنت کامیابیوں کا پیغام لائے۔ ثمَ آمین :pray






خوش رہو بہت سا : :) hug

Thursday, 2 September 2010

نظام سقہ

9 comments
سوال: اگر آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بننے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
جواب: 1۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان خصوصاً سحری اور افطاری کے اوقات میں۔ مزید برآں دونوں جگہوں پر یو-پی-ایس اور جنریٹر پر پابندی۔
2۔ فضائی دورے کے دوران وزیرِ اعظم صاحب کے سامنے باداموں کے بجائے متاثرینِ سیلاب کو میسر پینے کے پانی کی بوتل کی فراہمی۔
3۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستانی عوامی نمائندوں کو ان کے عوامی حلقوں میں بطور عوام کم از کم ایک ہفتہ گزارنے کی پابندی۔
4۔ پاکستانی ٹی وی نیوز چینلز پر بریکنگ نیوز اور سیاسی ٹاک شوز دکھانے پر مکمل پابندی۔

اور آپ؟

Thursday, 26 August 2010

المیہ!

10 comments
"ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ کی ایک نہیں مانتے!"




— اشفاق احمد

Tuesday, 24 August 2010

امید ابھی کچھ باقی ہے!

7 comments
میرا شمار خوش امید لوگوں میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں پاکستان پر مصائب کی ایک نئی لہر نے اداسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ قدرتی آفت اور اپنی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید خدانخواستہ اب کچھ بھی نہیں بچے لگا لیکن کل شام سے جیسے امید کے چراغ پھر سے روشن ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا‫‫ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔

اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔

؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔