Showing posts with label پاکستان. Show all posts
Showing posts with label پاکستان. Show all posts

Thursday, 1 July 2021

پاکستانی یکساں قومی نصاب۔ پرانے ٹرک کی نئی بتی

0 comments

: یکساں قومی نصاب کی چنیدہ خوبیاں

۔۔۔ یکسانیت کے بجائے تفریق کا فروغ ہو گیا۔ وژن سے لے کر اس کے عملی نفاذ تک ، اتنے تفرقے آ گئے کہ یکساں تو الگ اب قومی نصاب بھی چل گیا تو بڑی بات ہے۔

۔۔۔ بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھوئے جا رہا ہے۔ معیار کس بَلا کا نام ہے، کچھ سمجھ نہیں پا رہے۔ ۔۔

۔۔۔ کھلم کھلا بولیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اور یہ ان بولیوں کا خراج طلبہ کے والدین کی جیبوں سے پورا کیا جائے گا۔ 


برسبیلِ تذکرہ:  'قومی نصاب' ہمیشہ سے ہی یکساں ہوتا ہے اور ہمارا بھی یکساں ہی تھا۔ اگر کبھی کسی کو اسے دیکھنے یا اس کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہو تو وہ اس بات کی تائید کرے گا۔

Tuesday, 24 March 2020

COVID-19 Diaries - کرونا ڈائری۔ آج کی سوچ 1

0 comments
سو ایک طویل عرصے کے بعد واپسی ہوئی بھی تو کس صورت میں۔ دنیا بھر میں اس وقت کرونا وائرس کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ اور کیا ترقی یافتہ و ترقی پذیر، ہر ملک اس عفریت کا سامنا کرتے ہوئے یکساں مشکلات کا شکار ہے۔
بات پاکستان کی ہو تو معلوم نہیں اسے حالات کی ستم ظریفی کہنا چاہیے، ارباب اختیار کی نااہلی، عوام کی غیر سنجیدگی یا کچھ اور۔ اس وقت پوری قوم کا ذہن ماؤف ہے سو اس تحقیق کو کسی اور وقت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔

میں یہاں ایک عام پاکستانی شہری کی روزمرہ کے احساسات شامل کرنے کی کوشش کروں گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی، قومی منصوبہ بندی کمیشن اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ میں کتنے دنوں سے اس چیز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ کاش کوئی سمجھا دے۔

 

Friday, 7 September 2018

بلاعنوان

0 comments
آج سے تقریبا ساڑھے سات برس پہلے یہ نظم دُکھے دل کے ساتھ  پوسٹ کی تھی۔ گزشتہ کل جب ساری قوم یومِ دفاع و شہدائے پاکستان منا رہی تھی، میرے ذہن میں پھر اسی کلام کےالفاظ گونج رہے تھے۔


فوجی بینڈ کی دھن ہر پاکستانی کے دل میں ایک خاص جوش و جذبہ جگاتی ہے اور انسان مزید پُرعزم ہو جاتا ہے لیکن اب میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔  بلکہ اس سال جس قدر جوش و جذبہ اور جگہ جگہ اشتہار، بِل بورڈ اور بینرز کی فراوانی دیکھنے کو مل رہی تھی مجھے اتنی ہی خاموشی اور دکھ محسوس ہو رہا تھا۔ نجانے کیوں؟  کیا یہ وطن سے لگاؤ اور محبت میں کمی ہونے کی نشانی ہے یا میں کچھ زیادہ ہی حقیقت پسند ہو گئی ہوں یا آخری بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ایک بور انسان ہونے کی معراج ہے۔ 


Wednesday, 22 July 2015

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

0 comments
جس ملک میں اسلام کے نام پر تجارتی بازار کھلا ہو وہاں رحمت کیسے آئے. 
ایک طرف ٹوپی پہنے باریش میزبان فصیح و بلیغ زبان میں سادگی اور قناعت پسندی کی تبلیغ کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف نیچے سلائیڈ چل رہی ہے کہ موصوف کا کرتا فلاں ڈیزائنر برانڈ کا ہے.
ایک طرف ایک چینل پر ایک خودساختہ خدائی فوجدار ایک دوسرے چینل پر نشر ہونے والے پروگرام میں اسلامی مقدس ہستیوں کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی خبر دے کر اس کی میزبان کے خلاف کیا کیا نہیں کرتا اور اسے ملک سے فرار ہونے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف چند ہی مہینوں بعد وہی شخص اسی میزبان کے اعزاز میں کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتا ہے.
ایک طرف برسہا برس بے گناہ جیلوں میں بند ناکردہ گناہوں کی سزا بهگتتے رہتے ہیں تو دوسری طرف ایک ماڈل غیر قانونی پیسہ باہر لے جاتے پکڑی جاتی ہے اور اس کو پکڑنے والے افسر کو دائمی نیند سلا کر ماڈل کو میڈیا پر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر سیلفیاں اپلوڈ کرنے کے لیے رہا کر دیا جاتا ہے. 
اور مجھ سمیت تمام عوام بےحس ہو کر 'جیتو پاکستان جیتو' دیکھ رہی ہے.  تو پهر میں کیسے نہ سوچوں کہ جو ہو رہا ہے ہماری کرنیوں کا پھل ہے. 

Tuesday, 23 September 2014

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم!!!!

2 comments
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء

Thursday, 14 August 2014

14اگست 14ء

5 comments




الحمد اللہ۔ آج پاکستان کا 68 واں یومِ آزادی ہے۔ مشکلات ، مصائب، پریشانیوں اور ناکامیوں کے باوجود یہ ملک اور اس کے باسی اپنے وجود کو برقرار بھی رکھ پائے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اوران شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب ہم بھی مثبت ترقی میں بہتوں سے آگے ہوں گے۔ 

ہر سال جب اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے وہ دن شدت سے یاد آتے ہیں جب اگست کے شروع میں ابو سب بچوں کے لیے پاکستان کے بیج ، ٹوپیاں اور جھنڈیاں لایا کرتے تھے۔ ہم گھروں اور سکولوں کو جھنڈیوں سے سجاتے تھے۔ ہر گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن پر 14 اگست- 13 دن بعد، 12 دن بعد والا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا تھا اور ہم اپنے اپنے گھروں پر لگی جھنڈیاں شمار کرتے  اور 14 اگست کو صبح صبح سکول کو روانگی ہوتی تھی جہاں قومی ترانے کے بعد نظموں ، ملی نغموں اور تقریریں دل و جاں میں ایک نئی روح پھونکتے تھے۔ گھر واپس آ کر پورے خاندان کے ساتھ ٹی وی پر مارچ پاسٹ دیکھنا اور پھر سارا دن ایسے گزارنا جیسے عید کا سماں ہو۔ اپنے ملک سے محبت اور اس کی اہمیت کا احساس شاید انہی دنوں میں میرے اندر پختہ ہوئے تھے اور میں جہاں بھی گئی ، جہاں بھی رہی یہ محبت میرے ساتھ رہی اور بالآخر مجھے واپس اپنے پاس کھینچ لائی۔
مجھے اب بھی اگست کا مہینہ اسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ اب بھی سڑکوں سے گزرتے جب میں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے گھر و عمارتیں دیکھتی ہوں، رستوں کو روشیوں سے جگمگاتا دیکھتی ہوں تو میرا دل ویسے ہی بچپن کی طرح  پورے جوش سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو چاہتاہے۔  اس خواہش کو میں کسی نہ کسی طریقے سے اب بھی پوراکر لیتی ہوں۔ 
گزشتہ چند برسوں سے 14اگست کے موقع پر پاکستانی اپنے ملک میں جاری دہشت گردی ، سیاسی و لسانی جھگڑوں اور روزمرہ زندگی کی مشکلات سے پریشانی کے باجود اس دن کو امیدوں ، امنگوں و دعاؤں سے بھرپور دن کے طور پر مناتے رہے ہیں لیکن اس سال یہ مہینہ اور یہ دن شدید پریشانی میں گزر رہا ہے۔ بزعمِ خود قوم کے نجات دہندوں، جن کے ساتھ  بھیڑوں کا غول چل پڑے ہیں، نے اس مہینے اور دن کو ایسا بنا دیا ہے جس کے ساتھ  عوام کے لیے تکلیف دہ یادیں جڑی رہیں گی۔ جہاں ہر طرف صرف سبز ہلالی پاکستانی جھنڈا نظر آنا چاہیے تھا، آج وہاں رنگا رنگ گروہوں کے جھنڈے دیکھنے کو ملیں گے۔ جس مہینے میں صرف'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ سننے کو ملنا چاہیے تھا ، نام نہاد انقلابیوں کے نعرے بج رہے ہیں۔ جہاں لوگوں کو  باہر نکل کر یومِ آزادی کی خوشیاں منانی چاہییں تھیں وہاں 'پائیڈ پائیپرز' کے باجوں پر آنکھیں، کان اور دماغ بند کیے ہجوم اپنی اور دوسروں کی زندگی مشکل کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
کاش کوئی ان 'قائدِ اعظم' بننے کے شوقین رہنماؤں سے پوچھے کہ کیا انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی سوچا کہ وہ پاکستانیوں کی ایک واحد مشترکہ خوشی کو کس طرح برباد کرنے جا رہے ہیں۔ کیا انقلاب 14 اگست سے پہلے یا بعد میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اور کیا وہ ایک قومی دن کو ایک گروہی سیاست کی یادگار نہیں بنا رہے؟
لیکن پوچھے کون؟ ہم جو صرف یہ کر سکتے ہیں کہ جو آواز اونچی کر کے دھمکی آمیز لہجے میں بولنا شروع کرے اسے نجات دہندہ مان کر ایک اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر پوجنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ ہماری آنکھوں پر کولہو کے بیل کی سی عینک چڑھا کر اپنے گرد پھیرے لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اللہ میرے ملک کو اور میرے لوگوں کو ایسے عاقبت نااندیش رہنماؤں و حکمرانوں سے بچائیں اور اپنا دماغ اور آنکھیں کُھلی رکھنے کی ہدایت عطا فرمائیں۔ آمین
جیوے پاکستان۔
پاکستان زندہ باد!  

Friday, 10 January 2014

شہیدانِ وطن کے حوصلے!!!

7 comments
میں سوچتی تھی کہ نئے سال میں اپنے بلاگ پر پہلی پوسٹ کچھ مختلف ہی لکھوں گی۔ اسی سوچنے میں دس دن گزر گئے اور پھر کل شام کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد اسلم کی شہادت کے بعد مجھے لگا کہ شاید اب میں وہ پوسٹ نہیں لکھ سکوں گی۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ میرے ملک کے کتنے ہی لوگ ہر دوسرے روز ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذاتی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے ہیرو ہوتا ہے، کتنی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے اور کتنوں کی امید کا مرکز ہوتا ہے۔ میں ان کے نام نہیں جانتی لیکن وہ اور ان کے پیچھے رہ جانے والے میری دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ کتنا آسان ہوتا ہے خبر پڑھ کر یا سن کر ایک طرف رکھ دینا اور کتنا مشکل ہوتا ہے اس خاندان کا تصور کرنا جس کا کوئی پیارا ان سے اس طرح بچھڑ جائے کہ اس کا بے جان وجود بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا واپس ملے۔
میری یہ پوسٹ ان سب کے نام جنہوں نے پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ جو اپنا فرض ادا کرنے کی پاداش میں دشمن کا نشانہ بنے یا جنہوں نے ایک عام پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ 
ایس پی سی آئی ڈی بہت سوں کے لئے امن کی علامت تھے اور بہت سوں کے لئے دہشت کا نشان۔ چاہے ان کے فیصلے اور ایکشن کتنے ہی متنازع رہے ہوں  لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ وہ ایک کمٹڈ،  دلیر اور رسک لینے والے افسر تھے۔ اور ہماری فورسز میں ایسے افسروں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
آج کے روزنامہ ڈان میں ان کے بارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل آیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

میری یہ پوسٹ اس 14 سالہ بچے کے نام بھی ہے جس نے گزشتہ پیر کو ہنگو میں ایک خودکش بمبار کو روک کر اپنے سکول میں موجود دو ہزار بچوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ اعتزاز حسن جو ہنگو آدم زئی میں رہتا اور پڑھتا تھا، کو سکول میں دیر سے پہنچنے پر بطور سزا گیٹ سے باہر نکال دیا گیا۔ اپنے جیسے دیگر بچوں کے ساتھ واپسی کے راستے پر جب ان لوگوں کا سامنا ایک مشکوک خود کش بمبار سے ہوا جس کی جیکٹ کا ایک کونا دیکھ کر انہیں اس کے ارادوں کا اندازہ ہوا تو اس بچے نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے جب اسے پکڑا تو بمبار نے بچے سمیت خود کو دھماکے میں اڑا لیا۔ 

میرے لیے یہ بچہ بھی ہیرو ہے ، وہ ایس پی بھی ہیرو ، آئے روز خودکش دھماکوں کا شکار ہونے والا ایک ایک پاکستانی ہیرو ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو حوصلے قائم رکھے۔ آمین

شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا 

Tuesday, 26 November 2013

سلام ٹیچر!

5 comments
پاکستان میں معیارِ تعلیم کی تنزلی کا رونا کوئی نئی بات نہیں۔ آج صبح بھی میں نے یہ خبر پڑھی کہ یونیسکو نے پاکستان کو معیاری تعلیم کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں 120 ممالک میں 113واں نمبر دیا ہے۔ اس خبر میں اگر کچھ مثبت ڈھونڈنا ہو تو وہ یہ ہے کہ ابھی بھی ہم سات ممالک سے بہتر تعلیم دے رہے ہیں :)۔
باقی رہی پریشانی کی بات تو گھوسٹ سکولوں ، جوابدہی کی روایت کا ناپید ہونے،  ہر کسی کو سکول کھولنے کی اجازت دینے اور روایتی سرکاری انداز میں کام کرنے جیسے عناصر اس پریشانی کی وجہ ہیں۔ جس پر بہت بحث اور بات ہوتی رہتی ہے لیکن چونکہ ہم گفتار کے غازی ہیں تو یہ سب کچھ مباحثوں تک ہی محدود رہتا ہے۔

آج کی پوسٹ ہمارے ماشاءاللہ اساتذہ کرام کے بارے میں ہے۔ جب اس شعبے کو اپنانے کا معیار یہ رہ جائے کہ جو کسی اور شعبہ میں کامیاب نہ ہو سکے ، وہ استاد بن جاتا ہے تو معیار کی بات کیسے کی جائے گئ۔ ویک اینڈ کی بات ہے کہ میں اپنے بھتیجے کو جو شہر بلکہ ملک کے ایک بہترین سمجھے جانے والے سکول سسٹم میں زیرِ تعلیم ہیں ، کو کلاس ٹیسٹ کی تیاری کروا رہی تھی۔ اردو کی  کاپی اور کتاب کھول کر ہر صفحے پر مجھے اتنے دھچکے لگے جیسے شہر کی نئی تعمیرشدہ ٹوٹی ہوئی سڑک پر سفر کرتے لگا کرتے ہیں۔ صرف ایک دو مثالیں لکھوں گی۔
سوال: حضرت محمد (ص) کا روضہ مبارک کس ملک میں واقع ہے؟
جواب: آپ (ص) کا روضہ مبارک 'مدینہ منورہ' میں واقع ہے۔
یہ سوال جواب اردو کی استاد نے خود لکھوائے ہیں۔

تخلیقی لکھائی:
میرا دوست
علی میرا دوست ہے۔
یہ میرا ہم جماعت ہے۔
یہ بہت اچھا لڑکا ہے۔
یہ لاہور میں رہتا ہے۔

بندہ پوچھے کہ لکھنے والا بچہ تو اسلام آباد میں پڑھ رہا ہے۔ اور اس کا ہم جماعت دوست لاہور میں رہ رہا ہے۔ یا تو کوئی جادو ہے یا پھر کہیں سکائپ کے ذریعے تو پڑھایا نہیں جاتا۔ 
پھر یہ کہ تخلیقی لکھائی تو بچے کی اپنی کاوش ہوتی ہے۔ ٹیچر خود کیسے لکھوا رہی ہیں اور جب لکھوا رہی ہیں تو کم از کم یہ تو دیکھ لیں کہ کیا لکھوا رہی ہیں۔
یہ تو دو مثالیں ہیں۔ مزید بھی ایسے ایسے شگوفے تھے کہ ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
   
مزید اتفاق یہ  ہوا کہ اگلے ہی دن مجھے ایک آفیسر کی ایک سکول وزٹ کی رپورٹ پڑھنے کو ملی۔ جنہوں نے بچوں کے سپوکن انگلش کمیونیکیشن سکلز پر تبصرہ کچھ ایسا لکھا تھا کہ انہیں ایک جماعت میں بچے اردو پڑھتے ملے۔ انہوں نے جب ایک بچے سے ہوچھا کہ اس سبق میں کیا ہے تو بچے نے پورے سبق کا خلاصہ 'انگریزی' میں بتایا۔ (جو کہ ان آفیسر کے خیال میں بہت خوشی کی بات تھی)۔ سو انہوں نے نہ صرف وہاں اس بچے کو شاباش دی بلکہ واپس آنے کے بعد اس بچے کو اس کی اچھی انگریزی پر بطور انعام ایک عدد کتاب بھی بھیجی۔ 

یہ کسی ایک استاد یا ایک ماہرِ تعلیم یا افسرِ تعلیم کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک پورے شعبے کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ ہمارے اساتذہ اور سکول صرف تعلیم کو ذریعہ آمدن سمجھ رہے ہیں۔ جب تعلیم کاروبار بن جائے تو پھر معیار گرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اور یہی ہمارا ا المیہ ہے۔  

Sunday, 17 November 2013

میرے شہر کی سڑکوں پر جل رہے ہیں دیے خون کے!

1 comments
راولپنڈی اور اس کے باسیوں پر گزشتہ دو دنوں سے جو کچھ گزر رہی ہے اس میں مزید اضافہ ان نام نہاد رہنماؤں ، علمائے کرام اور تجزیہ نگاروں کے وہی گھسے پٹے انداز و بیانات کر رہے ہیں۔  ایک طرف ایک صاحب بھڑکیں لگا رہے ہیں کہ میں راولپنڈی کا منتخب نمائندہ ہوں۔ میں یہاں کے ہر شیعہ سنی کو پہچانتا ہوں۔ یہ سب باہر سے منگوائے گئے لوگ ہیں،۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ کاش کوئی ان موصوف کے منہ پر بڑی سی ٹیپ لگا کر ان کو ان کے سامنے ان کی اپنی اتنے سالوں کی کارکردگی اور ان کی عوام سے ہمدردی کے ثبوتوں پر مبنی فلم ہی چلا دے۔ تا کہ کچھ دیر کو ہی سہی ان کو یہ تو احساس ہو کہ سالہا سال سے انہوں نے بھی اپنے حلقے اور اپنے لوگوں کے لئے کیا کچھ کیا ہ یا کل سے اب تک لوگوں کے لئے کیا کیا ہے؟
دوسری طرف ہمارے علمائے کرام ایک کے بعد ایک آ کر اپنے گراں قدر خیالات سے عوام کو فیض یاب کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اس سازش میں بیرونی ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں خود اپنی تعلیمات رواداری اور حوصلے اور برداشت پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور جو کچھ ہوا اس میں سراسر حکومت اور پولیس کی کوتاہی نظر آ رہی ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ کاش کوئی ان سے یہ پوچھ لے کہ وہ جو محرم کے دس دن اور عین 10 محرم کو بھی پورے ملک میں شام تک ملک بھر میں خیر خیریت سے تمام جلوس نکلے بھی اور ختم بھی ہوئے ، اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ اور کوئی ان سے یہ بھی پوچھے کہ اگر سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے تو وہ کیوں عوام کے جتھوں کے جتھے لیکر سڑکوں پر نکلتے ہیں؟ ان کو یہ حق کس نے دیا؟ 
اور یہ میڈیا والے جو ایک معمولی سی بات کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر ساری قوم کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں، جو اپنی مرضی کی بات کو عوام کے ذہنوں میں ڈالنے کے لئے اس قدر مؤثر مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ ہر پاکستانی 'پاکستان آئڈل' بننے کے لئے سڑکوں پر نکل آتا ہے ، کیا انہوں نے کبھی مروت، برداشت ، رواداری اور اخوت پسندی پر کوئی پروگرام چلایا؟ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے اوپر کس قدر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
معلوم نہیں یہ کیسے مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کس نے بنایا ہے؟
میرا اسلام تو مجھے دوسروں کے خیالات و عقائد کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
میرا سلام تو مجھے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے نتیجے کو سامنے رکھنے کی ہدایت کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو میری زبان ، ہاتھ یا عمل سے کسی کو نقصان پہنچے۔
میرا اسلام تو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن یہ کیا ہے کہ ایک مبارک مہینے کا مبارک دن ، 10 محرم الحرام جس کی اہمیت سانحہ کربلا کے علاوہ  بھی اس قدر زیادہ ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اس کا احترام لازم ہے۔ پھر جمعۃ المبارک کا دن۔ سنی ہو شیعہ کیا دونوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اس مہینے میں قتل و غارت گری ممنوع ہے۔ اور اس ممانعت کا احترام تو اسلام سے پہلے بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ خود کو مسلمان کہنے والوں نے اسی ماہ اور اس مبارک دن کیا کیا۔  اس دن جو ہوا اس میں جتنے لوگ مارے گئے ، ان کے تو خاندان اجڑ گئے ، پھر اس کے بعد جن کی املاک کو نقصان پہنچا ، ان کے خاندانوں کے لئے بربادی کا پیغام آ گیا، اور وہ جو دو دن سے دیہاڑی نہیں لگا سکے ، ان کے خاندان بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔  فاقے ہوں گے یا کوئی بیمار گھر میں ایڑیاں رگڑتا رہے گا۔ فرق نہ تو کسی شیخ, خان ، شریف یا چودھری کو پڑے گا ، نہ کسی مفتی و مولانا کو پڑے گا اور نہ ہی کسی میر ، بخاری، لقمان ,شیرازی اور منہاس کو پڑے گا۔ فرق پڑے گا تو عوام کو پڑے گا ۔ اس عوام کو جسے فرقوں اور مسالک کے اختلافات کی الف بے کا بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن وہ بھیڑ چال کا شکار ہو کر ان جلسوں کا حصہ بھی بنتے ہیں اور ان تفرقے بازیوں کا ایندھن بھی۔ تو پھر بھگتیں بیٹھ کر۔ 

Wednesday, 11 September 2013

میرے قائدِ اعظم !

4 comments
میرے محترم قائدِ اعظم۔۔۔!
آپ سے بات کرنا اس قدر دشوار سا کیوں لگ رہا ہے۔ ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں اور آپ کے کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود میرا سر شرمندگی کے مارے جھکتا ہی جاتا ہے۔ 
ایک وقت تھا جب میں تمام سال اور خصوصاؐ  آپ کی سالگرہ اور برسی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ لہک لہک کر 'یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔۔اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان' گایا کرتی تھی اور کبھی آپ کے تحفے کو ہمیشہ سنبھالے رکھنے کے دعوے یہ کہتے ہوئے کیا کرتی تھی کہ 'اے روحِ قائد! آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔'۔ اور ایسے موقعوں پر میں یہی سمجھتی تھی کہ میرے قائد وہیں سٹیج پر تشریف فرما ہیں اور ہماری باتیں اور وعدے سن کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں لیکن آج میں کچھ کہہ نہیں پا رہی کہ آپ کے چہرے سے چھلکتا غم اور آپ کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی مجھے میری نااہلی اور بے حسی کا احساس دلا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر 'اے قائدِ اعظم! تیرا احسان ہے احسان' کہنا چاہ رہی ہوں لیکن میرے اندر گونجتی ایک آواز یہ کہہ کر کہ 'اگر تم واقعی اسے احسان سمجھتیں تو آج اپنے ہی ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے قائد کی نشانی کو تباہ نہ ہونے دیتیں۔' بہت مشکل سے اس آواز کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر میں 'آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔' کہنے لگتی ہوں تو وہی آواز ایک بار پھر ایک نئے سوال کے ساتھ میرا راستہ روک لیتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ 'پہلے ان تمام وعدوں کا حساب دو جو ہوش سنبھالنے کے بعد روحِ قائد کے ساتھ کئے تھے۔' 
اور جب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 'قائدِ اعظم میں کیسے آپ کو بلکہ آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاؤں کہ میں نے وہ وعدے صدقِ دل سے کئے تھے اور ان کو نبھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ آپ کی میراث کی حفاظت نہ ہو سکی لیکن اس کے لئے میں اکیلی کیا کرتی۔ یہ تو ان ناعاقبت پسند حکمرانوں کی کرنی ہے جس کا نتیجہ ہر طرف پھیلی بے سکونی اور تباہی ہے' توپھر وہی آواز میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔ 'وعدے نبھانے کے لئے 'کوشش' نہیں 'عمل' کی ضرورت ہوتی ہے ، مستقل مزاجی اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہارے جذبے صرف کسی قومی دن پر ہی جاگا کرتے ہیں اور وہ بھی زبان ہلانے کی حد تک۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ان حالات کی ذمہ دار نہیں ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم تو اس قائد سے محبت کی دعویدار ہو جو کہا کرتا تھا کہ قوموں کی تقدیر و تعمیر افراد کے ہاتھ میں ہے اور جب قومی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو تم خود کو صرف ایک اکائی سمجھ کر الگ ہونا چاہتی ہو۔ یاد رکھو وہ 'قائد' بھی ایک فرد ہی تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا لیکن اگر تم یہ سمجھ سکتیں تو آج قائد کے سامنے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتیں'۔

شرمندگی سے میری زبان کُھل نہیں رہی لیکن میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی نااہلی پر معافی مانگ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی نصیحت سننا چاہتی ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود میں آپ کے تحفے کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہوں۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اگر اپنے حصے کا دیا جلا جاؤں گی تو اس کی لَو سے ایک اور دیا ضرور روشن ہو گا۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں آپ کے سامنے شرمندگی سے گردن جھکا کر نہیں بلکہ خوشی سے سر اٹھا کر کھڑی ہوں گی تب مجھے کوئی آواز کچھ کہنے سے نہیں روکے گی۔ 
مجھے یاد آ رہے ہیں آپ کے وہ الفاظ جو آپ نے 1936ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ 
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک عمل سے گزرنا ہو گا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں۔ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ، ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں ، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔" 

 آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔ ہم ایک بار پھر ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جن کا آپ نے اس وقت تذکرہ کیا تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا فرض اور قرض ضرور ادا کرے گا ان شاءاللہ۔ اآئندہ سے وعدے نہیں ہوں گے صرف عمل ہو گا۔

اور اب مجھے لگ رہا ہے آپ مسکرا رہے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے چھ سالہ بھتیجے کی طرح بھرپور جوش اور جذبے سے نعرہ لگاؤں۔

!قائدِاعظم۔۔۔زندہ باد
!پاکستان۔۔۔پائندہ باد 


Thursday, 15 August 2013

3 comments
یومِ آزادی



اگر 1947ء میں اس خطہ کے لوگوں نے قربانیاں دیں تو آج 2013ء میں بھی پاکستانی ویسی ہی قربانی ، اسی عزم و حوصلے کے ساتھ دے رہے ہیں۔ ہم آج بھی اس نظم کی تفسیر ہیں جو شاعر نے قیامِ پاکستان کے لئے کہی تھی۔ 

یہ وہی دن ہے یارو کہ جس روز ہم
ساتھ قائد کے اپنے ملائے قدم
سبز پرچم پہ نظریں جمائے ہوئے
اپنے سینے سے قرآں لگائے ہوئے
مال و زر چھوڑ کر ، بام و در چھوڑ کر
خوں میں ڈوبے ہوئے ہمسفر چھوڑ کر
شہرِ اغیار سے مسکراتے ہوئے
حمد پڑھتے ہوئے نعت گاتے ہوئے
مثلِ بادِ بہاری چلے آئے تھے
آمدِ فصلِ گُل کی خبر لائے تھے
یہ وہ منزل ہے جس کے لئے عمر بھر
کارواں کارواں ، رہ گزر رہ گزر
ایک پوری صدی روز و شب مستقل
اہلِ فکر و نظر اور اربابِ دل
ہاتھ میں ہتھکڑی ، پاؤں میں بیڑیاں
آپ اپنی اٹھائے ہوئے سُولیاں
ہر قدم اِک نیا زخم کھاتے ہوئے
ہر نئے موڑ پر سر کٹاتے ہوئے
تنگ و تاریک راہوں پہ چلتے رہے
فاصلے قربتوں میں بدلتے رہے


 رحمٰن کیانی ----

Friday, 18 January 2013

سرگم ٹائم!

2 comments
رولا: سر جی دھرنے کے انتظامات پر حکومت کے اخراجات کون پورے کرے گا؟

 انکل سرگم: ظاہر ہے میں ، تم یعنی ہم عوام۔

رولا: وہ کیسے سر جی؟

انکل سرگم: وہ تمھیں تب پتہ چلے گا جب بجلی اور گیس کا بِل 'ایڈیشنل سرچارج' کے ساتھ ملے گا۔

رولا: لیکن سر جی ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم تو نہ میزبان تھے اور نہ مہمان؟

انکل سرگم: ارے نادان۔ تمھارا قصور یہ ہے کہ تم عوام ہو۔ اور تمھارے لئے تمھارے لیڈر اور حکومت نے اتنی تکلیفیں سہیں۔ 

رولا: پر سر جی۔ تبدیلی بھی تو آنی تھی۔ وہ کہاں ہے؟

انکل سرگم: رہے ناں چھوٹے پانڈے ، کوارٹر پلیٹ۔۔ مہنگائی میں مزید اضافہ کیا تبدیلی نہیں ہے۔ تمھیں اس سے بڑی 'تبدیلی' کیا

 !!چاہئے ؟ میرے بھولے رولے

Sunday, 4 March 2012

ہمسفراور بے/ لا انتہا

7 comments
ٹرن ٹرن ٹرن فون بجا۔
میں: السلام علیکم
میری کزن: وعلیکم السلام۔ عبداللہ کی سالگرہ جمعہ کو مغرب کے بعد ہے۔ سب لوگ وقت پر پہنچ جانا۔'
میں: لیکن سالگرہ تو ہفتہ والے دن بنتی ہے۔'
کزن: ہے تو ہفتے کو ہی۔ لیکن کیونکہ شام کو ہی سب آ سکتے ہیں اور ہفتہ ہی کو ہمسفر کی آخری قسط آ رہی ہے۔ تو بہتر سمجھا جمعہ رکھ لیں۔ ورنہ پھر اتوار کو انتظام کرنا ہو گا۔'
کچھ مزید۔۔۔۔
فون پر ٹیکسٹ میسج کی بیپ آئی۔
"پڑوس کا بچہ: 'انکل! یہ لیں مٹھائی، امی اور باجی نے بھیجی ہے۔'
انکل: 'اللہ مبارک کرے۔ کس خوشی میں بھیجی ہے؟'
بچہ: وہ ہمسفر میں اشعر کو سب سچ پتہ چل گیا۔''
اسی طرز کے کئی پیغامات میرے فون کے ان باکس میں موجود ہیں۔

میری کزن جو اسی سال انٹر میں گئی ہے ، ایک دن مجھے کہنے لگی اگر آپ کے پاس 'وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی' والی غزل ہے تو مجھے ابھی بھیجیں۔ میں اگرچہ حیران ہوئی کہ ہپ ہاپ میوزک کی شوقین کا ذوق ایک دم سے اتنا تندیل کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر فائل ٹرانسفر ہونے کے بعد اس نے غزل چیک کی۔ پھر بہت ناراض انداز میں بولی۔ ' میں نے آپ سے یہ بور غزل نہیں مانگی تھی۔ کیو بی والی غزل کی بات کی تھی۔ ابھی میں اسے اپنی پسندیدہ گلوکارہ عابدہ پروین اور میری، دونوں کی شان میں گستاخی کی سنگین غلطی پر جھاڑ پلانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اس نے پوچھا۔ آپ ہمسفر ڈرامہ نہیں دیکھتیں؟ میرے نفی میں جواب پر اس کی آنکھیں اور منہ بیک وقت اس طرح کھلے :dntelme کہ مجھے وہی صدیوں کا گھسا پٹا مکھی والا جملہ بولنا پڑا۔ خیر اس کے بعد مجھے ڈرامہ کی کہانی سنائی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ میں یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں گی۔
سو ایک ویک اینڈ پر میں بھی دیگر متاثرین کے ساتھ بیٹھ گئی کہ طعنوں سے بچت تو ممکن ہو۔ ہر دفعہ وقفہ ہونے پر ڈرامہ کی پنکھیاں مجھے اس قدر داد طلب نظروں سے دیکھتیں جیسے ڈرامہ انہوں نے ہی بنایا ہو۔ خیر میرے خیال میں (جسے سب نے اتفاقِ رائے سے نامعقول خیال قرار دے دیا)، ڈرامہ کی پروڈکشن واقعی بہت اچھی تھی لیکن کہانی کچھ زیادہ ہی روایتی ہو گئی۔ اور مزید یہ کہ ڈرامہ کا نام ہمسفر کے بجائے 'بے انتہا؛ یا 'لا انتہا' ہونا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جو قسط میں نے دیکھی اس میں خرد مظلومیت کی انتہا پر تھی۔ 45 منٹ کے ڈرامے میں خرد نے آنسوؤں کی ان گنت بالٹیاں، ٹب بلکہ ٹینک بہا دیئے۔ پھر ہیرو یعنی اشعر صاحب انتہا درجے کے بے خبر۔ نہ انہیں اپنی بیگم کے حالات کی خبر ہے اور نہ ہی کزن کے خیالات کی۔ نہ اماں جان اور خالہ جان کی سیاستوں کی خبر ہے۔ حد ہے بھئی۔ اب سارہ کی باری آئی۔ انتہا درجے کی شدت پسندی۔ سو میرے مطابق اس ڈرامہ کا نام ہمسفر تو ہر گز نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اگرچہ اپنے اس اظہارِ خیال کے بعد مجھے بہت سی خونخوار نظروں کا سامنا کرنا پڑا :dont اور آخر میں یہ فیصلہ بھی سننا پڑا کہ آپ آئندہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ نہیں دیکھیں گی۔ جس پر میں تب سے بہت سعادتمندی سے عمل کر رہی ہوں کہ پھر مجھے کسی نے اس بارے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ :cn
تفنن بر طرف میں نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں پی ٹی وی کے سنہری دور کے ڈرامے دیکھے ہیں شاید اسی لئے مجھے اب والے ڈراموں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ڈرامہ کی پروڈکشن مجھے واقعی اچھی لگی۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے کریڈٹ پر ایک کامیاب ڈرامہ آ گیا۔ قرۃ العین بلوچ نے غزل بہت اچھی طرح گائی ہے۔ رائٹر سنا ہے خواتین کے رسالوں کی کافی معروف مصنفہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اکثر لوگ پھر پاکستانی ڈرامہ کی ریواول کی بات کرتے ملتے ہیں۔ اگر اس میں کچھ مقصدیت بھی شامل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی۔ :smile
اب میرے خیال میں شاید رات اس ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہو چکی ہے۔ تو پاکستانی قوم کا یہ جنون بھی ختم ہو جائے گا۔ میں یہ پوسٹ نہ لکھتی لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والا آخری واقعہ نے مجبور کر دیا۔ میری ایک سہیلی کے کالج میں پچھلے ہفتے سٹوڈنٹس الیکشنز ہو رہے تھے۔ اس میں ایک امیدوار کے پوسٹر نے مجھے پھر اس ڈرامہ کی یاد دلا دی۔

اب اس کے بعد مزید کیا لکھا جائے۔ صرف یہ کہ متاثرین ہمسفر کو مبارکباد کہ 'اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے' والا انجام ہوا۔
مجھے بھی مبارکباد کہ اب اگر میں کسی کو ہفتے شام میں ملنے یا فون پر بات کا ارادہ کروں گی تو یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوں گی۔ :party
اور الیکشن امیدوار سے اظہارِ افسوس کہ سنا ہے وہ کل کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ :sadd: لگتا ہے ان کے ووٹرز بھی کنوینس نہیں ہو سکے :humm

Monday, 30 May 2011

میں بھی دیکھوں گی!

10 comments
خبروں میں دیکھنا اور سُننا اصل صورتحال کا حصہ ہونے سے بہت مختلف ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں ایسی ہی کیفیت سے بارہا سامنا ہوا۔ سفر کا آغاز خدشوں اور خوف سے ہُوا لیکن اختتام دل میں امیدوں کے نئے چراغ جلا گیا۔ ہنگو ٹل روڈ پر ہونے والے دھماکے سے کچھ پہلے ہم لوگوں کا گزر بھی وہیں سے ہوا تھا۔ لیکن ابھی زندگی باقی تھی تو بخیریت واپسی ہو گئی۔ راولپنڈی سے ٹل، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ کے سفر کے دوران سب سے زیادہ سٹرنگز کے اس دل چُھو لینے والی ویڈیو نے بہت ساتھ دیا۔ امید تو ہے کہ میں بھی دیکھوں گی جب ایسا ہو گا پاکستان :pray انشاءاللہ

Just lovin' this video :clap



آڈیو:


میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
میں تو دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب رنگ برنگے جھنڈے
ایک پرچم میں گُھل جائیں گے
اور اِدھر اُدھر کو جاتے رستے
اک موڑ پہ مل جائیں گے
جب بچے ملک پہ راج کریں
اور سکول میں بیٹھے ہوں سیاستدان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب ملک کو بیچ کے کھانے والے
خود ہضم ہو جائیں گے
اور پشتوں سے جو گدی بیٹھے
سب بھیڑ میں مل جائیں گے
جو دُور گئے تھے بُھولے سے
لوٹیں گے پھر وطن کو ایک شام
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

کلام: بلال مقصود
آواز: فیصل کپاڈیہ
موسیقی: سٹرنگز

Sunday, 9 January 2011

بے پر کی

22 comments
دس دن کی تاخیر سے سہی سالِ نو مبارک ہو سب کو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین
ان دنوں مصروفیت اور بیزاری نے اس بری طرح گھیر رکھا تھا کہ کچھ بھی لکھنے کا موڈ نہیں بنا۔ابھی بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ خیر۔۔
آج دن میں ایک بات علم میں آئی کہ عمر چھپانے کے معاملے میں تو خواتین مشہور ہیں لیکن مرد حضرات بھی کم نہیں یا پھر کسی کسی بھائی/انکل کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی ہے جو عمرِ عزیز کو فی آٹھ/دس سال محض 24 مہینے اضافے کا اجازت دیتی ہے :dntelme ۔ کوئی ہمیں بھی یہ نسخہ بتا دے پلیز۔ :daydream

دوسری بات یہ کہ انکل لطیف کھوسہ پنجاب کے گورنر بن گئے ہیں :humm ۔ کائرہ انکل ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اب آپ اپنی شیروانی واپس الماری میں لٹکا دیں۔ :funny

آج صبح سے سوئی گیس کی مکمل لوڈ شیڈنگ ہے ہماری طرف۔ سردی کی وجہ سے الفاظ جم گئے ہیں۔ جلد ہی پگھلا کر گیلانی انکل کی شان میں قصیدہ لکھنا ہے۔ :bus

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

8 comments
واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

Tuesday, 26 October 2010

سیڈ- Seasonal Affective Disorder

7 comments
اللہ اللہ کر کے گرمیاں ختم ہونے کے آثار دکھائی دیئے۔ پہلے دو دن تو مزاج خاصا خوشگوار رہا لیکن کل سے مجھے شک ہونے لگا ہے کہ سردیاں آنے سے پہلے ہی میں SAD کا شکار ہونے لگی ہوں۔ اصل میں دو تین دن پہلے ایک میگزین میں 'ڈپریشن' کے بارے میں مضون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مزید ستم یہ کہ اگلے ہی دن کچھ ڈپریسڈ لوگوں سے ملاقات بھی ہو گئی جن کو ڈپریشن سے نکالنے کی کوشش میں لگتا ہے کہ میں خود بھی ڈپریس ہو گئی ہوں کیونکہ شام تک مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے موجودہ حالات میں ڈپریس ہونا میرا قومی اور انسانی فرض ہے۔ چنانچہ شعوری اور لاشعوری کوشش کت بعد بالآخر مجھے کسی حد تک کامیابی حاصل ہو ہی گئی۔۔۔ کیونکہ کل دن میں میری ایک کولیگ کسی کام سے میرے پاس آئی تو کچھ اس طرح کا مکالمہ ہوا۔
کولیگ: 'تم ٹھیک ہو؟'
میں: '' بالکل'
کولیگ: 'لگ نہیں رہیں۔'
میں: 'کیوں ۔ بہت تھکی ہوئی ہوئی لگ رہی ہوں؟'
کولیگ: ' نہیں۔ بہت اَکی ہوئی (بیزار) لگ رہی ہو۔'
میں: 'واؤ۔ تمھارا مطلب ہے۔ ڈپریشن۔ گڈ"

چنانچہ کل شام میں نے گھر میں بھی اعلان کر دیا کہ میں شدید ڈپریس ہوں اس لئے میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ذپریشن اصل والی ٹینشن میں اس وقت بدلا جب مجھے احساس ہوا کہ موسم تو کافی ٹھنڈا ہو گیا ہے اور میرے چند نئے لباس جومیں کافی دن سے سلے رکھے ہیں وہ یوں ہی پڑے رہ جائیں گے۔ اب میں دوبارہ اکتوبر کے آنے کا انتظار تو نہیں کر سکتی۔ کیا معلوم تب تک زندگی ہے بھی نہیں اور میرے اتنے اچھے کپڑے اگر کسی اور کو مل گئے تو مجھے کیا فائدہ۔ :hmm: اس مہا ٹینشن کے بعد مجھے لگا کہ SAD نے حملہ کر دیا ہے۔
ویسے تو میں ہر سال اس بیماری کا شکار ہوتی ہوں لیکن ایسا شدید سردیوں میں ہوتا ہے خصوصاً جن دنوں میں پاکستان سے باہر ہوں۔ شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں پاکستان کو مس کر رہی ہوں لیکن بعد میں میرے GP نے بتایا کہ یہ Seasonal Affective Disorder (SAD) ہے۔ جس میں انسان میری طرح دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے۔ نیند بہت آتی ہے اور بھوک بہت لگتی ہے۔  کام کرنے کو بالکل بھی دل نہیں چاہتا۔ ویسے میرے گھر والوں کے خیال میں آخری تین علامات تو میرے اندر تمام سال موجود رہتی ہیں :sh حالانکہ سیڈ کے مریض کے لئے صبح اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے جو کہ میرے ساتھ مسئلہ نہیں ہے۔ میں صبح تو اٹھ جاتی ہوں آرام سے۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ دو بجے چھٹی کے بعد رات ہو جایا کرے تا کہ دن میں سو کر شام میں اٹھنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے :smile
سیڈ کے علاج میں سب سے موثر فوٹو تھراپی ہے جس میں مریض کو کچھ دیر کے لئے تیز روشنی کے سامنے بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ وقتی طور پر روزمرہ معمولات میں تبدیلی بھی مزاج درست کر دیتی ہے۔
ویسے میں سچ مچ میں سیڈ کا شکار نہیں ہوتی بس وقتی طور پر winter blues کے زیرِ اثر ضرور آتی ہوں :confused وہ بھی ایک آدھ دن کے لئے۔
لیکن آجکل مجھے کچھ شک ہو چلا ہے کہ پاکستانی عوام و خواص دونوں بری طرح SAD کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس میں موسم کی قید نہیں ہے۔ دیکھیں ناں وہی قوم جس کو اقبال مرحوم نے کتنی دقتوں سے جگایا تھا ایک بار پھر اسی طرح خوابِ غفلت میں کھوئی پڑی ہے۔ ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ امن و سلامتی تو ایک طرف رہی۔ ہمارے سامنے ہمارے اپنے لوگ قدرتی آفات کا شکار ہیں اور ہمیں پروا نہیں۔ ہمارے بچے اور نوجوان بلکہ پورا معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو رہا ہے ہمیں احساس نہیں ہو رہا۔ اور حکمرانوں اور رہنماؤں کی بھوک ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سب کچھ ہڑپ کر لینے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی بھوکے ہیں۔ اور مزید یہ کہ مین حیث القوم ہم انتہائی سُست قوم ہوتے جا رہے ہیں۔ کام میں دل نہیں لگتا اور تقریر و تحریر میں سب سے آگے (میری طرح )۔ :party
اللہ جانے ہمارے اس SAD کا کیا علاج ہو گا اور وہ کون سی روشنی ہو گی جو ہماری فوٹو تھراپی کے لئے موثر ثابت ہو گی۔ :-s

Monday, 4 October 2010

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم!

4 comments
لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے سید ضمیر جعفری مرحوم کے مجموعے'میرے پیار کی زمیں' پر نظر پڑی۔ چھوٹی سی کتاب آغاز سے اختتام تک وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ زیادہ تر کلام 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے متعلق ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ صرف کیلنڈر پر سال بدلے ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں بدلا ۔ اور اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے۔۔۔ہر دل زخمی اور ہر گھر مقتل :-(



اے ارضِ وطن!



(1)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(2)
ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی
بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی
جلتی راہو! اُٹھتی آہو!
گھائل گیتو! بِسمل نغمو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(3)
افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں
اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں
ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو!
روندی قدرو! مَسلی کلیو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(4)
ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا
ایک آدھ سُنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا
سُونی گلیو! خُونی رستو!
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(5)
بیواؤں کے سر کی نم چادر، خوش وقتوں کی بانات ہُوئی
جو تارا چمکا ڈُوب گیا، جو شمع جلائی رات ہُوئی
ہنستے اشکو! جمتی یادو!
دُھندلی صبحو! کالی راتو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(6)
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء
(قلعہ سوبھا سنگھ)




اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
04 اکتوبر 2010ء

Thursday, 2 September 2010

نظام سقہ

9 comments
سوال: اگر آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بننے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
جواب: 1۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان خصوصاً سحری اور افطاری کے اوقات میں۔ مزید برآں دونوں جگہوں پر یو-پی-ایس اور جنریٹر پر پابندی۔
2۔ فضائی دورے کے دوران وزیرِ اعظم صاحب کے سامنے باداموں کے بجائے متاثرینِ سیلاب کو میسر پینے کے پانی کی بوتل کی فراہمی۔
3۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستانی عوامی نمائندوں کو ان کے عوامی حلقوں میں بطور عوام کم از کم ایک ہفتہ گزارنے کی پابندی۔
4۔ پاکستانی ٹی وی نیوز چینلز پر بریکنگ نیوز اور سیاسی ٹاک شوز دکھانے پر مکمل پابندی۔

اور آپ؟

Tuesday, 24 August 2010

امید ابھی کچھ باقی ہے!

7 comments
میرا شمار خوش امید لوگوں میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں پاکستان پر مصائب کی ایک نئی لہر نے اداسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ قدرتی آفت اور اپنی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید خدانخواستہ اب کچھ بھی نہیں بچے لگا لیکن کل شام سے جیسے امید کے چراغ پھر سے روشن ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا‫‫ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔

اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔

؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔