Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Monday, 22 November 2010

آج کا سبق!

10 comments
آج ایک سبق آموز ای-میل ملی۔

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔


کاش ہم سب یہ فلسفہ سمجھ جائیں تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے :smile

Sunday, 14 November 2010

بلاعنوان!

14 comments
اچھا جی۔ ابھی لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن اچانک دماغ کی چولیں ڈھیلی ہو گئی ہیں اور سب ذہن سے نکل گیا۔
اور اس کی وجہ ہے ایک ٹیکسٹ میسج (ایس ایم ایس)۔ ٹیکسٹ میسج کسی انجانے نمبر سے بھی نہیں آیا اور خدانخواستہ کوئی فضول سی بات بھی نہیں لکھی ہوئی۔ جس ادارے کے ساتھ آجکل میں منسلک ہوں اس کے ایک ذیلی ادارے کی سربراہ کا پیغام تھا ایک پراجیکٹ کے بارے میں جس کے لئے وہ بھی کام کر رہی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماشاءاللہ وہ ہیں بہت ایکٹو اور پوری تندہی سے کام کرنے والی تو ویک اینڈ پر بھی ایک آدھ نقطہ ان کے ذہن میں ضرور آتا ہے اور چونکہ میں ای-میلز اور میٹنگز میں یہ کہہ کر خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکی ہوں کہ جب بھی ضرورت ہو آپ بلاججھک مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں تو اب :hmm:
خیر بات ہو رہی تھی تازہ ترین ٹیکسٹ کی۔ میں جب بھی ان کا نام اپنے فون ان باکس میں بلنک کرتا دیکھتی ہوں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے۔۔۔ ناٹ اگین :skeptic اس کی وجہ جاننے کے لئے یہ پڑھنا ضروری ہے...

AOA.. I ve rcvd d fax unabl 2 inf u d email wr it z mntd dt ds team n dt z rgnl team undr dz membr also snd 2 our RC.

اس پیغام کا اصل تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن میں نے انہیں کل کچھ فیکس کروایا تھا جس میں ٹیموں کا ذکر تھا تو میں نے تُکے لگا کر سمجھنے کی کوشش کی کہ اصل مقصد کیا ہے۔ دوسرا آج چھٹی تھی اور فوری عمل ضروری نہیں تھا تو سوچا کہ کسی فارغ وقت بیٹھ کر مزید سر کھپاؤں گی۔ سو جواباً میں نے انہیں تسلی دی کہ ٹھیک ہے۔ میں صبح دیکھ لوں گی۔ آپ فکر نہ کریں۔
لیکن یہ کیا :what مجھے ایک بار پھر ناٹ اگین کہنا پڑا کہ جواب کچھ یوں آیا۔۔۔

thnx..actly i wan 2 wrk wdt any poktc i dnt kw ppl nt realz ds life iz 2 shrt lkn koi bat nhn. tell dz thng 2 maam (dir) az wel plz

:wha
ایک بار پھر اندازے سے سمجھا اور جواب دیا لیکن اتنی دیر میں میرا اپنا دماغ گھوم چکا تھا۔ یہ نہیں کہ ان خاتون کو کچھ نہیں آتا۔ یہ اپنے زمانے کی گولڈ میڈلسٹ ہیں ماسٹرز میں ماشاءاللہ ۔ اور سولہ سترہ سال کا تجربہ ہے کام کا۔ انگزیزی پر مکمل عبور رکھتی ہیں اور ان کی ای-میلز یا ان کے بنائے گئے دوسرے دفتری کاغذات دیکھ کر ان کی قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے ٹیکسٹس پڑھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

کمپیوٹر اور موبائل فون نے ای-میل اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے جہاں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا بہت آسان کر دیا ہے وہاں زبانوں (چاہے وہ اردو ہے یا انگریزی) کا حشر نشر کر دیا ہے۔ پہلے تو یہ کہ دو زبانوں کا ملغوبہ بنا کر ایک نئی جناتی زبان تخلیق کر لی جاتی ہے۔ یا اردو لکھو یا انگریزی۔ یہ جو کھچڑی بنتی ہے یہ مفہوم کچھ کا کچھ کر دیتی ہے۔ اوپر سے اختصار کی کوشش مجھ جیسے کند ذہنوں کو مزید مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اپنا پیغام دوسرے تک پہنچانے کے چکر میں ہم گرامر، ہجے ہر شے کو بھلاتے جا رہے ہیں نتیجہ یہ کہ بچے سکول کالج سے نکلتے ہیں ان کو مادری، قومی یا بین الاقوامی زبان کچھ بھی مکمل نہیں آتا۔ بقول ایک استاد کے زبان کے امتحان میں مضمون، کہانی، خط ہو یا جملے لکھنے ہوں ایسے ایسے شاہکار دیکھنے میں آتے ہیں کہ کیا کہا جائے۔
اور یہ صرف مسئلہ صرف ہمارا ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسی صورتحال کسی حد تک ماہرینِ لسانیات کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ برطانیہ میں میرا یونیورسٹی ریسرچ سپروائزر بنیادی طور پر linguistics کا ماہر تھا اور وہ اکثر اس موضوع پر انتہائی پریشان کن آرٹیکلز لکھتا اور سیمینارز میں شرکت کرتا تھا کہ انگریزی زبان اپنی اصل کھوتی جا رہی ہے۔ یہی حال ہمارا ہے۔ اردو کو ویسے ہی ہم نے بھلا دیا ہے اوپر سے رومن اردو :sad:

بہرحال اس وقت تو اللہ میرے حال پہ رحم فرمائے کہ مجھے جولائی 2011 (بشرطِ زندگی اور سازگار حالات ) اس پراجیکٹ پر کام کرنا ہے۔ تب تک میرا کیا ہو گا :dntelme

Tuesday, 29 December 2009

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے!

5 comments

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


وہی لوگوں سے روٹی کا نوالہ
چھین لینے کی حریصانہ پراگندہ سیاست
سیاہ کاروں کے ہاتھوں میں چیختی، سسکتی ہماری ریاست
جہاں مائیں۔۔۔۔جگر گوشوں کو
اپنے خون میں ڈوبی ہوئی
لوری سناتی ہیں
جہاں پر خواب میں سہمے ہوئے بچوں کی آہیں ڈوب جاتی ہیں
یہ میرے سامنے سے کیسا موسم جا رہا ہے

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


وہی سہمے ہوئے وعدے
لہو میں تر دعائیں
لرزتی کانپتی روتی صدائیں
عبادت کرنے والوں کو بلاتی ہیں
بھلائی کی طرف آؤ
بھلائی کی طرف آؤ
مگر ایسا نہیں ہوتا
مگر ایسا نہیں ہوتا
خدا اور آدمی کے درمیان
ایک خوف کی دیوار چڑھتی اور بڑھتی جا رہی ہے
اسی جانب اندھیروں کا سمندر جا رہا ہے

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


میرا قومی خزانہ لوٹنے والوں کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے
اور ایسے لالچی لوگوں کو حاصل ساتھ کس کا ہے
وطن والوں کی خواہش ہے
کہ یہ سب لوگ
رسنِ صبح تک پہنچیں
یا دارِ شام تک پہنچیں
یہ جس انجام کے قابل ہیں
اس انجام تک پہنچیں
کہ ذلت کی طرف ان کا مقدر جا رہا ہے

کلام: فاروق اقدس

Monday, 28 December 2009

مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا- نعت

2 comments
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا



مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
یہ کہہ دینا ، ہزاروں عیب رکھتا ہوں ، ہنر دینا
نہ دل دینا ، نہ در دینا، نہ زر دینا، نہ گھر دینا
تمہیں دیکھا کروں آٹھوں پہر ، ایسی نظر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

کئے ہیں جُرم اتنے اس لیے پچھتا رہا ہوں میں
گناہوں کے بھنور میں ڈوبتا ہی جا رہا ہوں میں
چلا آیا تیرے در پر تو بیڑا پار کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

شبِ اسراء کے دولہا تمہاری دُھوم ہے گھر گھر
پلاتے ہو مئے توحید مستانوں کو بھر بھر کر
سوالی ہوں تیرے در کا ، مری جھولی کو بھر دینا
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

نعت خواں: علی حمزہ (نُوری)

Tuesday, 10 November 2009

شاعر ہے رہنما ہے اقبال ہمارا!

3 comments

نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل)




نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے!

گلوکار: شوکت علی
------------

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں (بالِ جبریل)




خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

گلوکارہ: ثریا خانم
------

پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے کارناموں میں ایک ڈاکٹر محمد اقبال کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی ہے۔ لیکن یہ روایت شاید اب ختم ہو چکی ہے۔ ہر سال نومبر میں میں انتظار کرتی ہوں کہ شاید بھولے سے کوئی وہ انسٹرومنٹل ہی لگا دے جو ہمارے بچپن میں نومبر شروع ہوتے ہی اکثر سننے کو ملتا تھا ۔۔'شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا'۔ لیکن :( ۔ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر بھی تلاش جاری تھی۔ یوٹیوب کی بدولت ایک بار پھر یہ نغمہ سننے کو مل گیا۔ :)


ان دنوں ہوتا کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ' بچے کی دعا' نئے سرے سے گائی اور فلمائی جاتی ہے لیکن تلفظ پر دھیان دینا بھول جاتا ہے :-( ۔ آخری مصرعے میں راہ اور رہ میں فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے (ربط)۔ ہماری اردو کی استاد مس چوہدری کو بہت غصہ آتا تھا جب کوئی بچہ راہ کو رہ بنا دیتا تھا۔ پچاس پچاس بار دونوں الفاظ دہرانے پڑتے :uff

Sunday, 20 September 2009

یہ عید دل شکن ہے!

6 comments

 

اے چاند آج تجھ کو ہم داغِ دل دکھائیں

برسوں سے رنج و غم کا جو حال ہے سُنائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

ہیں ظلم و یادتی کے سب ماہ و سال وہی

ہونٹوں پہ ثبت تشنہ لاکھوں سوال وہی

ٹوٹے دلوں کو خوشیاں کیا عید کی لبھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

خوشحال ہیں گداگر ، ہیں موج میں سوداگر

رکھتے ہیں سیم و زر سے بھر بھر کے روز گاگر                                               

کم مائیگی پر اپنی، ہم دل پہ تیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

زوروں پہ ڈاکے ناکے ، اس پہ ستم دھماکے

اس شہرِ بے اَماں سے کیا لائیں ہم کما کے

بے طاقتوں کو طاقت والے نہ چیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 145557_news_image

شیطان کی خطائیں اب تو لگیں ہیں چھوٹی

لگتی ہے زنگ خوردہ سچائی کی کسوٹی

معراجِ آدمیت پھر کس طرح سے پائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

کلام: نجمہ یاسمین یوسف

Friday, 11 September 2009

تیرے بعد (بحُضور قائدِ اعظم)- احمد فراز

10 comments

تیرے بعد


(بحضُور قائدِ اعظم)


پُھول روتے ہیں کہ آئی نہ صدا تیرے بعد

غرقۂ خوں ہے بہاروں کی رِدا تیرے بعد

آندھیاں خاک اُڑاتی ہیں سرِ صحنِ چمن

لالہ و گل ہُوئے شاخوں سے جُدا تیرے بعد

جاہ و منصب کے طلبگاروں نے یوں ہاتھ بڑھائے

کوئی دامن بھی سلامت نہ رہا تیرے بعد

جن کو اندازِ جنُوں تُو نے سکھائے تھے کبھی

وہی دیوانے ہیں زنجیر بپا تیرے بعد

کس سے آلامِ زمانہ کی شکایت کرتے

واقفِ حال کوئی بھی تو نہ تھا تیرے بعد

اب پکاریں تو کسے زخم دکھائیں تو کسے

ہم سے آشفتہ سر و شعلہ نوا تیرے بعد

پھر بھی مایوس نہیں آج تیرے دیوانے

گو ہر اک آنکھ ہے محرومِ ضیا تیرے بعد

راستے سخت کٹھن منزلیں دشوار سہی

گامزن پھر بھی رہے آبلہ پا تیرے بعد

جب کبھی طُلمتِ حالات فضا پر برسی

مشعلِ راہ بنی تیری صدا تیرے بعد

آج پھر اہلِ وطن انجم و خورشید بکف

ہیں رواں تیری دکھائی ہوئی منزل کی طرف

(احمد فراز. شب خون)









ماخذ تصاویر: Frost’s Meditations

National Archives of Pakistan

Thursday, 13 August 2009

اے مری ارضِ وطن

3 comments


اے مری ارضِ وطن

اے مری ارضِ وطن ، پھر تری دہلیز پہ میں
یوں نگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے
آنکھ بے شک ہے برسے ہُوئے بادل کی طرح
ذہن بے رنگ ہے اُجڑا ہُوا موسم جیسے
سانس لیتے ہُوئے اس طرح لرز جاتا ہوں
اپنے ہی ظلم سے کانپ اُٹھتا ہے ظالم جیسے

تُو نےبخشا تھا مرے فن کو وہ اعجاز کہ جو
سنگِ خار کو دھڑکنے کی ادا دیتا ہے
تُو نے وہ سحر مرے حرفِ نوا کو بخشا
جو دل قطرہ میں قلزم کو چُھپا دیتا ہے

اور میں مستِ مَے رامش و رنگِ ہستی
اتنا بے حس تھا کہ جیسے کسی قاتل کا ضمیر
یہ قلم تیری امانت تھا مگر کس کو ملا؟
جو لُٹا دیتا ہے نشے میں سلف کی جاگیر
جیسے میزانِ عدالت کسی کج فہم کے پاس
جیسے دیوانے کے ہاتھوں میں برہنہ شمشیر

تجھ پہ ظلمات کی گھنگھور گھٹا چھائی تھی
اور میں چُپ تھا کہ روشن ہے مرے گھر کا چراغ
تیرے میخانے پہ کیا کیا نہ قیامت ٹوٹی
اور میں خوش تھا سلامت ہے ابھی میرا ایاغ
میں نے اپنے ہی گہنگار بدن کو چُوما
گرچہ جویائے محبت تھے ترے جسم کے داغ

حجلۂ ذات میں آئینے جڑے تھے اتنے
کہ میں مجبور تھا گر محوِ خود آرائی تھا
تیری روتی ہوئی مٹّی پہ نظر کیا جمتی
کہ میں ہنستے ہُوئے جلوؤں کا تمنّائی تھا
ایک پل آنکھ اُٹھائی بھی اگر تیری طرف
میں بھی اوروں کی طرح صرف تماشائی تھا

اور اب خواب سے چونکا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
ایک اِک حرف مرا تیرِ ملامت ہے مجھے
تُو اگر ہے تو مرا فن بھی مری ذات بھی ہے
ورنہ یہ شامِ طرب صبحِ قیامت ہے مجھے
میری آواز کے دُکھ سے مجھے پہچان ذرا
میں تو کہہ بھی نہ سکوں کتنی ندامت ہے مجھے

آج سے میرا ہُنر پھر سے اثاثہ ہے ترا
اپنے افکار کی نس نس میں اُتاروں گا تجھے
وہ بھی شاعر تھا کہ جس نے تجھے تخلیق کیا
میں بھی شاعر ہوں تو خوں دے کے سنواروں گا تجھے
اے مری ارضِ وطن اے مری جاں اے مرے فن
جب تلک تابِ تکّلم ہے پکاروں گا تجھے

احمد فراز

:pak

اے وطن پاک وطن (انسٹرومنٹل(


اے وطن پاک وطن: استاد امانت علی خان



شاعر کا نام میرے ذہن میں نہیں آ رہا۔

Monday, 20 July 2009

انشاء جی اُٹھو!

8 comments
انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو

اسد امانت علی پی ٹی وی پروگرام نکھار میں استاد امانت علی خان کی وفات کے بعد 'انشاء جی اٹھو' گاتے ہوئے۔ :-( :cry:



انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

ابنِ انشاء


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابنِ انشاء کی وفات پر قتیل شفائی نے ایک غزل 'یہ کس نے کہا تُم کُوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی' لکھی تھی۔ جسے سلمان علوی نے گایا ہے۔









یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی

:cry: :cry:

Saturday, 7 February 2009

ممی کا لیٹر

21 comments
پیارے children!
تمہارا لیٹر ملا۔ تمہاری condition معلوم ہوئی کہ تم سب OK ہو۔ ہم سب بھی fine ہیں۔
تمہاری progress report بھی receive ہوئی۔ اور تم چاروں کے examination results دیکھے۔ بہت ہی ‌bad condition ہے۔ اردو تم چاروں کی بہت weak ہے۔ تمہیں اس subject میں کافی hard work کی ضرورت ہے۔ because یہ intermediate level تک compulsory کر دی گئی ہے۔ بہرحال تم کو اس کی طرف پھرپور attention دینی پڑے گی۔ اسی لئے میں تم لوگوں کو یہ letter اردو میں لکھ رہی ہوں تا کہ تم اپنی mother tongue سے in touch رہو۔
یہاں کافی cold ہے اسی لئے تمہارے ابو کو fever ہو گیا ہے۔ you know وہ کتنے careless ہیں۔ چار دن تک ان کا temperature کافی high رہا۔ کافی weak ہو گئے ہیں۔ عیادت کے لئے کافی guests آتے ہیں۔ that's why میں کافی tired ہو جاتی ہوں۔
یہ winter ہے۔ اس لئے چھوٹے brother کا خیال رکھنا۔ اُس کو warm شال میں wrap رکھنا کیونکہ وہ by nature کافی weak ہے اور بعض اوقات summer میں بھی cold catch کر لیتا ہے۔
تمہاری sister بہت sensitive ہے۔ میری separation برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر وہ restless محسوس کرے تو ڈاکٹر کو فوراً call کر لینا۔ I hope کہ تم یقینا میرا letter غور سے read کر رہے ہو گے۔
تمہاری بڑی sister ہنزہ valley آنے والی ہیں۔ ان کو remind کرا دینا کہ میرا beauty box ضرور لائیں۔ lip stick ان کو choose کر دینا کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ مجھے کون سی suit کرتی ہے۔ میرے پاس lipstick اب finish ہو چکی ہے اور اس کے بغیر میں بڑا uneasy محسوس کرتی ہوں۔
آج کل ہر morning اور evening بس bore ہی گزرتی ہے۔ کوئی entertainment ہی نہیں ہے۔ servants تین دن کی leave پر گئے ہوئے ہیں اس لئے whole work مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ early in the morning اٹھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ آج بھی پورے ساڑھے نو بجے bed چھوڑ دیا تھا۔
okay اب میں نے اتنا long letter لکھ دیا ہے کہ تم تھکن feel کر رہے ہو گے۔
سب کو میری طرف سے wish کر دینا۔
اور اپنی اردو پر attention دینا۔
فقط!
your ever loving mother


:smile


ہمارے گھر عالمگیرین میگزین آتا تھا۔ جس میں کچھ سال پہلے یہ خط آٹھویں جماعت کے ایک طالبعلم نے لکھا تھا۔ آج ایک پرانی ڈائری کے صفحات پلٹتے ہوئے نظر پڑی تو یہاں لکھ رہی ہوں۔ افسوس کہ میں نے یہ letter اپنے پاس copy کرتے ہوئے writer کا نام note نہیں کیا تھا۔ :blush: :D

Saturday, 31 January 2009

اردو تھیمز

20 comments
ارادہ تھا کہ چند  تھیمز مکمل کر کے ایک ہی بار پوسٹ کروں گی لیکن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لئے فی الوقت تین  ہی پوسٹ کر رہی ہوں۔

تھیم ۱:

اصل تھیم۔ (clean-bright-10)

اردو ورژن:


بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-clean-bright-10

تھیم ۲:
وُڈ تھیم میں نے اپنے بلاگ پر لگایا ہوا ہے۔ جہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا تھا وہ سائٹ  ان دنوں زیرِ مرمت ہے۔ اس لئے اصل تھیم کا لنک نہیں  مل رہا۔

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-wood_theme

تھیم ۳:
اصل تھیم۔ (mysimplified-11)

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔

اس تھیم کو اردواتے ہوئے سپینش زبان سے بھی اچھی خاصی واقفیت ہو گئی :D

Urdu-mysimplified-11

تینوں تین کالمی ، ویجٹس ریڈی تھیمز ہیں۔ اردو پیڈ بھی  شامل ہے۔ ایک دو چھوٹے چھوٹے اضافے بھی کئے ہیں۔:)

فائر فاکس پر تو سب ٹھیک دکھائی دے رہا ہے۔ انٹر نیٹ ایکسپلورر کی میرے ساتھ کوئی پرانی دشمنی ہے۔ کلین برائٹ کی سائڈ بار گڑ بڑ کر رہی تھی۔ دوبارہ نہیں دیکھ سکی کیونکہ میں نے  اپنے کمپیوٹر سے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو جلا وطن کر دیا ہے کچھ دنوں کے لئے۔

غلطیاں بھی بہت ہوں گی شاید۔ اس کے لئے پیشگی معذرت۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میں کام کروں اور کوئی غلطی نہ ہو :blush: روایت پسندی بھی کوئی چیز ہے آخر۔ اس لئے میرے حق میں دعا کریں  :)

سب سے اہم بات تو رہ گئی۔ ماوراء کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ جنہوں نے بنیادی نکات بتائے۔ پھر جہانزیب کا بہت شکریہ۔ ان کے ٹیوٹوریلز نے ایک مشکل کام آسان کر دیا۔۔ اس کے علاوہ ساجد اقبال کے اردو ٹیکنالوجی بلاگ سے بھی بھرپور استعفادہ حاصل کیا۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ :)
دیگر قارئین سے کہنا ہے کہ اگر کوئی تھیم قابلِ استعمال لگے تو وہ تھیم آپ کا ہوا :)

Friday, 2 January 2009

چوہے کا بچہ!

7 comments
نئے سال کی پہلی پوسٹ بچوں کے لئے اردو اینی میشنز کے بارے میں ہے۔ عمار اور شعیب سعید شوبی نے دوسری نظم بھی بہت ہی خوب پیش کی ہے ماشاءاللہ   :clap میں نے صبح دیکھی تھی یہ ویڈیو اور سارا دن چوہے کا بچہ ہی ذہن میں گھومتا رہا :D



ویسے عمار مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ بھی گاتے  ہو   :)

نظم مزے کی ہے۔ بس  بیچارہ چوہے کا بچہ آخر میں مرحوم ہو گیا :cry:

اور بلی کے مزے ہو گئے  :party

حالانکہ جیری تو اتنی آسانی سے کبھی ٹام کے ہاتھ نہیں  آیا :D

Tuesday, 18 November 2008

Flowers are Red!! Zain Bhikha

0 comments

Just loving it :)




Flowers are Red!!



(watch on youtube)

(Original track by Harry Chapin)



The little boy went first day of school
He got some crayons and started to draw
He put colors all over the paper
For colors was what he saw
And the teacher said.. What you doin' young man
I'm paintin' flowers he said
She said... It's not the time for art young man
And anyway flowers are green and red
There's a time for everything young man
And a way it should be done
You've got to show concern for everyone else
For you're not the only one

And she said...
Flowers are red young man
Green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen

But the little boy said...
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one

Well the teacher said.. You're sassy
There's ways that things should be
And you'll paint flowers the way they are
So repeat after me.....

And she said...
Flowers are red young man
Green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than they way they always have been seen

But the little boy said...
There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one

The teacher put him in a corner
She said.. It's for your own good..
And you won't come out 'til you get it right
And are responding like you should
Well finally he got lonely
Frightened thoughts filled his head
And he went up to the teacher
And this is what he said.. and he said

Flowers are red, green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen

Time went by like it always does
And they moved to another town
And the little boy went to another school
And this is what he found
The teacher there was smilin'
She said...Painting should be fun
And there are so many colors in a flower
So let's use every one

But that little boy painted flowers
In neat rows of green and red
And when the teacher asked him why
This is what he said.. and he said

Flowers are red, green leaves are green
There's no need to see flowers any other way
Than the way they always have been seen.

But there still must be a way to have our children say . . .



There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one



There are so many colors in the rainbow
So many colors in the morning sun
So many colors in the flower and I see every one



:smile

Monday, 10 November 2008

کمرہٴ امتحان

0 comments



کمرہٴ امتحان

بے نگاہ  آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر، انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ھیں
ہر طرف کن انکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو راہ نما سمجھتے ہیں
شاید اسطرح کو ئی راستہ ہی مل جائے
بے نشاں جوابوں کا،کچھ پتا ہی مل جائے
مجھ کو دیکھتے ھیں تو
یوں جواب کاپی پر،
حاشیے لگاتے ھیں، دائرے بناتے ھیں
جیسے انکو پرچے کے سب جواب آتے ھیں

اس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں
دیکھتا ھی رہتا ھوں
نِت نئے طریقوں سے آپ لطف لیتا ہوں
دوستوں سے کہتا تھا!

کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں اِک خیال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں کا ایک سوال آیا ہے
وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں، اک سوال نامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے
کس لئے بنایا ہے
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ھیں
سب سوال مشکل ھیں!

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں
حاشیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوال نامے کو دیکھتا ہی جاتا ہوں!!

امجد اسلام امجد

Sunday, 9 November 2008

شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا

3 comments












بچے کی دُعا

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دُور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے

ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت

جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب

علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

علامہ محمداقبال (رح).




آج نو نومبر ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال کا یومِ پیدائش۔ ویسے عالمِ بالا میں علامہ اقبال افسوس ہی کرتے رہتے ہوں گے کہ ان کے لوگ کیسی نالائق قوم ثابت ہوئے ہیں۔ :shy:


بہرحال۔ اللہ سے بہتری کی امید رکھنی چاہئیے ہمیشہ۔ شاید ہم بھی کبھی فخر کے ساتھ یومِ اقبال منا سکیں۔


Tuesday, 9 September 2008

امن کا آخری دن

4 comments





امن کا آخری دن






آج کیوں شام کے اخبار کی ہر سُرخی میں



ایک اک لفظ بُنے جاتا ہے اُلجھے ہوئے جال

وسوسے اُمڈے ہوئے چلے آتے ہیں بادل بادل

کلبلاتے ہیں پڑے ذہن کے گوشوں میں خیال

اب تو ہر سطر سے آنے لگی بارُود کی بُو

اب تو ہر صحفے سے بےکھٹکے گزرنا ہے محال

بہرٍ شب خون بڑھے آتے ہیں یادوں کے ہجوم

دیکھیں کیا حال بنے صبح کے ہوتے ہوتے

اتنی سوچیں ہیں کہ پہلے کبھی سوچی نہ تھیں

اتنے چہرے ہیں کہ پہلے کبھی دیکھے نہ تھے

اب تو کابوس کی صورت رگ و پے پہ ہیں محیط

شام تک وہ جو سبھی نقش تھے دُھندلے دُھندلے

الف آندھی ہے کہ مغرب سے اُٹھا چاہتی ہے

الف اُمید چراغٍ تہِ داماں ہے ابھی

الف ایٹم ہے یا بآغوش ہزاراں آشوب

الف آدم کہ بہ غم چاکِ گریباں ہے ابھی

الف اک امن کہ جاں دی تھی تو پایا تھا اسے

الف اک اشک کہ مژگاں پہ فروزاں ہے ابھی

ب وہ بندوق کہ اک روز کہیں سر ہوگی

ب وہ بمباروں کا جھرمٹ ہے کہ بڑھتا آئے

کبھی دہقاں کے گھروندے پہ تو خرمن پہ کبھی

بےاماں برق کا کوندا ہی پڑا لہرائے

قریے قریے سے لپکتی ہوئی لاٹیں اُٹھیں

بستی بستی شراروں سے جھلستا جائے

پ ہے پنشن کہ سپاہی کو شجاعت کے عوض

ایک پہلو میں ٹھمکتی سی بساکھی دے جائے

پ وہ پلٹن ہے کہ اُڑ کر میداں پہنچی

پ وہ پیارے ہیں کہ میداں سے نہ واپس آئے

ت وہ نغمہ ہے کہ برسوں کی ریاضت سے ملے

اور کسی لاش کی چھاتی پہ چمکتا رہ جائے

ٹ کسی باغِ جوانی کی لچکتی ٹہنی

بم کے اُڑتے ہوئے ٹکڑوں سے پارا پارا

بوڑھے ماں باپ کی برسوں کی دعاؤں کا ثمر

ث کسی اجنبی میدان میں دم توڑ گیا

لوٹتے قدموں سے گونجے گی نہ گھر کی دہلیز

‘آپ کا لختٍ جگر ملک پہ قُربان ہُوا‘

ج وہ جنگ کا بازار ہے جس میں جا کر

اتنی صدیوں میں بھی انسان کی قیمت نہ بڑھی

چ وہ چاندی ہے وہ چاندی کے چمکتے سکے

جن سے دُنیا کی ہر اک چیز خریدی نہ گئی

پھر بھی ہر بیس برس بعد وہی سودے ہیں

وہی تاجر ہیں وہی جنس ہے قیمت بھی وہی

ح حکایت ہے کہ ہونٹوں پہ ادھوری رہ جائے

ح وہ حسرت ہے کہ سینے کو بنا لے مدفن

خ خیالات کا ریلا ہے کہ یکسر رُک جائے

دب کے رہ جائے جو خندق کے خلاؤں میں بدن

ٹینک کر دیں گے ہر اک ڈھیر کو آ کر ہموار

بےنشاں قبروں پہ اُگ آئیں گے دو سال میں بَن

د ہے درد سے لبریز دلوں کی دھرتی

ڈ ہے ڈولتا سینہ کبھی ڈھلتا آنسو

ذ ہے ذکر کسی دوست کا وہ ذکرٍ جمیل

ہائے کن رفتہ بہاروں کے گلوں کی خوشبو

آج لاشوں کے تعفن میں دبی جاتی ہے

سرد سنگینون کے زخموں سے اُبلتا ہے لہو

ر وہی ریل کی سیٹی وہی رعنا چہرہ

ر وہی رات وہی اُس کے بھیانک سپنے

چونک کر کون یہ بستر سے یکایک اُٹھا

“میرے بچے کو خداوند سلامت رکھے"

ایک تارا کہیں ٹُوٹا کہیں ڈُوب گیا

ڈاکیا آئے گا دو روز میں اک تار لئے

ز ہے وہ زہر کہ پھر روح میں گُھل جائے گا

ز ہے وہ زخم کہ لاتا ہے خبر دل تک سے

اب بھی بستی میں بڑے پیر کا میلہ ہو گا

لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں بہار آئے گی

پر نہ ان راہوں سے لوٹے گا بنسی والا

اب چراگاہ میں گونجیں گی نہ تانیں اُس کی

س سہرا کسی دُولہا کا کسی سیج کا پُھول

س جلتا ہوا سیسہ کسی سنگین کی دھار

س ساحر ہیں کہ سیاست کے گھر میں بیٹھے

اپنے زانو پہ لئے صبح کے سارے اخبار

سوچا کرتے ہیں یہ پڑھتے ہوئے تازہ خبریں

روئی کے بھاؤ میں ہوتا ہے چڑھاؤ کہ اُتار

اپنے اس شہر سے ہیں دُور وہ میداں جن میں

ش شعلہ ہے کہ بارُود کا سینہ چاٹے

کسی مسجد کا منارہ، کسی اسکول کی چھت

اک دھماکے میں سُلگتا ہوا ملبہ بن جائے

کوئی کھیتی کوئی کرخانہ کوئی پُل کوئی ریل

ایک دُنیا ہے کہ برسوں میں بنائے نہ بنے

ص وہ صبح کہ ہر ذہن کی پنہائی میں

لا کے بو دیتی ہے نادیدہ صلیبوں کی قطار

ض خبروں کے ضمیموں کا وہ اُگلا ہوا زہر

جس سے کچھ اور ہی بڑھ جاتا ہے وحشت کا فشار

ناچنے لگتے ہیں بیتابی سے فہرستوں کے نام

آنکھیں بن جاتی ہیں روتے ہوئے اشکوں کے مزار

ط طبروق کا صحرا ہے جہاں سے اب بھی

اپنے گم گشتہ عزیزوں کی صدا آتی ہے

اس جگہ فتح کی خبریں ہیں نہ جلسے نہ جلوس

ایک صرصر ہے کہ آتی ہے گزر جاتی ہے

استخوانوں سے بھلا کس کو محبت ہوگی

یاں کوئی دوست نہ ہمدم نہ ملاقاتی ہے

ظ ظلمت کا دریا ہے کہ طوفاں بدوش

آس کی ننھی سی کشتی کو ڈبونے آئے

اور جب ظلم کی میعاد سے دن اور بڑھیں

ع وہ عشرتٍ فردا ہے کہ عنقا ہو جائے

غ وہ غم ہے کہ جاناں سے نہ دوراں سے ہے خاص

دل مگر اس کی کسک سے نہ سنبھلنے پائے

ف وہ فتح کہ کچھ لے تو گئی دے نہ سکی

ف وہ فردا ہے کہ چھلاوے کا چھلاوا ہی رہا

ق قریہ ہے کہ اتنا بھی نہ ویراں تھا کبھی

اب نہ چُولھوں سے دُھواں اُٹھتا ہے نیلا نیلا

اور نہ کھیت نہ وہ فصلیں نہ وہ رکھوالے

ایک اک گاؤں کے چوپال میں اُلو بولا

ک نینوں کے کمل، ک کتابی چہرے

ک کاکل ہے کہ خوشبو میں بسی رہتی ہے

اور جب دُور کے دیسوں کے سپاہی آئے

ک کرگس نے کُھلے کھیت میں بازی جیتی

کوریا کتنے خرابوں کا پتا دیتا ہے

یہ جگہ شہر تھی یہ گاؤں تھا یہ بستی تھی

گ گاتی ہوئی گولی ہے کہ گن سے نکلے

کسی گمنام سپاہی کا نشانہ باندھے

ایک سایہ کسی کھائی میں تڑپتا رہ جائے

اپنی برسوں کی تمناؤں کو سینے میں لئے

گ گبرو ہے کہ بائیس بہاروں میں پلے

ل لاشہ ہے کہ دو روز کے اندر سڑ جائے

م محبوب کا آغوش بھی ہے موت بھی ہے

ایک ہی وقت میں ممکن نہیں دونوں سے نبھا

ن ندی کا مدھر نغمہ بھی نیپام بھی ہے

اب اسے دوست بناؤ کہ اُسے دوست بناؤ

زیست اور موت میں مشکل نہیں جانبداری

سیدھی باتوں کو دلیلوں کے لبادے نہ پہناؤ

و وقت ہے کہ ہاتھوں سے ہے نکلا جائے

واہمے دیتے ہیں آ کر درٍ دل پر دستک

فاختہ کتنی بھی طیار و سُبک سیر سہی

سینکڑوں کوس ہیں بمبار کی رفتار تلک

امن کے گیت کی لے تیز کرو تیز کرو

ساحلٍ دُور سے آنے لگی توپوں کی دھمک

ہ وہ ہیرو ہیں کہ پھر نکلے ہیں چھیلے بن کر

بستی بستی کو ہیروشیما بنانے کے لئے

ی وہ یادیں ہیں کہ دھندلائیں نہ مٹنے پائیں

اور ہم جنگ کی دہلیز پہ پھر آ نکلے

ی وہ یوسف کہ خدا کو بھی نہ سونپے جائیں

پھر انہی اجنبی میدانوں کا رستہ لیں گے

آسماں تیرہ و تاریک ہے، تارے مغموم

چاند بادل سے نکلتے ہوئے گھبراتا ہے

شمعِ اُمید کی لو کانپ رہی ہے کب سے

دل دُھواں دھار گھٹاؤں میں دبا جاتا ہے

لو کسی دُور کے گرجا میں وہ گھڑیال بجا

قافلہ صبح کا آتا ہے۔۔۔۔کہاں آتا ہے؟

) ابنِ انشاء (

…………….

الف سے ی تک کی یہ کہانی برسوں پہلے ابنِ انشاء نے لکھی تھی۔ اگر حیات ہوتے اور دوبارہ لکھنے کی سوچتے تو بھی شاید یہی الفاظ ہوتے ۔کچھ بھی تو نہیں بدلا جیسے !!

Saturday, 2 August 2008

مسجدِ قرطبہ

3 comments

علامہ محمد اقبال کو میں نے سکول کے زمانے سے پڑھنا شروع کیا تھا۔ لیکن تب مجھے لگتا تھا کہ کیونکہ وہ ہمارے قومی شاعر ہیں اس لیے ان کے شعر پڑھنا اور یاد کرنا ہمارا قومی فرض ہے :D ۔ بہرحال جب الفاظ میں چھپے معانی سمجھ آنے لگے تو معلوم ہوا کہ اقبال کی شاعری اصل میں ہے کیا!

‘بالِ جبریل‘ میں شامل ‘مسجدِ قرطبہ‘ میری پسندیدہ نظم ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ٹائم مشین مجھے بھی اسی دور میں لے گئی ہے جب اقبال نے مسجدِ قرطبہ دیکھی اور یہ شاہکار نظم تخلیق کیا۔

مسجدِ قرطبہ
(ہسپانيہ کي سرزمين ، بالخصوص قرطبہ ميں لکھي گئي)


سلسلہء روز و شب ، نقش گِر حادثات
سلسلہء روز و شب ، اصلِ حيات و ممات
سلسلہء روز و شب ، تارِ حريرِ دو رنگ
جس سے بناتي ہے ذات اپني قبائے صفات
سلسلہء روز و شب ، سازِ ازل کي فغاں
جس سے دکھاتي ہے ذات زيروبمِ ممکنات
تجھ کو پرکھتا ہے يہ ، مجھ کو پرکھتا ہے يہ
سلسلہء روز و شب ، صيرفي کائنات
تو ہو اگر کم عيار ، ميں ہوں اگر کم عيار
موت ہے تيري برات ، موت ہے ميري برات
تيرے شب وروز کي اور حقيقت ہے کيا
ايک زمانے کي رَو جس ميں نہ دن ہے نہ رات
آني و فاني تمام معجزہ ہائے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات ، کارِ جہاں بے ثبات!
اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا
نقشِ کُہن ہو کہ نَو ، منزلِ آخر فنا
ہے مگر اس نقش ميں رنگِ ثباتِ دوام
جس کو کيا ہو کسي مردِ خدا نے تمام
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حيات ، موت ہے اس پر حرام
تند و سبک سير ہے گرچہ زمانے کي رَو
عشق خود اک سيل ہے ، سيل کو ليتاہے تھام
عشق کي تقويم ميں عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھي ہيں جن کا نہيں کوئي نام
عشق دمِ جبرئيل ، عشق دلِ مصطفيٰ
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام
عشق کي مستي سے ہے پيکرِ گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام ، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقيہِ حرم ، عشق اميرِ جنود
عشق ہے ابنِ السبيل ، اس کے ہزاروں مقام
عشق کے مضراب سے نغمہء تارِ حيات
عشق سے نورِ حيات ، عشق سے نارِ حياتb
اے حرمِ قرطبہ! عشق سے تيرا وجود
عشق سراپا دوام ، جس ميں نہيں رفت و بود
رنگ ہو يا خِشت و سنگ ، چنگ ہو يا حرف و صوت
معجزہء فن کي ہے خونِ جگر سے نمود
قطرہء خونِ جگر ، سل کو بناتا ہے دل
خونِ جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
تيري فضا دل فروز ، ميري نوا سينہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور ، مجھ سے دلوں کي کشود
عرشِ معليٰ سے کم سينہء آدم نہيں
گرچہ کفِ خاک کي حد ہے سپہرِ کبُود
پيکرِ نوري کو ہے سجدہ ميسر تو کيا
اس کو ميسر نہيں سوز و گدازِ سجود
کافرِ ہندي ہوں ميں ، ديکھ مرا ذوق و شوق
دل ميں صلٰوۃ و درُود ، لب پہ صلٰوۃ و درود
شوق مري لَے ميں ہے ، شوق مري نے ميں ہے
نغمہء 'اللہ ھُو' ميرے رَگ و پے ميں ہے
تيرا جلال و جمال ، مردِ خدا کي دليل
وہ بھي جليل و جميل ، تُو بھي جليل و جميل
تيري بِنا پائدار ، تيرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا ميں ہو جيسے ہجومِ نخيل
تيرے در و بام پر واديِ ايمن کا نور
تيرا منارِ بلند جلوہ گہِ جبرئيل
مٹ نہيں سکتا کبھي مرد مسلماں کہ ہے
اس کي اذانوں سے فاش سًرِ کليم و خليل
اس کي زميں بے حدود ، اس کا افق بے ثغور
اس کے سمندر کي موج ، دجلہ و دنيوب و نيل
اس کے زمانے عجيب ، اس کے فسانے غريب
عہدِ کہن کو ديا اس نے پيامِ رحيل
ساقيِ اربابِ ذوق ، فارسِ ميدانِ شوق
بادہ ہے اس کا رحيق ، تيغ ہے اس کي اصيل
مرد سپاہي ہے وہ اس کي زرہ 'لا اِلہ'
سايہء شمشير ميں اس کہ پنہ 'لا اِلہ'
تجھ سے ہوا آشکار بندہء مومن کا راز
اس کے دنوں کي تپش ، اس کي شبوں کا گداز
اس کا مقامِ بلند ، اس کا خيالِ عظيم
اس کا سرور اس کا شوق ، اس کا نياز اس کا ناز
ہاتھ ہے اللہ کا بندہء مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفريں ، کارکشا ، کارساز
خاکي و نوري نہاد ، بندہء مولا صفات
ہر دو جہاں سے غني اس کا دلِ بے نياز
اس کي اميديں قليل ، اس کے مقاصد جليل
اس کي ادا دل فريب ، اس کي نگہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو يا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز
نقطہء پرکارِ حق ، مردِ خدا کا يقيں
اور يہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز
عقل کي منزل ہے وہ ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقہء آفاق ميں گرمي محفل ہے وہ
کعبہء اربابِ فن! سطوتِ دينِ مبيں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسيوں کي زميں
ہے تہِ گردوں اگر حسن ميں تيري نظير
قلبِ مسلماں ميں ہے ، اور نہيں ہے کہيں
آہ وہ مردان حق! وہ عربي شہسوار
حاملِ ' خلقِ عظيم' ، صاحب صدقِ و يقيں
جن کي حکومت سے ہے فاش يہ رمزِ غريب
سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے ، شاہي نہيں
جن کی نگاہوں نے کی تربیتِ شرق و غرب
جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیں
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگِ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے
دیدہء انجم میں ہے تیری زمیں، آسماں
آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں
کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشقِ بلا خیز کا قافلہء سخت جاں!
دیکھ چکا المنی ، شورشِ اصلاحِ دیں
جس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کہن کے نشاں
حرفِ غلط بن گئی عصمتِ پیر کنشت
اور ہوئی فکر کی کشتیء نازک رواں
چشمِ فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب
جس سے دگرگوں ہوا مغربیوں کا جہاں
ملتِ رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
لذتِ تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر جواں
روحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب
رازِ خدائی ہے یہ ، کہہ نہیں سکتی زباں
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!
وادیِ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب
لعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب
سادہ و پُرسوز ہے دخترِ دہقاں کا گیت
کشتیء دل کے لیے سیل ہے عہدِ شباب
آبِ روانِ کبیر!× تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالمِ نو ہے ابھی پردہء تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرہء افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب
جس سے نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
۔۔۔۔۔
× وادا الکبیر، قرطبہ کا مشہور دریا جس کے قریب ہی مسجدِ قرطبہ واقع ہے۔

(محمد اقبال)

مسجدِ قرطبہ: ملکہ پکھراج، طاہرہ سید



غلام علی نے بھی اس نظم کا کچھ حصہ گایا ہے ۔

Sunday, 13 April 2008

ڈاکٹر فاطمہ حسن

2 comments

 



آنکھوں میں، نہ زلفوں میں، نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش، مرے افکار میں دیکھیں


ملبوس بدن دیکھے ہیں رنگین قبا میں
اب پیرہنِ ذات کو اظہار میں دیکھیں


سو رنگِ مضامین ہیں، جب لکھنے پہ آؤں
گلدستہءمعنی ، مرے اشعار میں دیکھیں


پوری نہ ادھوری ہوں نہ کمتر نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں


رکھے ہیں قدم میں نے بھی تاروں کی زمیں پر
پیچھے ہوں کہاں آپ سے، رفتار میں دیکھیں


منسوب ہیں انسان سے جتنے بھی فضائل
اپنے ہی نہیں میرے بھی اطوار میں دیکھیں


کب چاہا کہ سامانِ تجارت ہمیں سمجھیں
لائے تھے ہمیں آپ ہی بازار میں دیکھیں


اُس قادرِ مطلق نے بنایا ہے ہمیں بھی
تعمیر کی خوبی اس معمار میں دیکھیں

ڈاکٹر فاطمہ حسن

Monday, 4 February 2008

زندگی

2 comments

کتنے ہمدرد ملے، دوست ملے، یار ملے
سب ابھرتے ہوئے سورج کے پرستار ملے
'زندگی تُو ہمیں بازار میں کیوں لے آئی
ہم تو یُوسف بھی نہیں کہ کوئی خریدار ملے'


......................
آج کا دن کیسے گزرے گا، کل گزرے گا کیسے
کل جو پریشانی میں گزرا، وہ بُھولے گا کیسے
کتنے دن ہم اور جئیں گے، کام ہیں کتنے باقی
کتنے دُکھ ہم کاٹ چکے ہیں اور ہیں کتنے باقی
خاص طرح کی سوچ تھی جس میں سیدھی بات گنوائی
چھوٹے چھوٹے واہموں میں ساری عمر بِتائی

Saturday, 12 January 2008

وی آئی پی موومنٹ

0 comments


وی آئی پی موومنٹ




اندھیر نگری کے راستوں پر لگے ہیں پہرے
تنی ہے زنجیرِ جبر جس پر
تنی ہے سیاہ تختی
سیاہ تختی جس پر سُرخ لفظوں سے لکھا ہے
کوئی نہ  گزرے کہ شاہِ دوراں گزر رہے ہیں
یہ حکم پڑھ کر ہر ایک ساعتِ مؤدبانہ ٹھہر گئی ہے
سبھی کے ہونٹوں کو چپ لگی ہے
مگر اک آواز آ رہی ہے
اُکھڑتی سانسوں کی، سسکیوں کی
کراہ کی، آخری ہچکیوں کی
یہ جان دیتی ہوئی مریضہ
اندھیر نگری کے رہنے والوں کی آرزو ہے
یہ عدل و انصاف اور مسافت کے اجالوں کی آرزو ہے
اک آرزو جو اندھیر نگری کی بند راہوں پہ مر گئی ہے
ادھر یہ جاں سے،

اُدھر شہنشاہ کی سواری بڑی اماں سے گزر گئی ہے


۔۔۔محمد عثمان جامعی