Showing posts with label سراغِ زندگی. Show all posts
Showing posts with label سراغِ زندگی. Show all posts

Wednesday, 19 March 2014

کتابیں باتیں کرتی ہیں!!!

3 comments

اس سال اب تک تحفے میں ملنے والی کتابوں کی تعداد 6 ہو گئی۔ 
لوگ مجھے پڑھا پڑھا دیکھنا چاہتے ہیں شاید۔


Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

6 comments
آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


Tuesday, 24 August 2010

امید ابھی کچھ باقی ہے!

7 comments
میرا شمار خوش امید لوگوں میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں پاکستان پر مصائب کی ایک نئی لہر نے اداسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ قدرتی آفت اور اپنی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید خدانخواستہ اب کچھ بھی نہیں بچے لگا لیکن کل شام سے جیسے امید کے چراغ پھر سے روشن ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا‫‫ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔

اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔

؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔

Tuesday, 10 August 2010

الوقت الصعب

9 comments
وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو دو ہزار پانچ میں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

میرا جواب یہ ہے کہ جذبہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ احساس کہ آپ کی مدد حقدار لوگوں تک پہنچنے کے بجائے راستے میں رہ جائے تو عوام کس پر اعتبار کریں۔ میں نے خود 2005 کے زلزلے کے لئے ملنے والا امدادی سامان مارکیٹس میں بکتے دیکھا ہے اور دوسری طرف اتنے سال گزرنے کے باوجود زلزلے کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہیں ہوئی۔

اگرچہ کہیں کہیں بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن الحمداللہ ابھی بھی لوگ موجود ہیں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے کو۔ میرے پاس کچھ فنڈز اکٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔

کیا مجھے یہاں یہ سوچ کر کہ میری نیت تو مدد کرنے کی ہے ، جانتے بوجھتے جو تھوڑا بہت میں دے سکتی ہوں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دینا چاہئیے جو اس کو کبھی حقدار تک نہیں پہنچائیں گے؟
کیا راولپنڈی اسلام آباد میں 'وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ' کے علاوہ کوئی ایسی تنظیم ملے گی جو امدادی سامان آگے تک پہنچا دے؟

Thursday, 7 January 2010

جد وجہد

2 comments


Listen to The Climb

The Climb
I can almost see it
That dream I'm dreaming but
There's a voice inside my head sayin,
You'll never reach it,  :-(
Every step I'm taking,
Every move I make feels
Lost with no direction :cryin
My faith is shaking but I
Got to keep trying
Got to keep my head held high
There's always going to be another mountain :what
I'm always going to want to make it move :quiet:
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb  :)
The struggles I'm facing,
The chances I'm taking
Sometimes they knock me down but :sad:
No I'm not breaking :dont
The pain I'm knowing :sadd:
But these are the moments that
I'm going to remember most yeah :)
Just got to keep going
And I,
I got to be strong :smile
Just keep pushing on,
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle, :uff
Sometimes you going to have to lose,  :cry:
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
Keep on moving
Keep climbing
Keep the faith baby
It's all about
It's all about
The climb
Keep the faith
Keep your faith :pray

Singer: Joe McElderry



Thursday, 9 October 2008

آگہی

2 comments

8 اکتوبر 2005 کی اُس صبح میں نے پہلی بار جانا کہ اپنی طرف بڑھتی آنے والی موت کی آہٹ کا احساس کیسا ہوتا ہے!



 

Tuesday, 8 January 2008

اخلاقی معیار

0 comments

ہم لوگ بڑے بڑے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ملکی حالات سے لیکر بین الاقوامی معاملات کی تجزیہ نگاری میں ہم سے زیادہ کون ماہر ہو گا۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی ذات اور اس کے منسلک مسائل کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا شاید ہمارے پاس اس کا وقت نہیں ہوتا۔۔
'انصاف' کا راگ الاپ الاپ کر ہمارے گلا خشک ہو جاتا ہے لیکن اس رولے میں  یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ کہیں ہماری ذات بھی تو کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بن رہی۔۔کہیں کوئی ایسا مظلوم بھی تو نہیں ہے جو ہمیں ظالم کہتا ہو۔
'احتساب' ہماری دلپسند اصطلاح  ہے ۔۔لیکن اے کاش دوسروں سے پہلے ہم اپنا محاسبہ بھی کر لیں۔۔کہ ہم نے کہاں کہاں اصولوں سے روگردانی کی۔۔کب کب ہمارے لہجے اور عمل میں رعونت در آئی۔۔

  بھی دوسروں کی 'غلط بیانی' اور 'خود غرضی' کے تمام ثبوت ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ  سوچیں...ہمارے اپنے اندر کس حد تک 'بے غرضی' اور 'سچائی' موجود ہے۔


کہیں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔۔ اوراظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لفظوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ہم خود بھی اپنی زبان، عمل اور رویے کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے تکلیف کی وجہ بن رہے ہیں۔


 نجانے قول و فعل کا یہ تضاد ہماری ذات کا ناگزیر حصہ کیوں  ہے؟



ہر شخص بنا لیتا ہے اخلاق کا معیار
اپنے لئے کچھ اور، زمانے کے لئے اور

Friday, 12 October 2007

I am Okay

0 comments

In all the world, there is no one else exactly like me
Everything that comes out of me is authentically me
Because I alone chose it
I own everything about me
My body, my feelings, my mouth, my voice, all my actions
Whether they be to others or to myself
I own my fanatasies
My dreams, my hopes, my fears
I own all my triumphs and
Successes, all my failures and mistakes
Because I own all of
ME
I can become intimately acquainted with me
by so doing
I can love me and be friendly with me in all my parts
I know
There are aspects about myself that puzzle me
and other aspects that I do not know
but as long as I am Friendly and loving to myself
I can courageously
And hopefully look for solutions to the puzzles
And for ways to find out more about me
However I Look and sound, whatever I say and do, and whatever
I think and feel at a given moment in time is authentically
ME
If later some parts of how I sounded, thought and felt turn out to be unfitting
I can discard that which is
Unfitting
keep the rest
and invent something new for that
Which I discarded
I can see, hear, feel, think, say, and do
I have the tools to survive
to be close to others,
to be Productive to make sense and order out of the world of
People and things outside of me
I own me, and
therefore I can engineer me
I am me and
I AM OKAY

Tuesday, 28 August 2007

ہوا سے باتیں

3 comments

خیالوں میں گم وہ کھڑکی کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور سامنے پھیلے خوبصورت منظر پر نطریں جمائے اس کی سوچ نجانے کہاں کہاں بھٹکنے لگی۔۔اچانک کھڑکی زور سے بجی اور تیز ہوا کا ایک جھونکا اپنے ساتھ پانی کی بوچھاڑ لئے اند چلا آیا۔۔ہوا نے اس کا چہرہ چُھوتے ہوئے پوچھا۔۔“کیا سوچ رہی ہو؟“۔۔
“سوچ رہی ہوں۔۔انسان نے اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔۔ہواؤں، پانیوں، خلاؤں ہر جگہ تو اس کے قدم پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اس نے کائنات کوتسخیر کر لیا ہے۔۔“
ہوا استہزائیہ انداز میں ہنسی اور گویا ہوئی۔۔“ہاں! کائنات کو مسخر کیے جا رہا ہے اور اس دُھن میں بھول گیا ہے کہ اس سے زیادہ اہم دلوں کو تسخیر کرنا ہے۔۔۔“
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن تیزجھونکے نے جیسے اس کو روک دیا۔۔“ مجھے بتانے دو۔۔ابنِ آدم نے اشرف ولمخلوقات ہونے کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔۔
تم کس انسان کی بات کرتی ہو۔۔وہ جو خود کو اشرف المخلوقات گردانتا ہے مگر خود کو حیوانوں کے درجے سے بھی نیچے گرا دیتا ہے۔۔اپنی حساسیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور سنگدلی کی انتہا کو چُھو لیتا ہے۔۔انصاف کی رٹ لگاتا ہے اور خود ظلم و بربریت کی نت نئی داستانیں رقم کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔“
بے شمار چیخیں اس کی سماعتوں پر جیسے ہتھوڑے برسانے لگیں۔۔ اس نے اس شور سے بچنے کے لئے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔۔
“ابھی تو آغاز ہے اور تم ابھی سے ہی۔۔۔۔“ ہوا نے سرسراتے لہجے میں کہا۔۔۔“ابھی تو میں نے انسان کے قہر و غضب کی وہ داستانیں نہیں سنائیں جو قریہ قریہ گھومتے میری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔۔۔ذرا سونگھو تو سہی۔۔مجھ میں بسی خون کی بساند تمھیں بہت کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔میرا گزر وہاں سے بھی ہوا ہے جہاں خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔۔اپنے ہی اپنوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔۔رنگ،نسل،مذہب،فرقے کو بنیاد بنا کر لاشوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔۔اس دور کا ہر انسان اپنی ذات میں چنگیز و ہلاکو خان بنا جا رہا ہے۔۔یہ ہے تمھاری خلافت؟؟۔۔۔“
ایک چھناکا ہوا اور کھڑکی کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔۔اُسے یوں لگا جیسے کانچ کے یہ ریزے اس کے جسم میں آن چبھے ہوں۔۔

درد سے بےحال ہوتے ہوئے اس نے سُنا۔۔۔ ہوا کہہ رہی تھی۔۔
“ بلند و بانگ دعوے نوعِ بشر کا خاصا ہیں۔۔ہاں وہی دعوے جو وقت کی بہتی لہروں کے سامنے محض ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔۔“ گرد کا ایک بگولہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں جیسے ریت بھرتی چلی گئی۔۔
“ابنِ آدم ہی ہے ناں جو کہتے نہیں تھکتا کہ وہ اپنی وجہ سے کسی کو دُکھی نہیں دیکھ سکتا اور یہ کہتے ہوئے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کتنی آنکھیں اس کے اس جملے پر برس پڑتی ہیں۔۔ صاف گوئی کا دعوٰی کرتا ہے لیکن کتنے ہی دل اس کی حیلہ ساز فطرت کا شکار ہو کر ایسے بکھر بکھر جاتے ہیں۔۔“۔۔۔ امید ویاس کے صحرا میں بھٹکتی ان گنت آنکھیں سوال بن کر اس کے ذہن سے چپک سی گئیں۔
“نہیں۔۔۔بہت کچھ اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔زندگی کی مجبوریاں اسے ایسا بنا دیتی ہیں۔۔۔“ اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔۔
“کون سی مجبوریاں؟؟۔۔یہ خود ساختہ مجبوریاں ہیں۔۔اپنا دوش دوسروں کے سر رکھنا تم انسانوں کا ازلی شیوہ ہے۔۔واہ رے انسان۔۔نکالے گئے جنت سے اپنے کئے پر اور دوش دیا ابلیس کو۔۔دست و گریباں ہوئے خود اور الزام رکھا ابلیس کے سر۔۔اگر تم اتنے ہی کمزور تھے تو کیوں اٹھایا خلافت کا بوجھ؟؟؟۔۔مان لو۔۔انسان نفس کاغلام ہے۔۔مان لو آج کا انسان جھوٹ کی آبیاری کر رہا ہے۔۔مان لو۔۔انسان بلندیوں کی طرف پرواز کے بجائے پستیوں میں گر رہا ہے۔۔مان لو۔۔مان لو۔۔۔۔“
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پیچھے ہٹی۔۔ہوا نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔۔اور کھڑکی کے پٹ زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گئے۔