محفوظات
معلومات
تازہ تبصرے
حالیہ تحاریر
Translate
Ad Banner
دریچہ ہائے خیال
Wednesday, 19 March 2014
Tuesday, 13 August 2013
اظہارِ تشکر!
8/13/2013 11:09:00 am
6
comments
Tuesday, 24 August 2010
امید ابھی کچھ باقی ہے!
8/24/2010 09:55:00 am
7
comments
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔
اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔
Tuesday, 10 August 2010
الوقت الصعب
8/10/2010 12:56:00 pm
9
comments
میرا جواب یہ ہے کہ جذبہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ احساس کہ آپ کی مدد حقدار لوگوں تک پہنچنے کے بجائے راستے میں رہ جائے تو عوام کس پر اعتبار کریں۔ میں نے خود 2005 کے زلزلے کے لئے ملنے والا امدادی سامان مارکیٹس میں بکتے دیکھا ہے اور دوسری طرف اتنے سال گزرنے کے باوجود زلزلے کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہیں ہوئی۔
اگرچہ کہیں کہیں بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن الحمداللہ ابھی بھی لوگ موجود ہیں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے کو۔ میرے پاس کچھ فنڈز اکٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔
کیا مجھے یہاں یہ سوچ کر کہ میری نیت تو مدد کرنے کی ہے ، جانتے بوجھتے جو تھوڑا بہت میں دے سکتی ہوں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دینا چاہئیے جو اس کو کبھی حقدار تک نہیں پہنچائیں گے؟
کیا راولپنڈی اسلام آباد میں 'وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ' کے علاوہ کوئی ایسی تنظیم ملے گی جو امدادی سامان آگے تک پہنچا دے؟
Thursday, 7 January 2010
جد وجہد
1/07/2010 10:14:00 pm
2
comments
Listen to The Climb
The Climb
I can almost see it
That dream I'm dreaming but
There's a voice inside my head sayin,
You'll never reach it, :-(
Every step I'm taking,
Every move I make feels
Lost with no direction :cryin
My faith is shaking but I
Got to keep trying
Got to keep my head held high
There's always going to be another mountain :what
I'm always going to want to make it move :quiet:
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb :)
The struggles I'm facing,
The chances I'm taking
Sometimes they knock me down but :sad:
No I'm not breaking :dont
The pain I'm knowing :sadd:
But these are the moments that
I'm going to remember most yeah :)
Just got to keep going
And I,
I got to be strong :smile
Just keep pushing on,
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle, :uff
Sometimes you going to have to lose, :cry:
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
Keep on moving
Keep climbing
Keep the faith baby
It's all about
It's all about
The climb
Keep the faith
Keep your faith :pray
Singer: Joe McElderry
Thursday, 9 October 2008
آگہی
10/09/2008 06:14:00 am
2
comments
8 اکتوبر 2005 کی اُس صبح میں نے پہلی بار جانا کہ اپنی طرف بڑھتی آنے والی موت کی آہٹ کا احساس کیسا ہوتا ہے!

Tuesday, 8 January 2008
اخلاقی معیار
1/08/2008 08:32:00 pm
0
comments
ہم لوگ بڑے بڑے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ملکی حالات سے لیکر بین الاقوامی معاملات کی تجزیہ نگاری میں ہم سے زیادہ کون ماہر ہو گا۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی ذات اور اس کے منسلک مسائل کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا شاید ہمارے پاس اس کا وقت نہیں ہوتا۔۔
'انصاف' کا راگ الاپ الاپ کر ہمارے گلا خشک ہو جاتا ہے لیکن اس رولے میں یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ کہیں ہماری ذات بھی تو کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بن رہی۔۔کہیں کوئی ایسا مظلوم بھی تو نہیں ہے جو ہمیں ظالم کہتا ہو۔
'احتساب' ہماری دلپسند اصطلاح ہے ۔۔لیکن اے کاش دوسروں سے پہلے ہم اپنا محاسبہ بھی کر لیں۔۔کہ ہم نے کہاں کہاں اصولوں سے روگردانی کی۔۔کب کب ہمارے لہجے اور عمل میں رعونت در آئی۔۔
بھی دوسروں کی 'غلط بیانی' اور 'خود غرضی' کے تمام ثبوت ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ سوچیں...ہمارے اپنے اندر کس حد تک 'بے غرضی' اور 'سچائی' موجود ہے۔
کہیں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔۔ اوراظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لفظوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ہم خود بھی اپنی زبان، عمل اور رویے کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے تکلیف کی وجہ بن رہے ہیں۔
نجانے قول و فعل کا یہ تضاد ہماری ذات کا ناگزیر حصہ کیوں ہے؟
ہر شخص بنا لیتا ہے اخلاق کا معیار
اپنے لئے کچھ اور، زمانے کے لئے اور
Friday, 12 October 2007
I am Okay
10/12/2007 08:05:00 pm
0
comments
In all the world, there is no one else exactly like me
Everything that comes out of me is authentically me
Because I alone chose it
I own everything about me
My body, my feelings, my mouth, my voice, all my actions
Whether they be to others or to myself
I own my fanatasies
My dreams, my hopes, my fears
I own all my triumphs and
Successes, all my failures and mistakes
Because I own all of
ME
I can become intimately acquainted with me
by so doing
I can love me and be friendly with me in all my parts
I know
There are aspects about myself that puzzle me
and other aspects that I do not know
but as long as I am Friendly and loving to myself
I can courageously
And hopefully look for solutions to the puzzles
And for ways to find out more about me
However I Look and sound, whatever I say and do, and whatever
I think and feel at a given moment in time is authentically
ME
If later some parts of how I sounded, thought and felt turn out to be unfitting
I can discard that which is
Unfitting
keep the rest
and invent something new for that
Which I discarded
I can see, hear, feel, think, say, and do
I have the tools to survive
to be close to others,
to be Productive to make sense and order out of the world of
People and things outside of me
I own me, and
therefore I can engineer me
I am me and
I AM OKAY
Tuesday, 28 August 2007
ہوا سے باتیں
8/28/2007 02:12:00 pm
3
comments
خیالوں میں گم وہ کھڑکی کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور سامنے پھیلے خوبصورت منظر پر نطریں جمائے اس کی سوچ نجانے کہاں کہاں بھٹکنے لگی۔۔اچانک کھڑکی زور سے بجی اور تیز ہوا کا ایک جھونکا اپنے ساتھ پانی کی بوچھاڑ لئے اند چلا آیا۔۔ہوا نے اس کا چہرہ چُھوتے ہوئے پوچھا۔۔“کیا سوچ رہی ہو؟“۔۔
“سوچ رہی ہوں۔۔انسان نے اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔۔ہواؤں، پانیوں، خلاؤں ہر جگہ تو اس کے قدم پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اس نے کائنات کوتسخیر کر لیا ہے۔۔“
ہوا استہزائیہ انداز میں ہنسی اور گویا ہوئی۔۔“ہاں! کائنات کو مسخر کیے جا رہا ہے اور اس دُھن میں بھول گیا ہے کہ اس سے زیادہ اہم دلوں کو تسخیر کرنا ہے۔۔۔“
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن تیزجھونکے نے جیسے اس کو روک دیا۔۔“ مجھے بتانے دو۔۔ابنِ آدم نے اشرف ولمخلوقات ہونے کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔۔
تم کس انسان کی بات کرتی ہو۔۔وہ جو خود کو اشرف المخلوقات گردانتا ہے مگر خود کو حیوانوں کے درجے سے بھی نیچے گرا دیتا ہے۔۔اپنی حساسیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور سنگدلی کی انتہا کو چُھو لیتا ہے۔۔انصاف کی رٹ لگاتا ہے اور خود ظلم و بربریت کی نت نئی داستانیں رقم کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔“
بے شمار چیخیں اس کی سماعتوں پر جیسے ہتھوڑے برسانے لگیں۔۔ اس نے اس شور سے بچنے کے لئے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔۔
“ابھی تو آغاز ہے اور تم ابھی سے ہی۔۔۔۔“ ہوا نے سرسراتے لہجے میں کہا۔۔۔“ابھی تو میں نے انسان کے قہر و غضب کی وہ داستانیں نہیں سنائیں جو قریہ قریہ گھومتے میری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔۔۔ذرا سونگھو تو سہی۔۔مجھ میں بسی خون کی بساند تمھیں بہت کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔میرا گزر وہاں سے بھی ہوا ہے جہاں خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔۔اپنے ہی اپنوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔۔رنگ،نسل،مذہب،فرقے کو بنیاد بنا کر لاشوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔۔اس دور کا ہر انسان اپنی ذات میں چنگیز و ہلاکو خان بنا جا رہا ہے۔۔یہ ہے تمھاری خلافت؟؟۔۔۔“
ایک چھناکا ہوا اور کھڑکی کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔۔اُسے یوں لگا جیسے کانچ کے یہ ریزے اس کے جسم میں آن چبھے ہوں۔۔
درد سے بےحال ہوتے ہوئے اس نے سُنا۔۔۔ ہوا کہہ رہی تھی۔۔
“ بلند و بانگ دعوے نوعِ بشر کا خاصا ہیں۔۔ہاں وہی دعوے جو وقت کی بہتی لہروں کے سامنے محض ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔۔“ گرد کا ایک بگولہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں جیسے ریت بھرتی چلی گئی۔۔
“ابنِ آدم ہی ہے ناں جو کہتے نہیں تھکتا کہ وہ اپنی وجہ سے کسی کو دُکھی نہیں دیکھ سکتا اور یہ کہتے ہوئے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کتنی آنکھیں اس کے اس جملے پر برس پڑتی ہیں۔۔ صاف گوئی کا دعوٰی کرتا ہے لیکن کتنے ہی دل اس کی حیلہ ساز فطرت کا شکار ہو کر ایسے بکھر بکھر جاتے ہیں۔۔“۔۔۔ امید ویاس کے صحرا میں بھٹکتی ان گنت آنکھیں سوال بن کر اس کے ذہن سے چپک سی گئیں۔
“نہیں۔۔۔بہت کچھ اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔زندگی کی مجبوریاں اسے ایسا بنا دیتی ہیں۔۔۔“ اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔۔
“کون سی مجبوریاں؟؟۔۔یہ خود ساختہ مجبوریاں ہیں۔۔اپنا دوش دوسروں کے سر رکھنا تم انسانوں کا ازلی شیوہ ہے۔۔واہ رے انسان۔۔نکالے گئے جنت سے اپنے کئے پر اور دوش دیا ابلیس کو۔۔دست و گریباں ہوئے خود اور الزام رکھا ابلیس کے سر۔۔اگر تم اتنے ہی کمزور تھے تو کیوں اٹھایا خلافت کا بوجھ؟؟؟۔۔مان لو۔۔انسان نفس کاغلام ہے۔۔مان لو آج کا انسان جھوٹ کی آبیاری کر رہا ہے۔۔مان لو۔۔انسان بلندیوں کی طرف پرواز کے بجائے پستیوں میں گر رہا ہے۔۔مان لو۔۔مان لو۔۔۔۔“
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پیچھے ہٹی۔۔ہوا نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔۔اور کھڑکی کے پٹ زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گئے۔

