Showing posts with label کبھی کبھی. Show all posts
Showing posts with label کبھی کبھی. Show all posts

Wednesday, 23 November 2016

سوچوں کا الجھا ریشم!

1 comments
بہت عرصہ ہو گیا دریچہ کھول کر بلاگنگ کی دنیا میں جھانکے ہوئے۔ ایک وقت تھا کہ بے ربط سوچوں کو بے ربط اندازمیں ہی سہی، لیکن الفاظ دینا ایسا مشکل نہیں لگتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ الفاظ میں معمولی سا ربط بنانے میں ہی گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور زندگی اس قدر تیز چلتی جاتی ہے کہ سوچوں کے اس ڈھیر کو چھوڑ فورا بھاگم بھاگ اگلے سٹاپ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے سکول کے دنوں میں کسی ڈرامے میں ایک شعر سنا تھا  جو فورا ذہن سے چپک گیا۔ 
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے سے جدا کس کو کریں
یہ وہی دن تھے جب اردو کی ٹیچر کی کوششوں سے ہم سب کا اردو زبان سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ سو جہاں کچھ نیا دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا فورا اردو کی کلاس میں ذکر کیا جاتا اوراس شعر کا مطلب  بھی انہی سے پوچھا۔ میری استاد نے بہت اچھا سمجھایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بیٹا اس شعر کی سمجھ آپ کو تب زیادہ اچھی آئے گی جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گی۔ اور اب مجھے یہ شعر اور اپنی اردو کی مس دونوں ہی اکثر یاد آتی ہیں۔ 

خیر۔ کبھی کبھی سوچوں کے الجھے ریشم کو سلجھانے کا موڈ بن ہی جاتا ہے۔ اسی موڈ کے زیرِ اثر آج بلاگ کھول کیا یہ سوچتے ہوئے کہ کچھ لکھا جائے۔ میرا خیال ہےابھی لیے اتنا سلجھاؤ کافی ہے۔ نیٹ پریکٹس ہو گئی۔ اب اگلی پوسٹ کی تیاری کرنی چاہیے۔  

Sunday, 28 June 2015

فرائض اور ہم!

2 comments
 بعض اوقات کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کچھ کہے بغیر  نہیں رہ سکتا. روزہ ایک فرض عبادت ہے اور فرض عبادت کیسی ہی کٹھن کیوں نہ محسوس ہو اسے خوشدلی سے ادا کرنا ہی اس کی کامیابی ہے لیکن ہم لوگ جو دنیاوی خداؤں کے سامنے کچھ کہنے سے پہلے دس بار اس کے ممکنہ اثرات و نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں اور پهر انتہائی نپی تلی بات کرتے ہیں کہ کہیں انہیں ناگوار نہ گزرے ، اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ایک بار بهی نہیں سوچتے کہ یہ بات اللہ کو ناگوار نہ گزرے.  سو ادهر رمضان شروع ہوا نہیں ادهر روزے کے بارے میں ایسے ایسے ٹیکسٹ میسج فارورڈ ہونا شروع ہو گئے کہ بعض اوقات افسوس کے ساتھ حیرت بهی ہوتی ہے ..کیا ہم اس عبادت کی فرضیت اور روح کے بارے میں لاعلم ہیں اور یہ حیرت اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب ایسی بات یا مذاق کسی باعلم و باعمل شخصیت کی جانب سے ہو.  آج دن میں مجهے ایسا ہی ایک ٹیکسٹ ملا جس میں روزے کی شدت کے بارے میں مذاق کے انداز میں بات کی گئی تهی اور یہ ٹیکسٹ جن کی طرف سے آیا وہ چاہے دنیاوی طور پر باعلم نہ ہوں لیکن عموماً ان کی باتوں اور پیغامات میں دین سے لگاؤ کافی نمایاں ہوتا ہے. اور ابهی ابهی مغرب کے بعد ایسا ہی ٹیکسٹ ایک ایسی شخصیت کی طرف سے ملا جو دنیاوی طور پر بهی انتہائی باعلم ہیں اور دینوی طور پر بهی. ماشاءاللہ حج اور عمرے ہی سعادت بهی حاصل کی ہوئی ہے لیکن ان کے ٹیکسٹ میں بهی بعینہ وہی بات تهی. وہی فارورڈڈ پیغام کلچر جہاں ہم ایک لمحہ بهی غور کیے بغیر پیغام آگے بھیجنا اپنا فرض سمجھتے ہیں.
نجانے مجهے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں مار ہی اس لیے کها رہے ہیں کہ ہم ہر سطح پر اور ہر حیثیت میں 'فرائض' کو مذاق میں اڑانے کے عادی ہو گئے ہیں. 

Tuesday, 2 December 2014

دسمبر آ گیا ہے!!!

7 comments
صبح دفتر پہنچ کر سامنے میز پر رکھے کیلنڈر پر نظر پڑی تو یکم تاریخ کا صفحہ نظر آیا۔ سائیڈ پر رکھے ریک سے فائل اٹھانے لگی تو اس پر ابھی تیس تاریخ جگمگا رہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چاچا اس کیلنڈر کا صفحہ پلٹنا بھول گئے ہیں میں نے یکم تاریخ کا صفحہ سامنے کر دیا۔ اور پھر اپنے معمول کے کام شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی کام کے لیے فون اٹھایا تو گوگل پلس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ 'تبدیلی آ چکی ہے۔ نئی پوسٹس پوسٹ ہو چکی ہیں۔ ان کو ملاحظہ فرما لو۔ ورنہ بے خبر رہ جاؤ گی۔' اور فی زمانہ بے خبری کا طعنہ اتنا ہی شدید ہوتا ہے جتنا کسی زیادہ پڑھے لکھے خاندان میں ایک معصوم سے نسبتا کم پڑھے لکھے مسکین کو ان پڑھ کا طعنہ ہوتا ہے۔ اس لیے گوگل پلس کا ڈھیروں شکریہ ادا کرتے ہوئے جلدی جلدی خود کو 'باخبر' کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں پہلی پوسٹ ہی بریکنگ نیوز والی ملی۔
  'Last chapter of year started...' 
یہ 'وارننگ'پڑھتے ہی فوراؐ نظر سامنے پڑی ٹیبل ڈائری پر پڑی تو معلوم ہوا کہ آج تو 'دسمبر' کی یکم تاریخ ہے۔ تب معلوم ہوا کہ واقعی 'تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے' یعنی 'دسمبر آ چکا ہے۔' پھر ان  با خبر صاحبِ پوسٹ اور ایک مشہور صاحبِ کلام سے دورانِ گفتگو ان کے بلاگز پر 'دسمبر کی بلاگ توڑ دھمال' کا ذکر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں 'دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا' سننے کی نوبت آ جائے۔ اس لیے میں بھی بطور سند دسمبر کے بارے میں پوسٹ لکھ رہی ہوں۔ اگرچہ زمانہ 24 گھنٹے آگے نکل چکا ہے کیونکہ میں نے سوچا کل تھا اور لکھ آج رہی ہوں۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں۔ دیر آید درست آید۔
ہاں تو جی واقعی دسمبر کی ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت ہے۔ دسمبر نہ ہوتا تو سال کبھی ختم ہی نہ ہوتا اور سال ختم نہ ہوتا تو پڑھنے والی اگلی جماعت میں نہ جا سکتے اور لکھنے والے یعنی تنخواہ دار طبقہ جنوری کی تنخواہ نہ لے سکتا۔ دسمبر نہ ہوتا تو سردیوں کی چھٹیاں نہ ہوتیں۔ ویسے تو اب اگر سردیوں کی چھٹیاں نہ بھی ہوا کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم تو اب سکول کالج و یونیورسٹی جاتے نہیں۔ اس لیے ہمیں چھٹیوں کا کیا فائدہ بھلا۔ 
دسمبر نہ ہوتا تو ہم قائدِ اعظم کی سالگرہ کب اور کیسے مناتے اور اگر نہ مناتے تو دنیا کے طعنے کون سنتا۔ اب کم از کم ہم ہر سال کے اختتام پر ایک چھٹی کر کے پورا دن قائدِ اعظم کی سالگرہ پورے جوش و خروش کے ساتھ سو کر یا پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھ کر مناتے ہیں۔ یا ٹی وی پر وطن کی محبت میں 'برپا' کیے جانے والے شو دیکھتے ہیں جن میں گانا و بجانا سب کچھ دوسروں سے مستعار لیا ہوتا ہے ۔اور یوں ہم تمام دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ہم اپنے محسنوں کو نہیں بھولے۔
دسمبر نہ ہوتا تو ہم ہر سال 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشیاں کیسے کرتے۔ کم از کم قوم اس مہینے میں مصروف تو رہتی ہے۔ آدھی قوم مشرقی پاکستان و مکتی باہنی کو کوستی ہے اور باقی آدھی مغربی پاکستان کو۔ دنیا کو اب تو ہمارے انصاف پسند اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کے عادی ہونے پر شبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ 
 
شکر ہے کہ دسمبر ابھی 'ہے' اس لیے اب نہ ہونے کے خدشات و پریشانیاں ختم کر کے دسمبر کو منانے کے انداز و فیشن کا ذکر ہو جائے۔
یکم دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی بقول محمد احمد کے 'گوگل ہر سال عرس پر دھمال ڈالتے قلندر ہر اس جگہ بھیجتا ہے جہاں دسمبر کا بیاں ہوا ہو۔' سو اگر آپ پورا سال بھی بلاگ نہیں لکھتے تو دسمبر میں حتیٰ کہ جون جولائی میں بھی دسمبر کے بارے میں کوئی شعر، نظم، غزل، کہانی، یا صرف دسمبر دسمبر ہوتا ہے سردیوں میں آئے یا گرمیوں میں ہی لکھ دیں۔ آپ کے بلاگ پر یہ بلاگ توڑ ٹریفک کا مہینہ ہو گا۔
خیر اگرچہ ابھی دسمبر آیا ہے اور اس کے جانے میں پورے 29 دن باقی ہیں لیکن ہو گا یہ کہ شروع کے دو چار دن تو سب کو خبر دی جائے گی کہ ''دسمبر آ گیا ہے۔" اور ساتھ ہی دسمبر کی منتیں شروع ہو جائیں گی کہ پلیز نہ جاؤ۔۔اور ان درخواستوں کی شدت دسمبر کے آخری ہفتے میں اپنی  بلندیوں کو چھو رہی ہو گی۔ لیکن یہ 'نہ جانے کی ضد نہ کرو' والی درخواست صاحب ذوق لوگوں کی طرف سے ہو گی ۔ چند میرے جیسے بدذوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پلیز ختم ہو جاؤ۔ نیا مہینہ شروع ہونے دو تا کہ پرس تو کچھ بھاری ہو۔
 مزید یہ ہو گا کہ دسمبر کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شعر پڑھے جائیں گے اور انہیں پڑھنے کا مقصد اچھی شاعری خود پڑھنے سے زیادہ دوسروں کو پڑھوانا ہو گا چنانچہ جہاں کسی شعر و کلام میں دسمبر کا لفظ نظر پڑا فورا کاپی پیسٹ کر کے اسے آگے فارورڈ یا پوسٹ کر دیا جائے گا۔ چاہے بعد میں معلوم ہو کہ یہ تو امسال دمسبر تک بل ادا نہ کرنے والے اشتہاری نادہندگان کی فہرست تھی۔
ہر دسمبر میں عوام کی ایک بڑی تعداد ایک اور سنڈروم کا شکار ہوتی ہے اور وہ ہے 'امجد اسلام امجد' صاحب کے 'آخری چند دن دسمبر کے'میں بیان کیے جانے والے خدشات۔ ہر دسمبر بہت سے لوگ اس غم و تشویش میں گُھلے جاتے ہیں کہ ان کا نام کسی کی ڈائری میں درج دوستوں کی فہرست سے کٹ گیا ہو گا۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم بھی ہوتا ہے کہ اب ڈائری کا زمانہ ہے ہی نہیں۔ لوگ سیدھا سیدھا فون پر نام و نمبر محفوظ کرتے ہیں اور کسی کا نمبر ختم نہیں کرتے کیونکہ جب فون کا پیکج لیا ہو تو پھر فری ٹیکسٹ میسج بھی بھیجنے ہوتے ہیں نا۔ اس خدشے کے شکار لوگوں کو یہ بھی تسلی رکھنی چاہئیے کہ شاید ہی کوئی اتنا پابند ہو کہ ہر سال دسمبر میں اپنی ڈائری کو از سرِ نو مرتب کرتا ہو۔ جس نے نمبر ختم کرنا ہے وہ جنوری سے نومبر میں کسی بھی وقت ایسا کر سکتا ہے اب یہ کوئی ایسا کام تو ہے نہیں کہ کسی خاص مہینے میں کیا جائے۔ اس لیے بیچارے دسمبر کو اس بات کا الزام نہیں دینا چائیے۔

خیر کوئی کتنی ہی درخواست کرتا رہے۔ دسمبر نے جانا ہی ہے اور 31 دسمبر کو چلا ہی جاتا ہے۔ اور رُکے بھی تو کیوں۔۔ہر طرح کی اداسی و پریشانی کا الزام دسمبر کے سر جو منڈھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں کو بالآخر یقین آ جاتا ہے کہ دسمبر جا رہا ہے تو جاتے دسمبر کو 'دسمبر اب کے آؤ تو۔۔۔' کہتے ہوئے ایک طویل فرمائشی فہرست اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ باذوق لوگ تو اس میں بھی بہت خوبصورت و دل نشیں الفاظ استعمال کرتے ہوئے جو درخواستیں کرتے ہیں اس کے لیے مجھے پہلے خود اس کی تشریح سمجھنی پڑے گی پھر یہاں لکھنا ہو گا۔ لیکن ان دنوں فیشن کے مطابق سیاست پر بات کرنا اِن ہے تو میں ایک دو لوگوں کی دسمبر سے درخواستوں کے بارے میں 'وکی لیکس' طرز پر کچھ خبر دیتی ہوں۔
موجودہ حکومت: دسمبر اب کے آؤ تو خان و پی ٹی آئی کو اسلام آباد مت لانا۔
خان صاحب: اؤے دسمبر اب کے آؤ تو نواز شریف کا استعفیٰ ساتھ لانا۔
عوام: دسمبر اب کے آؤ تو گیس کی بندش ختم کروانا۔
اور میں: بھائی لوگو دسمبر کو جانے تو دو۔ جائے گا تو آئے گا نا۔ 
 
 

Friday, 10 January 2014

شہیدانِ وطن کے حوصلے!!!

7 comments
میں سوچتی تھی کہ نئے سال میں اپنے بلاگ پر پہلی پوسٹ کچھ مختلف ہی لکھوں گی۔ اسی سوچنے میں دس دن گزر گئے اور پھر کل شام کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد اسلم کی شہادت کے بعد مجھے لگا کہ شاید اب میں وہ پوسٹ نہیں لکھ سکوں گی۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ میرے ملک کے کتنے ہی لوگ ہر دوسرے روز ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذاتی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے ہیرو ہوتا ہے، کتنی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے اور کتنوں کی امید کا مرکز ہوتا ہے۔ میں ان کے نام نہیں جانتی لیکن وہ اور ان کے پیچھے رہ جانے والے میری دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ کتنا آسان ہوتا ہے خبر پڑھ کر یا سن کر ایک طرف رکھ دینا اور کتنا مشکل ہوتا ہے اس خاندان کا تصور کرنا جس کا کوئی پیارا ان سے اس طرح بچھڑ جائے کہ اس کا بے جان وجود بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا واپس ملے۔
میری یہ پوسٹ ان سب کے نام جنہوں نے پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ جو اپنا فرض ادا کرنے کی پاداش میں دشمن کا نشانہ بنے یا جنہوں نے ایک عام پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ 
ایس پی سی آئی ڈی بہت سوں کے لئے امن کی علامت تھے اور بہت سوں کے لئے دہشت کا نشان۔ چاہے ان کے فیصلے اور ایکشن کتنے ہی متنازع رہے ہوں  لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ وہ ایک کمٹڈ،  دلیر اور رسک لینے والے افسر تھے۔ اور ہماری فورسز میں ایسے افسروں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
آج کے روزنامہ ڈان میں ان کے بارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل آیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

میری یہ پوسٹ اس 14 سالہ بچے کے نام بھی ہے جس نے گزشتہ پیر کو ہنگو میں ایک خودکش بمبار کو روک کر اپنے سکول میں موجود دو ہزار بچوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ اعتزاز حسن جو ہنگو آدم زئی میں رہتا اور پڑھتا تھا، کو سکول میں دیر سے پہنچنے پر بطور سزا گیٹ سے باہر نکال دیا گیا۔ اپنے جیسے دیگر بچوں کے ساتھ واپسی کے راستے پر جب ان لوگوں کا سامنا ایک مشکوک خود کش بمبار سے ہوا جس کی جیکٹ کا ایک کونا دیکھ کر انہیں اس کے ارادوں کا اندازہ ہوا تو اس بچے نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے جب اسے پکڑا تو بمبار نے بچے سمیت خود کو دھماکے میں اڑا لیا۔ 

میرے لیے یہ بچہ بھی ہیرو ہے ، وہ ایس پی بھی ہیرو ، آئے روز خودکش دھماکوں کا شکار ہونے والا ایک ایک پاکستانی ہیرو ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو حوصلے قائم رکھے۔ آمین

شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا 

Friday, 4 October 2013

منافقت!!!

4 comments
Felt like re-blogging an old post:
ہم لوگ بڑے بڑے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ملکی حالات سے لیکر بین الاقوامی معاملات کی تجزیہ نگاری میں ہم سے زیادہ کون ماہر ہو گا۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی ذات اور اس کے منسلک مسائل کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا شاید ہمارے پاس اس کا وقت نہیں ہوتا۔۔
'انصاف' کا راگ الاپ الاپ کر ہمارے گلا خشک ہو جاتا ہے لیکن اس رولے میں  یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ کہیں ہماری ذات بھی تو کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بن رہی۔۔کہیں کوئی ایسا مظلوم بھی تو نہیں ہے جو ہمیں ظالم کہتا ہو۔
'احتساب' ہماری دلپسند اصطلاح  ہے ۔۔لیکن اے کاش دوسروں سے پہلے ہم اپنا محاسبہ بھی کر لیں۔۔کہ ہم نے کہاں کہاں اصولوں سے روگردانی کی۔۔کب کب ہمارے لہجے اور عمل میں رعونت در آئی۔۔
  اکثر دوسروں کی 'غلط بیانی' اور 'خود غرضی' کے تمام ثبوت ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ  سوچیں...ہمارے اپنے اندر کس حد تک 'بے غرضی' اور 'سچائی' موجود ہے۔

کہیں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔۔ اوراظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لفظوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ہم خود بھی اپنی زبان، عمل اور رویے کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے تکلیف کی وجہ بن رہے ہیں۔

 نجانے قول و فعل کا یہ تضاد ہماری ذات کا ناگزیر حصہ کیوں  ہے؟

Wednesday, 11 September 2013

میرے قائدِ اعظم !

4 comments
میرے محترم قائدِ اعظم۔۔۔!
آپ سے بات کرنا اس قدر دشوار سا کیوں لگ رہا ہے۔ ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں اور آپ کے کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود میرا سر شرمندگی کے مارے جھکتا ہی جاتا ہے۔ 
ایک وقت تھا جب میں تمام سال اور خصوصاؐ  آپ کی سالگرہ اور برسی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ لہک لہک کر 'یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔۔اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان' گایا کرتی تھی اور کبھی آپ کے تحفے کو ہمیشہ سنبھالے رکھنے کے دعوے یہ کہتے ہوئے کیا کرتی تھی کہ 'اے روحِ قائد! آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔'۔ اور ایسے موقعوں پر میں یہی سمجھتی تھی کہ میرے قائد وہیں سٹیج پر تشریف فرما ہیں اور ہماری باتیں اور وعدے سن کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں لیکن آج میں کچھ کہہ نہیں پا رہی کہ آپ کے چہرے سے چھلکتا غم اور آپ کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی مجھے میری نااہلی اور بے حسی کا احساس دلا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر 'اے قائدِ اعظم! تیرا احسان ہے احسان' کہنا چاہ رہی ہوں لیکن میرے اندر گونجتی ایک آواز یہ کہہ کر کہ 'اگر تم واقعی اسے احسان سمجھتیں تو آج اپنے ہی ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے قائد کی نشانی کو تباہ نہ ہونے دیتیں۔' بہت مشکل سے اس آواز کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر میں 'آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔' کہنے لگتی ہوں تو وہی آواز ایک بار پھر ایک نئے سوال کے ساتھ میرا راستہ روک لیتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ 'پہلے ان تمام وعدوں کا حساب دو جو ہوش سنبھالنے کے بعد روحِ قائد کے ساتھ کئے تھے۔' 
اور جب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 'قائدِ اعظم میں کیسے آپ کو بلکہ آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاؤں کہ میں نے وہ وعدے صدقِ دل سے کئے تھے اور ان کو نبھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ آپ کی میراث کی حفاظت نہ ہو سکی لیکن اس کے لئے میں اکیلی کیا کرتی۔ یہ تو ان ناعاقبت پسند حکمرانوں کی کرنی ہے جس کا نتیجہ ہر طرف پھیلی بے سکونی اور تباہی ہے' توپھر وہی آواز میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔ 'وعدے نبھانے کے لئے 'کوشش' نہیں 'عمل' کی ضرورت ہوتی ہے ، مستقل مزاجی اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہارے جذبے صرف کسی قومی دن پر ہی جاگا کرتے ہیں اور وہ بھی زبان ہلانے کی حد تک۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ان حالات کی ذمہ دار نہیں ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم تو اس قائد سے محبت کی دعویدار ہو جو کہا کرتا تھا کہ قوموں کی تقدیر و تعمیر افراد کے ہاتھ میں ہے اور جب قومی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو تم خود کو صرف ایک اکائی سمجھ کر الگ ہونا چاہتی ہو۔ یاد رکھو وہ 'قائد' بھی ایک فرد ہی تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا لیکن اگر تم یہ سمجھ سکتیں تو آج قائد کے سامنے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتیں'۔

شرمندگی سے میری زبان کُھل نہیں رہی لیکن میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی نااہلی پر معافی مانگ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی نصیحت سننا چاہتی ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود میں آپ کے تحفے کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہوں۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اگر اپنے حصے کا دیا جلا جاؤں گی تو اس کی لَو سے ایک اور دیا ضرور روشن ہو گا۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں آپ کے سامنے شرمندگی سے گردن جھکا کر نہیں بلکہ خوشی سے سر اٹھا کر کھڑی ہوں گی تب مجھے کوئی آواز کچھ کہنے سے نہیں روکے گی۔ 
مجھے یاد آ رہے ہیں آپ کے وہ الفاظ جو آپ نے 1936ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ 
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک عمل سے گزرنا ہو گا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں۔ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ، ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں ، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔" 

 آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔ ہم ایک بار پھر ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جن کا آپ نے اس وقت تذکرہ کیا تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا فرض اور قرض ضرور ادا کرے گا ان شاءاللہ۔ اآئندہ سے وعدے نہیں ہوں گے صرف عمل ہو گا۔

اور اب مجھے لگ رہا ہے آپ مسکرا رہے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے چھ سالہ بھتیجے کی طرح بھرپور جوش اور جذبے سے نعرہ لگاؤں۔

!قائدِاعظم۔۔۔زندہ باد
!پاکستان۔۔۔پائندہ باد 


Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

6 comments
آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


Monday, 29 July 2013

Monday Blues!!

0 comments



سوال یہ ہے کہ



Monday, 30 May 2011

میں بھی دیکھوں گی!

10 comments
خبروں میں دیکھنا اور سُننا اصل صورتحال کا حصہ ہونے سے بہت مختلف ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں ایسی ہی کیفیت سے بارہا سامنا ہوا۔ سفر کا آغاز خدشوں اور خوف سے ہُوا لیکن اختتام دل میں امیدوں کے نئے چراغ جلا گیا۔ ہنگو ٹل روڈ پر ہونے والے دھماکے سے کچھ پہلے ہم لوگوں کا گزر بھی وہیں سے ہوا تھا۔ لیکن ابھی زندگی باقی تھی تو بخیریت واپسی ہو گئی۔ راولپنڈی سے ٹل، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ کے سفر کے دوران سب سے زیادہ سٹرنگز کے اس دل چُھو لینے والی ویڈیو نے بہت ساتھ دیا۔ امید تو ہے کہ میں بھی دیکھوں گی جب ایسا ہو گا پاکستان :pray انشاءاللہ

Just lovin' this video :clap



آڈیو:


میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
میں تو دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے
جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب رنگ برنگے جھنڈے
ایک پرچم میں گُھل جائیں گے
اور اِدھر اُدھر کو جاتے رستے
اک موڑ پہ مل جائیں گے
جب بچے ملک پہ راج کریں
اور سکول میں بیٹھے ہوں سیاستدان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب ملک کو بیچ کے کھانے والے
خود ہضم ہو جائیں گے
اور پشتوں سے جو گدی بیٹھے
سب بھیڑ میں مل جائیں گے
جو دُور گئے تھے بُھولے سے
لوٹیں گے پھر وطن کو ایک شام
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

جب روٹی سستی ہو گی
اور مہنگی ہو گی جان
وہ دن بھی آئے گا
جب ایسا ہو گا پاکستان
میں تو دیکھوں گا
میں تو دیکھوں گا
تم بھی دیکھو گے
تم بھی دیکھو گے

کلام: بلال مقصود
آواز: فیصل کپاڈیہ
موسیقی: سٹرنگز

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

8 comments
واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

Monday, 22 November 2010

آج کا سبق!

10 comments
آج ایک سبق آموز ای-میل ملی۔

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔


کاش ہم سب یہ فلسفہ سمجھ جائیں تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے :smile

Tuesday, 26 October 2010

سیڈ- Seasonal Affective Disorder

7 comments
اللہ اللہ کر کے گرمیاں ختم ہونے کے آثار دکھائی دیئے۔ پہلے دو دن تو مزاج خاصا خوشگوار رہا لیکن کل سے مجھے شک ہونے لگا ہے کہ سردیاں آنے سے پہلے ہی میں SAD کا شکار ہونے لگی ہوں۔ اصل میں دو تین دن پہلے ایک میگزین میں 'ڈپریشن' کے بارے میں مضون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مزید ستم یہ کہ اگلے ہی دن کچھ ڈپریسڈ لوگوں سے ملاقات بھی ہو گئی جن کو ڈپریشن سے نکالنے کی کوشش میں لگتا ہے کہ میں خود بھی ڈپریس ہو گئی ہوں کیونکہ شام تک مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے موجودہ حالات میں ڈپریس ہونا میرا قومی اور انسانی فرض ہے۔ چنانچہ شعوری اور لاشعوری کوشش کت بعد بالآخر مجھے کسی حد تک کامیابی حاصل ہو ہی گئی۔۔۔ کیونکہ کل دن میں میری ایک کولیگ کسی کام سے میرے پاس آئی تو کچھ اس طرح کا مکالمہ ہوا۔
کولیگ: 'تم ٹھیک ہو؟'
میں: '' بالکل'
کولیگ: 'لگ نہیں رہیں۔'
میں: 'کیوں ۔ بہت تھکی ہوئی ہوئی لگ رہی ہوں؟'
کولیگ: ' نہیں۔ بہت اَکی ہوئی (بیزار) لگ رہی ہو۔'
میں: 'واؤ۔ تمھارا مطلب ہے۔ ڈپریشن۔ گڈ"

چنانچہ کل شام میں نے گھر میں بھی اعلان کر دیا کہ میں شدید ڈپریس ہوں اس لئے میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ذپریشن اصل والی ٹینشن میں اس وقت بدلا جب مجھے احساس ہوا کہ موسم تو کافی ٹھنڈا ہو گیا ہے اور میرے چند نئے لباس جومیں کافی دن سے سلے رکھے ہیں وہ یوں ہی پڑے رہ جائیں گے۔ اب میں دوبارہ اکتوبر کے آنے کا انتظار تو نہیں کر سکتی۔ کیا معلوم تب تک زندگی ہے بھی نہیں اور میرے اتنے اچھے کپڑے اگر کسی اور کو مل گئے تو مجھے کیا فائدہ۔ :hmm: اس مہا ٹینشن کے بعد مجھے لگا کہ SAD نے حملہ کر دیا ہے۔
ویسے تو میں ہر سال اس بیماری کا شکار ہوتی ہوں لیکن ایسا شدید سردیوں میں ہوتا ہے خصوصاً جن دنوں میں پاکستان سے باہر ہوں۔ شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں پاکستان کو مس کر رہی ہوں لیکن بعد میں میرے GP نے بتایا کہ یہ Seasonal Affective Disorder (SAD) ہے۔ جس میں انسان میری طرح دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے۔ نیند بہت آتی ہے اور بھوک بہت لگتی ہے۔  کام کرنے کو بالکل بھی دل نہیں چاہتا۔ ویسے میرے گھر والوں کے خیال میں آخری تین علامات تو میرے اندر تمام سال موجود رہتی ہیں :sh حالانکہ سیڈ کے مریض کے لئے صبح اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے جو کہ میرے ساتھ مسئلہ نہیں ہے۔ میں صبح تو اٹھ جاتی ہوں آرام سے۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ دو بجے چھٹی کے بعد رات ہو جایا کرے تا کہ دن میں سو کر شام میں اٹھنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے :smile
سیڈ کے علاج میں سب سے موثر فوٹو تھراپی ہے جس میں مریض کو کچھ دیر کے لئے تیز روشنی کے سامنے بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ وقتی طور پر روزمرہ معمولات میں تبدیلی بھی مزاج درست کر دیتی ہے۔
ویسے میں سچ مچ میں سیڈ کا شکار نہیں ہوتی بس وقتی طور پر winter blues کے زیرِ اثر ضرور آتی ہوں :confused وہ بھی ایک آدھ دن کے لئے۔
لیکن آجکل مجھے کچھ شک ہو چلا ہے کہ پاکستانی عوام و خواص دونوں بری طرح SAD کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس میں موسم کی قید نہیں ہے۔ دیکھیں ناں وہی قوم جس کو اقبال مرحوم نے کتنی دقتوں سے جگایا تھا ایک بار پھر اسی طرح خوابِ غفلت میں کھوئی پڑی ہے۔ ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ امن و سلامتی تو ایک طرف رہی۔ ہمارے سامنے ہمارے اپنے لوگ قدرتی آفات کا شکار ہیں اور ہمیں پروا نہیں۔ ہمارے بچے اور نوجوان بلکہ پورا معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو رہا ہے ہمیں احساس نہیں ہو رہا۔ اور حکمرانوں اور رہنماؤں کی بھوک ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سب کچھ ہڑپ کر لینے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی بھوکے ہیں۔ اور مزید یہ کہ مین حیث القوم ہم انتہائی سُست قوم ہوتے جا رہے ہیں۔ کام میں دل نہیں لگتا اور تقریر و تحریر میں سب سے آگے (میری طرح )۔ :party
اللہ جانے ہمارے اس SAD کا کیا علاج ہو گا اور وہ کون سی روشنی ہو گی جو ہماری فوٹو تھراپی کے لئے موثر ثابت ہو گی۔ :-s

Monday, 4 October 2010

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم!

4 comments
لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے سید ضمیر جعفری مرحوم کے مجموعے'میرے پیار کی زمیں' پر نظر پڑی۔ چھوٹی سی کتاب آغاز سے اختتام تک وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ زیادہ تر کلام 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے متعلق ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ صرف کیلنڈر پر سال بدلے ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں بدلا ۔ اور اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے۔۔۔ہر دل زخمی اور ہر گھر مقتل :-(



اے ارضِ وطن!



(1)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(2)
ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی
بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی
جلتی راہو! اُٹھتی آہو!
گھائل گیتو! بِسمل نغمو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(3)
افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں
اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں
ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو!
روندی قدرو! مَسلی کلیو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(4)
ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا
ایک آدھ سُنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا
سُونی گلیو! خُونی رستو!
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(5)
بیواؤں کے سر کی نم چادر، خوش وقتوں کی بانات ہُوئی
جو تارا چمکا ڈُوب گیا، جو شمع جلائی رات ہُوئی
ہنستے اشکو! جمتی یادو!
دُھندلی صبحو! کالی راتو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(6)
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء
(قلعہ سوبھا سنگھ)




اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
04 اکتوبر 2010ء

Thursday, 2 September 2010

نظام سقہ

9 comments
سوال: اگر آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بننے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
جواب: 1۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان خصوصاً سحری اور افطاری کے اوقات میں۔ مزید برآں دونوں جگہوں پر یو-پی-ایس اور جنریٹر پر پابندی۔
2۔ فضائی دورے کے دوران وزیرِ اعظم صاحب کے سامنے باداموں کے بجائے متاثرینِ سیلاب کو میسر پینے کے پانی کی بوتل کی فراہمی۔
3۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستانی عوامی نمائندوں کو ان کے عوامی حلقوں میں بطور عوام کم از کم ایک ہفتہ گزارنے کی پابندی۔
4۔ پاکستانی ٹی وی نیوز چینلز پر بریکنگ نیوز اور سیاسی ٹاک شوز دکھانے پر مکمل پابندی۔

اور آپ؟

Friday, 13 August 2010

ہفتہ کتب و کتب خانہ: راولپنڈی کے کتب خانے

11 comments
معذرت شگفتہ، بہت دنوں سے آپکے ہفتہ کتب کے بارے میں لکھنا تھا بلکہ اتفاق سے جن دنوں آپ نے اس مہم کا آغاز کیا تو میں بھی راولپنڈی میں لائبریریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ سو آپکی پوسٹس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی سوچا اسی بہانے میں بھی کچھ لکھ لوں گی لیکن :what
خیر اپنی ازلی روایت 'ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں' پر قائم رہتے ہوئے میں ہفتہ کتب کے پہلے مرحلہ کے اختتام کے بعد یہ پوسٹ کر رہی ہوں۔
میرا لائبریری اور کتابوں سے تعارف کیسے اور کب ہوا، اس بارے میں پھر کبھی لکھوں گی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے کہ کوئی ایسی جگہ جہاں میں ہمیشہ جانا چاہوں یا جا کر کبھی بور نہ ہوں تو میرا جواب لائبریری ہو گا۔ باوجود اس کے کہ میرا مطالعہ بہت محدود ہے، میرا لائبریری جانے کا شوق کبھی کم نہیں ہوتا۔
سکول اور کالج کی لائبریریوں کے بعد پہلی بڑی لائبریری جہاں میں باقاعدگی سے جاتی اور گھنٹوں وقت گزارتی ، پنجاب یونیورسٹی کی مین لائبریری تھی۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری سے تو دوستی تھی ہی لیکن مین لائبریری میں دیگر کتب بھی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملتا۔ پھر لاہور میں ہی پنجاب پبلک لائبریری اور قائد اعظم لائبریری میں بھی جانا ہوتا تھا۔
اسی طرح اسلام آباد میں نیشنل لائبریری اور برٹش کونسل کی لائبریری بھی دیکھیں۔ ہاں راولپنڈی کا چونکہ مجھے اتنا علم نہیں تھا تو یہاں لائبریریاں ڈھونڈنے میں مجھے بہت مسئلہ ہوا۔ راولپنڈی میں رہنے والوں سے اگر پبلک لائبریریوں کا پوچھو تو اکثریت اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہیں اور آرمی سنٹرل لائبریری کے علاوہ دیگر دو پبلک لائبریریوں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
آرمی سنٹرل لائبریری جی-- ایچ- کیو کے قریب آرمی -میوزیم کے ساتھ واقع ہے۔ لیکن یہ پبلک لائبریری نہیں ہے۔ یہاں صرف فوج سے منسلک افراد ہی ممبرشپ لے سکتے ہیں اور ان میں بھی نان کمیشنڈ یا جونیئر رینکس کے لئے ممبرشپ کھولی نہیں جاتی۔ یہاں کتابیں تو بہت ہیں لیکن زیادہ تر سیکشنز میں پرانی اور خستہ حال کتب ملیں گی۔ ہاں حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی حالات سے متعلق کافی اچھا ذخیرہ موجود ہے۔ ہاںتقریباً ہر اہم میگزین اور جرنل یہاں باقاعدگی سے منگوایا جاتا ہے۔ چند کمپیوٹرز بھی موجود ہیں جن پر کبھی کبھار کوئی کام کرتا دکھائی دے ہی جاتا ہے۔








دوسری لائبریری کنٹونمنٹ بورڈ لائبریری ہے۔ یہ لائبریری 1891ء میں بنی تھی اور اس کے بانی دو بھائی سردار سجن سنگھ اور سردار کرپال سنگھ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ لائبریری برٹش کونسل کے حوالے کر دی گئی جس نے یہاں اپنی لائبریری بنائی۔ 1979ء میں سعودی عرب میں خانہ کعبہ کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے برٹش کونسل لائبریری کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور پھر اس کے بعد برٹش کونسل نے اپنی لائبریری اسلام آباد منتقل کر لی۔ اس وقت کنٹونمنٹ لائبریری صدر میں کامران مارکیٹ کے پہلی منزل پر واقع تھی۔ برٹش کونسل لائبریری کے اسلام آباد شفٹ ہو جانے کے بعد کنٹونمنٹ لائبریری کو اس عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ 2009ء میں اس کے ایک اور بلاک کا اففتاح ہوا اور کینٹ بورڈ کی حدود میں واقع پرانے اوڈین سینما کو بھی لائبریری میں شامل کر دیا گیا۔ اس لائبریری میں کتابوں کا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ لائبریری کی ممبرشپ فیس دو طرح کی ہے۔ 200 فیس کے ساتھ آپ محدود قسم کی کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں جبکہ 400 روپے فیس پر آپ تمام کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں۔ لیکن ممبرشپ لیتے ہوئے آپکو اچھیی خاصی سیکیورٹی بھی جمع کروانی پڑتی ہے۔ بہرحال لائبریری میں موجود کتب کو دیکھ کر جیب ہلکی ہونے کا احساس خاصا کم ہو جاتا ہے۔

تیسری لائبریری میونسپل لائبریری ہے جسے راولپنڈی کی قدیم ترین لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ لائبریری 1868ء میں قائم ہوئی اور لیاقت باغ میں واقع ہے۔ بلاشبہ یہاں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 2001ء کے سیلاب میں لائبریری کی تقریباً نصف سے زیادہ کتب ضائع ہو گئی تھیں اس کے باوجود یہاں اس وقت 50،000 سے اوپر کتابیں موجود ہیں۔ جن میں خاصی نایاب کتب بھی موجود ہیں۔ لائبریری فیس 250 روپے سالانہ ہے جو یقینناً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں ایک مسئلہ ہے کہ آپ ایک وقت میں دو سے زیادہ کتب ایشو نہیں کرا سکتے اور ایک ہفتے سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ کتب رینیو کرانے کے لئے آپ کو لائبریری آنا پڑتا ہے اور فون یا کمپیوٹر پر رینیو کرانے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ کمپیوٹرسے خیال آیا کہ لائبریری کے کمپیوٹر سیکشن میں ایک عدد کمپیوٹر موجود ہے جسے آسانی سے آثارِ قدیمہ کے نوادرات میں شامل کرایا جا سکتا ہے۔ ممبرشپ لینے کا طریقہ خاصا دلچسپ ہے۔ آپ کو لائبریرین سے ہی دو پوسٹل لفافے خرید کر ان کے حوالے کرنے ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور ایک پر اپنا پتہ لکھ کر۔ پتہ لکھے لفافے میں ایک عدد چھپا ہوا کاغذ ڈالا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ نے لائبریری ممبرشپ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ اپنی خواہش پوری کر لیں ۔ اس قصد کے لئے یہ کاغذ، ڈاک کا مہر شدہ لفافہ جس میں یہ کاغذ آپ کو ملا، اور دیگر ضروری کاغذات لیکر کر لائبریری پہنچ جائیں۔ یہ لفافہ آپ کے حوالے کیا جاتا ہے اس تاکید کے ساتھ کہ خود کو پوسٹ کر دیں۔ جب آپ کو مل جائے تو ہمارے پاس آئیں۔ اور خبردار بغیر مہر کے لفافہ لانے کی غلطی مت کرنا۔ ساتھ ہی آپ کو ایک فارم دیا جاتا ہے جو پُر کر کے لفافے کے ساتھ آپ کو لانا ہو گا :smile


سنٹرل لائبریری اور میونسپل لائبریری میں چپکے چپکے میں نے چند تصویریں لی تھیں مبادا کوئی مجھے دہشت گرد سمجھنتے ہوئے حساس معلومات اکٹھے کرنے کے الزام میں پکڑ نہ لے :shy:

حوالہ:

Tuesday, 15 June 2010

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو!

15 comments
یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دو دن سے میں بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ پرسوں دن 11 بجے اچانک معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ورکشاپ کم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اور جانا براستہ سڑک ہے۔ سو دو گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر تیاری کی اور بھاگم بھاگ لاہور چا پہنچے۔ سفر شروع ہوتے ہی لاہور میں گزرا وقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ یاد آنا شروع ہوا اور پھر کل رات واپسی کے بعد بھی یہ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں تقریباً پانچ سال کے بعد لاہور گئی لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ دن کے وقفے سے واپسی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ جانا آنا بس سونے، میٹنگ ہال پہنچنے اور پھر گاڑی کے واپس گھر کو روانہ ہونے محدود رہا لیکن پھر بھی یاد رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی اور اپنے ہاسٹل جانے کی حسرت دل میں ہی رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آتے جاتے دونوں بار نیو کیمپس یونیورسٹی گراؤنڈ، پانی کی بڑی ٹینکی اور کھیت دکھائی دیتے رہے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں میں نے اپنی زندگی کا اکلوتا مشاعرہ اٹینڈ کیا۔ بڑے بڑے شعراء کو دیکھا اور گھر جا کر خوب شو ماری۔ یہ اور بات ہے حسبِ معمول سب نے متاثر ہونے سے صاف انکار کر دیا  انور مسعود ، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ضیاءالحق قاسمی تو وہ نام ہیں جو ہمارے پسندیدہ شعراء میں شامل تھے۔ جند ایسے شاعر بھی موجود تھے جن کی شاعری تو پہلے ہی پلے نہیں پڑتی تھی لیکن اس مشاعرے کے بعد تو شاید ہی میں نے کبھی ان کو کلام پڑھا ہو۔ وصی شاہ، فرحت عباس شاہ بھی موجود تھے۔  منیر نیازی نے کرسی پر بیٹھ کر صدارت کی کیونکہ وہ ان دنوں بیمار تھے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ سے کچھ ہی فاصلے پر ہمارا ہاسٹل تھا۔ جہاں رہتے ہوئے کبھی یہ اس جگہ اور اس وقت کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سعید انکل اپنی چھوٹی سی ٹک شاپ جسے ہم انتقاماً سعید انکل کا کھوکھا کہتے تھے، ملتا تھا۔ جہاں سے آتے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا اور انکل کو بتا کر ان کی سوئٹس چوری کرنا سب کا من پسند مشغلہ تھا۔ اسی طرح آتے جاتے لعل انکل کی دعائیں لینا اور نصحیتیں سننا بھی معمول کا حصہ تھا۔ تعصب انکل جو سوائے نام کے تعصب کے سراپا شفقت تھے اور نزاکت جو اتوار کی صبح آلو والے پراٹھے تقسیم کرتا اپنے آپ کو وائس چانسلر سے کم نہیں سمجھتا تھا، یہ سب انہی یادوں کا حصہ ہیں۔ افسوس ۔۔رہے گا کہ لاہور جا کر بھی یونیورسٹی جانا ممکن نہیں ہوا 
برکت مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ شامیں یاد آئیں جب ہم لوگ شاپنگ کرنے جاتے لیکن اکثر گھنٹوں اولڈ بک شاپ پر گزار کر کورس سے غیر متعلقہ ڈھیروں کتابیں اٹھا کر واپس آ جاتی تھیں۔
ماڈل ٹاؤن سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآن اکیڈمی دکھائی دی تو دل مزید اداس ہو گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں
نہر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے کیمب کے بورڈ پر نظر پڑی تو ناسٹلیجیا انتہا کو چھونے لگا۔ ریسرچ کے دنوں میں کڑکتی دھوپ میں نیو کیمپس سے یہاں تک اکثر پیدل مارچ کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ابھی ہمارا روٹ ایسا تھا کہ ہم مین نیو کیمپس سے نہیں گزرے لیکن نہر اورر فیروز پور روڈ سے وہ نظم یاد آ گئی جو شاید لاء کالج کے کسی اولڈ سٹوڈنٹ نے نیو کیمپس پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھی تھی۔
کچھ لائنیں یاد ہیں۔ جو میں واپسی کے سفر میں موٹر وے آنے آنے تک ساتھ بیٹھی اپنی سینئر کو سنا کر تنگ کرتی رہی۔

جہاں چڑیوں کی چہکار بھی ہے
جہاں پھولوں کی مہکار بھی ہے
جہاں شجرِ سایہ دار بھی ہے
جہاں سہپن سپنے سجتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

جہاں کپڑا سستا دُھل جائے
جہاں ماضی کا غم بُھل جائے
جہاں اچھا خاصا پڑھنے والا
کاریڈوروں میں رُل جائے
جہاں سرد سموسے ملتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

کافی طویل نظم تھی اور بہت مزے کی۔ لیکن یاد نہیں ہے اب۔
لاہور کی حدود سے نکلتے ہی احساس ہوا کہ ایکسائٹمنٹ اپنی جگہ لیکن دو دن کے میراتھن سفر نے کافی تھکا دیا تھا۔ اور اس افسوس نے بھی کہ کاش باقی کا شہر بھی یوں ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گھوم لیتے۔
اب ان ساری غیر ضروری باتوں کے بعد ایک کام کی بات۔ اگر آپ کسی ایسے تعلیمی ادارے (سکول/ کالج) کے بارے میں جانتے ہیں‌ جہاں اساتذہ اور بچے Effective teaching learning (معذرت کہ اس وقت ذہن میں اس کی با محاورہ اردو نہیں آ رہی) کے ماحول میں کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے برطانوی سکولز کے ساتھ پارٹنرشپ کرائی جا سکتی ہے اور یوں دونوں طرف کے ادارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ اور سکھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے سکولز کے بڑا چھوٹا،سرکاری، نجی، نیم سرکاری، امیر غریب، بڑے چھوٹے شہر سے ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف کام کرنے کا جذبہ شرط ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسا کوئی ادارہ ہے چاہے اس کو ایک استاد ہی کیوں نہ چلا رہا ہو۔ تو مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔
میں انشاءاللہ جلد ہی اس سلسلے کی تعارفی پوسٹ لکھوں گی اور یہ بھی کہ بلاواسطہ طور پر اس پروگرام کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ سے کسی ایک سکول کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہو گا۔

Friday, 28 May 2010

ملتان۔ صوفیاء کی سرزمین

5 comments
زندگی خلافِ توقع مصروف سے مصروف ترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے کام اور بہت سی مصروفیات جن کے بغیر کبھی گزارہ نہیں ہوتا تھا، اب بھولتے جا رہے ہیں :( لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔
اس سال مارچ میں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے لئے ملتان دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں بہت پُرجوش تھی کہ ایک تاریخی اور خوبصورت جگہ دیکھنے جا رہی ہوں (اگرچہ ایسا ہو نہیں سکا :-( )
مسلسل دو ہفتے خرابی موسم کی وجہ سے بالآخر تیسرے ہفتے اللہ اللہ کر کے فلائٹ کنفرم ہو ہی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جب تک جہاز کم 'بس' نے ٹیک آف نہیں کیا یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں پھر نہ اٹھنا پڑ جائے۔ :confused
یہ پی آئی اے کا اے۔ٹی۔ آر جہاز تھا جس میں سیٹیں ایسے لگی ہوئی تھیں جیسے عام کوسٹر میں ہوتی ہیں۔ سارا وقت یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہم براستہ سڑک ملتان جا رہے ہیں۔ بس باہر زمین کے بجائے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میں حسبِ معمول ناشتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے بغیر گھر سے نکلی تھی ایئرپورٹ آتے ہوئے جب بھائی سے کچھ کھانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ دیر ہو جائے گی۔ جہاز میں سنیکس مل جائیں گے۔ خاموش کرا دیا :cry: ۔ اور پھر جب جہاز میں سنیکس ملے تو میرے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔ ایک عدد سادہ کیک جو بہت اچھی طرح پیک کیا گیا تھا جیسے کہ کبھی کسی نے اسے کھانا ہی نہیں ہے۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب میں نے ایئر ہوسٹس سے چائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شانِ بے نیازی دے جواب دیا کہ ڈومیسٹک فلائٹ میں چائے نہیں دی جاتی :humm مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی پُر شفقت انداز میں پیشکش کی لیکن آپ کے لئے میں ابھی چائے لیکر آتی ہوں :shy: ۔ چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ میں نے وہ یادگار کیک کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھائی صاحب سے بھرپور قسم کی جنگ کا پروگرام فائنل کیا۔ :hello

ملتان ایئرپورٹ بہت چھوٹا سا ہے۔
'اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا' کے مصداق ایک اور سفر کا آغاز ہوا۔ کیونکہ ہمیں ملتان شہر کے بجائے 'عبدالحکیم' جانا تھا۔ جو ملتان سے تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ عبد الحکیم سے متعلق مجھے نیٹ سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور جاتے ہوئے میں اس قدر تھک چکی تھی کہ نوٹس لے سکی نہ تصویریں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ سدھنائی یا سندھانی نہر اسی راستے میں آئی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ سو گرمی کی شدت کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ سب نے خوب ڈرا رکھا تھا کہ مارچ میں جون جولائی والی گرمی ملے گی۔ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد جو عمارتیں دکھائی دیں ان میں سرخ اینٹوں کے ساتھ نیلی ٹائلوں کا استعمال دکھائی دیا جو ملتان کے راویتی طرزِ تعمیر کا خاصہ ہے۔
اڑھائی گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد عبدالحکیم پہنچے تو کھانے کے بعد ایسا سوئے کہ اگلے دن کی خبر لی۔ دن کی گہماگہمی میں بھی عبدالحکیم میں سکون اور ٹھہراؤ محسو س ہوتا تھا۔ شہروں کے رش اور شور شرابے سے اُکتائے ہوئے لوگ اسی سکون کو ترستے ہیں۔ پھر یہ جان کر خالص دودھ اور سبزیاں اس دام سے بھی کم ملتی ہیں جس پر بڑے شہر والوں کو دودھ ملا پانی اور باسی پھل اور سبزیاں ملتی ہیں ، ہم لوگوں کا رشک حسرت میں بدل گیا :D عبدالحکیم میں وقت بہت تیزی سے گزرا کہ ہمیں دن دو بجے واپس ملتان کے لئے روانہ ہونا تھا اس لئے تصویریں نہیں لی جا سکیں۔ ہاں کھڈی کے وہ سٹال جو ہم لوگوں کے لئے لگایا گیا تھا ، سے خریدا گیا کھڈی کا کپڑا عبدالحکیم کی سوغات کے طور پر ہمارے ساتھ آیا۔ :smile
ایک بار پھر انہی راستوں سے گزرتے واپس ملتان پہنچے۔ چونکہ سارا دن بہت مصروف گزرا تھا ، کہیں بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا حالانکہ میں بے صبری سے ملتان میں صوفیاء کے مزار دیکھنے کے انتظار میں تھی لیکن لوڈ شیڈنگ اور گرمی نے تھکن کو کئی گُنا بڑھا دیا اور اگلے دن کی مصروفیت کا سوچ کر ارادہ بدل لیا۔
اگلے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ آنٹیوں اور باجیوں کی پہلی ترجیح خریداری ہوتی ہے، وہ ہمیں بھی ساتھ گھسیٹ کر بازار لے گئیں۔ لالچ وہی کھڈیاں دکھانے کا دیا گیا۔ ملتان شہر کی تعمیرِ نو کی جا رہی ہے اس لئے عجیب و غریب راستوں سے گزر کر اس بازار پہنچا گیا جس کا راستہ ہماری اقامت گاہ سے صرف 15 منٹ کا بنتا تھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھ کر ساری کوفت ختم ہو گئی۔ گرمی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کپڑا بُنتے محنت کش کو دیکھ کر ہنر مند ہاتھوں کی عظمت کا احساس ہوا۔ کپڑے کی خوبصورتی اور ڈیزائن دیکھ کر یہ بھی جانا کہ ہُنر کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سب متاثرینِ کھڈی ، دکانوں کی طرف چل دیئے اور حسبِ روایت ایک ایک دکان پر گھنٹوں لگا کر شام کو لدے پھندے واپس آئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل اور انتہائی نفیس کھڈی پر بنا کپڑا بہت سستے داموں ملتا ہے۔ اس لئے سب نے گرمیوں کی تقریباً تمام شاپنگ یہیں سے کر لی۔ :smile
یہ انکل کھڈیوں پر کپڑا بُن رہے تھے۔ :cn
اگلی شام ملتان کی مشہور صنعت Blue Pottery دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن اس کی کہانی اور تصاویر اگلی قسط میں انشاءاللہ۔
blue pottery
تصویر کا حوالہ

Thursday, 7 January 2010

جد وجہد

2 comments


Listen to The Climb

The Climb
I can almost see it
That dream I'm dreaming but
There's a voice inside my head sayin,
You'll never reach it,  :-(
Every step I'm taking,
Every move I make feels
Lost with no direction :cryin
My faith is shaking but I
Got to keep trying
Got to keep my head held high
There's always going to be another mountain :what
I'm always going to want to make it move :quiet:
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb  :)
The struggles I'm facing,
The chances I'm taking
Sometimes they knock me down but :sad:
No I'm not breaking :dont
The pain I'm knowing :sadd:
But these are the moments that
I'm going to remember most yeah :)
Just got to keep going
And I,
I got to be strong :smile
Just keep pushing on,
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle, :uff
Sometimes you going to have to lose,  :cry:
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
Keep on moving
Keep climbing
Keep the faith baby
It's all about
It's all about
The climb
Keep the faith
Keep your faith :pray

Singer: Joe McElderry



Friday, 11 December 2009

میں نے یہ جانا!

2 comments
“ہم لوگوں کے لئے یہی ایک مقامِ غور ہے کہ ہم زندگی فرعون کی چاہتے ہیں اور عاقبت موسیٰ کی”
‘گُمنام ادیب۔ واصف علی واصف’









“زندگی غموں اور خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ تعلیم کا وسیع ترین مفہوم یہ ہے کہ جسم اور ذہن دونوں کی تربیت ہو اور ایسی متوازن شخصیت تشکیل پائے جو ہر طرح کے حالات میں خود کو سنبھال سکے۔ اور زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ آسانی سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔ یہ محض سکول کی پڑھائی اور کتابوں کے علم سے ممکن نہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر ماں کے رویے اور اور تربیت پر ہے۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ بچے میں خود نظمی اور کردار کی کی مضبوطی پیدا کرنے میں مدد کرے۔ حقیقی محبت یہ نہیں کہ بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کی جاتی رہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اُسے منظم ہونا اور ضرورت کے مطابق حالات کو سمجھنا سکھایا جائے۔”
‘اندرا گاندھی۔ میرا سچ’

Tuesday, 22 September 2009

عید الفطر (ستمبر 2009)

3 comments
S1051554

عید الفطر مبارک


عید کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے ہیں اس دن کے لیے