Showing posts with label حمد و نعت. Show all posts
Showing posts with label حمد و نعت. Show all posts

Thursday, 1 August 2013

میری توبہ!

2 comments


میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ

مجھے معلوم ہے مجرم ہوں میں اور تُو میرا حاکم
جبھی تو آج میری آنکھ میں اشکوں کی ہے رِم جِھم
کوئی بندہ تیرے در پر جو آنسو رول دیتا ہے
میرے مولا درِ توبہ تُو اُس پر کھول دیتا ہے
تُو ضرور سُنے گا میرے دل کی صدا
میری توبہ میری توبہ

تیرے در پر کیوں نہ میں سوال کروں، تُو رحیم بھی ہے کریم بھی ہے
میں تو پست بھی ہوں ، حقیر ہوں ، تُو بلند بھی  ہے تُو عظیم بھی ہے
جو میں جھیل چُکا ہوں وہ بہت ہے سزا
میری توبہ میری توبہ

غم کا مارا ہوں ، بے سہارا ہوں، ہُوں بُرا یا بھلا تمہارا ہوں
میری توبہ میری توبہ

میرے گناہ زیادہ ہیں یا تیری رحمت
کریم تُو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے
میری توبہ میری توبہ

مجھے کر دے معاف اپنے رسولِ پاک (صعلم) کے صدقے
خطائیں بخش دے میری شہِ لولاک (صعلم) کے  صدقے
میرے مالک دہائی ہے تجھے آلِ پیمبر کی
رہا کر دے غموں سے کربلا کی خاک کے صدقے
اندھیروں میں مجھے تابندگی دے دے میرے مولا
نیا مجھ کو شعورِ زندگی دے دے میرے مولا
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ

Monday, 28 December 2009

مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا- نعت

2 comments
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا



مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
یہ کہہ دینا ، ہزاروں عیب رکھتا ہوں ، ہنر دینا
نہ دل دینا ، نہ در دینا، نہ زر دینا، نہ گھر دینا
تمہیں دیکھا کروں آٹھوں پہر ، ایسی نظر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

کئے ہیں جُرم اتنے اس لیے پچھتا رہا ہوں میں
گناہوں کے بھنور میں ڈوبتا ہی جا رہا ہوں میں
چلا آیا تیرے در پر تو بیڑا پار کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

شبِ اسراء کے دولہا تمہاری دُھوم ہے گھر گھر
پلاتے ہو مئے توحید مستانوں کو بھر بھر کر
سوالی ہوں تیرے در کا ، مری جھولی کو بھر دینا
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

نعت خواں: علی حمزہ (نُوری)

Friday, 28 August 2009

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

1 comments

 

2135194437_3b08b4aa4e

 

یااللہ!

تری آزمائشوں سے ہُوں بے خبر

یہ میری نظر کا قصور ہے

تری راہ میں قدم قدم

کہیں عرش ہے کہیں طُور ہے

یہ بجا ہے مالکِ دو جہاں

میری بندگی میں فتور ہے

یہ خطا ہے میری خطا مگر

تیرا نام بھی تو غفُور ہے

یہ بتا! میں تُجھ سے ملوں کہاں

مجھے تُجھ سے ملنا ضرور ہے

کہیں دل کی شرط نہ ڈالنا

ابھی دل گناہوں سے چُور ہے

تُو بخش دے مرے سب گناہ

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

Wednesday, 11 March 2009

ہادیٔ دو جہاں ہو سلام آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) پر

2 comments


بہشتِ بریں کے کُھلے باب سارے ، فلک سے ملائک سلامی کو اُترے
ہوئی سرورِ انبیاء کی ولادت، زمین جگمگائی، فلک جگمگایا
(حفیظ تائب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو فلسفیوں سے کُھل نہ سکا، جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اِک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں
(ظفر علی خان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالک ہے جو کہ جادۂ عشقِ رسول میں
جنت کی راہ اس کے لئے ہے کُھلی ہوئی
(ابوالکلام آزاد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چمکا ہے تری ذات سے انساں کا مقدر
تُو خاتمِ دوراں کا رخشندہ نگیں ہے
(صُوفی غلام مصطفیٰ تبسم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب ٹوٹتی ہیں
نُور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
(احمد ندیم قاسمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ان کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہو جائے
جب ان کا نام آئے مرحبا صلِ علیٰ کہیے
(ماہر القادری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ جس نے آدمی کو آدمی کا مرتبہ بخشا
ازل سے تا اَبد امجد درُود اُس پر، سلام اُس پر
(امجد اسلام امجد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 ربیع الاوّل 1430 ھ

Sunday, 28 September 2008

نعت: یا رحمتہ العالمیں. مظفر وارثی

4 comments


یا رحمتہ العالمیں
الہام جامہ ہے تیرا
قرآں عمامہ ہے تیرا
منبر تیرا عرشِ بریں
یا رحتمہ العالمیں

آئینہء رحمت بدن
سانسیں چراغِ علم و فن
قربِ الٰہی تیرا گھر
الفقر و فخری تیرا دھن
خوشبو تیری جوئے کرم
آنکھیں تیری بابِ حرم
نُورِ ازل تیری جبیں
یا رحمتہ العالمیں

تیری خموشی بھی اذاں
نیندیں بھی تیری رتجگے
تیری حیاتِ پاک کا
ہر لمحہ پیغمبر لگے
خیرالبشر رُتبہ تیرا
آوازِ حق خطبہ تیرا
آفاق تیرے سامعیں
یا رحمتہ العالمیں

قبضہ تیری پرچھائیں کا
بینائی پر ادراک پر
قدموں کی جنبش خاک پر
اور آہٹیں افلاک پر
گردِ سفر تاروں کی ضَو
مرقب براقِ تیز رَو
سائیس جبرئیلِ امیں
یا رحمتہ العالمیں

تو آفتابِ غار بھی
تو پرچم ِ یلغار بھی
عجز و وفا بھی ، پیار بھی
شہ زور بھی سالار بھی
تیری زرہ فتح و ظفر
صدق و وفا تیری سپر
تیغ و تبر صبر و یقیں
یا رحمۃ للعالمیں

پھر گڈریوں کو لعل دے
جاں پتھروں میں ڈال دے
حاوی ہوں مستقبل پہ ہم
ماضی سا ہم کو حال دے
دعویٰ ہے تیری چاہ کا
اس امتِ گُم راہ کا
تیرے سوا کوئی نہیں
یا رحمتہ العالمیں

شاعر: مظفر وارثی

یا رحمتہ العالمیں
نعت خواں: خورشید احمد

Sunday, 20 April 2008