Wednesday, 29 December 2010

پشاور سے واپسی تین دن پہلے ہو گئی تھی۔ میں زندگی میں پہلی بار پشاور جا رہی تھی تو بہت خوش تھی۔ اس سے پہلے نوشہرہ جانا ہوا تھا کافی عرصہ پہلے۔ جب میرے ابا جان کی تبدیلی وہاں ہوئی تھی۔ ہم لوگ نوشہرہ شفٹ تو نہیں ہوئے تھے لیکن گھومنے ضرور گئے تھے۔ یہ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نوشہرہ کو گلابوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ نہایت خوبصورت اور تقریباً ہر رنگ کے گلاب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہرحال پشاور جانے کا بھی ایک عرصے سے شوق تھا لیکن وہی بات کہ اب تو کہیں جا کر بھی جانا نہیں ہوتا کہ باہر نکلنے سے پہلے کئی بار سوچا جاتا یے کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے۔ حالانکہ حادثے یا موت سے ملاقات تو کہیں بھی ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی۔ ویسے مرنے کے بارے میں میرے خیالات ووڈی ایلن جیسے ہی ہیں جو کہتا ہے، ' میں موت سے نہیں ڈرتا۔ صرف یہ چاہتا ہوں جب موت آئے تو میں وہاں نہ ہوں۔' :daydream

خیر پشاور کا سفر اور قیام بہت اچھا رہا۔ براستہ موٹر وے پشاور داخل ہوئے تو سامنا عظیم الشان قلعہ بالا حصار سے ہوا۔ قلعہ بالا حصار کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود وادی پشاور۔ اس کی دیوار کی اونچائی سطح زمین سے تقریباً 90 فٹ کہی جاتی ہے اور بیرونی دیوار کا رقبہ 15 ایکڑ۔ قلعہ میں اس وقت فرنٹیئر کو

مکمل تحریر  »

Tuesday, 28 December 2010

کلامِ اقبال (رح)





خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں
رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں
عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں
بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں




کلام: علامہ محمد اقبال
گلوکارہ: ثریا خانم

مکمل تحریر  »

Monday, 27 December 2010

ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی خصوصاً کمپیوٹر نے جہاں روزمرہ زندگی میں بہت سے کام آسان کر دیئے ہیں وہاں انسان کی خود انحصاری تو بالکل ختم کر دی ہے۔ کمیپوٹر اور انٹرنیٹ پر کام کرنے کے بعد وہ خود سے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ بچپن میں ہم جب اپنی ٹیچر سے یا گھر میں ابو امی سے کسی لفظ کا مطلب پوچھتے تھے تو ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا 'لغت میں دیکھو'۔ تب کا سیکھا ہوا ابھی تک ذہن میں تازہ ہے لیکن اب نہ ہم خود اور نہ ہی آج کے طلبہ لغت استعمال کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ نتیجہ کسی بھی زبان میں ذخیرہ الفاظ تو کیا ہونا ہے ہجے بھی نہیں آتے۔ انگریزی میں مسئلہ اس طرح حل کیا جاتا ہے کہ ٹائپ کرتے کمپیوٹر خود ہی آپ کی غلطیاں پکڑ لے گا اور اردو تو ویسے ہی گھر کی کھیتی ہے۔ اس کا بطور زبان سیکھنا کبھی ہمارا مقصد ہی نہیں رہا۔ اسی طرح ہاتھ سے لکھنا، کتاب پڑھنا یہ سب کام نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ مجھے کبھی ہاتھ سے دو صفحات لکھنے پڑ جائیں تو انگلیاں جواب دے جاتی ہیں جبکہ وہ بھی دن تھے جب امتحان میں دھڑا دھڑ جوابی کاپیاں بھری جاتی تھیں۔ اسی طرح کسی مضمون یا کتاب میں سے کچھ خاص ڈھونڈنا ہو تو مصیبت پڑ جاتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہیں سے کنٹرول ایف دبا کر مطلوبہ لفظ ٹائپ کروں اور اپنا کام مکمل کر لوں۔ اس ساری داستان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آج ہماری دو سینئرز بچوں کے بہترین کمپیوٹر سکلز اور اپنی کمپیوٹر سے بیزاری پر بات کر رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم لوگوں کو مینوئلی کام کرنے کی نسبت اس طرح کام کرنا آسان لگتا ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ پوچھا کہ اگر کبھی آپ کو یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر غیر میسر ہو تو کیا کریں گی؟ تو میرا جواب کچھ ایسا ہی تھا :nailbite
واقعی اگر ایسا ہو تو کم از کم شروع کے کچھ عرصہ میں میرے کام کی رفتار تو بالکل کچھوے جیسی ہو جائے گی۔
اور محض ایک جملے کے لئے بیس بیس صفحات کے مضامین پڑھتے ہوئے میرا تو حشر ہو جائے گا :aww

مکمل تحریر  »

Monday, 20 December 2010

سفر نصیب

تین دن کے لئے جا رہے ہیں پشاور۔ خیر خیریت سے واپسی پر یہاں آنا ہو گا 24 دسمبر 2010ء کے بعد۔ ان تین دنوں میں اگر پشاور میں کسی دھماکے کی آواز سنائی دی تو میری خیریت کی دعا کرنا نہ بھولیں۔ اور اگر میں کم از کم دو ہفتوں تک یہاں دکھائی نہ دی تو میری مغفرت کی دعا سب پر ادھار رہی۔ :sadd:

مذاق برطرف اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ امان میں رکھے۔ بشرطِ زندگی پھر یہاں آنا ہو گا جلد ہی۔ انشاءاللہ

مکمل تحریر  »

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

مکمل تحریر  »