Monday, 27 December 2010

ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی خصوصاً کمپیوٹر نے جہاں روزمرہ زندگی میں بہت سے کام آسان کر دیئے ہیں وہاں انسان کی خود انحصاری تو بالکل ختم کر دی ہے۔ کمیپوٹر اور انٹرنیٹ پر کام کرنے کے بعد وہ خود سے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ بچپن میں ہم جب اپنی ٹیچر سے یا گھر میں ابو امی سے کسی لفظ کا مطلب پوچھتے تھے تو ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا 'لغت میں دیکھو'۔ تب کا سیکھا ہوا ابھی تک ذہن میں تازہ ہے لیکن اب نہ ہم خود اور نہ ہی آج کے طلبہ لغت استعمال کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ نتیجہ کسی بھی زبان میں ذخیرہ الفاظ تو کیا ہونا ہے ہجے بھی نہیں آتے۔ انگریزی میں مسئلہ اس طرح حل کیا جاتا ہے کہ ٹائپ کرتے کمپیوٹر خود ہی آپ کی غلطیاں پکڑ لے گا اور اردو تو ویسے ہی گھر کی کھیتی ہے۔ اس کا بطور زبان سیکھنا کبھی ہمارا مقصد ہی نہیں رہا۔ اسی طرح ہاتھ سے لکھنا، کتاب پڑھنا یہ سب کام نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ مجھے کبھی ہاتھ سے دو صفحات لکھنے پڑ جائیں تو انگلیاں جواب دے جاتی ہیں جبکہ وہ بھی دن تھے جب امتحان میں دھڑا دھڑ جوابی کاپیاں بھری جاتی تھیں۔ اسی طرح کسی مضمون یا کتاب میں سے کچھ خاص ڈھونڈنا ہو تو مصیبت پڑ جاتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہیں سے کنٹرول ایف دبا کر مطلوبہ لفظ ٹائپ کروں اور اپنا کام مکمل کر لوں۔ اس ساری داستان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آج ہماری دو سینئرز بچوں کے بہترین کمپیوٹر سکلز اور اپنی کمپیوٹر سے بیزاری پر بات کر رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم لوگوں کو مینوئلی کام کرنے کی نسبت اس طرح کام کرنا آسان لگتا ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ پوچھا کہ اگر کبھی آپ کو یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر غیر میسر ہو تو کیا کریں گی؟ تو میرا جواب کچھ ایسا ہی تھا :nailbite
واقعی اگر ایسا ہو تو کم از کم شروع کے کچھ عرصہ میں میرے کام کی رفتار تو بالکل کچھوے جیسی ہو جائے گی۔
اور محض ایک جملے کے لئے بیس بیس صفحات کے مضامین پڑھتے ہوئے میرا تو حشر ہو جائے گا :aww

6 comments:

  • ابن سعید says:
    28 December 2010 at 07:23

    ہمیں ٹیکنولوجی سے یہ توقع رکھنی چاہئیے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایدوانس ہی ہوگی پیچھے نہیں جائے گی اور برسوں کا مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے۔ ورنہ ہم اب تک پتھر کے زمانے کے رہن سہن کی ٹریننگ بھی لے رہے ہوتے کہ کیا پتا کم وقت کا مزاج بدل جائے اور ہمیں برہنہ تن پتھر کے اوزاروں سے جانوروں کا شکار کرکے زندگی کی گاڑی کھینچنی پڑ جائے۔

    ایسی ہی ایک سوچ جو ہمارے یہاں کے یعلیمی نظام سے بری طرح پیوستہ ہے اور ہمیں اکثر پریشان کرتی ہے کہ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بلکہ گریجویشن تک کے اداروں میں امتحانات میں کیلکیولیٹر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور نتیجتاً علم طبعیات کے پرچے میں بچے بچیاں درجہ چہارم اور پنجم کی ریاضی کے سوالات حل کرتے ہوئے نصف سے زائد وقت برباد کرتے ہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ جمع تفریق، ضرب، تقسیم، عاد اعظم مشترک، ذ اضعاف اقل مشترک، لاگرتھم، کسر، اعشاریہ اور مربع وغیرہ کے سوال حل کرنے پر نہ صرف بچوں کو سیر حاصل تعلیم دی جا چکی ہے بلکہ متعلقہ جماعتوں مین ان کا امتحان لے کر اس بات کو یقینی بنا لیا گیا ہے کہ ان کو یہ بنیادی چیزیں معلوم ہیں اور ان کو اس کی منطق بھی سمجھ میں آ چکی ہے پھر انھیں آگے جا کر مزید آسمانوں کی سیر کے لئے آزاد کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیوں ان کا بیشتر وقت پچھلے کام کا اعادہ کرنے میں گزر جاتا ہے؟

  • شگفتہ says:
    28 December 2010 at 09:54

    فرحت ، آپ کو بھی یہ خیال آ گیا ذہن میں :smile میں بھی اس موضوع پر لکھا ہوا ہے اور حسب عادت لکھ کر رکھ لیا لکھنے کے بعد بلاگ پر پوسٹ نہیں کیا :smile

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    28 December 2010 at 13:31

    ميں پہلی بار ابنِ سعيد صاحب سے اختلاف کی جسارت کر رہا ہوں ۔ اگر ہم ماضی کی تاريخ پر لوگوں کی لکھی کہانيوں کی بجائے خلوصِ نيت سے نظر ڈاليں تو معلوم ہو گا کہ ماضی مين بھی انسان نے ترقی کی ۔ اس کے ثبوت مل چکے ہيں ليکن پوپيگنڈہ مشينری ان کو عوام کی نظر ميں نہيں آنے ديتی ۔ ايک کلو ميٹر گہرے سمندر سے دو تين دہائياں قبل ايک منارے ميں ايک ستوپے پر دو خالص سون کے نہائت ملائم ہاھوں کی انگليوں پر ٹکا ہوا پچاس ملی ميٹر قطر کا خالص کوارٹز کا کُرّہ اور اس کے اوپر مينا کی چھت سے لٹکی ہوئی ايک دھاتی چھڑی کا ملنا کيا مطلب رکھتا ہے ۔ ايسا کوارٹز کا کُرّہ اور ايسا نظام آج کی ترقی يافتہ دنيا نہيں بنا سکی
    ايک سونے سے لدا بحری جہاز يورپ اور افريقا کے درميانی سمندر ميں کسی زمانہ ميں ڈوب گيا تھا ۔ اس کی تلاش چند دہائياں قبل ہو رہی تھی کہ وہاں سے ايک بادبانی کشتی سے ايک مشين سی ملی ۔ اُسے باہر لا کر صاف کيا گيا تو وہ لکڑی کا بنا ہوا کمپيوٹر تھا ۔
    قرآن شريف ميں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا فرمان ہے "تم سے پہلے کئی ترقی يافتہ تہذيبيں ہوئيں "

  • ابن سعید says:
    28 December 2010 at 16:00

    افتخار چاچو سچ پوچھیں تو آپ نے ہماری کسی بات سے اختلاف کیا ہی نہیں۔ ہمارے اس دعوے کے اسباب درج ذیل ہیں:

    - ہم نے ٹیکنولوجی کی ترقی کی محض "توقع" رکھنے کو کہا تھا نہ کہ یہ دوسرے تمام امکانات کو خارج کرنے والی کوئی حتمی بات تھی۔
    - پھر ہم نے برسوں کے مشاہدے کی بات کی ہے صدیوں پر محیط واقعات اور تاریخ و آثار کا تو ہم نے ذکر ہی نہیں کیا۔
    - یہ خطرہ بدستور موجود ہے کہ کسی بھی وقت موجودہ ترقی یافتہ تہذیبیں آن واحد میں کاک ہو جائیں پر اس خطرے کے پیش نظر ہم ایسی تیاریاں نہیں کرتے بلکہ ماضی کے ایسے واقعات بنیادی باتوں کو سمجھنے کے لئے جانتے ہیں اور ہمہ وقت مزید ترقی و استحکام پر غور کرتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے یہ بات کہی تھی کہ ہم تاریخ کی کتابوں میں پتھر کے زمانے کے لوگوں کے رہن سہن کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں پر ان کی ٹریننگ نہیں لیتے۔ کوئی عجب نہیں کہ نسل انسانی کو اس دور میں لوٹنا پڑ جائے پر توقع اس کے برخلاف ہونی چاہئے۔
    - ایک آخری بات یہ کہ ترقی ہمیشہ بتدریج ہوتی ہے جبکہ تہزیبوں کے مٹنے کے جو قصے موجود ہیں وہ سب کے سب آن واحد میں تباہ ہوئے ہیں یعنی اس وقت کوئی تدبیر یا پہلے سے کی گئی تیاری کام نہیں آنے والی تھی بلکہ قدرت نے انھیں اس بات کا موقع ہی نہیں دیا۔

    حاصل کلام واضح ہے۔

  • شازل says:
    29 December 2010 at 07:38

    ٹیکنالوجی نے تن آسان کردیا ہے :angelic

  • محمد صابر says:
    30 December 2010 at 09:10

    سو فیصد متفق

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔