Saturday, 26 September 2009

پاکستان اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کےتحت منعقدہ  انڈر گریجویٹ ایڈمیشن کےلئے داخلہ ٹیسٹ کی میرٹ لسٹ 24 ستمبر کو لگائی جانی تھی۔ 24 سمتبر سارا دن انتظار کے بعد طلباء کو معلوم ہوتا ہے کہ میرٹ لسٹ رات آٹھ بجے لگا دی جائے گی اور ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کر دی جائے گی۔ شام سات سے رات دس بجے تک یونیورسٹی کی ویب سائٹ ڈاؤن رہتی ہے۔ دس سے 25 ستمبر رات دو بجے تک میرٹ لسٹ کی کوئی خبر نہیں اور اس کے بعد سے  (26 ستمبر رات ایک بجے تک) ویب سائٹ ڈاؤن ہی ہے ماشاءاللہ۔ :-s



تین چار سال پہلے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ویب سائٹ پر اکثر فیکلٹیز/ڈیپارٹمنٹس کے تعارف میں ‘will be updated soon’ لکھا ملتا تھا۔ آج بھی یہی حالات ہیں۔ مستقل مزاجی ہو تو ایسی ہو۔ :clap










کچھ عرصہ پہلے میں نے منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پاکستان  کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کی اور مسلسل تین دن تک اس کے بجائے ایبٹ آباد  ضلعی حکومت کی ویب سائٹ کُھلتی رہی۔ :-(

مکمل تحریر  »

Tuesday, 22 September 2009

عید الفطر (ستمبر 2009)

S1051554

عید الفطر مبارک


عید کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے ہیں اس دن کے لیے

مکمل تحریر  »

Sunday, 20 September 2009

یہ عید دل شکن ہے!

 

اے چاند آج تجھ کو ہم داغِ دل دکھائیں

برسوں سے رنج و غم کا جو حال ہے سُنائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

ہیں ظلم و یادتی کے سب ماہ و سال وہی

ہونٹوں پہ ثبت تشنہ لاکھوں سوال وہی

ٹوٹے دلوں کو خوشیاں کیا عید کی لبھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

خوشحال ہیں گداگر ، ہیں موج میں سوداگر

رکھتے ہیں سیم و زر سے بھر بھر کے روز گاگر                                               

کم مائیگی پر اپنی، ہم دل پہ تیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

زوروں پہ ڈاکے ناکے ، اس پہ ستم دھماکے

اس شہرِ بے اَماں سے کیا لائیں ہم کما کے

بے طاقتوں کو طاقت والے نہ چیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 145557_news_image

شیطان کی خطائیں اب تو لگیں ہیں چھوٹی

لگتی ہے زنگ خوردہ سچائی کی کسوٹی

معراجِ آدمیت پھر کس طرح سے پائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

کلام: نجمہ یاسمین یوسف

مکمل تحریر  »

Friday, 11 September 2009

تیرے بعد (بحُضور قائدِ اعظم)- احمد فراز

تیرے بعد


(بحضُور قائدِ اعظم)


پُھول روتے ہیں کہ آئی نہ صدا تیرے بعد

غرقۂ خوں ہے بہاروں کی رِدا تیرے بعد

آندھیاں خاک اُڑاتی ہیں سرِ صحنِ چمن

لالہ و گل ہُوئے شاخوں سے جُدا تیرے بعد

جاہ و منصب کے طلبگاروں نے یوں ہاتھ بڑھائے

کوئی دامن بھی سلامت نہ رہا تیرے بعد

جن کو اندازِ جنُوں تُو نے سکھائے تھے کبھی

وہی دیوانے ہیں زنجیر بپا تیرے بعد

کس سے آلامِ زمانہ کی شکایت کرتے

واقفِ حال کوئی بھی تو نہ تھا تیرے بعد

اب پکاریں تو کسے زخم دکھائیں تو کسے

ہم سے آشفتہ سر و شعلہ نوا تیرے بعد

پھر بھی مایوس نہیں آج تیرے دیوانے

گو ہر اک آنکھ ہے محرومِ ضیا تیرے بعد

راستے سخت کٹھن منزلیں دشوار سہی

گامزن پھر بھی رہے آبلہ پا تیرے بعد

جب کبھی طُلمتِ حالات فضا پر برسی

مشعلِ راہ بنی تیری صدا تیرے بعد

آج پھر اہلِ وطن انجم و خورشید بکف

ہیں رواں تیری دکھائی ہوئی منزل کی طرف

(احمد فراز. شب خون)









ماخذ تصاویر: Frost’s Meditations

National Archives of Pakistan

مکمل تحریر  »

Monday, 7 September 2009

سوال یہ ہے کہ

پروفیشنل سی- وی/ Resume زیادہ سے زیادہ کتنا طویل ہونا چاہئیے؟
دو یا تین صفحات :qstn
کچھ خاص جو پاکستانی کمپنیاں خصوصی طور پر سی وی میں دیکھتی ہیں؟

مکمل تحریر  »