Monday, 31 August 2009

وقت وقت کی بات!

کسی نے کہا کہ۔۔

“1947ء میں بھی رمضان ماہِ اگست میں تھا اور 2009ء میں بھی رمضان اگست میں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت قوم کو ”ایک مُلک“ کی ضرورت تھی اور آج مُلک کو ”ایک قوم“ کی ضرورت ہے۔ :-s

مکمل تحریر  »

Friday, 28 August 2009

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

 

2135194437_3b08b4aa4e

 

یااللہ!

تری آزمائشوں سے ہُوں بے خبر

یہ میری نظر کا قصور ہے

تری راہ میں قدم قدم

کہیں عرش ہے کہیں طُور ہے

یہ بجا ہے مالکِ دو جہاں

میری بندگی میں فتور ہے

یہ خطا ہے میری خطا مگر

تیرا نام بھی تو غفُور ہے

یہ بتا! میں تُجھ سے ملوں کہاں

مجھے تُجھ سے ملنا ضرور ہے

کہیں دل کی شرط نہ ڈالنا

ابھی دل گناہوں سے چُور ہے

تُو بخش دے مرے سب گناہ

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

مکمل تحریر  »

Saturday, 15 August 2009

14 اگست 2009۔ 63 واں یومِ آزادی پاکستان

میری ذات کے آنگن میں جو سبز اُجالا ہے
اس چاند ستارے کے پرچم کا حوالہ ہے
میں اس کے حوالے سے ، خود کو پہچانی ہوں
میں پاکستانی ہوں :pak

ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔ :)
گزشتہ برس شاید نیٹ پر ایک تحریک شروع کی گئی تھی ۔۔' مجھے اب بھی پاکستان سے محبت ہے' کے نام سے۔
مجھے لفظ 'اب' پر اعتراض ہے۔ محبت مشروط تو نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان مسائل اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے تو یہ بھی ہم پاکستانیوں کی اپنی کوتاہیاں ہیں۔ بجائے ان پر نظر ڈالنے کے وطن سے لگاؤ کو 'اب' اور 'تب' کے مابین تقسیم کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ سو مجھے پاکستان سے محبت ہے۔ :pak


ہم سب کا ایک سہارا، یہ پاکستان ہمارا۔ فیض بلوچ



ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا

سو ہیرے ایک خزینہ سو جلوے اک آئینہ
سو عاشق اک دلجارا ، یہ پاکستان ہمارا

ہم تختہ گل یہ گلشن ، ہم تن ہیں یہ پیراہن
ہم دریا اور یہ کنارا ، یہ پاکستان ہمارا

اب فیض بلوچ سنائے جو سن لے خوش ہو جائے
یہ الفت کا سیپارہ ، یہ پاکستان ہمارا


ماضی میں کیسے اچھے ملی نغمے بنا کرتے تھے۔ جوش و جذبے سے بھرپور :pak

مکمل تحریر  »

Thursday, 13 August 2009

اے مری ارضِ وطن



اے مری ارضِ وطن

اے مری ارضِ وطن ، پھر تری دہلیز پہ میں
یوں نگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے
آنکھ بے شک ہے برسے ہُوئے بادل کی طرح
ذہن بے رنگ ہے اُجڑا ہُوا موسم جیسے
سانس لیتے ہُوئے اس طرح لرز جاتا ہوں
اپنے ہی ظلم سے کانپ اُٹھتا ہے ظالم جیسے

تُو نےبخشا تھا مرے فن کو وہ اعجاز کہ جو
سنگِ خار کو دھڑکنے کی ادا دیتا ہے
تُو نے وہ سحر مرے حرفِ نوا کو بخشا
جو دل قطرہ میں قلزم کو چُھپا دیتا ہے

اور میں مستِ مَے رامش و رنگِ ہستی
اتنا بے حس تھا کہ جیسے کسی قاتل کا ضمیر
یہ قلم تیری امانت تھا مگر کس کو ملا؟
جو لُٹا دیتا ہے نشے میں سلف کی جاگیر
جیسے میزانِ عدالت کسی کج فہم کے پاس
جیسے دیوانے کے ہاتھوں میں برہنہ شمشیر

تجھ پہ ظلمات کی گھنگھور گھٹا چھائی تھی
اور میں چُپ تھا کہ روشن ہے مرے گھر کا چراغ
تیرے میخانے پہ کیا کیا نہ قیامت ٹوٹی
اور میں خوش تھا سلامت ہے ابھی میرا ایاغ
میں نے اپنے ہی گہنگار بدن کو چُوما
گرچہ جویائے محبت تھے ترے جسم کے داغ

حجلۂ ذات میں آئینے جڑے تھے اتنے
کہ میں مجبور تھا گر محوِ خود آرائی تھا
تیری روتی ہوئی مٹّی پہ نظر کیا جمتی
کہ میں ہنستے ہُوئے جلوؤں کا تمنّائی تھا
ایک پل آنکھ اُٹھائی بھی اگر تیری طرف
میں بھی اوروں کی طرح صرف تماشائی تھا

اور اب خواب سے چونکا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
ایک اِک حرف مرا تیرِ ملامت ہے مجھے
تُو اگر ہے تو مرا فن بھی مری ذات بھی ہے
ورنہ یہ شامِ طرب صبحِ قیامت ہے مجھے
میری آواز کے دُکھ سے مجھے پہچان ذرا
میں تو کہہ بھی نہ سکوں کتنی ندامت ہے مجھے

آج سے میرا ہُنر پھر سے اثاثہ ہے ترا
اپنے افکار کی نس نس میں اُتاروں گا تجھے
وہ بھی شاعر تھا کہ جس نے تجھے تخلیق کیا
میں بھی شاعر ہوں تو خوں دے کے سنواروں گا تجھے
اے مری ارضِ وطن اے مری جاں اے مرے فن
جب تلک تابِ تکّلم ہے پکاروں گا تجھے

احمد فراز

:pak

اے وطن پاک وطن (انسٹرومنٹل(


اے وطن پاک وطن: استاد امانت علی خان



شاعر کا نام میرے ذہن میں نہیں آ رہا۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 11 August 2009

ورائے عقل تھیں اہلِ ہوس کی تدبیریں


ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں

ذکر ہے سردیوں کی ایک شام کا اور اک ایسے مقام کا کہ بے آب و گیاہ میدان پہاڑوں سے گھرا۔ جنوری کے مہینے میں کوئٹہ اور اس کے مضافات میں شامیں ویسے تو بہت یخ بستہ ہوتی ہیں لیکن اس دن سورج دن بھر چمکتا رہا تھا اور الوادعی کرنوں میں کچھ حدت باقی تھی جو تھکے ماندے ان افسروں کو بھلی لگ رہی تھی جو تمام دن مختلف فوجی مشقوں میں مصروف رہے تھے۔
کوئٹہ میں واقع سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس پاک فوج کے نوجوان افسروں کو انفٹری میں زیرِ استعمال ہتھیاروں میں مہارت اور کمپنی سطح تک فوجی دستوں کی قیادت کی تربیت دیتا ہے۔ عام طور پر ان کاموں کیلئے الگ الگ کورس ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ ہتھیاروں میں مہارت اور جونیئر عسکری قیادت کو اکٹھا کر دیا گیا تھا اور کورس کو آفیسرز ویپن اینڈ جو نیئر آفیسرز لیڈرشپ کورس (owjol-1) کا نام دیا گیا تھا۔ اس کورس میں شریک افسر، دن بھر کی فوجی مشقتوں کے بعد فائر پاور کا ایک مظاہرہ دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ تھکن سے نڈھال ان افسروں کو یہ اطمینان تھا کہ اب انہیں خود کچھ نہیں کرنا بس مظاہرہ دیکھنا ہے۔ مظاہرے کے انعقاد کی ساری ذمہ داری ویپن آفیسر اور اس کے عملے پر تھی۔
سورج مغرب کی طرف جُھک رہا تھا اور افسر زمین پر بچھائی دریوں پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ مظاہرے میں کچھ دیر دکھائی دی تو کچھ افسر لیٹ گئے ، کچھ نے اپنے پٹھوؤں سے ٹیک لگا لی۔ اچانک فضا میں ایک گانے کے بول اُبھرے۔
سن وے بلوری اکھ والیا
اساں دل تیرے نال لا لیا
تیری مہربانی، میرے ہانی، میرا بن جا
کسی نے مائک کے قریب رکھا ٹیپ ریکارڈر پوری آواز میں کھول دیا تھا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اس کی آواز چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ افسروں نے دائیں بائیں دیکھا اور یہ جان کر کہ کوئی اس گانے پر معترض نہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ کچھ منچلے اٹھ کھڑے ہوئے اور رقص کرنے لگے۔ دوسرے افسر تالیاں بجانے لگے اور جلد ہی پورے ماحول پر ایک سر خوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ افسر رقص کرنے اور تالیاں بجانے میں مگن تھے کہ اچانک ایک قیامت بپا ہو گئی۔ موسیقی تھم گئی اور چاروں طرف مشین گنوں کی تڑ تڑ سنائی دینے لگی۔ چاروں طرف سے شعلے لپک رہے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے شر پسندعناصر نے افسروں پر حملہ کر دیا ہو۔ مختلف ہتھیاروں کی فائرنگ کے بعد ٹریسر فائر ہوئے جنہوں نے افسروں کے اوپر ایک چھتری سی تان دی۔ پھر کچھ دیر بعدویری لائٹ فائر ہوئیں جو ایک پیراشوٹ کی مدد سے نیچے اُترتی ہیں اور اپنے نیچے کے علاقے کو منور کر دیتی ہیں۔ لاؤڈ سپیکر پر ایک آواز ابھری،
“جو قومیں رقص و سرود میں غرق ہو کر عیاشی میں مبتلا ہو جاتی ہیں ، روحِ جہاد سے محروم ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لئے مسلح جد و جہد کو فراموش کر دیتی ہیں، بہت جلد قصۂ پارینہ بن جاتی ہیں"۔
ویری لائٹ کی مدھم روشنی میں افسروں نے دیکھا کہ سکول کا ویپن ٹریننگ آفیسر مائک پر تھا اور مظاہرہ شروع ہو چکا تھا۔
بلوچ رجمنٹ کا ایک کپتان طارق مجید(موجودہ جنرل اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی) بڑبڑایا۔ " کیا مہم جو افسر ہے اور پڑھانے کا کیا نرالا انداز اختیار کیا ہے"۔
ویپن ٹریننگ افسر پنجاب رجمنٹ کا ایک میجر، جاوید حسن تھا۔ آنے والے وقت میں اس نے قومی وقار اور سینکڑوں جانوں کی قیمت پر کہیں زیادہ خطرناک مہم جوئی کا مظاہرہ کرنا تھا۔


'سانحۂ کارگل کے اصل حقائق: جنٹلمین استغفر اللہ (Witness to Blunder) ' از کرنل(ر) اشفاق حسین سے اقتباس
(باب: ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں)

میجر جاوید حسن (بعد ازاں میجر جنرل اور نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ) کا جنگِ کارگل میں کردار کیا رہا اور ولن ہیرو کیسے بنے۔ اس سمیت دیگر تلخ حقائق کے بارے میں بات کرنا کافی تکلیف دہ امر ہے۔مجھے اس پر کچھ تبصرہ نہیں کرنا۔ بس اتنا کہنا ہے کہ برسوں پہلے جو بات چند فوجی افسروں کے لئے کہی گئی تھی وہ آج پوری قوم پر صادق آتی ہے۔ سنتے ہیں کہ کبھی کسی نے 'نظریۂ پاکستان' کو خلیج بنگال میں ڈبونے کی بات کی تھی اور پھر کسی نے پاکستانی قوم کو ثقافتی محاذ پر شکست دینے کا عزم کیا تھا اور آج یہ دونوں دعوے حقیقت میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے اندر ہی قدم قدم پر نظریۂ پاکستان کو غلط قرار دینے والے ملتے ہیں اور ان چند افسروں کی طرح پوری قوم طاؤس و رباب اول کی تفسیر بنی دکھائی دیتی ہے۔ :quiet: اور اس کا سہرہ غیروں کے نہیں بلکہ خود ہمارے اپنے سر جاتا ہے۔

؎ ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

مکمل تحریر  »

Monday, 10 August 2009

سرگم نامہ

انکل سرگم: حکومتوں کے عوام سے مخلص ہونے پر شک کیا ہی نہیں جا سکتا۔
رولا: وہ کیسے سر جی؟
انکل سرگم: رہا ناں سمال کراکری، چھوٹا پہانڈا۔ یہ بتاؤ۔ ہماری عوام کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
رولا: سر جی، اب تو 'زندگی' ہی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ لگتی ہے۔
انکل سرگم: بالکل۔ اور ہر آنے والی حکومت عوام کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتی۔ بھوک، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ڈرون حملے :what
:-s

مکمل تحریر  »

Wednesday, 5 August 2009

ہفتۂ چھینک

حساس ہونا بھی بڑی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔اور اگر یہ حساسیت طبی حساسیت کے زمرے میں آتی ہو تو حال میرے جیسا ہوتا ہے۔    :quiet: ۔ مارچ اپریل میں یہ پولن الرجی کا باعث بنتی ہے۔ گرمیاں آتی ہیں تو دھوپ میں نکلتے ہی پھر یہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور گرد تو سارا سال ہی میری چھینکوں کا وجہ ہوتی ہے۔  :sad: :sadd: بہرحال چھینکوں سے بھرپور ہفتہ گزار کر واپسی ہو ہی گئی :) ۔
ویسے یہ بھی اچھا ہے کہ کچھ الرجیز میں چھینکیں نہیں آتیں۔ ورنہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کے کبھی نہ پورے ہونے والے بلند و بانگ دعوؤں سے الرجک ہماری پوری قوم دن رات باجماعت چھینک رہی ہوتی :ohh

مکمل تحریر  »