Tuesday, 11 August 2009

ورائے عقل تھیں اہلِ ہوس کی تدبیریں


ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں

ذکر ہے سردیوں کی ایک شام کا اور اک ایسے مقام کا کہ بے آب و گیاہ میدان پہاڑوں سے گھرا۔ جنوری کے مہینے میں کوئٹہ اور اس کے مضافات میں شامیں ویسے تو بہت یخ بستہ ہوتی ہیں لیکن اس دن سورج دن بھر چمکتا رہا تھا اور الوادعی کرنوں میں کچھ حدت باقی تھی جو تھکے ماندے ان افسروں کو بھلی لگ رہی تھی جو تمام دن مختلف فوجی مشقوں میں مصروف رہے تھے۔
کوئٹہ میں واقع سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس پاک فوج کے نوجوان افسروں کو انفٹری میں زیرِ استعمال ہتھیاروں میں مہارت اور کمپنی سطح تک فوجی دستوں کی قیادت کی تربیت دیتا ہے۔ عام طور پر ان کاموں کیلئے الگ الگ کورس ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ ہتھیاروں میں مہارت اور جونیئر عسکری قیادت کو اکٹھا کر دیا گیا تھا اور کورس کو آفیسرز ویپن اینڈ جو نیئر آفیسرز لیڈرشپ کورس (owjol-1) کا نام دیا گیا تھا۔ اس کورس میں شریک افسر، دن بھر کی فوجی مشقتوں کے بعد فائر پاور کا ایک مظاہرہ دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ تھکن سے نڈھال ان افسروں کو یہ اطمینان تھا کہ اب انہیں خود کچھ نہیں کرنا بس مظاہرہ دیکھنا ہے۔ مظاہرے کے انعقاد کی ساری ذمہ داری ویپن آفیسر اور اس کے عملے پر تھی۔
سورج مغرب کی طرف جُھک رہا تھا اور افسر زمین پر بچھائی دریوں پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ مظاہرے میں کچھ دیر دکھائی دی تو کچھ افسر لیٹ گئے ، کچھ نے اپنے پٹھوؤں سے ٹیک لگا لی۔ اچانک فضا میں ایک گانے کے بول اُبھرے۔
سن وے بلوری اکھ والیا
اساں دل تیرے نال لا لیا
تیری مہربانی، میرے ہانی، میرا بن جا
کسی نے مائک کے قریب رکھا ٹیپ ریکارڈر پوری آواز میں کھول دیا تھا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اس کی آواز چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ افسروں نے دائیں بائیں دیکھا اور یہ جان کر کہ کوئی اس گانے پر معترض نہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ کچھ منچلے اٹھ کھڑے ہوئے اور رقص کرنے لگے۔ دوسرے افسر تالیاں بجانے لگے اور جلد ہی پورے ماحول پر ایک سر خوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ افسر رقص کرنے اور تالیاں بجانے میں مگن تھے کہ اچانک ایک قیامت بپا ہو گئی۔ موسیقی تھم گئی اور چاروں طرف مشین گنوں کی تڑ تڑ سنائی دینے لگی۔ چاروں طرف سے شعلے لپک رہے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے شر پسندعناصر نے افسروں پر حملہ کر دیا ہو۔ مختلف ہتھیاروں کی فائرنگ کے بعد ٹریسر فائر ہوئے جنہوں نے افسروں کے اوپر ایک چھتری سی تان دی۔ پھر کچھ دیر بعدویری لائٹ فائر ہوئیں جو ایک پیراشوٹ کی مدد سے نیچے اُترتی ہیں اور اپنے نیچے کے علاقے کو منور کر دیتی ہیں۔ لاؤڈ سپیکر پر ایک آواز ابھری،
“جو قومیں رقص و سرود میں غرق ہو کر عیاشی میں مبتلا ہو جاتی ہیں ، روحِ جہاد سے محروم ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لئے مسلح جد و جہد کو فراموش کر دیتی ہیں، بہت جلد قصۂ پارینہ بن جاتی ہیں"۔
ویری لائٹ کی مدھم روشنی میں افسروں نے دیکھا کہ سکول کا ویپن ٹریننگ آفیسر مائک پر تھا اور مظاہرہ شروع ہو چکا تھا۔
بلوچ رجمنٹ کا ایک کپتان طارق مجید(موجودہ جنرل اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی) بڑبڑایا۔ " کیا مہم جو افسر ہے اور پڑھانے کا کیا نرالا انداز اختیار کیا ہے"۔
ویپن ٹریننگ افسر پنجاب رجمنٹ کا ایک میجر، جاوید حسن تھا۔ آنے والے وقت میں اس نے قومی وقار اور سینکڑوں جانوں کی قیمت پر کہیں زیادہ خطرناک مہم جوئی کا مظاہرہ کرنا تھا۔


'سانحۂ کارگل کے اصل حقائق: جنٹلمین استغفر اللہ (Witness to Blunder) ' از کرنل(ر) اشفاق حسین سے اقتباس
(باب: ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں)

میجر جاوید حسن (بعد ازاں میجر جنرل اور نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ) کا جنگِ کارگل میں کردار کیا رہا اور ولن ہیرو کیسے بنے۔ اس سمیت دیگر تلخ حقائق کے بارے میں بات کرنا کافی تکلیف دہ امر ہے۔مجھے اس پر کچھ تبصرہ نہیں کرنا۔ بس اتنا کہنا ہے کہ برسوں پہلے جو بات چند فوجی افسروں کے لئے کہی گئی تھی وہ آج پوری قوم پر صادق آتی ہے۔ سنتے ہیں کہ کبھی کسی نے 'نظریۂ پاکستان' کو خلیج بنگال میں ڈبونے کی بات کی تھی اور پھر کسی نے پاکستانی قوم کو ثقافتی محاذ پر شکست دینے کا عزم کیا تھا اور آج یہ دونوں دعوے حقیقت میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے اندر ہی قدم قدم پر نظریۂ پاکستان کو غلط قرار دینے والے ملتے ہیں اور ان چند افسروں کی طرح پوری قوم طاؤس و رباب اول کی تفسیر بنی دکھائی دیتی ہے۔ :quiet: اور اس کا سہرہ غیروں کے نہیں بلکہ خود ہمارے اپنے سر جاتا ہے۔

؎ ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

4 comments:

  • کنفیوز کامی says:
    12 August 2009 at 16:15

    فرحت کچھ دن پہلے اسی فوج کے حوالے سے ڈفر کی ایک پوسٹ " فوج کرے موج " پر کافی بحث ہوئی تھی مگر افسوس کہ اس کے چند دن بعد ہی آرڈیننس آ گیا۔میرا خیال ہے جس ملک کی فوج :thnko اپنے ہی ملک پر چڑ دوڑے اسکا کیا کہنا :what کہ ڈر لگتا ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    13 August 2009 at 23:30

    ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔ محتاط ہونا اچھی بات ہے۔ ویسے مجھے کیوں لگتا ہے کہ وزیرِ اعظم نے آرڈیننس واپس لینے کی بات کی تھی؟

    اچھا اس پوسٹ میں تو کوئی قابلِ گرفت بات نپہں ہے ناں؟ یہ تو آئی ایس پی آر کے ایک افسر نے لکھا ہے سب :(

  • DuFFeR - ڈفر says:
    14 August 2009 at 01:21

    شائید نہیں یقیناً آپ ہی کی ایک پرانی پوسٹ جس میں کسی پاکستانی کیڈٹ نے کوئی میڈل شیڈل جیتا تھا تو میرے اس تبصرے پر بھی لوگوں نے میرے لتے لینے شروع کر دئے تھے اور میں نے تقریبا یہی کہا تھا جو آپ نے اب لکھا ہے
    کیا یہ پوسٹ آپ کی بدلتی سوچ کی عکاس ہے؟

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    14 August 2009 at 01:48

    سوچ تو خیر نہیں بدلی شاید۔ میں نے اس وقت بھی یہی کہا تھا کہ فوج میں ہمیں اچھی بُری دونوں طرح کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس میں یہ اضافہ اب کر دیتی ہوں کہ بد قسمتی سے بُری مثالوں کی تعداد زیادہ ہے۔ خصوصاً گزشتہ چند سالوں میں جو کچھ ہوا وہ تو ہمارا آنکھوں دیکھا ہے اور اس تمام عرصے کے بارے میں میں آپ کے خیالات سے بالکل متفق ہوں۔
    لیکن میں یہ بھی مانتی ہوں کہ میرا ملٹری ہسٹری کا مطالعہ شاید محدود ہے۔ ہو سکتا ہے جب میں پچھلے 62 سالوں کی مکمل تاریخ جان لوں تو میری سوچ واقعی بدل جائے۔ :-(

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔