Sunday, 31 May 2009

کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہئیے؟

غالباً جیو پاکستان پر ایک پروگرام آتا ہے 'عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا؟'۔ میں نے پورا پروگرام تو کبھی نہیں دیکھا لیکن ایک دن یونہی چلتے پھرتے ایک دو جھلکیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ عالیہ پاکستان چھوڑ کر لندن پہنچ چکی ہیں۔ کیونکہ ایک سین میں وہ بس میں بیٹھی لندن کی سڑکوں سے گزر رہی تھیں۔ اور ایک اور سین میں ایک پاکستانی طالبِ علم سے بات ہو رہی تھی جن کے پاس دلائل کا ایک انبار تھا کہ پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہئیے۔ ظاہر ہے اگر میں وہاں ہوتی تو میری تو ان بھائی صاحب سے ٹھیک ٹھاک قسم کی بحث ہو جاتی۔ :dont
آپ تعلیم، روزگار یا زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے کہیں بھی جا سکتے ہیں جہاں آپ کو بہتر وسائل میسر ہوں لیکن اگر اس کی قیمت اپنے ہی گھر کو بُرا بھلا کہنا ہے تو اللہ معاف رکھے ایسی ترقی سے۔ حقائق بیان کرنا اور بات ہے لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہماری نظر ہمیشہ منفی پہلوؤں پر ہی کیوں ہوتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات اگر آپ صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے تو آپ کو اس بارے میں تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔
عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا ہے یا ابھی فیصلہ نہیں کیا، یہ تو عالیہ جانے یا جیو والے جانیں۔ یہاں ایک اور پاکستانی کی بات کرنا ہے۔ جو پاکستان واپس جانا چاہتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اسے روک رہے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں زندگی اتنی مشکل ہے اور عقلمندی کا تقاضا کیا ہے، پاکستان سے باہر رہنا یا وطن لوٹنا؟

6 comments:

  • زیک says:
    2 June 2009 at 12:11

    چاہیئے کے لئے تو اب دیر ہو گئ۔ سوال کے آخر میں "تھا" کا اضافہ شاید بہتر رہتا۔

    میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیئے (تھا) مگر حقیقت یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں بہت لوگ چھوڑ چکے ہیں اور اگر دنیا کی معیشت کا اسقدر برا حال نہ ہوتا تو اس وقت بھی چھوڑ رہے ہوتے۔

  • DuFFeR - ڈفر says:
    2 June 2009 at 21:10

    یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ترقی کے لئے وطن چھوڑا جا سکتا ہے لیکن اس قیمت پر وطن کو برا بھلا کہنا جاہلوں کی نشانی ہے۔ جو اپنے وطن اور قوم کا نا ہو سکے وہ کسی کا نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کے لئے پیسہ (جسے اوپر ترقی کہا) مائی باب ہوتا ہے اور ان جاہلوں سے کسی قسم کا گلہ اور بحث بے ثمر ہے

  • جعفر says:
    10 June 2009 at 17:23

    دنیا میں رہنے کے لئے سب سے اچھا ملک پاکستان ہے
    اسے کوئی سستی جذباتیت نہ سمجھئے
    یہ میری سوچی سمجھی رائے ہے۔۔۔
    لیکن دنیا میں بدترین نظام بھی پاکستان میں ہی ہے
    ہماری اشرافیہ معلوم انسانی تاریخ کی سب سے رذیل اشرافیہ ہے۔۔۔
    اس زاویے سے دیکھئے تو پاکستان میں رہنے کے لئے آپ کی کھال موٹی اور عزت نفس صفر ہونی چاہئے۔۔۔
    اور ہر قسم کی زیادتی اور ظلم کو تقدیر کالکھا سمجھ کر برداشت کرنے کی عادت بھی ہونی چاہئے۔۔۔۔ جو کہ الحمدللہ موجود ہے۔۔۔

  • [...] تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط: کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟ (فرحت کیانی) عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام [...]

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    13 June 2009 at 04:43

    زیک:شکریہ زیک۔ ویسے ملک چھوڑنا نہ چھوڑنا تو ہر کسی کا اپنا مسئلہ ہے لیکن اس کے لئے ہمیشہ منفی توجیہات ہی دینا درست رویہ تو نہ ہوا ناں۔ کچھ عرصہ بیشتر ایک ڈاکیومینٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان کو اس بنیاد پر جج کر رہی تھیں کہ یہاں عورتوں کو سڑک پر سگریٹ پینے کی آزادی نہیں ہے۔

    DuFFeR – ڈفر: سو فیصد متفق علیہ :)

    جعفر: شکریہ جعفر :). میں آپکے تبصرے میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گی۔ کرپٹ نظام میں معاشرے کا ہر طبقہ برابر کا حصہ دار ہے۔ کم از کم میں نے تو یہی دیکھا ہے کہ ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش میں رہتا ہے خواہ وہ صاحبانِ اختیار و اقتدار ہوں یا معاشرے کا عام فرد۔

  • جعفر says:
    14 June 2009 at 14:17

    چینی کہاوت ہے
    مچھلی سر سے گلنا شروع کرتی ہے
    اور عربی کہاوت ہے
    عوام اپنے حکمرانوں کے رستے پر چلتے ہیں
    اشرافیہ اچھی مثال قائم تو کرے
    آپ دیکھیں گی کہ پھر کیسے ہر طبقہ اس کی پیروی کرتا ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔