Friday, 27 March 2009

اے کاش!

خیبر: مسجد میں خودکش حملہ، درجنوں ہلاک



دے کے جان آج میں سرخرو ہو جاؤں گا
اور رب کے لاڈلوں کے دُوبدُو ہو جاؤں گا
میرے رب تیرے حکم پہ جان جو نہ دے سکا
تیرے آگے حشر میں بے آبُرو ہو جاؤں گا
ہے زمیں اللہ کی اور غیر اللہ کا حکم
مانتا ہے جو بھی اس کو، اُس کا سر کر دو قلم
قتل کر دو مار ڈالو ایسے ہر انسان کو
جو گوارہ کرتا ہے ُروئے زمیں پہ یہ ستم
تیرا نا فرمان ہر بندہ فنا ہو جائے گا
کچھ ہی پَل میں اس جگہ محشر بپا ہو جائے گا
میری جاں تیرے لئے ہے مالکِ کون و مکاں
کرتا ہوں تیرے حوالے، آگے دیکھا جائے گا

یا خُدا! اس بچے کے ہاتھوں میں تو قُرآن ہے
اِس کو بھی میں ختم کر دوں کیا یہی فرمان(؟) ہے؟
ایک بیکس آدمی روزی کماتا ہے یہاں
ہے سجا رکھا جبیں پہ تیری طاعت کا نشاں
بچے اِس عورت کے جب نہ اپنی ماں کو پائیں گے
نالے اِن کے قلب کے سات آسماں دہلائیں گے
چوک میں اخبار تھامے لڑکا اک نم دیدہے
شاید اپنے گھر کی یہ اِک آخری امید ہے
خون اور بارُرود کی بدبُو بسی ہو گی یہاں
بھاگتے پھرتے ملیں گے زخمی ہی زخمی یہاں
اس طرف بازو کسی کا، اُس طرف بے سر پڑا
کر سکے گا ٹکڑے پیاروں کے یہاں کوئی بھلا؟
کتنے گھر تاراج ہوں گے کتنے دل پھٹ جائیں گے
راستے اپنے ہی گھر کے لاشوں سے پَٹ جائیں گے
دیکھ کر بیٹے کی میت کس طرح تڑپے گی ماں
عرش کو دہلائے گی اک باپ کی آہ و فغإں
بیویاں دیں گی دہائی اپنے کھوئے تاج کی
کیا یہی تصویر ہے یا رب! ہمارے آج کی؟
ان دھماکوں سے بموں سے ہم بھلا کیا پائیں گے؟
اپنے ہی لوگوں کو کب تک خُون میں نہلائیں گے؟
عرش کی منزل کو جب یہ ساتھ میرے جائیں گے
کیا کروں گا کلمہ لے کر جو کھڑے ہو جائیں گے؟
کیا کروں گا کلمہ لے کر جو کھڑے ہو جائیں گے؟

مکمل تحریر  »

Monday, 16 March 2009

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!











اور


ثابت ہوا کہ جہدِ مسلسل اور تبدیلی لازم و ملزوم ہیں۔
ثابت ہوا کہ عوامی طاقت کے آگے کوئی بند نہیں باندھا جا سکتا۔
اور ثابت ہوا کہ پاکستانی قوم ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوئی ہے۔

مکمل تحریر  »

Friday, 13 March 2009

وہی ہُوا ناں!



تصویر دیکھ کر ذہن میں بہت سے خیالات آ رہے ہیں لیکن ابھی اہم بات یہ ہے کہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلی تصویر ہے جس میں زرداری انکل اپنی 'مخصوص مسکراہٹ' کے بغیر نظر آ رہے ہیں :quiet: :D ۔معلوم نہیں کیوں :hmm:

مکمل تحریر  »

Wednesday, 11 March 2009

ہادیٔ دو جہاں ہو سلام آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) پر



بہشتِ بریں کے کُھلے باب سارے ، فلک سے ملائک سلامی کو اُترے
ہوئی سرورِ انبیاء کی ولادت، زمین جگمگائی، فلک جگمگایا
(حفیظ تائب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو فلسفیوں سے کُھل نہ سکا، جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اِک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں
(ظفر علی خان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالک ہے جو کہ جادۂ عشقِ رسول میں
جنت کی راہ اس کے لئے ہے کُھلی ہوئی
(ابوالکلام آزاد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چمکا ہے تری ذات سے انساں کا مقدر
تُو خاتمِ دوراں کا رخشندہ نگیں ہے
(صُوفی غلام مصطفیٰ تبسم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب ٹوٹتی ہیں
نُور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
(احمد ندیم قاسمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ان کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہو جائے
جب ان کا نام آئے مرحبا صلِ علیٰ کہیے
(ماہر القادری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ جس نے آدمی کو آدمی کا مرتبہ بخشا
ازل سے تا اَبد امجد درُود اُس پر، سلام اُس پر
(امجد اسلام امجد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 ربیع الاوّل 1430 ھ

مکمل تحریر  »

Sunday, 8 March 2009

وفاقی کابینہ کے نام۔ (وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی)

وزیر کا فرمان

لوگوں مجھے سلام کرو، میں وزیر ہوں
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو، میں وزیر ہوں

گردن میں ہار ڈال دو میں جُھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو، میں وزیر ہوں

تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو، میں وزیر ہوں

لکھے ہیں شاعروں نےقصائد مرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو، میں وزیر ہوں

جو مجھ سے کہنے آؤ خبردار مت کہو
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو، میں وزیر ہوں

معذور ہوں میں اپنی وزارت سے بے طرح
تم طرحدار مجھ کو کہو، میں وزیر ہوں

بے شک ہے برہمی سے مری گفتگو کے بیچ
لیکن ادب سے بات سنو، میں وزیر ہوں

میں وہ نہیں کہ یوسفِ بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کے چلو، میں وزیر ہوں

اخبار والو سوچ سمجھ کر کرو سوال
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو، میں وزیر ہوں

مجھ سے قرابتوں کو بس اب بُھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو، میں وزیر ہوں

مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم تو جاؤ مرو، میں وزیر ہوں

شوکت تھانوی

:daydream

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مظہر العجائب

رونے کی گرچہ بات ہے آتی ہنسی بھی ہے
بے محکمہ وزیر ہے اور مرکزی بھی ہے
:hmm:

از انور مسعود

مکمل تحریر  »

Monday, 2 March 2009

جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا۔ عابدہ پروین

عابدہ پروین اگر گلوکارہ نہ ہوتیں تو میرے پسندیدہ فنکاروں کی فہرست کتنی مختصر ہوتی :-(



جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا، مے بن جا، مےخانہ بن جا


مے بن کر، مےخانہ بن کر، مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر، ہستی سے بیگانہ بن جا

ہستی سے بیگانہ ہونا، مستی کا افسانہ بننا
اس ہونے سے، اس بننے سے، اچھا ہے دیوانہ بن جا

دیوانہ بن جانے سے بھی، دیوانہ ہونا اچھا ہے
دیوانہ ہونے سے اچھا، خاکِ درِ جاناناں بن جا

خاکِ درِ جاناناں کیا ہے، اہلِ دل کی آنکھ کا سُرمہ
شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا، نُورِ دلِ پروانہ بن جا

سیکھ ذہین کے دل سے جلنا، کاہے کو ہر شمع پہ جلنا
اپنی آگ میں خود جل جائے، تو ایسا پروانہ بن جا



کلام: حضرت ذہین شاہ تاجی

موسیقی: مظفر علی

البم: رقصِ بسمل

کاش کہیں سے مجھے صاحبِ کلام کی مزید شاعری بھی مل جائے پڑھنے کو۔

مکمل تحریر  »