Sunday, 8 March 2009

وفاقی کابینہ کے نام۔ (وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی)

وزیر کا فرمان

لوگوں مجھے سلام کرو، میں وزیر ہوں
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو، میں وزیر ہوں

گردن میں ہار ڈال دو میں جُھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو، میں وزیر ہوں

تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو، میں وزیر ہوں

لکھے ہیں شاعروں نےقصائد مرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو، میں وزیر ہوں

جو مجھ سے کہنے آؤ خبردار مت کہو
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو، میں وزیر ہوں

معذور ہوں میں اپنی وزارت سے بے طرح
تم طرحدار مجھ کو کہو، میں وزیر ہوں

بے شک ہے برہمی سے مری گفتگو کے بیچ
لیکن ادب سے بات سنو، میں وزیر ہوں

میں وہ نہیں کہ یوسفِ بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کے چلو، میں وزیر ہوں

اخبار والو سوچ سمجھ کر کرو سوال
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو، میں وزیر ہوں

مجھ سے قرابتوں کو بس اب بُھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو، میں وزیر ہوں

مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم تو جاؤ مرو، میں وزیر ہوں

شوکت تھانوی

:daydream

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مظہر العجائب

رونے کی گرچہ بات ہے آتی ہنسی بھی ہے
بے محکمہ وزیر ہے اور مرکزی بھی ہے
:hmm:

از انور مسعود

7 comments:

  • یاسر عمران مرزا says:
    8 March 2009 at 11:27

    اچھی نظم ہے موجودہ حالات سے مطابقت رکھتی ہے

    یاسر عمران مرزا, کی تازہ تحریر: آصف زرداری بھی مشرف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، نواز شریف

  • شگفتہ says:
    8 March 2009 at 15:25

    السلام علیکم کیسی ہیں فرحت ؟ وزیر کے خیالات پڑھ کر ذہن میں خیال آ رہا ہے کہ صدرِ اسلام میں لوگوں نے کیسی زندگی گزارری ہوگی !

    شگفتہ, کی تازہ تحریر: اگر آپ اسلام کے نام لیوا ہیں

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    8 March 2009 at 16:41

    شوکت تھانوی صاحب تو آپ کے اس دنیا میں تشریف لانے سے پہلے اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے یعنی میرے بڑوں کے ہم عصر تھے ۔ آپ کہاں سے ان کی نظم ڈھونڈ لائی ہیں ؟

    افتخار اجمل بھوپال, کی تازہ تحریر: دبئی میں چند مساجد اور کشتی کی سیر

  • محمد وارث says:
    8 March 2009 at 23:36

    لاجواب نظم ہے اور لازوال یہ اس وقت تک رہے گی جب تک پاکستان ہے کہ نہ وزیروں کے چلن ٹھیک ہونگے اور نہ یہ نظم پرانی ہوگی!

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: یہ بھی سُنو ۔۔۔۔۔۔

  • تانیا رحمان says:
    9 March 2009 at 02:56

    ااسلام و علیکم فرحت میں ٹھیک ہوں آپ سناو ۔ وزیز تو وزیز ھے جناب ہم وزیز کی تو بات ہی کیا ۔ اور ہاں مین اس لینک کی بات کر رہی تھی جب آپ نے اپنی ایک تحریر کا کہا تھا کہ میں اپنے بلاگ پر لگاوں ۔ جیسے محمد وارثصاحب کی تحریر آپ نے لگائی ہے اس طرح مجھے ابھی اندازہ نہیں ہو رہا ۔ ایک تعارف مجھ سے روز کہیں نہ کہیں چلا جاتا ہے ۔ اگر وقت ملے تو پلیز

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 March 2009 at 22:45

    یاسر عمران مرزا: شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید :) ۔ حالات تو جسے سدا بہار ہیں۔ ہر دور میں وزراء کا یہی حال ہوتا ہے۔

    شگفتہ: وعلیکم السلام شگفتہ۔ الحمداللہ میں ٹھیک ٹھاک۔ آپ کیسی ہیں؟
    تب بھی حالات کچھ زیادہ مختلف تو نہیں ہوں گے۔

    افتخار اجمل بھوپال: آج کل گھر میں موجود پرانی کتابیں کھنگال رہی ہوں۔ویسے حیرت بھی ہوتی ہے، افسوس بھی اور ہنسی بھی آتی ہے کہ ہمارے بڑوں اور ان کے بڑوں کے دور میں بھی سیاست اور حکمراں آج کے دور جیسے ہی تھے :)

    محمد وارث: درست ۔ ہمارے یہاں صرف نام اور چہرے بدلتے ہیں کام اور چلن وہی رہتا ہے :-(

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 March 2009 at 23:11

    وعلیکم السلام تانیا۔
    الحمداللہ ۔میں بھی ٹھیک ٹھاک۔ شکریہ :)
    لنک لگانے کے لئے ایسے کریں کہ جو مخصوص حصہ اپنے بلاگ پر دکھانا چاہ رہی ہیں (جیسے آپ کا تبصرہ)، نئی پوسٹ لکھتے ہوئے اسے وہاں کاپی پیسٹ کر لیں۔ پھر اس پوسٹ کا یو آر ایل بھی کاپی کر لیں ( میرے بلاگ سے ’زندگی‘ کا یو آر ایل http://dareecha.urdutech.com/?page_id=2 ) ۔ اس کے بعد اپنی پوسٹ میں جہاں لنک دینا چاہ رہی ہیں۔ ان الفاظ کو سلیکٹ کریں۔ آپ کے ٹیکسٹ ایڈیٹر میں 'insert/edit link' کا آئکن ہائی لائٹ ہوتا دکھائی دے گا۔ اس کو کلک کریں اور نئی کھلنے والے دریچے میں کاپی کردہ یو آر ایل پیسٹ کر کے اوکے کر دیں۔ پوسٹ لنک ہو گئی۔

    مثال : میں نے وارث کے بلاگ سے جوگی نظم کو اپنی نئی پوسٹ میں کاپی پیسٹ کیا تھا۔ پھر ’بشکریہ صریرِ خامۂ وارث‘ لکھ کر ان الفاظ کو سلیکٹ کیا۔ اور وارث کے بلاگ سے ان کی اس پوسٹ کا یو آر ایل کاپی کر کے insert/edit link پر کلک کر کے لنک شامل کر دیا۔
    معلوم نہیں کچھ سمجھا بھی پائی یا کام پہلے سے بھی مشکل کر دیا ہے :blush:
    تعارف کہاں چلا جاتا ہے بھلا؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔