Monday, 2 March 2009

جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا۔ عابدہ پروین

عابدہ پروین اگر گلوکارہ نہ ہوتیں تو میرے پسندیدہ فنکاروں کی فہرست کتنی مختصر ہوتی :-(



جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا، مے بن جا، مےخانہ بن جا


مے بن کر، مےخانہ بن کر، مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر، ہستی سے بیگانہ بن جا

ہستی سے بیگانہ ہونا، مستی کا افسانہ بننا
اس ہونے سے، اس بننے سے، اچھا ہے دیوانہ بن جا

دیوانہ بن جانے سے بھی، دیوانہ ہونا اچھا ہے
دیوانہ ہونے سے اچھا، خاکِ درِ جاناناں بن جا

خاکِ درِ جاناناں کیا ہے، اہلِ دل کی آنکھ کا سُرمہ
شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا، نُورِ دلِ پروانہ بن جا

سیکھ ذہین کے دل سے جلنا، کاہے کو ہر شمع پہ جلنا
اپنی آگ میں خود جل جائے، تو ایسا پروانہ بن جا



کلام: حضرت ذہین شاہ تاجی

موسیقی: مظفر علی

البم: رقصِ بسمل

کاش کہیں سے مجھے صاحبِ کلام کی مزید شاعری بھی مل جائے پڑھنے کو۔

10 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    2 March 2009 at 12:59

    کہاں سے کہاں پہنچا دیا شاہ جی نے ۔ اپنی آگ میں تو سب چلتے ہی ہیں

    افتخار اجمل بھوپال, کی تازہ تحریر: کیا یاد کرا دیا

  • فیصل says:
    2 March 2009 at 20:41

    واقعی، عابدہ پروین تو بالکل بھی مختصر نہیں ہیں :)

    فیصل, کی تازہ تحریر: اردو بلاگ انگریزی بلاگ

  • پاکستانی says:
    2 March 2009 at 22:02

    لاجواب شاعری اور شاندار آواز

    پاکستانی, کی تازہ تحریر: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

  • الف نظامی says:
    2 March 2009 at 23:09

    ذہین شاہ تاجی رحمۃ اللہ علیہ کا کچھ کلام اردو محفل پہ موجود ہے۔

    الف نظامی, کی تازہ تحریر: بساطِ بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی

  • تانیا رحمان says:
    3 March 2009 at 01:41

    فرحت معذرت کے تحریر کا لینک اپنے بلاگ پر نہ لگا سکی۔ وجہ مجھے ابھی لگانا ہی نہیں آتا ۔ عابدہ پروین کی کیا بات کروں جتنا بڑا نام ہے اتنی ہی عاجز انسان ہیں میں ان سے ذاتی طور پر مل چکی ہوں ۔ سچ ہے جن کو نام اور مقام مل جائے ۔ اور وہ اس پر غرور کرنے کے اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھیں وہی سب سےعظیم انسان ہے ۔

  • محمد وارث says:
    3 March 2009 at 22:32

    بہت خوبصورت کلام ہے، لا جواب۔
    ذہین شاہ تاجی کا دیوان چھپ چکا ہے لیکن انکا کلام نیٹ کی دنیا میں بہت کم ملتا ہے، دیوان بھی شاید ڈھونڈنے ہی سے ملے!

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ - جاوید نامہ از اقبال سے اشعار

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    8 March 2009 at 12:04

    افتخار اجمل بھوپال: واقعی، صوفیانہ کلام سنتے ہوئے انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔
    فیصل: :D یہ بات تو ہے ۔ :)
    پاکستانی: اور بہترین موسیقی بھی :)
    الف نظامی: بہت شکریہ :) ۔ میں محفل پر دیکھتی ہوں ابھی۔
    محمد وارث: بہت شکریہ وارث۔ میں نے بھی تلاش شروع کر دی ہے۔ شاید مل ہی جائے۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    8 March 2009 at 12:07

    درست کہا تانیا۔ پھل دار درخت ہمیشہ جھکا ہوا ملتا ہے۔ اسی طرح صاحبِ ظرف لوگ ہمیشہ عجز اختیار کرتے ہیں۔ :)
    بلاگ پر کہاں اور کیسے لنک لگانا چاہ رہی ہیں؟ شاید میں کچھ مدد کر سکوں۔

  • محمد وارث says:
    8 March 2009 at 23:41

    ملا تو مجھے ضرور بتلایئے گا کہ میں ان بزگ کا مزید کلام پڑھنا چاہتا ہوں، اور مھفل پر بھی کئی شائقین بیٹھے ہیں‌ دیدہ و دل وا کیے اس کلام کیلیے :)

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: یہ بھی سُنو ۔۔۔۔۔۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 March 2009 at 23:28

    محمد وارث: کیوں نہیں۔ انشاءاللہ ضرور بتاؤں گی۔ :) بس دعا کریں کہ مل جائے کہیں سے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔