Sunday, 28 September 2008

نعت: یا رحمتہ العالمیں. مظفر وارثی



یا رحمتہ العالمیں
الہام جامہ ہے تیرا
قرآں عمامہ ہے تیرا
منبر تیرا عرشِ بریں
یا رحتمہ العالمیں

آئینہء رحمت بدن
سانسیں چراغِ علم و فن
قربِ الٰہی تیرا گھر
الفقر و فخری تیرا دھن
خوشبو تیری جوئے کرم
آنکھیں تیری بابِ حرم
نُورِ ازل تیری جبیں
یا رحمتہ العالمیں

تیری خموشی بھی اذاں
نیندیں بھی تیری رتجگے
تیری حیاتِ پاک کا
ہر لمحہ پیغمبر لگے
خیرالبشر رُتبہ تیرا
آوازِ حق خطبہ تیرا
آفاق تیرے سامعیں
یا رحمتہ العالمیں

قبضہ تیری پرچھائیں کا
بینائی پر ادراک پر
قدموں کی جنبش خاک پر
اور آہٹیں افلاک پر
گردِ سفر تاروں کی ضَو
مرقب براقِ تیز رَو
سائیس جبرئیلِ امیں
یا رحمتہ العالمیں

تو آفتابِ غار بھی
تو پرچم ِ یلغار بھی
عجز و وفا بھی ، پیار بھی
شہ زور بھی سالار بھی
تیری زرہ فتح و ظفر
صدق و وفا تیری سپر
تیغ و تبر صبر و یقیں
یا رحمۃ للعالمیں

پھر گڈریوں کو لعل دے
جاں پتھروں میں ڈال دے
حاوی ہوں مستقبل پہ ہم
ماضی سا ہم کو حال دے
دعویٰ ہے تیری چاہ کا
اس امتِ گُم راہ کا
تیرے سوا کوئی نہیں
یا رحمتہ العالمیں

شاعر: مظفر وارثی

یا رحمتہ العالمیں
نعت خواں: خورشید احمد

مکمل تحریر  »

Sunday, 21 September 2008

کرائسس مینجمنٹ










گزشتہ روز میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ہونے والا خود کش دھماکہ ہمیشہ کی طرح کیوں اور کیسے کے سوالات پیچھے چھوڑ گیا۔ کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ دیکھیں تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں۔

لیکن ان سوالات کے علاوہ بھی کچھ باتیں ہیں جو ایسے واقعات رونما ہونے کی صورت میں ذہن میں آتی ہیں خصوصاً کل اسلام آباد کے حالات دیکھنے کے بعد تو میں یہی سوچ رہی ہوں کہ

§ ہمارے ملک میں ‘کرائسس مینجمنٹ‘کا تصور کیا ہے؟

چند نئی ایمبولینس گاڑیاں، ہسپتالوں میں ناگہانی صورتحال میں چند اضافی بیڈ اور عملے کی موجودگی اور بس۔ اسلام آباد جیسے حساس ترین اور بڑے شہر میں فائر بریگیڈ کی صرف دو چار گاڑیاں! اس کو اداروں کی لاپرواہی کا نام دیا جائے یا بےحسی کا۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے جب شہیدِ ملت سیکرٹیریٹ میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا تھا تو پوری رات آگ بجھائی نہیں جا سکی تھی کیونکہ فائر بریگیڈ کی گاڑی کا پائپ 16 منزلہ عمارت کی بلندی کے لحاظ سے بہت چھوٹا تھا۔

میریٹ میں دھماکے کے بعد ابتدائی طور پر دو مقامات پر آگ بھڑکتی دکھائی دے رہی تھی لیکن آگ بجھانے کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں ہر طرف پھیلتی گئی۔ تب جا کر کسی کو خیال آیا اور پشاور سے فائر بریگیڈ منگوانے کا اعلان کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پشاور سے اسلام آباد پہنچتے ہوئے بھی ٹھیک ٹھاک وقت لگ جاتا ہے تو فوراً ہی ایسا کیوں نہ کیا گیا۔ دو گھنٹوں کا انتظار چہ معنی دارد؟ ایک اور خیال آ رہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں یہ انتظامات ہیں تو پشاور یا کسی دوسرے شہر میں ایمرجنسی حالات سے نپٹنے کے حالات کیا ہوں گے۔ خصوصاً جب وہاں سے عملہ اسلام آباد آیا ہوا ہو اور خدانخواستہ اگر اس دوران وہاں کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو؟؟

§ اگر میریٹ جیسے بڑے ہوٹل میں ایمرجنسی ایگزٹس کا انتظام نہیں ہے تو باقی عمارات کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جس پچھلے دروازے کا ذکر ہو رہا تھا وہ کچن میں کھلتا ہے اور عملے کے آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح کم ازکم بلیو ایریا ہی میں کتنی ایسی عمارتیں ہیں جن کے بارے میں مجھے علم ہے کہ کئی منزلہ ہونے کے باوجود ایک آدھ لفٹ اور سیڑھیاں ہی آنے جانے کا ذریعہ ہیں اور کہیں کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نامی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ نہ کرے اگر وہاں کوئی ہنگامی صورتحال پیش آ جائے تو؟؟

§ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور مشیرِ داخلہ رحمان ملک بار بار اسلام آباد کے ‘ریڈ الرٹ‘ اور ‘ہائی سیکیوریٹی الرٹ‘ پر ہونے کے بیانات دے رہے تھے۔ اب ‘ہائی الرٹ‘ کی تعریف کیا ہو گی؟ سڑکوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھرمار اور بس؟ اس کے باوجود ٹرک اپنے ٹارگٹ تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد داخلی راستے پر موجود عملے پر فائرنگ کی اور لابی تک کا فاصلہ تقریباً دس منٹ میں طے کر کے دھماکہ کیا۔ ہائی الرٹ میں تو پانچ منٹ بھی غنیمت ہوتے ہیں ناگہانی سے نمٹنے کےلیے۔ یہاں دس منٹ میں کیا کیا گیا؟

§ ہمارے ذرائع ابلاغ کی کارکردگی واقعی شاندار ہے لیکن سب سے پہلے خبر اور مکمل خبر حاصل کرنے کے چکر میں اخلاقی ذمہ داری, انسانی ہمدردی کے جذبے کو کیوں نظرانداز کر دیا جاتا ہے؟ کل رات سے ایک منظر نجانے کتنے ذہنوں سے چپک کر رہ گیا ہو گا جب ایک شدید زخمی نوجوان ہوٹل سے باہر آ رہا تھا اور ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین اس کے لہولہان چہرے کو فوکس کیے ہوئے اس کے ساتھ چلتے جا رہے تھے لیکن ان کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اس کو سہارا دے کر ایمبولینس تک ہی پہنچا دیں۔



مکمل تحریر  »

Tuesday, 9 September 2008

امن کا آخری دن






امن کا آخری دن






آج کیوں شام کے اخبار کی ہر سُرخی میں



ایک اک لفظ بُنے جاتا ہے اُلجھے ہوئے جال

وسوسے اُمڈے ہوئے چلے آتے ہیں بادل بادل

کلبلاتے ہیں پڑے ذہن کے گوشوں میں خیال

اب تو ہر سطر سے آنے لگی بارُود کی بُو

اب تو ہر صحفے سے بےکھٹکے گزرنا ہے محال

بہرٍ شب خون بڑھے آتے ہیں یادوں کے ہجوم

دیکھیں کیا حال بنے صبح کے ہوتے ہوتے

اتنی سوچیں ہیں کہ پہلے کبھی سوچی نہ تھیں

اتنے چہرے ہیں کہ پہلے کبھی دیکھے نہ تھے

اب تو کابوس کی صورت رگ و پے پہ ہیں محیط

شام تک وہ جو سبھی نقش تھے دُھندلے دُھندلے

الف آندھی ہے کہ مغرب سے اُٹھا چاہتی ہے

الف اُمید چراغٍ تہِ داماں ہے ابھی

الف ایٹم ہے یا بآغوش ہزاراں آشوب

الف آدم کہ بہ غم چاکِ گریباں ہے ابھی

الف اک امن کہ جاں دی تھی تو پایا تھا اسے

الف اک اشک کہ مژگاں پہ فروزاں ہے ابھی

ب وہ بندوق کہ اک روز کہیں سر ہوگی

ب وہ بمباروں کا جھرمٹ ہے کہ بڑھتا آئے

کبھی دہقاں کے گھروندے پہ تو خرمن پہ کبھی

بےاماں برق کا کوندا ہی پڑا لہرائے

قریے قریے سے لپکتی ہوئی لاٹیں اُٹھیں

بستی بستی شراروں سے جھلستا جائے

پ ہے پنشن کہ سپاہی کو شجاعت کے عوض

ایک پہلو میں ٹھمکتی سی بساکھی دے جائے

پ وہ پلٹن ہے کہ اُڑ کر میداں پہنچی

پ وہ پیارے ہیں کہ میداں سے نہ واپس آئے

ت وہ نغمہ ہے کہ برسوں کی ریاضت سے ملے

اور کسی لاش کی چھاتی پہ چمکتا رہ جائے

ٹ کسی باغِ جوانی کی لچکتی ٹہنی

بم کے اُڑتے ہوئے ٹکڑوں سے پارا پارا

بوڑھے ماں باپ کی برسوں کی دعاؤں کا ثمر

ث کسی اجنبی میدان میں دم توڑ گیا

لوٹتے قدموں سے گونجے گی نہ گھر کی دہلیز

‘آپ کا لختٍ جگر ملک پہ قُربان ہُوا‘

ج وہ جنگ کا بازار ہے جس میں جا کر

اتنی صدیوں میں بھی انسان کی قیمت نہ بڑھی

چ وہ چاندی ہے وہ چاندی کے چمکتے سکے

جن سے دُنیا کی ہر اک چیز خریدی نہ گئی

پھر بھی ہر بیس برس بعد وہی سودے ہیں

وہی تاجر ہیں وہی جنس ہے قیمت بھی وہی

ح حکایت ہے کہ ہونٹوں پہ ادھوری رہ جائے

ح وہ حسرت ہے کہ سینے کو بنا لے مدفن

خ خیالات کا ریلا ہے کہ یکسر رُک جائے

دب کے رہ جائے جو خندق کے خلاؤں میں بدن

ٹینک کر دیں گے ہر اک ڈھیر کو آ کر ہموار

بےنشاں قبروں پہ اُگ آئیں گے دو سال میں بَن

د ہے درد سے لبریز دلوں کی دھرتی

ڈ ہے ڈولتا سینہ کبھی ڈھلتا آنسو

ذ ہے ذکر کسی دوست کا وہ ذکرٍ جمیل

ہائے کن رفتہ بہاروں کے گلوں کی خوشبو

آج لاشوں کے تعفن میں دبی جاتی ہے

سرد سنگینون کے زخموں سے اُبلتا ہے لہو

ر وہی ریل کی سیٹی وہی رعنا چہرہ

ر وہی رات وہی اُس کے بھیانک سپنے

چونک کر کون یہ بستر سے یکایک اُٹھا

“میرے بچے کو خداوند سلامت رکھے"

ایک تارا کہیں ٹُوٹا کہیں ڈُوب گیا

ڈاکیا آئے گا دو روز میں اک تار لئے

ز ہے وہ زہر کہ پھر روح میں گُھل جائے گا

ز ہے وہ زخم کہ لاتا ہے خبر دل تک سے

اب بھی بستی میں بڑے پیر کا میلہ ہو گا

لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں بہار آئے گی

پر نہ ان راہوں سے لوٹے گا بنسی والا

اب چراگاہ میں گونجیں گی نہ تانیں اُس کی

س سہرا کسی دُولہا کا کسی سیج کا پُھول

س جلتا ہوا سیسہ کسی سنگین کی دھار

س ساحر ہیں کہ سیاست کے گھر میں بیٹھے

اپنے زانو پہ لئے صبح کے سارے اخبار

سوچا کرتے ہیں یہ پڑھتے ہوئے تازہ خبریں

روئی کے بھاؤ میں ہوتا ہے چڑھاؤ کہ اُتار

اپنے اس شہر سے ہیں دُور وہ میداں جن میں

ش شعلہ ہے کہ بارُود کا سینہ چاٹے

کسی مسجد کا منارہ، کسی اسکول کی چھت

اک دھماکے میں سُلگتا ہوا ملبہ بن جائے

کوئی کھیتی کوئی کرخانہ کوئی پُل کوئی ریل

ایک دُنیا ہے کہ برسوں میں بنائے نہ بنے

ص وہ صبح کہ ہر ذہن کی پنہائی میں

لا کے بو دیتی ہے نادیدہ صلیبوں کی قطار

ض خبروں کے ضمیموں کا وہ اُگلا ہوا زہر

جس سے کچھ اور ہی بڑھ جاتا ہے وحشت کا فشار

ناچنے لگتے ہیں بیتابی سے فہرستوں کے نام

آنکھیں بن جاتی ہیں روتے ہوئے اشکوں کے مزار

ط طبروق کا صحرا ہے جہاں سے اب بھی

اپنے گم گشتہ عزیزوں کی صدا آتی ہے

اس جگہ فتح کی خبریں ہیں نہ جلسے نہ جلوس

ایک صرصر ہے کہ آتی ہے گزر جاتی ہے

استخوانوں سے بھلا کس کو محبت ہوگی

یاں کوئی دوست نہ ہمدم نہ ملاقاتی ہے

ظ ظلمت کا دریا ہے کہ طوفاں بدوش

آس کی ننھی سی کشتی کو ڈبونے آئے

اور جب ظلم کی میعاد سے دن اور بڑھیں

ع وہ عشرتٍ فردا ہے کہ عنقا ہو جائے

غ وہ غم ہے کہ جاناں سے نہ دوراں سے ہے خاص

دل مگر اس کی کسک سے نہ سنبھلنے پائے

ف وہ فتح کہ کچھ لے تو گئی دے نہ سکی

ف وہ فردا ہے کہ چھلاوے کا چھلاوا ہی رہا

ق قریہ ہے کہ اتنا بھی نہ ویراں تھا کبھی

اب نہ چُولھوں سے دُھواں اُٹھتا ہے نیلا نیلا

اور نہ کھیت نہ وہ فصلیں نہ وہ رکھوالے

ایک اک گاؤں کے چوپال میں اُلو بولا

ک نینوں کے کمل، ک کتابی چہرے

ک کاکل ہے کہ خوشبو میں بسی رہتی ہے

اور جب دُور کے دیسوں کے سپاہی آئے

ک کرگس نے کُھلے کھیت میں بازی جیتی

کوریا کتنے خرابوں کا پتا دیتا ہے

یہ جگہ شہر تھی یہ گاؤں تھا یہ بستی تھی

گ گاتی ہوئی گولی ہے کہ گن سے نکلے

کسی گمنام سپاہی کا نشانہ باندھے

ایک سایہ کسی کھائی میں تڑپتا رہ جائے

اپنی برسوں کی تمناؤں کو سینے میں لئے

گ گبرو ہے کہ بائیس بہاروں میں پلے

ل لاشہ ہے کہ دو روز کے اندر سڑ جائے

م محبوب کا آغوش بھی ہے موت بھی ہے

ایک ہی وقت میں ممکن نہیں دونوں سے نبھا

ن ندی کا مدھر نغمہ بھی نیپام بھی ہے

اب اسے دوست بناؤ کہ اُسے دوست بناؤ

زیست اور موت میں مشکل نہیں جانبداری

سیدھی باتوں کو دلیلوں کے لبادے نہ پہناؤ

و وقت ہے کہ ہاتھوں سے ہے نکلا جائے

واہمے دیتے ہیں آ کر درٍ دل پر دستک

فاختہ کتنی بھی طیار و سُبک سیر سہی

سینکڑوں کوس ہیں بمبار کی رفتار تلک

امن کے گیت کی لے تیز کرو تیز کرو

ساحلٍ دُور سے آنے لگی توپوں کی دھمک

ہ وہ ہیرو ہیں کہ پھر نکلے ہیں چھیلے بن کر

بستی بستی کو ہیروشیما بنانے کے لئے

ی وہ یادیں ہیں کہ دھندلائیں نہ مٹنے پائیں

اور ہم جنگ کی دہلیز پہ پھر آ نکلے

ی وہ یوسف کہ خدا کو بھی نہ سونپے جائیں

پھر انہی اجنبی میدانوں کا رستہ لیں گے

آسماں تیرہ و تاریک ہے، تارے مغموم

چاند بادل سے نکلتے ہوئے گھبراتا ہے

شمعِ اُمید کی لو کانپ رہی ہے کب سے

دل دُھواں دھار گھٹاؤں میں دبا جاتا ہے

لو کسی دُور کے گرجا میں وہ گھڑیال بجا

قافلہ صبح کا آتا ہے۔۔۔۔کہاں آتا ہے؟

) ابنِ انشاء (

…………….

الف سے ی تک کی یہ کہانی برسوں پہلے ابنِ انشاء نے لکھی تھی۔ اگر حیات ہوتے اور دوبارہ لکھنے کی سوچتے تو بھی شاید یہی الفاظ ہوتے ۔کچھ بھی تو نہیں بدلا جیسے !!

مکمل تحریر  »

Saturday, 6 September 2008

شادی خانہ آبادی

شگفتہ اور حجاب کے بلاگز پر جہیز اور ایک ناخوشگوار شادی کے بارے میں پڑھ کر مجھے بھی کچھ یاد آ گیا جو شادی اور جہیز سے پہلے کے مرحلہ یعنی تلاشِ رشتہ کے بارے میں ہے۔


میری تایازاد بہن کی شادی کی تاریخ پکی ہو رہی تھی۔ ابھی لڑکے والے نہیں آئے تھے لیکن رشتہ کرانے والی آنٹی وہیں موجود تھیں۔ یونہی باتوں میں میں نے ان سے پوچھا کہ عام طور پر بہو ڈھونڈنے والوں کے مطالبات اور اعتراضات کیا ہوتے ہیں؟ جواب میں انہوں نے پوری فہرست سنا دی۔



لڑکا کیسا بھی ہو، کچھ بھی کرتا ہو اور چاہے دوسری شادی ہی کیوں نہ ہو۔ ا ڈیمانڈز تقریباً ایک سی ہی ہوتی ہیں۔ ‘لڑکی خوبصورت، پڑھی لکھی، سلیقہ مند اور خاندان تگڑا ہونا چاہئیے۔‘



‘اور اعتراض تو ایک سو ایک ہوتے ہیں۔ جیسے:



‘خاندان تو اچھا کھاتا پیتا ہے لیکن لڑکی رنگ میں دبتی ہے۔ اب ایسی دلہن کو دیکھ کر لوگوں نے تو یہی کہنا ہے کہ شاید ہمارے لڑکے کو رشتوں کی کمی تھی۔ بھئی ہمیں تو اونچی لمبی، گوری چٹی لڑکی چاہئیے۔‘



‘کیا ہوا جو لڑکی بہت خوبصورت ہے۔ آجکل تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے بڑے خاندان میں رشتہ جوڑا ہے۔ یہ لوگ تو شاید بیٹی کو ضرورت کی چیزیں بھی نہ دے سکیں جہیز میں۔ بہتر ہے کہ کوئی اور گھر دیکھا جائے۔ اگر باہر کا رشتہ ہو تو زیادہ بہتر ہے۔‘



‘باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیسے لوگ ہیں۔ آج کے دور میں بھی لڑکی کو صرف میٹرک کرا کر گھر بٹھا لیا۔ مجھے ایسی بیوی چاہئیے جو میرے ساتھ گھر کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں اکیلا کمانے والا گھر کیسے چلا سکتا ہے۔ کوئی نوکری کرنے والی لڑکی ڈھونڈیں۔‘



‘لڑکی کی عمر کچھ زیادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ بیس بائیس سال کی ہو۔‘(چاہے نوشے میاں خود تیس چالیس بہاریںؓ ہی کیوں نہ دیکھ چکے ہوں)


‘لڑکے کی اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ اچھی سی لڑکی ڈھونڈیں۔ خیال رہے کہ دوسری شادی والی نہ ہو۔ آخر لڑکا باہر سیٹلڈ ہے۔‘



‘لڑکی ہمیں تو پسند آئی ہے لیکن کیا کریں۔ بیٹے کی شرط ہے کہ لڑکی کے بال بہت لمبے ہونے چاہئیں۔‘


 


‘کبھی کسی لڑکی نے بھی انکار کیا ایسی ہی بنیاد پر؟‘ میں نے پوچھا۔


‘ہاں ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن بہت کم۔ آجکل اچھے رشتے ملتے ہی کہاں ہیں!‘


‘کیا لڑکی والے بھی شکل و صورت اور عمر پر اعتراض کرتے ہیں؟‘


‘اعتراض ہو بھی تو عموماً یہ رشتے سے انکار کا جواز نہیں بنتا۔ مردوں کی شکل و صورت اور عمر کو کون دیکھتا ہے بھلا۔‘


‘اور تعلیم؟‘


‘اگر لڑکا اچھا کما رہا ہو تو لڑکی والے تعلیم کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ سولہ جماعت اور ڈاکٹر لڑکیوں کی شادیاں بارہ، چودہ جماعتیں پڑھے لڑکوں سے ہونا تو عام بات ہے۔ کئی بار سولہ جماعتیں پاس لڑکی کی شادی میٹرک فیل سے بھی ہو جاتی ہے۔‘ ‘



اور یہ دوسری شادی والے لوگ کسی بیوہ یا پہلے شوہر سے علیحدگی والی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کرتے؟‘
‘بس کچھ ایسا رواج بن گیا ہے۔ لڑکی والے بھی تو کوئی اعتراض نہیں کرتے اس بات پر۔
ہاں کچھ لوگ بیوہ یا مطلقہ سے شادی کر بھی لیتے ہیں خصوصاً وہ جن کے پہلے بیوی سے بچے ان کے ساتھ رہتے ہوں۔ لیکن جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔ ان کا باہر ہونا ہی کافی ہے۔ اکثر لوگ دوسری بار سوچے بغیر ہی ہاں کر دیتے ہیں۔‘ موجاں ای موجاں :D


ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ مہمان آ گئے اور میرے سوالات ادھورے رہ گئے۔ ان نہ پوچھے جا سکنے والے سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کہ اگر لڑکی بال لمبے نہ ہونے پر مسترد کی جا سکتی ہے تو کیا کبھی کسی لڑکے کو سر پر بال کم ہونے یا بالکل ہی غیر موجود ہونے کی بنا پر بھی انکار ہوا ہو گا؟

مکمل تحریر  »

Tuesday, 2 September 2008

رمضان المبارک 1429 ہجری

ہم سب مسلمانوں کو آمدِ رمضان بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور اس مہینے سے فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین(


آثار تو اچھے دکھائی دیتے ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں نے وقتی طور پر اپنی کاروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں بھی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اللہ کرے رمضان میں کوئی بدمزگی نہ ہو۔


دوسری طرف حکومت نے رمضان پیکج کا اعلان تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی مجبوریوں کا بھی اظہار کر دیا ہے تو اب جن لوگوں کی قسمت اچھی ہوئی وہ اس پیکج سے فائدہ اٹھا لیں گے اور جو میری طرح سست الوجود واقع ہوئے ہیں ان کی جیب پر اچھا خاصا اضافی بوجھ یقینی ہے۔ ‘ آج ٹی وی پر ایک خبر تھی کہ کراچی کی حکومت نے ماہِ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء کا نرخنامہ جاری کیا ہے جس میں پہلی بار سموسوں اور پکوڑوں کی قیمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ سموسے 120 روپے درجن اور پکوڑے 200 روپے کلو ہوں گے۔ مزید تفصیل یہاں موجود ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے افراد کے لیے افطار کا انتظام ہو جائے تو بہت ہے دوسروں کی افطاری کا تو سوچنا بھی محال ہو گا۔ ویسے ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے۔ اس طرح کتنے خرچے بچیں گے لوگوں کے۔ افطار میں کم چیزیں ہوں گی، کم برتن دھونے پڑیں گے۔ مشقت بھی کم اور پانی کی بھی بچت ,حکومت اسی پانی کو بجلی بنانے میں استعمال کر لے گی :D ;کچن جلدی سمیٹ لیا جائے گا, لائٹس آف اور بجلی کی بھی بچت ; جو دعوت نہیں کر سکیں گے ان کی بجلی، گیس اور پانی کے اضافی استعمال کی بچت; جو دعوت پر جائیں گے نہیں، ان کے پٹرول اور کرایے کے خرچے کی بچت. ویسے بھی یہ تلی ہوئی چیزیں صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں لیکن عوام دھیان نہیں دیتے اس لیے کراچی کی حکومت نے بہترین حل نکالا ہے۔ ‘نہ نو من تیل ہو گا نہ۔۔۔۔‘ :D اور سب سے بڑی بات کہ دعوتوں میں گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لوگ اپنے اپنے گھروں میں وہی وقت عبادت کرنے میں لگائیں گے۔ کچھ ثواب کمانے کے لیے نوافل پہ نوافل پڑھتے جائیں گے اور کچھ نوافل پڑھ کر پکوڑوں اور سموسوں کی قیمتیں کم ہونے کی ہونے کی دعا کریں گے تاکہ تیس دنوں میں کم از کم تین دن تو ان کا ذائقہ محسوس کر سکیں :( . اسے کہتے ہیں ‘ہمہ جہت منصوبہ سازی‘ :D یعنی دنیاوی اور دینوی دونوں طرح سے فائدہ۔ اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے خواص کو عوام کی کتنی فکر رہتی ہے۔ یہ تو ہم عوام ہی ناشکرے ہیں جو ہر وقت لٹھ لیے حکومت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔


حکومت نے تو نیکیاں کمانے کا پورا بندوبست کر لیا۔ ہم کیونکہ حکومت نہیں ہیں اس لیے جو مہلت مل گئی خطائیں معاف کرانے کی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت اور توفیق دے کہ میں اس بار رمضان میں ترجمے کے ساتھ قرآن مکمل پڑھ سکوں (آمین)۔ میرے بھائی کے فائنل ایگزامز ہو رہے ہیں. صبح اس کا پہلا پیپر ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان کی آمد اس کے لیے اور اس کے سب ہم جماعتوں کے لیے بہت مبارک ثابت کرے۔ اور ان کا پیپر بہت اچھا ہو جائے (اور اگر پیپر چیک کرنے والے بھی دیالو ہو جائیں رمضان کی برکت سے تو کیا ہی بات ہے :D ) آمین



 


موبائل فون پر قرآن اور اذان/نماز کے اوقاتِ کار سوفٹ ویئر


تلاوتِ قرآن


عبارتی قرآن


اذان اور نماز کے اوقاتِ کار


 


 



 

مکمل تحریر  »