Sunday, 21 September 2008

کرائسس مینجمنٹ










گزشتہ روز میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ہونے والا خود کش دھماکہ ہمیشہ کی طرح کیوں اور کیسے کے سوالات پیچھے چھوڑ گیا۔ کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ دیکھیں تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں۔

لیکن ان سوالات کے علاوہ بھی کچھ باتیں ہیں جو ایسے واقعات رونما ہونے کی صورت میں ذہن میں آتی ہیں خصوصاً کل اسلام آباد کے حالات دیکھنے کے بعد تو میں یہی سوچ رہی ہوں کہ

§ ہمارے ملک میں ‘کرائسس مینجمنٹ‘کا تصور کیا ہے؟

چند نئی ایمبولینس گاڑیاں، ہسپتالوں میں ناگہانی صورتحال میں چند اضافی بیڈ اور عملے کی موجودگی اور بس۔ اسلام آباد جیسے حساس ترین اور بڑے شہر میں فائر بریگیڈ کی صرف دو چار گاڑیاں! اس کو اداروں کی لاپرواہی کا نام دیا جائے یا بےحسی کا۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے جب شہیدِ ملت سیکرٹیریٹ میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا تھا تو پوری رات آگ بجھائی نہیں جا سکی تھی کیونکہ فائر بریگیڈ کی گاڑی کا پائپ 16 منزلہ عمارت کی بلندی کے لحاظ سے بہت چھوٹا تھا۔

میریٹ میں دھماکے کے بعد ابتدائی طور پر دو مقامات پر آگ بھڑکتی دکھائی دے رہی تھی لیکن آگ بجھانے کا خاطرخواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں ہر طرف پھیلتی گئی۔ تب جا کر کسی کو خیال آیا اور پشاور سے فائر بریگیڈ منگوانے کا اعلان کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پشاور سے اسلام آباد پہنچتے ہوئے بھی ٹھیک ٹھاک وقت لگ جاتا ہے تو فوراً ہی ایسا کیوں نہ کیا گیا۔ دو گھنٹوں کا انتظار چہ معنی دارد؟ ایک اور خیال آ رہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں یہ انتظامات ہیں تو پشاور یا کسی دوسرے شہر میں ایمرجنسی حالات سے نپٹنے کے حالات کیا ہوں گے۔ خصوصاً جب وہاں سے عملہ اسلام آباد آیا ہوا ہو اور خدانخواستہ اگر اس دوران وہاں کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو؟؟

§ اگر میریٹ جیسے بڑے ہوٹل میں ایمرجنسی ایگزٹس کا انتظام نہیں ہے تو باقی عمارات کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جس پچھلے دروازے کا ذکر ہو رہا تھا وہ کچن میں کھلتا ہے اور عملے کے آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح کم ازکم بلیو ایریا ہی میں کتنی ایسی عمارتیں ہیں جن کے بارے میں مجھے علم ہے کہ کئی منزلہ ہونے کے باوجود ایک آدھ لفٹ اور سیڑھیاں ہی آنے جانے کا ذریعہ ہیں اور کہیں کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نامی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ نہ کرے اگر وہاں کوئی ہنگامی صورتحال پیش آ جائے تو؟؟

§ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور مشیرِ داخلہ رحمان ملک بار بار اسلام آباد کے ‘ریڈ الرٹ‘ اور ‘ہائی سیکیوریٹی الرٹ‘ پر ہونے کے بیانات دے رہے تھے۔ اب ‘ہائی الرٹ‘ کی تعریف کیا ہو گی؟ سڑکوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھرمار اور بس؟ اس کے باوجود ٹرک اپنے ٹارگٹ تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد داخلی راستے پر موجود عملے پر فائرنگ کی اور لابی تک کا فاصلہ تقریباً دس منٹ میں طے کر کے دھماکہ کیا۔ ہائی الرٹ میں تو پانچ منٹ بھی غنیمت ہوتے ہیں ناگہانی سے نمٹنے کےلیے۔ یہاں دس منٹ میں کیا کیا گیا؟

§ ہمارے ذرائع ابلاغ کی کارکردگی واقعی شاندار ہے لیکن سب سے پہلے خبر اور مکمل خبر حاصل کرنے کے چکر میں اخلاقی ذمہ داری, انسانی ہمدردی کے جذبے کو کیوں نظرانداز کر دیا جاتا ہے؟ کل رات سے ایک منظر نجانے کتنے ذہنوں سے چپک کر رہ گیا ہو گا جب ایک شدید زخمی نوجوان ہوٹل سے باہر آ رہا تھا اور ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین اس کے لہولہان چہرے کو فوکس کیے ہوئے اس کے ساتھ چلتے جا رہے تھے لیکن ان کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اس کو سہارا دے کر ایمبولینس تک ہی پہنچا دیں۔



3 comments:

  • ڈفر says:
    21 September 2008 at 21:56

    کرائسس مینجمنٹ تو وہاں ہوتا ہے جہاں کرائسس سے نمٹنا ہوتا ہے
    مقصد کرائسس پھیلانا ہو تو کوئی اور ڈیپارٹمنٹ ہونا چاہئے
    جسکا سربراہ بہر حال رحمان ملک سے موزوں کوئی نہیں ہو سکتا

  • امید says:
    25 September 2008 at 23:32

    پتی نہیں کب وہ وقت آئے گا جب ہم اپنے لئے لفظ بہترین لکھا کریں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  • Virtual Reality says:
    1 October 2008 at 05:20

    @ ڈفر: حقیقت کا حال تو اللہ ہی جانے لیکن جب تک ہمارے نظام میں اقربا پروری کا عمل دخل ختم نہیں ہو گا، رحمان ملک جیسے لوگ سامنے آتے رہیں گے۔
    @ امید: اللہ کرے کہ ہمیں ایسا وقت دیکھنا نصیب ہو جائے۔ چاہے دیر سے ہی سہی۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔