Tuesday, 2 September 2008

رمضان المبارک 1429 ہجری

ہم سب مسلمانوں کو آمدِ رمضان بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور اس مہینے سے فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین(


آثار تو اچھے دکھائی دیتے ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں نے وقتی طور پر اپنی کاروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں بھی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اللہ کرے رمضان میں کوئی بدمزگی نہ ہو۔


دوسری طرف حکومت نے رمضان پیکج کا اعلان تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی مجبوریوں کا بھی اظہار کر دیا ہے تو اب جن لوگوں کی قسمت اچھی ہوئی وہ اس پیکج سے فائدہ اٹھا لیں گے اور جو میری طرح سست الوجود واقع ہوئے ہیں ان کی جیب پر اچھا خاصا اضافی بوجھ یقینی ہے۔ ‘ آج ٹی وی پر ایک خبر تھی کہ کراچی کی حکومت نے ماہِ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء کا نرخنامہ جاری کیا ہے جس میں پہلی بار سموسوں اور پکوڑوں کی قیمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ سموسے 120 روپے درجن اور پکوڑے 200 روپے کلو ہوں گے۔ مزید تفصیل یہاں موجود ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے افراد کے لیے افطار کا انتظام ہو جائے تو بہت ہے دوسروں کی افطاری کا تو سوچنا بھی محال ہو گا۔ ویسے ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے۔ اس طرح کتنے خرچے بچیں گے لوگوں کے۔ افطار میں کم چیزیں ہوں گی، کم برتن دھونے پڑیں گے۔ مشقت بھی کم اور پانی کی بھی بچت ,حکومت اسی پانی کو بجلی بنانے میں استعمال کر لے گی :D ;کچن جلدی سمیٹ لیا جائے گا, لائٹس آف اور بجلی کی بھی بچت ; جو دعوت نہیں کر سکیں گے ان کی بجلی، گیس اور پانی کے اضافی استعمال کی بچت; جو دعوت پر جائیں گے نہیں، ان کے پٹرول اور کرایے کے خرچے کی بچت. ویسے بھی یہ تلی ہوئی چیزیں صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں لیکن عوام دھیان نہیں دیتے اس لیے کراچی کی حکومت نے بہترین حل نکالا ہے۔ ‘نہ نو من تیل ہو گا نہ۔۔۔۔‘ :D اور سب سے بڑی بات کہ دعوتوں میں گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لوگ اپنے اپنے گھروں میں وہی وقت عبادت کرنے میں لگائیں گے۔ کچھ ثواب کمانے کے لیے نوافل پہ نوافل پڑھتے جائیں گے اور کچھ نوافل پڑھ کر پکوڑوں اور سموسوں کی قیمتیں کم ہونے کی ہونے کی دعا کریں گے تاکہ تیس دنوں میں کم از کم تین دن تو ان کا ذائقہ محسوس کر سکیں :( . اسے کہتے ہیں ‘ہمہ جہت منصوبہ سازی‘ :D یعنی دنیاوی اور دینوی دونوں طرح سے فائدہ۔ اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے خواص کو عوام کی کتنی فکر رہتی ہے۔ یہ تو ہم عوام ہی ناشکرے ہیں جو ہر وقت لٹھ لیے حکومت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔


حکومت نے تو نیکیاں کمانے کا پورا بندوبست کر لیا۔ ہم کیونکہ حکومت نہیں ہیں اس لیے جو مہلت مل گئی خطائیں معاف کرانے کی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت اور توفیق دے کہ میں اس بار رمضان میں ترجمے کے ساتھ قرآن مکمل پڑھ سکوں (آمین)۔ میرے بھائی کے فائنل ایگزامز ہو رہے ہیں. صبح اس کا پہلا پیپر ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان کی آمد اس کے لیے اور اس کے سب ہم جماعتوں کے لیے بہت مبارک ثابت کرے۔ اور ان کا پیپر بہت اچھا ہو جائے (اور اگر پیپر چیک کرنے والے بھی دیالو ہو جائیں رمضان کی برکت سے تو کیا ہی بات ہے :D ) آمین



 


موبائل فون پر قرآن اور اذان/نماز کے اوقاتِ کار سوفٹ ویئر


تلاوتِ قرآن


عبارتی قرآن


اذان اور نماز کے اوقاتِ کار


 


 



 

2 comments:

  • ڈفر says:
    2 September 2008 at 09:55

    ہاں واقعی اچھی شروعات ہے
    حکومت نے کہا کہ رمضان کے احترام میں جنگ بندی کر رہے ہیں اور اگلے دن 91 شدت پسند ہلاک کر دیئے۔ وزیر اعلی صاحب نے کہا کہ رمضان میں آٹا 300 کا تھیلا ملے گا تو لاہور کے ہی بازاروں سے آٹا غائب۔
    ہم ثواب کیسے حاصل کریں؟ اسکے لئے تو حکومت میں آنا پڑے گا اور ہم تو عوام میں بھی نہیں۔

  • Virtual Reality says:
    8 September 2008 at 20:24

    ڈفر: :( اب مجھ جیسے لوگ تو اعلان سن کر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ شاید اس بار اس میں کچھ سچائی ہو۔
    ہم عوام میں کیوں نہیں ہیں؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔