Saturday, 30 August 2008

کیسے کیسے لوگ

جی ٹی روڈ پر ‘ترکی ٹول پلازہ‘ سے گزرتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک آدمی ٹانگوں پر کپڑا ڈالے بیٹھا نظر آتا تھا ، جیسے ٹانگوں سے معذور ہو۔ جگہ ایسی تھی جہاں گاڑیاں لازماً آہستہ ہوتی تھیں اور یوں لوگ کچھ نہ کچھ اس کو دے دیتے تھے۔ اتنے عرصے سے وہ جیسے اس جگہ کا حصہ بن گیا تھا۔ ایک بار وہاں سے گزرتے ہوئے اماں نے حسبِ معمول اسے دینے کے لیے پیسے نکالے لیکن بھائی نے گاڑی نہ روکی۔ اماں جلال میں آ گئیں اور ڈانٹنے لگیں۔ جب ڈانٹ کا سلسلہ رکا نہیں تو بھائی نے کافی آگے جا کر گاڑی موڑی اور اس کے پاس پہنچ کر روکنے کی بجائے اس کی طرف بڑھاتے چلے گئے۔ سب حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ گاڑی جب عین اس کے سر پر پہنچی تو وہ موصوف فوراً سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے یہ بھول کر وہ ٹانگوں سے معذور ہیں۔ آنکھیں اور منہ کُھلے کے کُھلے رہ جانے کا صحیح تجربہ مجھے اس دن ہوا۔ :D بعد میں بھائی نے بتایا کہ کتنا عرصہ تو وہ بھی اس کو معذور سمجھتے رہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ دن میں ڈرامہ کر کے جو کچھ کماتا ہے شام کو سب نشے میں اڑاتا ہے اور کتنی بار منشیات فروشی کے سلسلے میں حوالات کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔ اس کے باوجود واپس اسی جگہ پر پایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ کچھ سال پرانا ہے اور اس کے بعد بھی میں نے اس آدمی کو اکثر اسی جگہ پر دیکھا ۔ معلوم نہیں اب بھی وہ وہیں بیٹھتا ہے یا نہیں!

لیکن یہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہر جگہ ہمارے لوگ نئے نئے طریقے نکال لیتے ہیں۔ میں جب شروع میں یہاں آئی تھی تو ایک بار یونیورسٹی جاتے ہوئے ٹیوب اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک انکل میرے پاس آئے۔ اچھے خاصے معزز دکھتے تھے، سفید بال اور داڑھی اور سر پر نماز والی ٹوپی۔ کہنے لگے، ‘بیٹا! آپ پاکستان سے ہو؟‘۔ میرے جواب پر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ میں یہاں نیا ہوں اور پتہ نہیں چلا رش میں کہیں بٹوہ گر گیا ہے۔ اسی میں میرا ٹریول کارڈ بھی تھا۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے میں اپنے سٹاپ پر سٹیشن سے باہر کیسے نکلوں گا۔ مجھے شرمندگی ہو رہی ہے تو مدد کے لیے کہتے ہوئے لیکن کیا کروں‘ وغیرہ وغیرہ۔ میں ان دنوں پردیس کے غم میں ڈوبی رہتی تھی اور اچھی خاصی رقیق القلب ہوا کرتی تھی ، مدد کیوں نہ کرتی ۔ بدلے میں دعائیں لے کر اتنی خوش ہوئی کہ اگلی ٹرین بھی مس کر دی۔ :) خیر کافی دن بعد انہی انکل کو میں نے وہیں کسی انڈرگراؤنڈ سٹیشن پر دو آنٹیوں سے، جو وضع قطع سے ایشین ہی لگتی تھیں ، سے ایسے ہی پیسے لیتے دیکھا۔ غصے سے زیادہ مجھے افسوس ہوا کہ ہمارے لوگوں نے کیا کیا طریقے نکالے ہیں چیٹ کرنے کے :( گھر آ کر جس جس کو یہ بات بتائی تو حوصلہ ملنے کی بجائے خاصی عزت افزائی ہوئی۔


ویسے میرا مشاہدہ ہے کہ بغیر محنت کے کمائی کے طریقوں میں پاکستانی بیچارے مغرب سے ماٹھے ہی ہیں۔ جتنا ترقی یافتہ ملک اتنا ہی مختلف طریقہ۔ جیسے تانیہ ہیڈ جس نے 9/11کے بعدان19 بچ جانے والوں میں ایک ہونے کا دعویٰ کیا جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے 78 ویں منزل پر موجود تھے۔ اور چھے سال تک بہادری، ہمت اور حوصلے کی علامت کے طور پر پہچانی جاتی رہی۔ نیویارک کے سابقہ اور موجودہ میئرز اور گورنر کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سروائیورز نیٹ ورک کی صدر بن گئی اور گراؤنڈ زیرو کے لیے رضاکار ٹور گائیڈ بھی۔ستمبر 2007 میں نیویارک ٹائمز نے نے انکشاف کیا کہ اس میں کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اصل کہانی بہت مزے کی ہے۔ میں تو ان خاتون کے story telling skills کی باقاعدہ فین ہو گئی ہوں :D بہرحال یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ بلکہ ایک سائیکالوجسٹ کے مطابق وہ شاید ان لوگوں میں سے ہے جو low self esteem کا شکار ہوتے ہیں اور ردِ عمل کے طور پر خود کو ایک آئیڈیل فرضی شخصیت کیے طور پر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

تانیہ نہ سہی لیکن Mario Mastellone نے 9/11 Victims' Compensation Fund سے ایک ملین ڈالر وصول کیے کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کا ایک اہم مہرہ (herniated disc )ناکارہ ہو گیا ہے ۔ لیکن ایک دن کسی فنکشن میں ڈانس کرنے کے شوق نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح Steven Chin Leung نے فراڈ کے ایک پرانے مقدمے سے چھٹکارا پانے کے لیے خود کو مردہ ظاہر کیا اور اپنا بھائی بن کر ڈیتھ سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ Fred Parisi نے بھی خود کو ریسکیو ورکر ظاہر کر کے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو بعد کی تحقیقات میں زیرو ہوگیا۔ بعد میں ان سب کو سرکاری مہمان بنا لیا گیا.

اور اب عظیم برطانیہ جہاں کے لوگوں کی اصول پسندی اور ایمان داری کی ہم لوگ مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ انکل John Darwin مارچ2002 میں اپنے گھر کے کچھ دور ساحلِ سمندر سے غائب ہوگئے۔ ایک سال کی تلاش کے بعد سرکاری طور پر مردہ قرار دے دیئے گئے اور ان کی بیگم آنٹی ڈارون نے شوہرِ نامدار کی لائف انشورنس کے اڑھائی لاکھ پاؤنڈز حاصل کرلیے۔ ساتھ ہی انکل کی سابقہ دو نوکریوں کی پنشن اور مور گیج انشورنس پالیسی کی رقوم بھی سمیٹیں اور پانامہ کو کوُچ کر گئیں۔ دسمبر دو ہزار سات میں ڈارون انکل لندن کے ایک پولیس اسٹیشن میں اچانک نمودار ہو کر کہنے لگے ۔' مجھے لگتا ہے کہ میں گُم ہو گیا ہوں۔' :D اپنی شامت کو خود آواز دے بیٹھے بیچارے ، کیونکہ کچھ دن بعد ہی انٹرنیٹ پر ان کی سن دو ہزار چھ میں اپنی بیگم کے ساتھ پانامہ میں لی گئی ایک تصویر نمودار سامنے آئی۔ تفتیش ہوئی اور معلوم ہوا کہ انشورنس کی رقوم حاصل کرنے کے لیے انکل آنٹی نے مل کر یہ ڈرامہ کیا۔ اور اس ڈرامے کے ڈراپ سین کے بعد دونوں کو جیل یاترا میں مصروف کر دیا گیا۔

سوچتی ہوں ہم پاکستانی تو فراڈ میں بھی ابھی تک پرانے طریقوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔




14 comments:

  • ڈفر says:
    30 August 2008 at 20:52

    نیا نو دن پرانا سو دن
    انکے طریقے ایک آدھ بار ہی کام کرتے ہیں ہم پاکستانیوں کے طریقے تو سدا بہار ہیں۔ نسل در نسل یہ علم بلکہ فن چلا آ رہا ہے بلکہ جا رہا ہے۔ وہ ایک آدھا ہا تھ مارتے ہیں ہم کئی کئی اور وہ بھی مسلسل۔ آخر میں شائد ان سے زیادہ ہی کمائی ہو ہمارے ٹھگوں کی۔ باہر والے ہاتھ تو بڑا مارتے ہیں پر کھاتے لُوٹا ہوا مال نہیں جیلٌ کی ہوا ہیں۔ یہاں تو باہر بھی شانتی اور اندر بھی شانتی۔

  • راشد کامران says:
    31 August 2008 at 01:26

    ہم لوگوں کے طریقے نچلی سطح پر مال سمیٹنے تک محدود ہیں کیونکہ بالائی سطح پر تو اتنے دھڑلے سے لوٹ مار کا سلسہ جاری ہے کہ نوسر بازی کی ضرورت ہی نہیں۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں تحقیق ہوتی ہے اور کہانی کو منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے اور ہمارے یہاں سب کچھ بھلا کر صدارت کی پیشکش

  • بدتمیز says:
    31 August 2008 at 02:00

    یہ آخری انکل جو سمندر میں غائب ہوئے تھے ان کو تو بینک نے قرض پر بہت تنگ کیا ہوا تھا اور نوبت شائد مکان قرقی تک آ گئی تھی لہذا انہوں نے یہ کمال دیکھایا تھا۔ اس معاملے میں سبق آموز بات کہ اس دوران کسی ادارے نے خاتون کی ای میل چیک نہیں کی کیونکہ قانونا ایسا کرنا جرم ہے لہذا جرم کو پکڑںے کے لئے جرم کرنا وہاں‌ ناقابل قبول ہے۔ جبکہ ان میاں بیوی کا رابطہ ای میل پر تھا۔
    یہی اگر امریکہ ہوتا تو صدر بش کے صدقہ دو دن میں دنوں میاں بیوی پکڑے جاتے کہ آجکل تحقیقات کرتے وقت ان اداروں کو کھلی چھٹی ہے کہ خود جتنے مرضی قانون توڑتے پھریں۔
    ویسے ذہین اقوام کے جرائم بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی تک لاٹھی سے کام چلایا جا رہا ہے۔

  • شگفتہ says:
    31 August 2008 at 14:57

    یعنی کہ ہم یہاں بھی پیچھے :(
    آخر ہم کسی چیز میں آگے بھی ہیں کہ نہیں :) :(

  • ماوراء says:
    31 August 2008 at 23:00

    بڑے لوگ بڑے فراڈ کرتے ہیں، تو چھوٹے لوگ چھوٹے فراڈ۔ :D
    اور یہ جو مختلف طریقوں سے مانگنے والے ہوتے ہیں۔۔۔ ان کی تو ساری زندگیاں اسی طرح گزر جاتی ہیں۔ :(

  • بوچھی says:
    1 September 2008 at 01:21

    farhat app kahn hain? app ko mein ny kitnay sms kiya hain magr app ko kuon deliver naih ho rahy hain? :kiakha: :s:
    os din se jab app se meri last ms pr batchet chal rehi thee, aik dam se app ka mobile off hogaya tha, aur text bhi naih ponch pa rahy hain?
    mein ny bell ki tab bhi off ja raha hai,
    kahn hain app? :nahi:
    mein oxford se hoke wapis bhi agyi hon , aur app ka abhi tak koi ata pata hi naih ,

  • شکاری says:
    1 September 2008 at 11:59

    اسلام علیکم،

    میں سمجھا تھا کہ اُلٹے کاموں میں‌ ہم سب سے آگے ہیں لیکن یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ نکلا۔ یعنی پردیسی لوگ ہم سے دو ہاتھ آگے۔لوگ پردیسوں کی تعریف بہت کرتے ہیں، لیکن ایسے حقائق سے کم ہی آگاہ کرتے ہیں مزید ایسی تحریروں کا انتظار رہے گا۔

  • Virtual Reality says:
    2 September 2008 at 08:03

    @ ڈفر: بڑا ہاتھ تو بڑے لوگ مارتے ہیں اور یہ تو سچ ہے کہ اگر اندر ہو بھی جائیں تب بھی شانتی ہی ہے ان کے لیے :) عام لوگ تو وہی پرانے گھسے پٹے طریقے لیے بیٹھے ہیں ابھی تک۔

    @ راشد کامران: بالکل درست کہا آپ نے۔ جتنا بڑا گھپلا اور فراڈ اتنی بڑی پوسٹ۔ آج ایک ای-میل ملی مجھے ۔ جس میں متوقع صدر صاحب کے اثاثہ جات اور ان کے حصول کی تفصیل تھی جسے پڑھ کر ابھی تک انگشت بدنداں ہوں :D

    @ بدتمیز: یہ قرضے ہی اس ڈرامے کی وجہ بنے تھے۔ پرائیویسی کے سلسلے میں برطانیہ عظیم کی پالیسیز امریکہ بہادر سے ذرا مختلف ہی سہی۔ لیکن آنٹی ڈارون کی ای-میلز چیک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ کسی کو ہلکا سا بھی شک نہیں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے بیٹوں کو بھی یہ بات نہیں معلوم ہو سکی۔
    لیکن ڈارون انکل کا پول کُھلنے کے بعد ایسے دوسرے لوگوں کے لیے کافی مسئلہ ہو گیا ہے۔ اب پچھلے دنوں ایک گھر میں آتشزدگی سے پورا گھر تباہ ہو گیا۔ تفتیش کرتے ہوئے پولیس اس بات کا خاص خیال رکھ رہی ہے کہ ان موصوف پر بھی ٹھیک ٹھاک قرضہ تھا۔ گھر سے ملنے والی لاشوں میں سے ابھی تک صرف ایک کی شناخت ہو سکی ہے جو ان کی بیگم تھیں۔ اللہ جانے اصل کہانی کیا ہے؟

  • Virtual Reality says:
    2 September 2008 at 08:13

    @ شگفتہ: بس یہی غم ہے کہ مجال ہے ہم نے کسی میدان میں آگے نکلنے کی کوشش کی ہو :D

    @ ماوراء: میں سوچ رہی ہوں کوئی طریقہ ہونا چاہئیے چھوٹے لوگوں کو بڑے لوگوں کے برابر لانے کا :D
    @ بوچھی: :( بہت بہت معذرت شازیہ جی۔ یہ والی سروس تو بہت فضول ہے۔ کبھی سگنلز کا مسئلہ تو کبھی سروس ڈاؤن۔ جس دن آپ نے آکسفورڈ کا پروگرام بتایا تھا اس دن بھی میں نے ٹیکسٹ کیا لیکن پہنچا نہیں۔ موبائل آف تو نہیں ہوتا میرا :(

  • Virtual Reality says:
    2 September 2008 at 08:22

    @ شکاری: وعلیکم السلام
    خوش آمدید اور بہت شکریہ
    بس ایسا ہی ہے۔ اپنی خامیوں پر نظر رکھنا بہت اچھی بات ہے اور دوسروں کی اچھائیوں کو سراہنا بھی۔ لیکن ہم لوگ اس سلسلے میں خومخواہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔
    کم از کم میرا تجربہ تو ہ کہتا ہے کہ ان معاشروں میں بھی بگاڑ موجود ہے چاہے ہم سے کم ہی سہی۔ ان ملکوں میں بھی کرپشن ہے۔ دھوکہ دہی بھی عام ہے اور اداروں میں بے ایمانی بھی۔ ہاں یہ ہے کہ یہاں کسی حد تک فعال قانون کی وجہ سے حالات قابو میں رہتے ہیں۔

  • بدتمیز says:
    2 September 2008 at 18:15

    شکاری: نہیں یہ حقائق نہیں۔ پردیسیوں کی تعریف درست اور بجا ہوتی ہے۔ مذکورہ واقعات کتنے فیصد ہونگے؟ اعشاریہ کچھ فیصد۔ جبکہ ہماری تو پوری قوم ایسے واقعات میں ملوث رہتی ہے۔ رشوت بےایمانی جھوٹ دھوکہ۔
    ان معاشروں میں جھوٹ بولنا سخت برا سمجھا جاتا ہے اور کسی کے منہ پر کہنا کہ وہ جھوٹا ہے اس کے لے کسی گالی سے کم نہ ہو گا اور ہو سکتا ہے ک وہ جھوٹا کہے جانے پر ہفتوں بےچین رہے۔ اور ہم؟ گھنٹہ میں دس بارہ جھوٹ گھڑ لیتے ہیں۔
    یہ حقائق نہیں بلکہ واقعات ہیں۔ اور اگر غور کریں تو اتنی اہمیت کے حامل کیوں‌ہیں؟ کیونکہ ان معاشروں میں‌ایسی برائیاں نہیں۔ اسی لئے ایسا واقعہ ہو تو وہ اہم بن جاتا ہے کہ ایسا ہوا کیونکر۔ ہمارے ہاں؟ قتل بھی ہو جإیں تو سر کی جوئیں کان تک کا سفر نہیں کرتی۔
    آپ ایسی مزید تحاریر کا مطالبہ نہ کریں بلکہ پوچھیں کہ ایسے واقعات کے بعد کیا ہوتا ہے؟ پولیس کا کردار کیسا ہے اور عدالت کیا کرتی ہے۔ یہ سوچ انتہائی غلط ہہے کہ فلاں غلط کرتا ہے تو ہم بھی کریں گیں۔ یا ہم نے غلط کیا تو کیا ہوا دوسرے بھی تو کرتے ہیں۔

  • شکاری says:
    3 September 2008 at 08:04

    دوسروں کو دیکھ کر خود ہی ویسی روش اختیار کرنا عقلمندی نہیں ہے لیکن میرا مقصد یہ ہے کہ دوسرے معاشروں کے پوزیٹیو اور نیگیٹو تمام پہلوؤں کو واضح کیا جائے۔ عموماً اگر کوئی ان ملکوں کے بارے میں‌ بات کرتا ہے تو صرف مثبت پہلوؤں کی ہی بات ہوتی ہے جس سے ہماری زیادہ تر نوجوان جنہوں نے انھیں قریب سے نہیں دیکھا ہوتا احساس کمتری کا شکار ہوتی ہے پاکستان کی نسبت ان ممالک میں رہائش کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔

    ان کے بارے میں صرف مثبت گتفگو کرنے کی وجہ یہاں پر جرائم کا کم ہونا بھی ہوسکتا ہے۔

  • ابوشامل says:
    4 September 2008 at 12:35

    بہت اچھی تحریر ہے، اس طرح کی معلوماتی تحاریر پڑھنے کا موقع کبھی کبھار اور چند ہی بلاگرز کے پاس ملتا ہے۔ ویسے نوسربازی میں فرق تعلیم کا ہے ہمارے ہاں کا غیر تعلیم یافتہ طبقہ سڑکوں پر بھیک مانگتا اور جیبیں کاٹتا دکھائی دیتا ہے اور تعلیم یافتہ اربوں روپے کے گھپلے کرتا پایا جاتا ہے۔

  • Virtual Reality says:
    8 September 2008 at 20:21

    @ ابو شامل: خوش آمدید اور بہت شکریہ۔
    درست کہا آپ نے۔ بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ جتنا وقت اور محنت ہمارے لوگ ایسے کاموں میں لگاتے ہیں اگر درست سمت میں لگائیں تو ہم لوگ کتنا آگے چلے جائیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔