Friday, 29 August 2008

ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر

کل پاکستان اپنی کزن کی بیٹی سے بات ہوئی تو اس کا پہلا شکوہ تھا۔۔‘خالہ! میں آپ کو اتنے ایس ایم ایس کرتی ہوں ۔ آپ جواب دے دیتی ہیں لیکن خود سے ایسے اچھے اچھے ایس ایم ایس کیوں نہیں کرتیں۔‘ اس کو تو میں نے مطمئن کر دیا لیکن تب سے یہی سوچ رہی ہوں کہ ہمارے یہاں موبائل فون سہولت اور ضرورت سے زیادہ ایک ایسی تفریح بن گیا ہے جو وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کام کی بات ہو تو بندہ کچھ کہے بھی۔  اب فارورڈڈ ٹیکسٹ میسجز کا کیا جواب دیا جائے۔ اور جب آپ کو تھوک کے حساب سے ایسے میسجز ملیں تو کیا کریں؟ پاکستان میں تو مجھے یہی فکر لگی رہتی تھی کہ اگر کسی کو جواباً کوئی اچھا سا ٹیکسٹ نہ بھیجا گیا تو شدید ناراضگی کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح ایک اور بیماری ‘مسڈ کال‘ دینے کی ہے۔ خصوصاً بچہ پارٹی میں۔ ہر وقت فون ہاتھ میں ہے اور مسڈ کالز دی جا رہی ہیں۔ آدھی بیل گئی اور کاٹ دی۔۔ ستم یہ کہ اس عمل کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ اگلا بندہ مصروف ہوگا، سو رہا ہوگا یا کسی ایسی جگہ پر بھی ہو سکتا ہے جہاں فون اس طرح بار بار بجنا اس کے لیے خفت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ویسے بچوں کے علاوہ اچھے خاصے سمجھدار لوگوں کو بھی میں نے ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ہماری ایک رشتہ دار کی عادت تھی کہ ایسے وقت میں رنگ کرتی تھیں کہ بندہ سوچ بھی نہ سکتا کہ شرارت کی جا رہی ہے۔ سب شش و پنج میں پڑ جاتے تھے کہ معلوم نہیں واقعی فون کر رہی ہیں یا ڈمب کال ہے۔ نتیجہ یہ کہ اگر فون سن لو تو فوراً شکوہ کہ یہ تو مسڈ کال تھی۔ فون اٹینڈ کیوں کیا؟ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ نہیں اٹینڈ کیا تو بعد میں خبر لی کہ اتنا ضروری کام تھا فون کر رہی تھی سُنا کیوں نہیں!!

ایسی بےسروپا حرکتوں کی وجہ سے کسی کا کتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے اس پر ہم لوگوں نے شاید کبھی غور نہ کیا ہو۔ مجھے پہلے بھی اس بات سے چڑ تھی اور اب ایک انتہائی تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد تو مجھے اس حرکت پر شدید غصہ آتا ہے۔ تقریبا٘ ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے۔ میری ایک کزن کی عادت تھی کہ رات کو جب تک سوتی نہ ,سب کو بیلز دیتی رہتی تھی۔ مجھے کیونکہ صبح جلدی اٹھنا ہوتا تھا اس لیے جلدی سو جاتی تھی۔ اب سوتے ہوئے اگر فون بج گیا اور نیند ٹوٹ گئی تو میں دوبارہ سو نہیں‌ سکتی اور میرے سر میں انتہائی شدید درد بھی ہونے لگتا ہے۔ سو میں نے حل یہ نکالا کہ رات کو فون سائلنٹ موڈ پر کر دیتی تھی۔ اس صبح اتفاق سے میری آنکھ معمول سے کافی پہلے کھل گئی ٹائم دیکھنے کے لیے فون اٹھایا تو ابو کی دو کالز تھیں۔ جو کہ غیرمعمولی بات تھی۔ نیچے بھاگی تو ابو کو نڈھال سا جاگتے ہوئے پایا۔ اماں کچن میں ابو کے لیے کچھ بنا رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساری رات ابو بےچین رہے ہیں۔ اتفاق سے ایک دن پہلے اماں کی طبیعت بھی کافی خراب تھی اور اس رات وہ بھی مسکن دوا کے زیرِ اثر تھیں اس لیے وہ اٹھ بھی نہیں سکیں۔ مزید ستم یہ کہ بھائی بھی آفس کے کام سے شہر سے باہر تھے۔ علامات سے مجھے شک ہوا کہ شاید انجائنا کا مسئلہ ہے۔ بھائی کو فون کر کے بتایا۔ ڈاکٹر کو بلایا۔ ہاسپٹل گئے اور معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ لیکن ابو کی اچھی صحت اور قوتِ ارادی کی وجہ سے انہوں نے پوری رات اس درد کو برداشت کر لیا۔ انہیں صحت کی طرف سے کبھی کوئی ہلکا سا مسئلہ بھی نہیں ہوا تھا اس لیے وہ یہی سمجھتے رہے کہ یونہی ذرا سی طبیعت خراب ہے۔ اور کسی کو نہیں جگایا۔ میرا کمرہ بھی اوپر ہے۔ شاید کسی وقت بہت تکلیف میں ابو نے میرا نمبر ملایا ہوگا لیکن مجھے کیا پتہ چلتا، میرا فون تو خاموش تھا :( وہ دن میری زندگی کا سب سے برا دن تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم پرکرم کیا اور خیریت رہی لیکن میں اب بھی اکثر سوچتی ہوں کہ اگر میرا فون سائلنٹ پر نہ ہوتا تو ابو کو اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی :(

اور اس واقعے کے بعد خاندان کے ایسے تمام موبائل ہولڈر بچوں، بڑوں کی تو میں نے وہ کلاس لی کہ اب کوئی بھول کر بھی ایسا نہ کرتا ہوگا لیکن مجھے لگتا ہے کہ فضول میں ٹیکسٹ میسجز کرنا اور مس کالز دینا اکثر لوگوں کی ایک عام عادت بن گئی ہے۔

12 comments:

  • محمد وارث says:
    29 August 2008 at 09:31

    بالکل صحیح مسئلے کی طرف نشاندہی کی آپ نے اور بہت اچھا لکھا۔

    مجھے بھی اس 'ایس ایم ایس' کلچر سے ایک طرح‌ سے نفرت ہے، کبھی کچھ دوست لطائف بھیجتے تھے لیکن میری سرد مہری کی وجہ سے اب اللہ کا شکر ہے کہ اس سے نجات مل چکی، ہاں چند ایک دوست ہیں جو 'اچھے' اشعار بھیج دیتے ہیں۔

    فون 'سائیلنٹ' پر رکھنے میں واقعی بہت قباحتیں ہیں۔

    بہرحال پاکستان میں یہ کلچر تو بہت پھیل چکا اور مزید پھیل رہا ہے، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں جب فون آئیں‌گے تو یہی کچھ ہوگا!

  • ڈفر says:
    29 August 2008 at 11:03

    میں بھی آپ سے بالکل متفق ہوں ان مسڈ کالز اور میسجز نے جینا حرام کر دیا ہے
    پر فراز کے ایس ایم ایس کی تو خیر ہے نا!

  • راہبر says:
    29 August 2008 at 12:13

    اچھا لکھا ہے اور موضوع بھی اہم ہے۔ مجھے فارورڈ پیغامات سے سخت چڑ ہے۔ میں عموما اس سے پرہیز کرتا ہوں۔ میرے بھائی کا ایک دوست ہے۔ وہ ایس۔ایم۔ایس کی سبسکرپشن کروالیتا ہے۔ کوئی نوے روپے کے عوض پانچ ہزار ایس۔ایم۔ایس مل جاتے ہیں جو لازما پندرہ دنوں میں استعمال کرنے ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ کوٹا پندرہ دن سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے۔ یعنی پندرہ دن سے بھی کم میں وہ پانچ ہزار میسیجز کردیتا ہے۔ میرے بھائی کا موبائل ہر دو منٹ بعد بجتا رہتا ہے۔ ہمیں ابھی ضرورت کی چیزیں استعمال کرنے کا شعور نہیں آیا ہے۔ وقت لگے گا۔
    خدا کا شکر ہے کہ آپ کی ابو کی طبیعت زیادہ نہ بگڑی۔ اللہ آپ کے والدین کا سایہ آپ پر تادیر قائم رکھے۔ آمین

  • حجاب says:
    29 August 2008 at 19:27

    اچھا لکھا ہے فرحت ، ہر وقت بے وجہ کی مس کالز کے میں بھی خلاف ہوں ، میں بھی بہت ساری کلاس لے چکی ہوں مس کالز کرنے والوں کی ، رات کے موبائل میں بھی سائلینٹ موڈ پر کر دیتی ہوں اور بہت بار ڈانٹ بھی پڑ چکی ہے گھر والوں سے ، مگر مس کالز کرنے والے بھی سمجھیں تب کوئی بات بنے ، اللہ کا شکر کہ آپ کے ابو کی طبعیت ٹھیک رہی ، اللہ آپ کے ابو کو صحت مند رکھے آمین ۔

  • ماوراء says:
    29 August 2008 at 23:24

    فرحت، سب سے پہلے تو شکریہ کہ اس بارے میں آپ نے لکھا۔
    جتنا مجھے ان فضول ایس ایم ایسز اور مسڈ کالز پر غصہ آتا ہے، شاید ہی کسی کو آتا ہو۔
    پاکستان میں واقعی فون کو بالکل ایک فضول طور پر استعمال کیا جاتا ہے، فضول ایس ایم ایس۔۔۔ جن کا کوئی مقصد نہیں۔۔۔بھیج دئیے جاتے ہیں۔ اکثر شاعری کے ایس ایم ایس ملتے ہیں، ان کو قسم کھا کر میں نے کبھی پڑھا نہیں۔ سکرول کر کے ایس ایم ایس ڈیلیٹ۔۔! مجھے ایسے ایس ایم ایس ملنے پر اتنا غصہ آتا ہے کہ میں کسی کا جواب دینا گوارا ہی نہیں کرتی۔۔۔آگے سے پھر سننے کو ملتا ہے، کہ تم نے تو رپلے ہی نہیں کیا۔۔ تم تو ہمیں بھول ہی گئی ہو۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

    میری بہن نے پاکستان میں ایک دوست کو فون نمبر دے دیا۔۔اب وہ اتنی مس کالز کرتی ہے، کہ نہ ٹائم دیکھتی ہے، کہ ہمارے ہاں کیا وقت ہوا ہو گا۔۔مس کالز پہ مس کالز۔۔ :D میری بہن اتنی تنگ آئی ہوئی ہے آجکل۔ کہ وہ کون سی بری گھڑی تھی، جب اسے نمبر دے دیا تھا۔

    ویسے فرحت، ایک حل ہو سکتا ہے، جو ایم ایس ایس اور مس کالز کرنے والے ہیں، ان کو ایسا نمبر دیا جائے جو چوبیس گھنٹے آف رہا کرے۔ :D

  • راشد کامران says:
    30 August 2008 at 01:07

    یہ بہت ہی عجیب معاشرتی بیماری کی طرف آپ نے نشاندہی کی ہے۔۔ سہولت کا بے جا استعمال اور پھر اگر انسان اس عمل سے دور رہنا چاہے تو اس پر لعن طعن ۔۔ عجیب مسئلہ ہے۔۔ کچھ لوگوں‌ نے تو باقاعدہ پروٹوکول بنا لیے ہیں۔۔ کال تو کبھی کرتے نہیں‌ صرف مس کال سے کام چلاتے ہیں۔۔

  • Virtual Reality says:
    30 August 2008 at 20:05

    @ وارث: بہت شکریہ وارث۔ کبھی کبھار کی بات ہو یا کسی کے کام کا کوئی ایس ایم ایس ہو تو پھر بھی بات ہے۔ میں سوچتی ہوں جو لوگ ایسے ایس ایم ایس تخلیق کرتے ہوں گے اگر وہی کام وہ کسی تعمیری کام میں لگائیں تو کیا ہی خوب ہو۔
    میں بھی چھوٹے بچوں کے پاس ذاتی موبائل ہونے کے سخت خلاف ہوں لیکن جن کے بچے ہیں وہ لوگ معلوم نہیں کیوں اس کی قباحتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

    @ ڈفر: مجھے تو ایسا کوئی ٹیکسٹ نہیں ملا لیکن سنا ہے کہ پاکستان میں لوگوں نے فراز کی شاعری کے انتہائی ظالمانہ پوسٹ مارٹم کیے ہیں ایس ایم ایس کی صورت میں۔
    @ راہبر: پندرہ دنوں میں پانچ ہزار میسجز!!!! حد ہو گئی ہے۔ میں اس بار پاکستان گئی تو کسی نے بتایا تھا ایسے پیکجز کے بارے میں۔ لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ کوئی انہیں سبسکرائب بھی کرتا ہو گا۔ اللہ کرے کہ ہمیں جلد ہی ضرورت اور ضیاع میں فرق کرنا آ جائے۔
    ثمَ آمین۔ بہت شکریہ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس پہلے اٹیک کے بعد سے ابو کو کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوا۔

    @ حجاب: بہت شکریہ۔ بالکل فون سائلنٹ رکھنا تو مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے مزید کئی مسئلے ہو سکتے ہیں۔ کاش کہ لوگوں کو اس بات کی سمجھ آ جائے کہ وقتی انجوائے منٹ کسی کے لیے کتنی مشکل پیدا کر سکتی ہے۔
    جی اللہ تعالیٰ نے کرم کیا ورنہ اگر خدانخواستہ کچھ ایسا ویسا ہو جاتا تو شاید میری ساری زندگی ایک گلٹی میں ہی گزرتی :(

    @ ماوراء: درست کہہ رہی ہیں آپ۔ پاکستان میں زیادہ تر موبائل فون کا استعمال ایسے ہی فضول کاموں کے لیے ہوتا ہے۔ کہیں بھی چلے جائیں۔ اگر 10 لوگ بیٹھے ہیں تو ان میں سے 6-7 تو لازماً اپنے موبائل کے ساتھ مصروف ہوں گے۔ میں تو کہتی ہوں ایس ایم ایسز کے چارجز بڑھ جانے چاہئیں اور مسڈ کال پر بھی کچھ چارج ہونا چاہئیے۔
    ترکیب تو اچھی ہے لیکن قریبی جاننے والوں کا کیا کیا جائے۔ ویسے اس واقعے کے بعد میں نے وہ نمبر بند کرا دیا لیکن کسی کو بتایا نہیں س:D سوائے گھر والوں کے کسی کو نیا نمبر نہیں معلوم تھا۔ زندگی پُرسکون :)
    لیکن بہرحال یہ تو کوئی حل نہیں ہے ناں :(

    @ راشد کامران: کال نہ کرنے کی بھی خوب کہی۔ اکثر لوگوں نے یہ اچھا طریقہ اپنایا ہے کہ دو منٹ کی بھی بات کرنی ہو اور چاہے کام بھی اپنا ہی کیوں نہ ہو۔ بار بار مسڈ کال دی اور اگلے بندے کو مجبور کر دیا کہ وہ فون کر کے پوچھے کہ کیا مسئلہ کی ہے۔

  • شگفتہ says:
    31 August 2008 at 15:13

    فرحت یہ تو بہت تکلیف دہ صورت کا ذکر کیا ہے شکر ہے کہ انکل خیریت سے ہیں ۔

    مجھے جب سے سیل فون ہے میرے پاس صرف ایک بار ایسا ہوا کہ رات کو شاید تین بجے بار بار سیل فون بجنا شروع ۔ ۔ ۔ لیکن میری نیند ایسی شاندار ہے کہ کوئی فرق ہی نہیں پڑا میں مزے سے سوتی رہی، میں رات کو بھی بند نہیں رکھتی اور نہ ہی سائلنٹ پر وہ الگ بات ہے کہ حمزہ اینڈ کو کے ہاتھوں میرے دونوں نمبرز کی شامت آئی رہتی ہے اور سائلنٹ پر ہو جاتی ہے سیٹنگز اور میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو تو چیک کرنا پڑتا ہے ورنہ تو خیر ہی رہتی ہے ۔ اوپر سے میرا اخلاق اتنا اچھا اور ستھرا ہے کہ سب کو شکایت رہتی ہے :)

  • Virtual Reality says:
    2 September 2008 at 08:31

    جی شگفتہ! خیریت رہنے کے باوجود یہ واقعہ ابھی تک مجھے پریشان کرتا ہے۔ ابو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے :)

    اتنی گہری نیند! آپ کتنی خوش قسمت ہیں شگفتہ :) میری نیند ایسی ہے کہ ادھر ذرا سی آواز آئی تو فوراً غائب اور اس کے بعد میرا سر احتجاجاً اتنے زور سے دُکھنے لگتا ہے کہ اگلے کچھ گھنٹے تو مصیبت رہتی ہے۔
    حمزہ اینڈ کو آپ کے فون کا جو حال کرتے ہیں اس کا اندازہ تو ہو جاتا ہے جب بوچھی آپ کو فون کرنے سے پہلے کئی بار یاد کراتی ہیں کہ شگفتہ اپنا فون دھیان میں رکھیے گا :D

  • [...] اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے [...]

  • اگست 2008 کے بلاگ says:
    9 January 2009 at 02:31

    [...] اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے [...]

  • لیلہ says:
    28 August 2009 at 18:46

    جی

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔