Thursday, 28 August 2008

کیوں بھلا؟؟؟


 



ہمیں گلاس آدھا خالی ہی کیوں نظر آتا ہے؟؟؟

11 comments:

  • بدتمیز says:
    28 August 2008 at 05:07

    اگر آدھا گلاس خالی نظر نہ آئے تو ارتقا کا عمل ٹھپ ہو جاتا ہے۔

  • محمد وارث says:
    28 August 2008 at 11:01

    چونکہ یہ ہے ہی آدھا خالی، کون انکار کر سکتا ہے!

  • سید محمد حنیف شاہ says:
    28 August 2008 at 11:45

    گلاس آدھی خالی ھے
    گلاس آدھا بھرا ھوا ھے

  • ڈفر says:
    28 August 2008 at 14:16

    گلاس؟
    میری نظر تو پیچھے صوفے کے اس پھولدار کپڑے پر ہے جس کی ساتھ کے ملتے جُلتے کشن ہمارے صوفوں پہ بھی تھے۔
    ویسے گلاس میں ہے کیا؟ سیون اَپ؟
    اگر گلاس الٹا رکھ کے تصویر لی جاتی تو مجھے صد فیصد یقیں ہے کہ سب کو گلاس "پورا خالی" نظر آتا۔ آخر ہم قوم کو کنفیوز ہونے ہی کیوں دیتے ہیں؟

  • Virtual Reality says:
    29 August 2008 at 06:21

    @ بدتمیز: لیکن اگر گلاس بھرا ہوا دکھے تو؟؟؟

    @وارث: جی بالکل۔ مگر اس بات سے بھی تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گلاس آدھا بھرا ہوا بھی ہے۔

    @ سید حنیف شاہ: مجھے بھی یہی سمجھ نہیں آتی کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا۔ (سمجھ آتی ہے یا آتا ہے :(‌ )

    @ ڈفر: :) واقعی اکثر صوفہ، کشن کورز اور پردوں کا ایسا ہی یا ملتا جلتا پیٹرن ہوتا ہے۔
    گلاس میں سادہ پانی ہے :D
    گلاس الٹا رکھا جاتا تب تو سب کو 'گلاس الٹا' نظر آتا ناں۔ خالی کا تو کوئی نام بھی نہ لیتا :D
    ویسے ذاتی طور پر میں سمجھتی ہوں کہ ہم لوگ کنفیوژ ہونے کے شوقین ہیں۔ سیاست سے گھر تک ہر جگہ کنفیوژن کی حکمرانی ہے :)

  • محمد وارث says:
    29 August 2008 at 09:21

    اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے فرحت کہ 'حقیقت' ایک سے زائد ہو سکتی ہے اور وہ سبھی صحیح بھی ہو سکتی ہیں۔

  • بدتمیز says:
    29 August 2008 at 12:00

    اگر بہتر لگے تو اس کو مزید بہتر کیا کیا جا سکتا ہے؟
    ہاں اگر اس مخصوص گلاس کی بات ہے اور یہ بھرا لگے تو چونکہ آپ نے کلئیر کر دیا ہے کہ یہ سیون اپ نہیں‌ پانی ہے لہذا یہ مشورہ تو نہیں‌ دیا جا سکتا کہ سٹرا ڈال کر پی لیا جائے۔
    لہذا ایک دوسرا صائب مشورہ ہے کہ اس کی سکینجین بنا کر نوش فرمائی جائے۔ :D

  • Virtual Reality says:
    30 August 2008 at 20:18

    @وارث: یعنی یہ کہ دیکھنے کے انداز سے کسی حقیقت کے بیان کا انداز بھی بدل جاتا ہے!

    @ بدتمیز: بہتر میں مزید بہتری کی گنجائش نہیں ہوتی کیا؟ بہتر کو بہترین کرنے کی کوشش بھی تو ارتقا ہے۔
    :D :D گلاس میں سادہ پانی نہ ہوتا تو شاید مجھے اس پوسٹ کے لیے موضوع بھی نہ ملتا۔ اس صورت میں اتنے تردد میں کون پڑتا کہ تب تو گلاس آدھا بھرا ہوا ہی نظر آنا تھا ‪‪:D

  • بدتمیز says:
    31 August 2008 at 02:04

    بہتر کو مزید بہتر بنانا برصغیر کے لوگوں کی روایت نہیں۔ آپ کا عنوان ہی چونکہ یہ تھا کہ ہمیں کیوں نظر نہیں آتا لہذا اس تناظر میں‌ کہا کہ اگر ہمیں گلاس بھرا نظر آئے تو صرف دو باتیں ہونگی یا تو ہم صدیاں سکھ چین سے گزار دیں اسی ایک گلاس کے سائے۔ یا پھر ہم اس کو پی کر خالی کر دیں یعنی جو کچھ بنا بنایا ملے اس کو بھی تباہ کر کے رکھ دیں۔ ہماری تاریخ ہی ہمیں تبدیلیوں سے بیرونی فاتحیں کے ذریعے روشناس کراتی رہی ہے۔ لہذا ہم میں یہ خاصیت نہیں۔

  • شگفتہ says:
    31 August 2008 at 15:24

    لیکن بدتمیز ہم میں یہ خاصیت ہونی تو چاہیے تھی :( اس سب بگاڑ کے پیچھے کیا سبب یا اسباب رہے ہیں ؟

  • Virtual Reality says:
    2 September 2008 at 08:40

    @ بدتمیز: بہت اچھی بات کہی آپ نے ۔ دیکھا جائے تو ہم لوگ کسی حد تک ایسے ہی ہیں۔ لیکن میں یہ کہوں گی کہ خاصیت تو شاید کہیں موجود ہو لیکن روایت واقعی نہیں ہے ہماری کہ ہم خود سے آگے بڑھنے کے بارے کچھ کریں۔

    @ شگفتہ: کاش کہ ہم بگاڑ کے اسباب جان سکیں اور سدِ باب کا بھی سوچیں :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔