Saturday, 6 September 2008

شادی خانہ آبادی

شگفتہ اور حجاب کے بلاگز پر جہیز اور ایک ناخوشگوار شادی کے بارے میں پڑھ کر مجھے بھی کچھ یاد آ گیا جو شادی اور جہیز سے پہلے کے مرحلہ یعنی تلاشِ رشتہ کے بارے میں ہے۔


میری تایازاد بہن کی شادی کی تاریخ پکی ہو رہی تھی۔ ابھی لڑکے والے نہیں آئے تھے لیکن رشتہ کرانے والی آنٹی وہیں موجود تھیں۔ یونہی باتوں میں میں نے ان سے پوچھا کہ عام طور پر بہو ڈھونڈنے والوں کے مطالبات اور اعتراضات کیا ہوتے ہیں؟ جواب میں انہوں نے پوری فہرست سنا دی۔



لڑکا کیسا بھی ہو، کچھ بھی کرتا ہو اور چاہے دوسری شادی ہی کیوں نہ ہو۔ ا ڈیمانڈز تقریباً ایک سی ہی ہوتی ہیں۔ ‘لڑکی خوبصورت، پڑھی لکھی، سلیقہ مند اور خاندان تگڑا ہونا چاہئیے۔‘



‘اور اعتراض تو ایک سو ایک ہوتے ہیں۔ جیسے:



‘خاندان تو اچھا کھاتا پیتا ہے لیکن لڑکی رنگ میں دبتی ہے۔ اب ایسی دلہن کو دیکھ کر لوگوں نے تو یہی کہنا ہے کہ شاید ہمارے لڑکے کو رشتوں کی کمی تھی۔ بھئی ہمیں تو اونچی لمبی، گوری چٹی لڑکی چاہئیے۔‘



‘کیا ہوا جو لڑکی بہت خوبصورت ہے۔ آجکل تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے بڑے خاندان میں رشتہ جوڑا ہے۔ یہ لوگ تو شاید بیٹی کو ضرورت کی چیزیں بھی نہ دے سکیں جہیز میں۔ بہتر ہے کہ کوئی اور گھر دیکھا جائے۔ اگر باہر کا رشتہ ہو تو زیادہ بہتر ہے۔‘



‘باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیسے لوگ ہیں۔ آج کے دور میں بھی لڑکی کو صرف میٹرک کرا کر گھر بٹھا لیا۔ مجھے ایسی بیوی چاہئیے جو میرے ساتھ گھر کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں اکیلا کمانے والا گھر کیسے چلا سکتا ہے۔ کوئی نوکری کرنے والی لڑکی ڈھونڈیں۔‘



‘لڑکی کی عمر کچھ زیادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ بیس بائیس سال کی ہو۔‘(چاہے نوشے میاں خود تیس چالیس بہاریںؓ ہی کیوں نہ دیکھ چکے ہوں)


‘لڑکے کی اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ اچھی سی لڑکی ڈھونڈیں۔ خیال رہے کہ دوسری شادی والی نہ ہو۔ آخر لڑکا باہر سیٹلڈ ہے۔‘



‘لڑکی ہمیں تو پسند آئی ہے لیکن کیا کریں۔ بیٹے کی شرط ہے کہ لڑکی کے بال بہت لمبے ہونے چاہئیں۔‘


 


‘کبھی کسی لڑکی نے بھی انکار کیا ایسی ہی بنیاد پر؟‘ میں نے پوچھا۔


‘ہاں ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن بہت کم۔ آجکل اچھے رشتے ملتے ہی کہاں ہیں!‘


‘کیا لڑکی والے بھی شکل و صورت اور عمر پر اعتراض کرتے ہیں؟‘


‘اعتراض ہو بھی تو عموماً یہ رشتے سے انکار کا جواز نہیں بنتا۔ مردوں کی شکل و صورت اور عمر کو کون دیکھتا ہے بھلا۔‘


‘اور تعلیم؟‘


‘اگر لڑکا اچھا کما رہا ہو تو لڑکی والے تعلیم کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ سولہ جماعت اور ڈاکٹر لڑکیوں کی شادیاں بارہ، چودہ جماعتیں پڑھے لڑکوں سے ہونا تو عام بات ہے۔ کئی بار سولہ جماعتیں پاس لڑکی کی شادی میٹرک فیل سے بھی ہو جاتی ہے۔‘ ‘



اور یہ دوسری شادی والے لوگ کسی بیوہ یا پہلے شوہر سے علیحدگی والی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کرتے؟‘
‘بس کچھ ایسا رواج بن گیا ہے۔ لڑکی والے بھی تو کوئی اعتراض نہیں کرتے اس بات پر۔
ہاں کچھ لوگ بیوہ یا مطلقہ سے شادی کر بھی لیتے ہیں خصوصاً وہ جن کے پہلے بیوی سے بچے ان کے ساتھ رہتے ہوں۔ لیکن جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔ ان کا باہر ہونا ہی کافی ہے۔ اکثر لوگ دوسری بار سوچے بغیر ہی ہاں کر دیتے ہیں۔‘ موجاں ای موجاں :D


ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ مہمان آ گئے اور میرے سوالات ادھورے رہ گئے۔ ان نہ پوچھے جا سکنے والے سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کہ اگر لڑکی بال لمبے نہ ہونے پر مسترد کی جا سکتی ہے تو کیا کبھی کسی لڑکے کو سر پر بال کم ہونے یا بالکل ہی غیر موجود ہونے کی بنا پر بھی انکار ہوا ہو گا؟

6 comments:

  • ڈفر says:
    8 September 2008 at 10:25

    تیس چالیس دہائیاں دیکھ لینے والا لڑکا؟
    میرے خیال میں انگریز کا دور بھی بیس اکیس دہائیوں کا تھا

  • Virtual Reality says:
    8 September 2008 at 20:18

    دہائی دس سال کو نہیں کہتے ہیں؟؟؟ میں نے تو ان معنوں میں لکھا تھا کہ خود تیس/چالیس سال کے ہوتے ہیں۔ شاید دہائی کے بجائے عشرہ بہتر اصطلاح ہوتی؟؟؟

  • بدتمیز says:
    9 September 2008 at 02:46

    تیس سال = تین دہائیاں
    چالیس سال = چار دہائیاں۔

    شادی کے بعد اکثر مرد بیچارے دہائی ہے دہائی ہے ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ :P

  • Virtual Reality says:
    9 September 2008 at 22:42

    ۔ لگتا ہے میں لکھتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جوش میں آ گئی تھی کہ :( شکریہ بدتمیز۔ اور ڈفر آپ کا بھی بہت شکریہ توجہ دلانے کا:)
    ویسے ہے تو آگ ٹاپک بات لیکن دُہائی سے مجھے انور مسعود کی وہ نظم یاد آ گئی جس میں ساس اور بہو کی لڑائی کے دوران سسر بیچارہ دہائی دیتا رہتا ہے
    نی اڑیو نی اڑیو نی
    نہ لڑیو نہ لڑیو نی
    لڑ پیاں جے لڑ پیاں جے
    کوئی پھڑیو نی کوئی پھڑیو نی
    :D

  • ڈفر says:
    11 September 2008 at 15:31

    عشرہ بھی دس کا ہی ہوتا ہے۔ دنوں کا ہو یا سالوں کا
    :D:

  • Virtual Reality says:
    21 September 2008 at 21:01

    ہممم۔ درست درست۔
    بہت شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔