Monday, 23 May 2011

ایک اور سفر

کل ھنگو سے گزر کر ٹل یا تھل جانے کا موقع ملا. سفر کا آغاز ڈرتے ڈرتے ھوا لیکن بھت اچھا رھا دن. بھادر، مصیبت ذدھ پھر بھی خوش مزاج لوگ.
ابھی کوھاٹ ھیں لیکن باھر جانے پر پابندی ھے. لیپ ٹاپ نھیں ھے سوچا بڑوں چھوٹوں سب سے دعا کی درخواست کی جاۓ. بشرط خیریت واپسی روداد سفر بھی لکھوں گی.
دعاؤں میں یاد رکھیں.
بلاگ پر خوش آمدید بلال. آپکے تبصرے کا جواب واپسی پر انشاۂاللۂ. ابھی موبائل سے مشکل ھو رھی ھے.

4 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    24 May 2011 at 12:38

    ارے آپ بغير اجازت کہاں پہنچی ہوئی ہيں ؟
    آپ جانتی نہيں کہ جن لوگوں کی تعريف آپ نے کی ہے اس کے نتيجہ ميں آپ انتہاء پسند اور ہو سکتا ہے دہشتگرد کہلائيں ؟

    خِرد کا نام رکھ ديا جنوں ۔ جنوں کا خِرد
    جو چاہے اِن کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

  • م بلال says:
    24 May 2011 at 18:58

    اللہ تعالیٰ آپ کے سفر میں آسانیاں پیدا کرے اور آپ کو با حفاظت منزل مقصود پر پہنچائے۔۔۔آمین
    بلاگ پر خوش آمدید کہنے کا شکریہ۔ ویسے روداد سفر کا انتظار رہے گا۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    30 May 2011 at 22:51

    السلام علیکم انکل!
    بس اچانک پروگرام بنا تو بغیر پوچھے بتائے جانا پڑا۔ :) جو بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ اکثریت بہت سادہ دل اور پیارے دل کے مالک لوگوں کی ہے۔ اب چاہے میں جو بھی لیبل ہوں میں نے تو باقاعدہ شرعی لباس اور حلیے والوں کو اپنے خود ساختہ روش خیالوں سے زیادہ بہتر اور عزت دینے والا پایا۔ حالانکہ جس طرح کے حالات میں یہ لوگ رہ رہے ہیں وہاں رویوں کا منفی ہونا بالکل بھی بے جا نہ ہو۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    30 May 2011 at 22:52

    بہت شکریہ بلال :)

    رودادِ سفر بھی لکھوں گی انشاءاللہ اگر اس سے پہلے کوئی اور سفر درپیش نہ آ گیا تو۔ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔