Monday, 22 November 2010

آج کا سبق!

آج ایک سبق آموز ای-میل ملی۔

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔


کاش ہم سب یہ فلسفہ سمجھ جائیں تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے :smile

10 comments:

  • احمد عرفان شفقت says:
    22 November 2010 at 15:31

    یہ تو بہت ہی پیاری بات ہے جی۔

  • ابن سعید says:
    22 November 2010 at 23:18

    قصہ تو نیا نہیں پر جو بات نکالی گئی ہے وہ میرے لئے نئی ہے۔ بہت خوب۔

  • خاور کھوکھر says:
    23 November 2010 at 00:57

    ب بڑی پرانی بات هے اور پاکستان پر قابض قوتیں ( فوجی جنرل) اس کو اس طرح سے استعمال کرتے هیں که
    که هر بڑی برائی کے سامنے اس سے بڑی برائی کھڑی کرکے پہلے والی برائی کو چھوٹا ثابت کردو
    اور بھی بہت سی جگہیں هیں که جہاں پاکستان پر قابض قوتیں اسی طرح کر رهی هیں

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    23 November 2010 at 10:22

    اتنی سی بات ہی تو سمجھ نہيں آتی عصرِ حاضر کی اکثريت کو

  • جاویداقبال says:
    23 November 2010 at 13:31

    واقعی استادکاکام سمجھاناہےاس نےزندگی کابہت اہم نقطہ دولائینیں کھینچ کرسمجھادیا۔

  • ابوشامل says:
    24 November 2010 at 22:28

    بہت اہم سبق ہے اتنی چھوٹی سی بات میں لیکن عدم برداشت کا کلچر یہاں اتنا فروغ پا چکا ہے کہ آپ اس کو صرف کتابوں کہانیوں میں پڑھ سکتے ہیں، سن کر جھوم سکتے ہیں اور تعریف کر سکتے ہیں لیکن عملا یہ حکمت عملی آپ کو کہیں نظر نہيں آئے گی۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان says:
    30 November 2010 at 01:55

    اسی سے ملتا جلتا واقعہ ISSB میں سلیکشن کا سنا تھا. ایک امیدوارسلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا. ممتحن نے ایک پیالے کی طرف اشارہ کیا جو کہ اوندھا پڑا تھا . ممتحن نے کہا کہ اس پیالے کے اندر سیب ہے. آپ اس پیالے یا میز کو چھوے بغیر اس میں سے سیب نکل کر دکھائیں سارے امیدوار ناکام ہو گۓ آخر میں ایک امیدوار سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ سر اس پیالے کے اندر کچھ نہیں ہے. ممتحن نے کہا کہ بھائی میں کہ رہا ہوں اور یہ جو دوسرے لوگ مرے ساتھ بیٹھے ہوۓ ہیں سب جانتے ہیں کہ اس میں سیب ہے سب نے سیب دیکھا ہے. امیدوار بولا کہ جناب آپ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اس پیالے میں سیب ہو ہی نہیں سکتا. بہت بحث ہوئی . امیدوار نے ممتحن کو زچ کر دیا ممتحن نے غصّے میں پیالے کو سیدھا کیا اور سیب نکال کر امیدوار کو دکھایا. امیدوار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوری طور پر ممتحن کے ہاتھ سے وہ سیب جھپٹا اور بولا دیکھیے سر بغیر ہاتھ لگاے سیب اس طرح نکالا جاتا ہے.
    ممتحن اسکی ذھانت سے بیحد متاثر ہوۓ اورامیدوار کو فیل کر دیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ ہوشیار ہے اور آرمی کے لئے اتنی ہوشیاری ٹھیک نہیں.
    تو جناب حد سے بڑھی ذہانت عام طورپر مشکلات پیدا کرتی ہے یقین نہ آئے تو ہمارے یہاں کہ ڈیڑھ ہوشیار روشن خیالوں سے پوچھ لیجیے.

  • محمد احمد says:
    30 November 2010 at 19:00

    بہت خوب۔۔۔۔۔!

    ۔

  • سیما says:
    10 December 2010 at 21:01

    پہت عمدہ تحر یر۔ پڑھ کے اچھا گا۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    9 January 2011 at 21:31



    ڈاکٹر جواد احمد خان: اسی سے ملتا جلتا واقعہISSBمیں سلیکشن کا سنا تھا. ایک امیدوارسلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا. ممتحن نے ایک پیالے کی طرف اشارہ کیا جو کہ اوندھا پڑا تھا . ممتحن نے کہا کہ اس پیالے کے اندر سیب ہے. آپ اس پیالے یا میز کو چھوے بغیر اس میں سے سیب نکل کر دکھائیں سارے امیدوار ناکام ہو گۓ آخر میں ایک امیدوار سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ سر اس پیالے کے اندر کچھ نہیں ہے. ممتحن نے کہا کہ بھائی میں کہ رہا ہوں اور یہ جو دوسرے لوگ مرے ساتھ بیٹھے ہوۓ ہیں سب جانتے ہیں کہ اس میں سیب ہے سب نے سیب دیکھا ہے. امیدوار بولا کہ جناب آپ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اس پیالے میں سیب ہو ہی نہیں سکتا. بہت بحث ہوئی . امیدوار نے ممتحن کو زچ کر دیا ممتحن نے غصّے میں پیالے کو سیدھا کیا اور سیب نکال کر امیدوار کو دکھایا. امیدوار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوری طور پر ممتحن کے ہاتھ سے وہ سیب جھپٹا اور بولا دیکھیے سر بغیر ہاتھ لگاے سیب اس طرح نکالا جاتا ہے.
    ممتحن اسکی ذھانت سے بیحد متاثر ہوۓ اورامیدوار کوفیل کر دیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ ہوشیار ہے اور آرمی کے لئے اتنی ہوشیاری ٹھیک نہیں.
    تو جناب حد سے بڑھی ذہانت عام طورپر مشکلات پیدا کرتی ہے یقین نہ آئے تو ہمارے یہاں کہ ڈیڑھ ہوشیار روشن خیالوں سے پوچھ لیجیے.  



    بالکل درست کہا آپ نے۔ یہ قصہ میرے والد بھی سنایا کرتے ہیں۔ جس ادارے کی بات آپ کر رہے ہیں خصوصاً اس میں تو واقعی ہوشیاری آپ کا پلس پوائنٹ بننے کے بجائے آپ کی خامی بن جاتی ہے۔
    بلاگ پر خوش آمدید۔ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔