Sunday, 14 November 2010

بلاعنوان!

اچھا جی۔ ابھی لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن اچانک دماغ کی چولیں ڈھیلی ہو گئی ہیں اور سب ذہن سے نکل گیا۔
اور اس کی وجہ ہے ایک ٹیکسٹ میسج (ایس ایم ایس)۔ ٹیکسٹ میسج کسی انجانے نمبر سے بھی نہیں آیا اور خدانخواستہ کوئی فضول سی بات بھی نہیں لکھی ہوئی۔ جس ادارے کے ساتھ آجکل میں منسلک ہوں اس کے ایک ذیلی ادارے کی سربراہ کا پیغام تھا ایک پراجیکٹ کے بارے میں جس کے لئے وہ بھی کام کر رہی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماشاءاللہ وہ ہیں بہت ایکٹو اور پوری تندہی سے کام کرنے والی تو ویک اینڈ پر بھی ایک آدھ نقطہ ان کے ذہن میں ضرور آتا ہے اور چونکہ میں ای-میلز اور میٹنگز میں یہ کہہ کر خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکی ہوں کہ جب بھی ضرورت ہو آپ بلاججھک مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں تو اب :hmm:
خیر بات ہو رہی تھی تازہ ترین ٹیکسٹ کی۔ میں جب بھی ان کا نام اپنے فون ان باکس میں بلنک کرتا دیکھتی ہوں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے۔۔۔ ناٹ اگین :skeptic اس کی وجہ جاننے کے لئے یہ پڑھنا ضروری ہے...

AOA.. I ve rcvd d fax unabl 2 inf u d email wr it z mntd dt ds team n dt z rgnl team undr dz membr also snd 2 our RC.

اس پیغام کا اصل تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن میں نے انہیں کل کچھ فیکس کروایا تھا جس میں ٹیموں کا ذکر تھا تو میں نے تُکے لگا کر سمجھنے کی کوشش کی کہ اصل مقصد کیا ہے۔ دوسرا آج چھٹی تھی اور فوری عمل ضروری نہیں تھا تو سوچا کہ کسی فارغ وقت بیٹھ کر مزید سر کھپاؤں گی۔ سو جواباً میں نے انہیں تسلی دی کہ ٹھیک ہے۔ میں صبح دیکھ لوں گی۔ آپ فکر نہ کریں۔
لیکن یہ کیا :what مجھے ایک بار پھر ناٹ اگین کہنا پڑا کہ جواب کچھ یوں آیا۔۔۔

thnx..actly i wan 2 wrk wdt any poktc i dnt kw ppl nt realz ds life iz 2 shrt lkn koi bat nhn. tell dz thng 2 maam (dir) az wel plz

:wha
ایک بار پھر اندازے سے سمجھا اور جواب دیا لیکن اتنی دیر میں میرا اپنا دماغ گھوم چکا تھا۔ یہ نہیں کہ ان خاتون کو کچھ نہیں آتا۔ یہ اپنے زمانے کی گولڈ میڈلسٹ ہیں ماسٹرز میں ماشاءاللہ ۔ اور سولہ سترہ سال کا تجربہ ہے کام کا۔ انگزیزی پر مکمل عبور رکھتی ہیں اور ان کی ای-میلز یا ان کے بنائے گئے دوسرے دفتری کاغذات دیکھ کر ان کی قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے ٹیکسٹس پڑھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

کمپیوٹر اور موبائل فون نے ای-میل اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے جہاں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا بہت آسان کر دیا ہے وہاں زبانوں (چاہے وہ اردو ہے یا انگریزی) کا حشر نشر کر دیا ہے۔ پہلے تو یہ کہ دو زبانوں کا ملغوبہ بنا کر ایک نئی جناتی زبان تخلیق کر لی جاتی ہے۔ یا اردو لکھو یا انگریزی۔ یہ جو کھچڑی بنتی ہے یہ مفہوم کچھ کا کچھ کر دیتی ہے۔ اوپر سے اختصار کی کوشش مجھ جیسے کند ذہنوں کو مزید مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اپنا پیغام دوسرے تک پہنچانے کے چکر میں ہم گرامر، ہجے ہر شے کو بھلاتے جا رہے ہیں نتیجہ یہ کہ بچے سکول کالج سے نکلتے ہیں ان کو مادری، قومی یا بین الاقوامی زبان کچھ بھی مکمل نہیں آتا۔ بقول ایک استاد کے زبان کے امتحان میں مضمون، کہانی، خط ہو یا جملے لکھنے ہوں ایسے ایسے شاہکار دیکھنے میں آتے ہیں کہ کیا کہا جائے۔
اور یہ صرف مسئلہ صرف ہمارا ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسی صورتحال کسی حد تک ماہرینِ لسانیات کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ برطانیہ میں میرا یونیورسٹی ریسرچ سپروائزر بنیادی طور پر linguistics کا ماہر تھا اور وہ اکثر اس موضوع پر انتہائی پریشان کن آرٹیکلز لکھتا اور سیمینارز میں شرکت کرتا تھا کہ انگریزی زبان اپنی اصل کھوتی جا رہی ہے۔ یہی حال ہمارا ہے۔ اردو کو ویسے ہی ہم نے بھلا دیا ہے اوپر سے رومن اردو :sad:

بہرحال اس وقت تو اللہ میرے حال پہ رحم فرمائے کہ مجھے جولائی 2011 (بشرطِ زندگی اور سازگار حالات ) اس پراجیکٹ پر کام کرنا ہے۔ تب تک میرا کیا ہو گا :dntelme

14 comments:

  • شگفتہ says:
    14 November 2010 at 17:27

    السلام علیکم کیا حال فرحت ، آج آپ کے بلاگ نے مجھے اپنی ایک مرحومہ دوست کی یاد دلا دی ، مرحومہ ان معنوں میں کہ حال ہی میں ان کی شادی ہوگئی ہے :smile
    اور ایسی رومن اردو اور نستعلیقی انگریزی سے نجات ملنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں ۔

    اور نہ جی اللہ آپ کے حال پر رحم بالکل نہ فرمائے بلکہ جولائی 2012 تک بھی اسی پراجیکٹ پر کام کروائے آپ سے ۔ ۔ ۔ آہو ۔ بولیں آمین ۔ :thnko :party

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    14 November 2010 at 18:22

    ہم نے تو سُنا تھا لکھے مُو سا ۔ پڑھے خُود آ ۔ اس کے بعد سنا تھا کہ ڈاکٹر کا لکھا دوائيوں کی دکون والا ہی پڑھ سکتا ہے ۔ اب ايک اور بنانا پڑھے گا فرحت کيانی صاحبہ کيلئے

  • مکی says:
    14 November 2010 at 20:30

    شاہکار پیغامات ہیں.. ان سے ہماری طرف سے عاجزانہ درخواست کریں کہ ایک اور پیغام میں مختصراً ان کا مطلب بھی سمجھا دیں..

  • .Ali Z says:
    14 November 2010 at 21:38

    Lolz I enjoyed reading the post but writing such things online might not be the smartest move for your career.... just my two bits :P
    Anyway Like your blog, hope to keep coming back! :)

  • ابن سعید says:
    15 November 2010 at 11:50

    ایس ایم ایس میں پیغامات کا حجم کم کرنے کے لئے کچھ مشہور اختصارات تو رائج العوام ہیں اور ان میں سے بیشتر آن لائن تیکسٹ چیٹنگ میں بھی عام ہیں بلکہ لوگ اسے انٹرنیشنل چیٹنگ لینگویج کا نام بھی دیتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ اقرار کرنے میں مجھے چنداں تکلف نہیں کہ اس قدر کرپٹک میسیج میری آنکھوں کے لئے "نیور بیفور" کے زمرے میں آتا ہے اور میری خواہش ہے کہ میرے لئے ایسا کچھ "ناٹ اگین" ہی رہے۔

    فرحت بٹیا کے لئے یہ دعاء ہے کہ اللہ آپ کے حال پر رحم فرمائے۔ ایک عدد مشورہ بھی ہے کہ اگر کوئی حرج نہ ہو تو ایسے ایس ایم ایس کے جواب میں لکھ دیا کریں۔

    wt dz dt mns

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    15 November 2010 at 12:03

    ایک دفعہ ایک صاحب کے ساتھ ہوائی جہاز میں ساتھ کی سیٹ ملی۔
    انہوں نے مجھے سوٹ چڑھایا ہوا دیکھا اور سیاسی و سماجی مسائل پر اپنا علمی بیان شروع کر دیا۔
    ایک گھنٹہ تو برداشت کرتا رہا۔پھر عرض کیا جناب مجھے تو انگریزی نہیں آتی اس لئے آپ کی کوئی بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔
    وہ ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں کوئی انگریزی تھوڑی بول رہا ہوں اردو میں بات کر رہا ہوں!!!
    ساتھ میں ہی ہمیں بڑی الجھی ہوئی نظروں سے دیکھ کر فرمایا کہ آپ سوٹڈ بوٹڈ تھے میں سمجھا پڑھے لکھے ہو!!!
    ہندی تو انڈین فلموں میں سنی تھی اور اردو آپ کے بلاگ پر پڑھ لیتا ہوں۔ان صاحب کی زبان کیا تھی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی :bgrin

  • محمد وارث says:
    15 November 2010 at 12:23

    اگر کوئی خدشہ وغیرہ نہ ہو تو انہیں غالب کا شعر لکھ کے بھیج دیں

    بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
    :)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    16 November 2010 at 13:39



    شگفتہ:



    ایسے تو نہ کہیں شگفتہ :what ۔ میں نے اب نیا حل نکالا ہے۔ مجھے ایک میسج ملتا ہے تو میں کال بیک کر لیتی ہوں۔ شکر ہے بولنے میں وہ لفظ مختصر کرنے کی عادی نہیں ہیں :smile


    افتخار اجمل بھوپال:
    بالکل انکل۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے :)

  • شگفتہ says:
    17 November 2010 at 12:18

    فرحت آپ مصروف رہیں گی تو پھر آپ کو اپنی دھمکیاں یاد نہیں رہیں گی ناں :shy:

    یہ اچھا حل نکالا ہے آپ نے ایسے منفرد ٹیکسٹ کا :smile

    عید مبارک !

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    19 November 2010 at 10:33



    مکی: شاہکار پیغامات ہیں.. ان سے ہماری طرف سے عاجزانہ درخواست کریں کہ ایک اور پیغام میں مختصراً ان کا مطلب بھی سمجھا دیں..  


    :sadd:
    مکی بھائی وہ سمجھائیں گی بھی تو اسی زبان میں ناں :sadd:




    ابن سعید: ایس ایم ایس میں پیغامات کا حجم کم کرنے کے لئے کچھ مشہور اختصارات تو رائج العوام ہیں اور ان میں سے بیشتر آن لائن تیکسٹ چیٹنگ میں بھی عام ہیں بلکہ لوگ اسے انٹرنیشنل چیٹنگ لینگویج کا نام بھی دیتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ اقرار کرنے میں مجھے چنداں تکلف نہیں کہ اس قدر کرپٹک میسیج میری آنکھوں کے لئے “نیور بیفور” کے زمرے میں آتا ہے اور میری خواہش ہے کہ میرے لئے ایسا کچھ “ناٹ اگین” ہی رہے۔فرحت بٹیا کے لئے یہ دعاء ہے کہ اللہ آپ کے حال پر رحم فرمائے۔ ایک عدد مشورہ بھی ہے کہ اگر کوئی حرج نہ ہو تو ایسے ایس ایم ایس کے جواب میں لکھ دیا کریں۔wt dz dt mns  




    بالکل سعود :) ۔ یہ انٹرنیشنل چیٹنگ لینگوئج کی بھی کوئی ترقی یافتہ صورت لگتی ہے۔ :dntelme
    بس میرے حق میں دعا کرتے رہئیے۔ :) شروع میں میں ڈھکے چُھپے الفاظ میں یہ پوچھنے کی کوشش کرتی تھی لیکن جواب بھی اسی قدر جامع ہوتا تھا کہ :123

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    19 November 2010 at 10:42



    .Ali Z: Lolz I enjoyed reading the post but writing such things online might not be the smartest move for your career…. just my two bits Anyway Like your blog, hope to keep coming back!   



    السلام علیکم اور بلاگ پر خوش آمدید علی :)
    آپ نے تو مجھے ڈرا دیا :-s بات تو آپ کی ٹھیک ہے ویسے :) ۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ایسے نہ سمجھ میں آنے والے ٹیکٹس بھی چُھپے پوئے خطرات ہیں۔ ادھر میں نے کسی پیغام کو غلط اینکوڈ کیا اور ادھر سے پورا پراجیکٹ فشوں :aww
    آتے جاتے رہئیے گا :)




    یاسر خوامخواہ جاپانی: ایک دفعہ ایک صاحب کے ساتھ ہوائی جہاز میں ساتھ کی سیٹ ملی۔
    انہوں نے مجھے سوٹ چڑھایا ہوا دیکھا اور سیاسی و سماجی مسائل پر اپنا علمی بیان شروع کر دیا۔
    ایک گھنٹہ تو برداشت کرتا رہا۔پھر عرض کیا جناب مجھے تو انگریزی نہیں آتی اس لئے آپ کی کوئی بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔
    وہ ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں کوئی انگریزی تھوڑی بول رہا ہوں اردو میں بات کر رہا ہوں!!!
    ساتھ میں ہی ہمیں بڑی الجھی ہوئی نظروں سے دیکھ کر فرمایا کہ آپ سوٹڈ بوٹڈ تھے میں سمجھا پڑھے لکھے ہو!!!
    ہندی تو انڈین فلموں میں سنی تھی اور اردو آپ کے بلاگ پر پڑھ لیتا ہوں۔ان صاحب کی زبان کیا تھی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی   



    :D :D ایسا بھی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ واقعی دوسروں کے لئے بات سمجھنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ آپ نے پوچھنا تو تھا کہ وہ صاحب کس علاقے اور زمانے کی اردو بول رہے تھے :humm

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    19 November 2010 at 10:45

    آئیڈیا تو اچھا ہے لیکن یہ شعر بھیجنے کی صورت میں خدشہ نہیں خدشات کا جال بن جائے گا :D

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    19 November 2010 at 10:50

    نہیں شگفتہ دھمکیاں مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں۔ آپ کو کچھ مہلت دی تھی جو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بس اب آپ تیار رہیں۔ میں کسی بھی وقت ایکشن میں آنے والی ہوں۔ پھر نہ کہئے گا کہ خبر نہیں ہوئی :angelic

  • میرا پاکستان says:
    19 November 2010 at 16:14

    آپ کو عید مبارک۔ آپ کے بلاگ کی تصویر ہمیں پسند آئی، اس سے بلاگ بہت اچھا لگتا ہے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔