Tuesday, 15 June 2010

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو!

یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دو دن سے میں بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ پرسوں دن 11 بجے اچانک معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ورکشاپ کم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اور جانا براستہ سڑک ہے۔ سو دو گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر تیاری کی اور بھاگم بھاگ لاہور چا پہنچے۔ سفر شروع ہوتے ہی لاہور میں گزرا وقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ یاد آنا شروع ہوا اور پھر کل رات واپسی کے بعد بھی یہ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں تقریباً پانچ سال کے بعد لاہور گئی لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ دن کے وقفے سے واپسی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ جانا آنا بس سونے، میٹنگ ہال پہنچنے اور پھر گاڑی کے واپس گھر کو روانہ ہونے محدود رہا لیکن پھر بھی یاد رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی اور اپنے ہاسٹل جانے کی حسرت دل میں ہی رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آتے جاتے دونوں بار نیو کیمپس یونیورسٹی گراؤنڈ، پانی کی بڑی ٹینکی اور کھیت دکھائی دیتے رہے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں میں نے اپنی زندگی کا اکلوتا مشاعرہ اٹینڈ کیا۔ بڑے بڑے شعراء کو دیکھا اور گھر جا کر خوب شو ماری۔ یہ اور بات ہے حسبِ معمول سب نے متاثر ہونے سے صاف انکار کر دیا  انور مسعود ، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ضیاءالحق قاسمی تو وہ نام ہیں جو ہمارے پسندیدہ شعراء میں شامل تھے۔ جند ایسے شاعر بھی موجود تھے جن کی شاعری تو پہلے ہی پلے نہیں پڑتی تھی لیکن اس مشاعرے کے بعد تو شاید ہی میں نے کبھی ان کو کلام پڑھا ہو۔ وصی شاہ، فرحت عباس شاہ بھی موجود تھے۔  منیر نیازی نے کرسی پر بیٹھ کر صدارت کی کیونکہ وہ ان دنوں بیمار تھے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ سے کچھ ہی فاصلے پر ہمارا ہاسٹل تھا۔ جہاں رہتے ہوئے کبھی یہ اس جگہ اور اس وقت کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سعید انکل اپنی چھوٹی سی ٹک شاپ جسے ہم انتقاماً سعید انکل کا کھوکھا کہتے تھے، ملتا تھا۔ جہاں سے آتے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا اور انکل کو بتا کر ان کی سوئٹس چوری کرنا سب کا من پسند مشغلہ تھا۔ اسی طرح آتے جاتے لعل انکل کی دعائیں لینا اور نصحیتیں سننا بھی معمول کا حصہ تھا۔ تعصب انکل جو سوائے نام کے تعصب کے سراپا شفقت تھے اور نزاکت جو اتوار کی صبح آلو والے پراٹھے تقسیم کرتا اپنے آپ کو وائس چانسلر سے کم نہیں سمجھتا تھا، یہ سب انہی یادوں کا حصہ ہیں۔ افسوس ۔۔رہے گا کہ لاہور جا کر بھی یونیورسٹی جانا ممکن نہیں ہوا 
برکت مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ شامیں یاد آئیں جب ہم لوگ شاپنگ کرنے جاتے لیکن اکثر گھنٹوں اولڈ بک شاپ پر گزار کر کورس سے غیر متعلقہ ڈھیروں کتابیں اٹھا کر واپس آ جاتی تھیں۔
ماڈل ٹاؤن سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآن اکیڈمی دکھائی دی تو دل مزید اداس ہو گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں
نہر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے کیمب کے بورڈ پر نظر پڑی تو ناسٹلیجیا انتہا کو چھونے لگا۔ ریسرچ کے دنوں میں کڑکتی دھوپ میں نیو کیمپس سے یہاں تک اکثر پیدل مارچ کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ابھی ہمارا روٹ ایسا تھا کہ ہم مین نیو کیمپس سے نہیں گزرے لیکن نہر اورر فیروز پور روڈ سے وہ نظم یاد آ گئی جو شاید لاء کالج کے کسی اولڈ سٹوڈنٹ نے نیو کیمپس پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھی تھی۔
کچھ لائنیں یاد ہیں۔ جو میں واپسی کے سفر میں موٹر وے آنے آنے تک ساتھ بیٹھی اپنی سینئر کو سنا کر تنگ کرتی رہی۔

جہاں چڑیوں کی چہکار بھی ہے
جہاں پھولوں کی مہکار بھی ہے
جہاں شجرِ سایہ دار بھی ہے
جہاں سہپن سپنے سجتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

جہاں کپڑا سستا دُھل جائے
جہاں ماضی کا غم بُھل جائے
جہاں اچھا خاصا پڑھنے والا
کاریڈوروں میں رُل جائے
جہاں سرد سموسے ملتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

کافی طویل نظم تھی اور بہت مزے کی۔ لیکن یاد نہیں ہے اب۔
لاہور کی حدود سے نکلتے ہی احساس ہوا کہ ایکسائٹمنٹ اپنی جگہ لیکن دو دن کے میراتھن سفر نے کافی تھکا دیا تھا۔ اور اس افسوس نے بھی کہ کاش باقی کا شہر بھی یوں ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گھوم لیتے۔
اب ان ساری غیر ضروری باتوں کے بعد ایک کام کی بات۔ اگر آپ کسی ایسے تعلیمی ادارے (سکول/ کالج) کے بارے میں جانتے ہیں‌ جہاں اساتذہ اور بچے Effective teaching learning (معذرت کہ اس وقت ذہن میں اس کی با محاورہ اردو نہیں آ رہی) کے ماحول میں کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے برطانوی سکولز کے ساتھ پارٹنرشپ کرائی جا سکتی ہے اور یوں دونوں طرف کے ادارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ اور سکھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے سکولز کے بڑا چھوٹا،سرکاری، نجی، نیم سرکاری، امیر غریب، بڑے چھوٹے شہر سے ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف کام کرنے کا جذبہ شرط ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسا کوئی ادارہ ہے چاہے اس کو ایک استاد ہی کیوں نہ چلا رہا ہو۔ تو مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔
میں انشاءاللہ جلد ہی اس سلسلے کی تعارفی پوسٹ لکھوں گی اور یہ بھی کہ بلاواسطہ طور پر اس پروگرام کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ سے کسی ایک سکول کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہو گا۔

15 comments:

  • شگفتہ says:
    15 June 2010 at 14:35

    السلام علیکم ، کیسی ہیں فرحت ؟ دلچسپ لکھا ۔ لاہور جب گئی تھی تو جس جگہ کا آپ نے بتایا تھا وہاں بھی خاص طور پر گئی تھی آپ کی یاد میں

    فرحت ، اگر آپ مختصر طور پر یہ بھی لکھ دیں کہ ایفیکٹو ٹیچنگ لرننگ سے کیا مراد ہے تو آپ کو بہتر ریسپانس مل سکے گا ۔

  • محمدصابر says:
    15 June 2010 at 16:49

    اپنا کوئی رابطہ بھی فراہم کریں۔ ویسے میرا ای میل اس کمنٹ کے ساتھ جڑ گیا ہے۔

  • بدتمیز says:
    16 June 2010 at 10:52

    اللہ برطانیہ کے سکولوں کی خیر۔ :mh:

    آپ تو سارا اچھا والا لاہور پھر گئیں۔ اصلی لاہور کی طرف تو گٕیں ہی نہیں۔ ویسے کونسے شہر سے لاہور تشریف لے کر گٕی تھیں؟

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    16 June 2010 at 11:10

    وعلیکم السلام
    میں ٹھیک ہوں شگفتہ۔ الحمد اللہ
    آپ کیسی ہیں؟
    آپ اچھی تھیں ناں کہ وہاں سے ہو آئیں۔ میں تو کہیں بھی نہیں جا سکی۔۔ بس آتے ہوئے ماڈل ٹاؤن سے میری کولیگ نے درزی سے اپنا ڈریس لینا تھا تو جلدی جلدی اسی مارکیٹ سے دو سوٹ خرید لئے اور بس :(
    جی میں انشاءاللہ لکھتی ہوں۔ تفصیل سے۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    16 June 2010 at 11:16

    واہ۔ آپ مریخ سے کب واپس آئے :humm
    کیوں بھئی۔ برطانیہ کے سکولوں کی خیر کیوں :huh ہمارے پاکستانی سکولز انہی کے پائے کا کام کر رہے ہیں بھائی جی۔ میں ان کے پراجیکٹس کی تفصیل دوں گی ناں تو آپ کو پتہ چلے گا۔ :)
    اصلی لاہور کی طرف اسی دفعہ نہیں جا سکی ورنہ سارا شہر چھانا ہوا ہے :smile
    راولپنڈی سے تشریف لے گئی تھی لاہور۔ :angelic

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    16 June 2010 at 11:17

    بلاگ پر خوش آمدید اور بہت شکریہ۔ :smile
    میں آپ کو ای-میل کرتی ہوں جلد ہی۔ :)

  • ابوشامل says:
    16 June 2010 at 13:41

    یادیں بھی بڑی عجیب چیز ہوتی ہیں، کبھی کبھی تو ایسی معمولی چیزوں سے بھی وابستہ ہو جاتی ہیں، جن کے بارے میں کسی کو بتایا بھی نہیں جا سکتا :) ایک سال سکھر میں گزارا، بسلسلۂ ملازمت، شادی کے بعد ایک مرتبہ جیکب آباد جانا ہوا، راستے میں صبح فجر کے وقت گاڑی سکھر کے قریب سے گزری، اس وقت عجیب احساس ہو رہا تھا، میں بیان نہیں کر سکتا۔

  • عثمان says:
    16 June 2010 at 23:26

    مجھے بھی کئی برس ہوگئے کہ لاہور تو کیا پاکستان ہی نہیں جا سکا۔ جب پاکستان سے کوچ کیا تھا تو انڈے 22 روبے درجن ، ڈبل روٹی 14 روپے کی جبکہ تندوری روٹی تین روپے کی ملتی تھی۔ ایک جاننے والے کا کہنا ہے کہ اب ان قیمتوں کے آخر میں ایک صفر کا اضافہ کر لیں۔ :aww

  • جاویداقبال says:
    17 June 2010 at 13:15

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    سسٹرآپ نےتوسفرنامہ لکھ دیا۔ بہت خوب لکھاہے۔ اورواقعی پرانی یادیں انسان کوان لمحوں میں لےجاتیں ہیں جوکہ اس وقت گزرےہوتےہیں اورانسان اس احساس کومحسوس کرکےتازگی محسوس کرتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    18 June 2010 at 11:22

    جو ديکھا وہی خوش نصيبی ۔ مجھے لاہور آئے ہوئے 11 ماہ ہو گئے ہيں اور ابھی تک اپنا کالج ديکھنے نہيں جا سکا جو اب انجنيئرنگ يونيورسٹی ہے ۔

  • عبداللہ says:
    20 June 2010 at 01:14

    کیا اس پروگرام سے کراچی کے اسکولز بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    20 June 2010 at 11:49



    ابوشامل: یادیں بھی بڑی عجیب چیز ہوتی ہیں، کبھی کبھی تو ایسی معمولی چیزوں سے بھی وابستہ ہو جاتی ہیں، جن کے بارے میں کسی کو بتایا بھی نہیں جا سکتا ایک سال سکھر میں گزارا، بسلسلۂ ملازمت، شادی کے بعد ایک مرتبہ جیکب آباد جانا ہوا، راستے میں صبح فجر کے وقت گاڑی سکھر کے قریب سے گزری، اس وقت عجیب احساس ہو رہا تھا، میں بیان نہیں کر سکتا۔  


    بجا کہا۔ بعض اوقات یادیں بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ :smile




    عثمان: مجھے بھی کئی برس ہوگئے کہ لاہور تو کیا پاکستان ہی نہیں جا سکا۔ جب پاکستان سے کوچ کیا تھا تو انڈے 22 روبے درجن ، ڈبل روٹی 14 روپے کی جبکہ تندوری روٹی تین روپے کی ملتی تھی۔ ایک جاننے والے کا کہنا ہے کہ اب ان قیمتوں کے آخر میں ایک صفر کا اضافہ کر لیں۔   



    :smile واقعی اب قیمتیں آسمان باتیں کر رہی ہیں۔ :cry:

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    20 June 2010 at 11:56



    جاویداقبال: السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    سسٹرآپ نےتوسفرنامہ لکھ دیا۔ بہت خوب لکھاہے۔ اورواقعی پرانی یادیں انسان کوان لمحوں میں لےجاتیں ہیں جوکہ اس وقت گزرےہوتےہیں اورانسان اس احساس کومحسوس کرکےتازگی محسوس کرتاہے۔والسلام
    جاویداقبال  


    وعلیکم السلام بھائی! اچھی یادیں طبیعت کو واقعی تر و تازہ کر دیتی ہیں۔ :)




    افتخار اجمل بھوپال: جو ديکھا وہی خوش نصيبی ۔ مجھے لاہور آئے ہوئے 11 ماہ ہو گئے ہيں اور ابھی تک اپنا کالج ديکھنے نہيں جا سکا جو اب انجنيئرنگ يونيورسٹی ہے ۔  


    جی انکل۔ لیکن آپ وہیں رہ رہے ہیں انشاءاللہ کبھی نہ کبھی فرصت مل ہی جائے گی کالج جانے کی۔ اور جب آپ جائیں گے انشاءاللہ تو اس بارے میں ضرور لکھئے گا۔ :)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    20 June 2010 at 11:58

    بالکل عبداللہ۔ کراچی کے سکولز بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ میرا انٹرنیٹ کچھ مسئلہ کر رہا ہے اس لئے تفصیلات نہیں دے پا رہی لیکن انشاءاللہ جلدی آپ کو تفصیل بتاتی ہوں۔

  • Baba ji says:
    26 July 2013 at 15:21

    زبردست لکھا آپ نے
    میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں گزارا اور 2008 میں ہم لوگ لاہور شفٹ ہوگئے ۔ یہ ایسا دلکش و خوبصورت شہر ہے کہ یہاں سے جانے کو جی نہیں چاہتا اور ہم لوگ کراچی کو رفتہ رفتہ بھولتے جا رہے ہیں

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔