Friday, 28 May 2010

ملتان۔ صوفیاء کی سرزمین

زندگی خلافِ توقع مصروف سے مصروف ترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے کام اور بہت سی مصروفیات جن کے بغیر کبھی گزارہ نہیں ہوتا تھا، اب بھولتے جا رہے ہیں :( لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔
اس سال مارچ میں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے لئے ملتان دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں بہت پُرجوش تھی کہ ایک تاریخی اور خوبصورت جگہ دیکھنے جا رہی ہوں (اگرچہ ایسا ہو نہیں سکا :-( )
مسلسل دو ہفتے خرابی موسم کی وجہ سے بالآخر تیسرے ہفتے اللہ اللہ کر کے فلائٹ کنفرم ہو ہی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جب تک جہاز کم 'بس' نے ٹیک آف نہیں کیا یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں پھر نہ اٹھنا پڑ جائے۔ :confused
یہ پی آئی اے کا اے۔ٹی۔ آر جہاز تھا جس میں سیٹیں ایسے لگی ہوئی تھیں جیسے عام کوسٹر میں ہوتی ہیں۔ سارا وقت یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہم براستہ سڑک ملتان جا رہے ہیں۔ بس باہر زمین کے بجائے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میں حسبِ معمول ناشتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے بغیر گھر سے نکلی تھی ایئرپورٹ آتے ہوئے جب بھائی سے کچھ کھانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ دیر ہو جائے گی۔ جہاز میں سنیکس مل جائیں گے۔ خاموش کرا دیا :cry: ۔ اور پھر جب جہاز میں سنیکس ملے تو میرے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔ ایک عدد سادہ کیک جو بہت اچھی طرح پیک کیا گیا تھا جیسے کہ کبھی کسی نے اسے کھانا ہی نہیں ہے۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب میں نے ایئر ہوسٹس سے چائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شانِ بے نیازی دے جواب دیا کہ ڈومیسٹک فلائٹ میں چائے نہیں دی جاتی :humm مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی پُر شفقت انداز میں پیشکش کی لیکن آپ کے لئے میں ابھی چائے لیکر آتی ہوں :shy: ۔ چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ میں نے وہ یادگار کیک کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھائی صاحب سے بھرپور قسم کی جنگ کا پروگرام فائنل کیا۔ :hello

ملتان ایئرپورٹ بہت چھوٹا سا ہے۔
'اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا' کے مصداق ایک اور سفر کا آغاز ہوا۔ کیونکہ ہمیں ملتان شہر کے بجائے 'عبدالحکیم' جانا تھا۔ جو ملتان سے تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ عبد الحکیم سے متعلق مجھے نیٹ سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور جاتے ہوئے میں اس قدر تھک چکی تھی کہ نوٹس لے سکی نہ تصویریں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ سدھنائی یا سندھانی نہر اسی راستے میں آئی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ سو گرمی کی شدت کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ سب نے خوب ڈرا رکھا تھا کہ مارچ میں جون جولائی والی گرمی ملے گی۔ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد جو عمارتیں دکھائی دیں ان میں سرخ اینٹوں کے ساتھ نیلی ٹائلوں کا استعمال دکھائی دیا جو ملتان کے راویتی طرزِ تعمیر کا خاصہ ہے۔
اڑھائی گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد عبدالحکیم پہنچے تو کھانے کے بعد ایسا سوئے کہ اگلے دن کی خبر لی۔ دن کی گہماگہمی میں بھی عبدالحکیم میں سکون اور ٹھہراؤ محسو س ہوتا تھا۔ شہروں کے رش اور شور شرابے سے اُکتائے ہوئے لوگ اسی سکون کو ترستے ہیں۔ پھر یہ جان کر خالص دودھ اور سبزیاں اس دام سے بھی کم ملتی ہیں جس پر بڑے شہر والوں کو دودھ ملا پانی اور باسی پھل اور سبزیاں ملتی ہیں ، ہم لوگوں کا رشک حسرت میں بدل گیا :D عبدالحکیم میں وقت بہت تیزی سے گزرا کہ ہمیں دن دو بجے واپس ملتان کے لئے روانہ ہونا تھا اس لئے تصویریں نہیں لی جا سکیں۔ ہاں کھڈی کے وہ سٹال جو ہم لوگوں کے لئے لگایا گیا تھا ، سے خریدا گیا کھڈی کا کپڑا عبدالحکیم کی سوغات کے طور پر ہمارے ساتھ آیا۔ :smile
ایک بار پھر انہی راستوں سے گزرتے واپس ملتان پہنچے۔ چونکہ سارا دن بہت مصروف گزرا تھا ، کہیں بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا حالانکہ میں بے صبری سے ملتان میں صوفیاء کے مزار دیکھنے کے انتظار میں تھی لیکن لوڈ شیڈنگ اور گرمی نے تھکن کو کئی گُنا بڑھا دیا اور اگلے دن کی مصروفیت کا سوچ کر ارادہ بدل لیا۔
اگلے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ آنٹیوں اور باجیوں کی پہلی ترجیح خریداری ہوتی ہے، وہ ہمیں بھی ساتھ گھسیٹ کر بازار لے گئیں۔ لالچ وہی کھڈیاں دکھانے کا دیا گیا۔ ملتان شہر کی تعمیرِ نو کی جا رہی ہے اس لئے عجیب و غریب راستوں سے گزر کر اس بازار پہنچا گیا جس کا راستہ ہماری اقامت گاہ سے صرف 15 منٹ کا بنتا تھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھ کر ساری کوفت ختم ہو گئی۔ گرمی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کپڑا بُنتے محنت کش کو دیکھ کر ہنر مند ہاتھوں کی عظمت کا احساس ہوا۔ کپڑے کی خوبصورتی اور ڈیزائن دیکھ کر یہ بھی جانا کہ ہُنر کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سب متاثرینِ کھڈی ، دکانوں کی طرف چل دیئے اور حسبِ روایت ایک ایک دکان پر گھنٹوں لگا کر شام کو لدے پھندے واپس آئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل اور انتہائی نفیس کھڈی پر بنا کپڑا بہت سستے داموں ملتا ہے۔ اس لئے سب نے گرمیوں کی تقریباً تمام شاپنگ یہیں سے کر لی۔ :smile
یہ انکل کھڈیوں پر کپڑا بُن رہے تھے۔ :cn
اگلی شام ملتان کی مشہور صنعت Blue Pottery دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن اس کی کہانی اور تصاویر اگلی قسط میں انشاءاللہ۔
blue pottery
تصویر کا حوالہ

5 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    24 June 2010 at 12:19

    ملتانی کھيس کہاں گئے ؟ ملتانی طرز کے زيورات بھی آپ گول کر گئيں ۔ ملتانی حلوے کا کہيں ذکر ہی نہيں اور آموں کا کيا ہوا ؟

  • پھپھے کٹنی says:
    24 June 2010 at 15:14

    اور خريدے گئے کپڑوں کی تصويريں؟

  • محمدصابر says:
    24 June 2010 at 16:07

    میں بھی آپ کے جواب کا انتظار کر رہاہوں۔ :)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    6 July 2010 at 09:51



    افتخار اجمل بھوپال: ملتانی کھيس کہاں گئے ؟ ملتانی طرز کے زيورات بھی آپ گول کر گئيں ۔ ملتانی حلوے کا کہيں ذکر ہی نہيں اور آموں کا کيا ہوا ؟  



    ملتانی کھیس دیکھنے تو ہم جا ہی نہیں سکے۔ زیورات بھی دیکھے۔ ملتانی حلوہ اور پیڑے سوغات کے طور ہپر ساتھ لائے بھی۔ اس کا ذکر اگلی قسط میں آئے گا۔ اور آموں کا ابھی موسم نہیں آیا تھا شاید :(



    پھپھے کٹنی: اور خريدے گئے کپڑوں کی تصويريں؟  



    اسماء اس طرف تو دھیان نہیں گیا کہ خریدے گئے کپڑوں کی تصویریں بنا لی جائیں۔ اب ان میں سے کچھ تو تحائف کی صورت میں بانٹ دیئے ہیں اور باقی سِل چُکے۔ ان کی تصویریں لگائی جا سکتی ہیں۔ دیکھیں کب توفیق ملتی ہے تصویریں بنانے کی۔ :)



    محمدصابر: میں بھی آپ کے جواب کا انتظار کر رہاہوں۔   



    معذرت صابر! میں آج ہی آپ کو ای-میل کرتی ہوں۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    7 July 2010 at 08:27

    صابر آپ اپنی ای-میل چیک کر لیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔