Tuesday, 10 November 2009

شاعر ہے رہنما ہے اقبال ہمارا!


نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل)




نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے!

گلوکار: شوکت علی
------------

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں (بالِ جبریل)




خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

گلوکارہ: ثریا خانم
------

پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے کارناموں میں ایک ڈاکٹر محمد اقبال کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی ہے۔ لیکن یہ روایت شاید اب ختم ہو چکی ہے۔ ہر سال نومبر میں میں انتظار کرتی ہوں کہ شاید بھولے سے کوئی وہ انسٹرومنٹل ہی لگا دے جو ہمارے بچپن میں نومبر شروع ہوتے ہی اکثر سننے کو ملتا تھا ۔۔'شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا'۔ لیکن :( ۔ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر بھی تلاش جاری تھی۔ یوٹیوب کی بدولت ایک بار پھر یہ نغمہ سننے کو مل گیا۔ :)


ان دنوں ہوتا کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ' بچے کی دعا' نئے سرے سے گائی اور فلمائی جاتی ہے لیکن تلفظ پر دھیان دینا بھول جاتا ہے :-( ۔ آخری مصرعے میں راہ اور رہ میں فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے (ربط)۔ ہماری اردو کی استاد مس چوہدری کو بہت غصہ آتا تھا جب کوئی بچہ راہ کو رہ بنا دیتا تھا۔ پچاس پچاس بار دونوں الفاظ دہرانے پڑتے :uff

3 comments:

  • arifkarim says:
    10 November 2009 at 03:05

    بہت خوب اچھی تحریر ہے!

  • محمد وارث says:
    10 November 2009 at 16:31

    شکریہ فرحت، اقبال مرحوم کی یادہ تازہ کرنے کیلیے اور پی ٹی وی مرحوم کی بھی :)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    26 November 2009 at 09:41

    @arifkarim: بہت شکریہ عارف اور بلاگ پر خوش آمدید :)
    @محمد وارث: :D پی ٹی وی تو واقعی مرحوم و مغفور ہو چکا ہے :hmm:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔