Tuesday, 14 April 2009

حیراں ہوں!!!

مختار مسعود اپنی کتاب "سفر نصیب" میں لکھتے ہیں۔

'غلامی کی بہت سی قسمیں اور طرح طرح کی شکلیں ہُوا کرتی ہیں۔ گمراہی غلامی کی بدترین صورت ہے۔ اگر آزاد ہونے کے بعد بھی صحیح راستہ کا پتہ نہ چلے اور اگر چلے لیکن اس پر چلنے کی ہمت نہ ہو تو یہ صورت غلامی سے بدرجہا بد تر ہوتی ہے۔"

میں تو خود کو ایک آزاد قوم کا آزاد فرد سمجھتی رہی :-s ۔ معلوم نہیں میں اور میری قوم صحیح معنوں میں آزاد ہیں یا نہیں؟ اگر ہاں تو ہمیں آزادی کی چھ دہائیوں کے بعد بھی اپنا راستہ دُھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے پیروں میں چھالے اور چہروں پر تھکن کیوں ہے؟ اگر نہیں تو میں ہر سال 14 اگست کو کس آزادی کی خوشیاں مناتی ہوں :cry:

10 comments:

  • تانیہ رحمان says:
    14 April 2009 at 01:18

    فرحت لگتا ہے کافی دنوں بعد آئی ہو اگر میں غلط نہیں تو بہت اچھا لکھا ۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے بزرگوں نے تو اپنے خون کی قیمت چکا دی ،پاکستان کو حاصل کر کے ان کو اگر یہ پتا ہوتا کہ وہ پاکستان جس کو آزادی دلوائی گئی ۔ کہ پاکستانی ایک آزاد ملک میں سانس لے سکیں اور آئندہ آنے والی نسلیں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں لیکن آزادی کے بعد کہنے کو تو ہم آزاد رہے ۔ جس میں صرف 30 سال بچتے ہیں اور باقی 30 سال آمریت کی نظر ہوئے۔ اب یہ ہمارہ بدنصیبی کہہ لیں کہ جو بھی حکمراں ملا وہ ملک کے لیے ھرگز ھرگز وفادار نہیں تھا۔ کرسی کی خاطر آتا ہے ۔ اور ابھی تک جوں کی توںصورتحال ہے ۔ جس دن ہم کو اچھا اور سچا حکمراں مل گیا تب ہم آزاد ہو گے۔

    تانیہ رحمان, کی تازہ تحریر: سوال آپ سب سے

  • محمد وارث says:
    14 April 2009 at 10:19

    ہاں واقعی سوچنے کی بات ہے!

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: رالف رسل از محمود ہاشمی

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    14 April 2009 at 12:55

    اصل وجہ میں لکھ دوں تو پسند نہیں کی جائے گی ۔ جن لوگوں نے " لے کے رہیں گے پاکستان " کے نعرے لگائے اُن میں سے بہت سے تو پاکستان بننے تک یا اس کے ارد گرد شہید کر دیئے گئے ۔ جو باقی بچے وہ اس خیال میں رہے کہ ہمارا ملک ہمیں مل گیا ہے اب ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان بننے کے کچھ سال بعد ہی ہوس کے مارے جنہوں نے پاکستان بننے سے پہلے اس کیلئے نعرے نہیں لگائے تھے وہ پاکستان پر قابض ہو گئے ۔ غلام محمد اور سکندر مرزا کے بعد اس ملک کا ستیاناس کرنے والے کچھ جرنیلوں کے علاوہ عوامی لیڈر کہلوانے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے جنہوں نے اس ملک کا ہر ادارہ تباہ کر دیا ۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو کے زیرِ سایہ آصف علی زرداری ۔اور پھر پرویز مشرف نے رہی سہی کسر پوری کی ۔ اب بھی اگر زرداری کو نہ روکا گیا تو پھر اندھیروں کے سوا کچھ نہ ہو گا
    جو کچھ میں نے اُوپر لکھا ہے اس سب کے ذمہ دار پاکستان کے عوام ہیں جو دین سے دور ہو کر ہوسٍ ذاتی کا شکار ہیں اور ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں یا ہونے دیتے ہیں جن کے ماضی سے وہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ۔
    سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
    خدا نے کبھی اس قوم کی حالت نہین بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا

    افتخار اجمل بھوپال, کی تازہ تحریر: ہم کیا چاہتے ہیں ؟

  • شگفتہ says:
    20 April 2009 at 10:01

    السلام علیکم ، کیسی ہیں فرحت ؟ طبیعیت بہتر ہے ناں اب ۔ یہ طبیعت کی وجہ سے تو نہیں آزادی کا سوال آ گیا ذہن میں :smile ویسے فرحت آزادی کا احساس سب سے پہلے انفرادی سطح پر ہونا ضروری ہے اور یہ آواز اندر سے ہی آتی ہے اور یہ آواز اگر ہر فرد کے اندر سے آئے تو پھر اجتماعی احساس کی شکل میں ذمہ دار قوم ابھرتی ہے ۔

    بہت اہم بات یہ ہے کہ سیاسی اور مسلکی وابستگیوں کی بنا پر ملک و قوم کو کھوکھلا کرنے والے عناصر کی پشت پناہی جب ہونے لگے تو آزادی کا احساس مجروح ہوتا ہے ۔

    یہاں پر حکمرانوں کی فہرست کا ذکر ہوا ہے اس میں کچھ کریہہ چہرے نظر نہیں آ رہے جیسے کہ ضیاء الحق ، نواز شریف وغیرہ ۔ کون سا حکمران یہاں مخلص رہا !!
    حتی کہ ضیاء الحق کی بوئی فصل کی سفاکیت اب انسانوں کے خون اور عزت کی پامالی کی قیمت پر منتج ہو رہی ہے ۔

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    22 April 2009 at 14:26

    :pak پاکستان زندہ آباد!

    اور آپ سب شانتی رکھیے کچھ نہیں ہوتا پاکستان کو۔ ::allhail

    اور رہی بات سیاستدانوں کی تو شگفتہ کی بات سے مجھے مکمل اتفاق ہے کہ:


    "یہاں پر حکمرانوں کی فہرست کا ذکر ہوا ہے اس میں کچھ کریہہ چہرے نظر نہیں آ رہے جیسے کہ ضیاء الحق ، نواز شریف وغیرہ ۔ کون سا حکمران یہاں مخلص رہا !!
    حتی کہ ضیاء الحق کی بوئی فصل کی سفاکیت اب انسانوں کے خون اور عزت کی پامالی کی قیمت پر منتج ہو رہی ہے ۔"

  • وقاص says:
    23 April 2009 at 14:12

    Bohat acha likha aapne. And sach kaha ke aahir hum kiss cheez ki khushian manate hein har 14 august ko. Shayad un qurbanion ki jiske badle mien Pakistan mila lekin phir bhi jo balli ke bakre ki tarah hum sab ik doosre ko zibah karte chale ja rahe hein uske bare mein kya.

  • تانیہ رحمان says:
    1 May 2009 at 03:37

    فرحت میں حیراں اور پریشان ہوں کہ آپ خریت سے ہیں نہ ایک تو آپ اتنی لمبی چھٹی پر جاتی ہیں ۔ کہ بار بار ڈاکیہ سے پوچھنا پڑتا ہے ۔ فرحت آئی

    تانیہ رحمان, کی تازہ تحریر: کامی جی کی پرزور فرمائش پر آپ سب کی نذر

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    1 May 2009 at 17:14

    کیسی ہیں تانیہ؟ میں اس دن واقعی بہت دنوں بعد آئی تھی۔ :)
    درست کہا آپ نے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے رہنما کرسی کی سیاست کرتے آئے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ رہنما اور سیاست دان بھی ہمیں میں سے ہیں۔ مطلب من الحیث القوم ہمارے اندر کچھ ایسی خامیاں پیدا ہو چکی ہیں جن سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر حالات میں سو فیصد تبدیلی لانا شاید ناممکن ہے۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    1 May 2009 at 17:43

    افتخار انکل: کچھ ایسی ہی بات ایک ٹی وی پروگرام میں جسٹس جاوید اقبال نے بھی کہی تھی کہ پاکستان کا حصول تحریکِ پاکستان کا ایک اہم سنگِ میل تو ضرور تھا لیکن اس کی منزل نہیں۔ ہم نے سمجھا پاکستان بن گیا اور ہمارا مقصد پورا ہو گیا۔ حالانکہ پاکستان کو صحیح معنوں میں پاکستان بنانا ہماری منزل تھا۔ :-(
    ہم کب اس بات کو سمجھیں گے اور معلوم نہیں کبھی سمجھیں گے بھی یا نہیں :(

    @محمد وارث: لیکن ہمارے پاس سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہے :-(
    شگفتہ: وعلیکم السلام شگفتہ! کیسی ہیں؟ میں بھی الحمداللہ بالکل ٹھیک ٹھاک۔ اب تو اپریل بھی ختم ہونے کو آیا۔ پولن الرجی کا موسم بھی ختم ہو چکا :)
    طبیعت کی‌خرابی تو شاید وجہ نہیں لیکن پاکستان کے بارے نت نئی باتیں، نت نئے حادثے اور نئے نئے قتوے سن کر ایسے ایسے خیالات ذہن میں آتے ہیں کہ نہ ہی پوچھیں :cry:
    ہمارے اندر آزادی کا خیال کیسے اجاگر ہو شگفتہ جب ہم دوسروں کے کانوں سے سنتے اور دوسروں ہی کے دیے ہوئے سبق رٹتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کا کام وہی آپ والی بات کہ سیاسی اور مسلکی وابستگیاں کرتی ہیں۔
    شگفتہ یہ فہرست بہت طویل ہے۔ کس کو شامل کریں اور کس کو چھوڑیں۔ لیکن اس فہرست کے طویل ہونے میں ہمارا اپنا قصور زیادہ ہے۔ جیسے افتخار انکل نے کہا کہ
    ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

    آن لائن اخباری رپوٹر: انشاءاللہ پاکستان کو کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ کہنے اور سننے کی نوبت ہی کیوں آئے کہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہے :-(
    وقاص: بلاگ پر خوش آًمدید وقاص :)۔ قربانیوں کی بھی کیا قدر کی ہم نے :( ۔ درست کہا آپ نے کہ قربان تو اب بھی ہو رہے ہیں لوگ اپنے ہی بھائی بندوں کے ہاتھوں۔ :(

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    1 May 2009 at 17:51

    :) شکریہ تانیہ، آپ نے یاد کیا، بہت اچھا لگا :) ۔ ڈاکیہ آپ کے پیغام تو پہنچا دیتا ہے لیکن جواب میں تاخیر سراسر میری کوتاہی کی وجہ ہے۔ :blush: مصروفیت اور کچھ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آجکل کچھ بے قاعدہ ہو رہی ہوں بلاگنگ میں۔
    ویسے میں خود بھی ابھی تک حیرت کے سمندر میں غوطے پہ غوطہ کھا رہی ہوں۔ اس دفعہ پاکستان آنے کے بعد مجھے اتنے جھٹکے لگ رہے ہیں کہ بلاگ تک آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے :D

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔