Saturday, 20 December 2008

پاکستان 2008

آمریت ہو یا جمہوریت۔ حالات بدلتے ہیں تو صرف حکمرانوں کے۔ پاکستانی عوام کے لئے  ۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ ایک سے ہیں۔


غلام بستی


چار سُو اندھیرے ہیں، روشنی نہیں ملتی




غربتوں کے ڈیرے ہیں، زندگی نہیں ملتی


بے بسی کے آنگن میں اب خودی نہیں ملتی


راستہ محبت کا بند اک گلی جیسا، نفرتوں کی وسعت میں


وہ گلی نہیں ملتی۔۔۔ زندگی نہیں ملتی۔۔۔۔۔ زندگی نہیں ملتی


بھوک اور عسرت کا درد جھیلتے ہیں ہم


بے بسی، غلامی کی راہ کھولتے ہو تم



راکھ اور شعلوں کا کھیل کھیلتے ہو تم


جس غلام بستی کو، زیرِ بار بستی کو


غربتوں کے مسکن کو، بے بسی کے آنگن کو


تم نے "فتح" کر ڈالا (واہ، کیا بہادر ہو!)


خود ہی تم بناتے ہو۔۔۔




اس غلام خلقت کی ہڈیوں کے ڈھانچوں پر، بدنصیب تربت پر


اپنے اونچے چوبارے


خود ہی پھر گراتے ہو، خاک یوں اڑاتے ہو


روز تم جلاتے ہو، اِس غلام بستی کے سر بریدہ تن ، جن کو


راکھ پھر بناتے ہو، (راکھ اور شعلوں کا کھیل کھیلتتے ہو تم!)


راکھ بھی ہماری ہی کام آ رہی ہے آج


اس کو بیچ کر "جاں باز"


ایک اور بم لے لے


اس غلام بستی کو، زیرِ بار بستی کو


غربتوں کے مسکن کو ، بے بسی کے آنگن کو


پھر سے تُو "فتح" کر لے، اس غلام بستی کو!


جس غلام بستی کے چار سُو اندھیرے ہیں


اور ان اندھیروں میں


روشنی نہیں ملتی۔۔۔روشنی نہیں ملتی۔۔۔


(عینی سیدہ)



8 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔