Monday, 10 November 2008

کمرہٴ امتحان



کمرہٴ امتحان

بے نگاہ  آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو
بےخیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر، انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ھیں
ہر طرف کن انکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو راہ نما سمجھتے ہیں
شاید اسطرح کو ئی راستہ ہی مل جائے
بے نشاں جوابوں کا،کچھ پتا ہی مل جائے
مجھ کو دیکھتے ھیں تو
یوں جواب کاپی پر،
حاشیے لگاتے ھیں، دائرے بناتے ھیں
جیسے انکو پرچے کے سب جواب آتے ھیں

اس طرح کے منظر میں
امتحان گاہوں میں
دیکھتا ھی رہتا ھوں
نِت نئے طریقوں سے آپ لطف لیتا ہوں
دوستوں سے کہتا تھا!

کس طرف سے جانے یہ
آج دل کے آنگن میں اِک خیال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں کا ایک سوال آیا ہے
وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں، اک سوال نامہ ہے
کس نے یہ بنایا ہے
کس لئے بنایا ہے
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ھیں
سب سوال مشکل ھیں!

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں پرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتا ہوں
حاشیے لگاتا ہوں
دائرے بناتا ہوں
یا سوال نامے کو دیکھتا ہی جاتا ہوں!!

امجد اسلام امجد

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔