Wednesday, 31 December 2014

بس یادیں!!!

بعض اوقات یونہی ایک بے معنی اور غیر متعلقہ بات کتنا کچھ یاد کروا دیتی ہے اور انسان کو یادوں کے اس جھروکے میں لے جاتی ہے جہاں عموماً اسے جھانکنے کی فرصت ہی میسر نہیں ہوتی. ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا. کچھ سوچتے ہوئے ذہن میں 'اف' کا لفظ آیا اور ماضی کے جھروکے سے ایک  خوبصورت یاد چهم سے سامنے آ کهڑی ہوئی.  پانچ سال پہلے یونیورسٹی میں نئے ہم جماعتوں سے متعارف ہوا جا رہا تها. نائجیریا سے آئے ہوئے Uffouma نے اپنا تعارف کروایا تو نئے لہجے اور مختلف نام کی وجہ سے بہت سوں کو نام و تلفظ سمجھنے میں مشکل ہوئی. نہ سمجھنے والوں میں مختلف قومیتوں و ممالک کے لوگ شامل تھے.  Uffouma نے دو تین بار اپنے نام کا تلفظ بتانے کی کوشش کی لیکن کامیابی ندارد. یہ دیکھ کر ہمارے ایک سمسٹر سینئر پاکستانی ہم جماعت کو جوش آیا. وہ اٹھ کر سامنے آئے. ان کے ہاتھ میں موجود فولڈر ایک دم سے ہاتھ سے پھسلا اور ڈھیر سارے کاغذ ، ایک دو کتابیں اور چند اور چیزیں زمین پر بکھر گئیں. بے ساختہ سب کے منہ سے 'اوہ'، 'آہ' کی آوازیں نکلیں. موصوف نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے کہا..'بس یہی تو Uffouma' کا نام ہے. جیسے آپ اچانک کسی غیر متوقع بات پر آپ کے منہ سے اوہ، آہ، آ نکلتا ہے اسے ہماری اردو میں 'اف' بهی کہا جاتا ہے لیکن میرے ملک میں 'اف' کے ساتھ ایک اضافی لفظ بولا جاتا ہے اور وہ ہے 'اماں' . مثال کے طور پر میں گرما گرم کافی کا مگ لیکر کلاس میں آ رہا ہوں اور مگ کا ڈھکن اد کھلا ہونے کی وجہ سے اچانک کافی میرے ہاتھ اور کپڑوں پر گر جاتی ہے تو کافی گرنے کی وجہ سے میں سر پر ہاتھ مارتے ہوئے 'اف' تو کہوں گا ہی لیکن ساتھ ہی ہاتھ جلنے کی تکلیف سے میرے منہ سے 'اماں' بهی نکلے گا. یعنی میں کہوں گا..'اف اماں' " 
اس کے بعد انہوں نے پوچھا: "میں کیا کہوں گا؟" . سب نے یک زبان ہو کر کہا.." اف اماں". اور موصوف نے دو تین بار سب سے یہی کہلوا کر پهر پوچھا .." تو پهر ہمارے نائجیرین  ہم جماعت کا نام کیا ہے بهلا؟" تو ساری جماعت بول پڑی "اوف اماں.... آآآ......اوفاما"  
سو اس ایک لفظ 'اف' نے آج مجھے کتنے خوبصورت لمحات یاد کروا دیے اور طبیعت پر گزشتہ کئی دنوں سے چھائی یژمردگی کو کچھ کم کر دیا.  
سال کے آخری دن ان دنوں اور لوگوں کی یاد شاید مجھے اس لیے بهی آئی ہے کہ ایک عرصے سے اپنی سستی کی وجہ سے میں نے ان اچھے لوگوں کی طرف سے خیر خبر کے لیے آنے والی ای میلز کا جواب نہیں دیا اور اس کوتاہی کے ازالے کے طور پر آج مجھے ان سب کو ان سے پہلے نئے سال کے .
..لیے نیک خواہشات بھیجنی ہیں..
نئے سال کی آمد پر امن، سکون، خوشیوں اور خوشحالی کی دعائیں تمام انسانیت اور اپنے ہموطنوں کے لیے. اللہ تعالیٰ ہمیں آنے والے سال میں سیدھے رستے کو اپنانے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں امن و سکون کی دولت سے مالا مال فرمائیں. آمین. 

5 comments:

  • Muhammad Ahmed says:
    1 January 2015 at 14:43

    اوف او ! تو یہ بات تھی۔ :)

    اچھی تحریر!

    آپ کی دعا پر آمین ۔

    اور آپ کے لئے مزید دعائیں۔ :)

  • فرحت کیانی says:
    6 January 2015 at 17:27

    جزاک اللہ خیر احمد. آپ کے لیے بهی ڈھیر ساری نیک خواہشات.
    :)

  • چھوٹا غالب says:
    17 April 2015 at 10:25

    ہمیشہ کی طرح


    سادگی و پرکاری

  • This comment has been removed by a blog administrator.
    چھوٹا غالب says:
    17 April 2015 at 10:32

    This comment has been removed by a blog administrator.

  • Farhat Kayani نے لکھا :۔
    17 April 2015 at 18:02

    بہت شکریہ. امید ہے آئندہ بهی آپ کے معیاری تبصرے دیکهنے کو ملیں گے.

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔