Tuesday, 23 September 2014

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم!!!!

کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء

2 comments:

  • Muhammad Ahmed says:
    20 October 2014 at 17:24

    بہت ہی خوب ۔۔۔۔

    یہ کس کا کلام ہے؟

  • فرحت کیانی says:
    21 October 2014 at 12:40

    http://dareeecha.blogspot.com/2010/10/blog-post.html

    احمد یہ سید ضمیر جعفری کا کلام ہے۔ میں نے پہلے بھی اپنے بلاگ پر پوسٹ کیا تھا۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔