Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


6 comments:

  • عاطف بٹ says:
    13 August 2013 at 13:03

    بہت ہی شاندار اور دل کو چھو لینے والی تحریر ہے۔ سچ کہوں تو میرے پاس اس وقت ان سب باتوں اور آپ کی تحریر پر تبصرہ کرنے کے لئے الفاظ کم پڑرہے ہیں۔

  • Baba ji says:
    13 August 2013 at 16:40

    بہت سی باتوں پر سوچنے پر مجبور کردینے والی تحریر

  • محمد ریاض شاہد says:
    5 September 2013 at 00:29

    عمدہ تحریر

  • سید آصف جلال says:
    5 September 2013 at 11:02

    زبردست مضمون ۔۔۔ تحریر کو دل کے گہرے احساس کا ٹچ دے کر لذیز بنا دیا ہے فرحت باجی

  • Aqeel Abbas Jafri says:
    5 September 2013 at 14:28

    بہت خوب صورت اور پر اثرتحریر ہے ۔۔ ویسے اطلاعا" عرض ہے کہ عینک والا جن میں نسطور جن کا مرکزی کردار شہزاد قیصر نے ادا کیا تھا اور وہ بحمداللہ بقید حیات ہیں

  • Farhat Kayani نے لکھا :۔
    11 September 2013 at 12:46

    عاطف بٹ ،فراز، محمد ریاض شاہد، سید آصف جلال اور عقیل عباس جعفری۔
    حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔

    عقیل عباس جعفری: جس پروگرام کا میں نے تحریر میں ذکر کیا ہے اس میں منا لاہوری نے شہزاد قیصر کے بارے میں یہ خبر دی تھی۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔